روزہ

تحریر: عظیم لطیف

, روزہ

ہر چیز کی زکوٰة ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰة روزہ ہے(ابن ماجہ)
ایک تصویر کو آپ کمپیوٹر یا موبائل میں Zoom کرتے جائیں، آخر پہ ڈبے ڈبے نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ یہ ڈبے ڈبے دراصل Pixels ہیں جو مختلف رنگوں کے ہیں اور ایسے ہزاروں پکسلز سے مل کر یہ تصویر بنی ہوتی ہے۔ بظاہر تو ہمیں یہ ڈبے ڈبے نہیں نظر آتے نہ ہی پتہ چلتا ہے کہ اس تصویر میں ہزاروں رنگین ڈبے موجود ہیں۔ لیکن یہ ایک تصویر کی بناوٹ ہے۔
اب جانور پودے اور انسان۔ اگر انکے جسم کو اسی طرح مائیکروسکوپ سے Zoom کرکے دیکھیں تو ان میں بھی اسی طرح یہ ڈبے ڈبے نظر آنا شروع ہوجائیں گے۔ ان ڈبوں کو سیلز کہتے ہیں۔ سیلز زندہ چیزوں میں ہوتے ہیں۔ چٹان یا دروازہ سیلز سے نہیں بنا ہوتا جب کہ امرود کا پودا, چوہا بلی، کیڑے اور ہم انسان ہمارے اندر کروڑوں سیلز موجود ہیں


جو جراثیم جراثیم کا لفظ آپ سنتے ہیں۔ یہ دراصل ایک سیل سے بنے ہوتے ہیں جو آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ایک سیل کا ہونے کی وجہ سے اسی لئیے ہمیں نظر نہیں آتے۔ یہ سب کروڑوں کی تعداد میں اکٹھے ہوجائیں تب ہمیں ایک چھوٹی سی بوٹی نظر آنے لگے گی لیکن یہ آزاد پھرتے ہیں۔
انسانی جسم کے ہر ہر حصے میں کروڑوں ایسے ڈبے یعنی سیلز پائے جاتے ہیں اور یہ ایک دوسرے سے جڑے ہیں اسی لئیے ہمیں ثابت انسان نظر آتا ہے۔ اسکی مثال یہ بھی ہے کہ ایک چھ منزلہ عمارت ہے جو پلستر شدہ ہے بظاہر تو ہمیں اینٹیں نظر نہیں آرہیں لیکن ہم جانتے ہیں یہ ہزاروں اینٹوں سے مل کر بنی ہے۔ اسی طرح یہ چھ فٹ کا انسان اپنے اندر کروڑوں اربوں سیلز لئیے ہوئے ہے۔
یہ سیلز مختلف قسم کی شکلوں کے اور کام بھئ مختلف ہوتے ہیں۔ ایک جیسے سیلز مل کر تھوڑی موٹی بوٹی بناتے ہیں جسے ٹشو کہتے ہیں ایک جیسے ٹشو مل کر جسم کا ایک پورا حصہ بناتے ہیں۔ مثلاً دل، گردے، انسانی کھال، مسلز وغیرہ جنہیں آرگن کہتے ہیں اور ایک جیسے آرگن پورا نظام بنادیتے ہیں۔ جیسے معدہ، چھوٹی آنت بڑی آنت، جگر پتہ وغیرہ نظام انہضام یا Digestive System بناتے ہیں۔ انسانی جسم کے اندر ایسے ہی بہت سارے نظام ہر وقت چل رہے ہیں اور ایک انسان انہی چند نظاموں کا مجموعہ ہے۔
اب انسانی جسم کے کسی بھی حصے کا کوئی بھی سیل لے لیں۔ یہ ڈبہ ایسے ہی چپ چاپ نہیں پڑا ہوا بلکہ اسے زندہ رہنے کے لئیے زندہ چیز کی طرح ایکٹ کرنا پڑے گا۔ اسی لئیے رب تعالیٰ نے اسے مکمل ایک فیکٹری بنایا ہے۔ اسکے باہر کی ایک جھلی ہے اندر مختلف چیزیں مثلاً سائیٹوپلازم، مائیٹو کانڈریا،رائیبوسوم، وغیرہ ( بڑے اوکھے نام نے یار ) موجود ہیں۔ بس یوں سمجھ لیں ایک فیکٹری کے مختلف یونٹس ہیں اور سب اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن یہاں ایک یونٹ ایسا ہے جس کا تعلق روزے سے ہے اور وہ یونٹ ہے Lysosome (دیکھئیے تصویر)۔


لائیزو زوم کا روزے سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟


ہم جو کھانا کھاتے ہیں وہ معدہ ہضم کرکے خون میں پہنچاتا ہے اور ہمارے جسم میں ہر جگہ انتہائی باریک باریک خون کئ نالیاں موجود ہیں جہاں یہ کھانا پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہر سیل کو بھی یہ کھانا ملتا ہے اور اسی وجہ سے وہ زندہ رہتا ہے۔ اب ظاہر ہے اس کھانے کے ساتھ ساتھ کبھی فالتو نمکیات بھی پہنچ سکتے ہیں کبھی کوئی جراثیم جو ہمارے سیل سے بھی چھوٹا ہو وہ بھی اندر گھس سکتا ہے، سیل میں فالتو پانی بھی جمع ہوسکتا ہے۔ جب ایسا زیادہ ہونا شروع ہوجائے تو جسم کے اس حصے کے سیلز خراب ہوکر مرنا شروع ہوجائیں گے اور پھیلنا شروع ہوجائیں گے۔ اس طرح جسم کا وہ خاص حصہ خراب ہوجائے گا اور اس خرابی کو کینسر کہتے ہیں۔ مطلب یہ جو بیماری کا لفظ آپ سنتے ہیں کینسر کینسر۔ یہ دراصل لاکھوں کروڑوں سیلز ہیں جو جسم کے کسی حصے میں ناکارہ ہوچکے ہیں۔


بات کینسر تک نہ پہنچ پائے، اسکے لئیے ہے روزہ


دراصل جب ہم ایک مہینہ سارا دن بنا کھائے پئیے گزاریں تو سیل میں موجود یہ لائیزو زومز ایک معدے کی طرح کام کرنا شروع کردیتے ہیں یہ سیل میں موجود فالتو نمکیات، فالتو کھانے کے زرات، بیکٹیریا، وائیرس۔ ان سب کو ہضم کرکے سیل کی توانائی بحال کردیتے اور اس سیل فیکٹری کو دوبارہ سے نیا کردیتے ہیں۔ جب سیلز دوبارہ سے نئے ہوجائیں گے تو وہاں کینسر کا خطرہ رہے گا؟ بالکل نہیں! اس لئیے سال میں ایک مہینہ اگر آپ اپنے جسم کو کینسر ہونے سے بچاتے ہیں تو یہ کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔
یہ لائیزو زوم اور بھوکا رہ کر ممکنہ کینسر سے نبٹنے والا قصہ ایک جاپانی سائینسدان Yoshinuri ohsumi نے خمیر( Yeast) کے سیلز پر باقاعدہ تجربات کرکے ثابت کیا, اس عمل کو انہوں نے Auto Phagy (آٹو فیجی) کا نام دیا اور نوبل پرائز انعام حاصل کیا۔ آٹو فیجی کا مطلب ہے خود کو کھانا۔
اس تحقیق کے بعد تو جیسے یورپ اور امریکہ میں آگ لگ گئی اور بہت سارے ڈاکٹرز سامنے آئے انہوں نے لوگوں کو بھوکا رہنے کی پریکٹس کرنے یعنی روزہ رکھنے کی دعوت دی لیکن حقیقی طریقہ کا ابھی بھی سائینسی لحاظ سے ٹھیک اندازہ نہیں کہ کتنی دیر اور کب تک۔ اسکے لئیے ان لوگوں کو دعوت عام ہے کہ آئیں قرآن کے طریقے کو بھی آزما کر دیکھ لیں اور دیکھیں کائینات کا سب سے بڑا سائینسدان کیا کہہ رہا ہے۔ اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (آنے) تک پورا کرو۔( سورہ بقرہ 187)
اور پھر رمضان یعنی ایک مہینہ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھانا پینا اور آپکے جسم کے سیلز دوبارہ سے نئے ہونا شروع اور کینسر سے بچت۔ واہ بڑا زبردست سستا سودا ہے۔
یہ تحقیق یہیں تک نہیں رکی، بہت سارے دوسرے ایماندار محب انسان ڈاکٹر اپنی تحقیق کے ساتھ آگے آئے اور مختلف بیماریوں کا روزے سے علاج کرتے ہیں۔ تاہم اس پہ بھی ابھی سائینسی عملی سیل ریسرچ نہیں ہوسکی۔
اس میں سرفہرست ڈاکٹر جیسن فنگ جو کہ کینیڈا کے ایک ماہر گردہ سرجن ہیں۔ وہ موٹاپے اور شوگر کے مریضوں کا علاج روزے سے کرتے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ روزہ جسم میں شوگر اور انسولین لیول کو بہتر بناسکتا ہے جگر میں چینی، چربی بنا ڈالتی ہے اسے نارمل کرسکتا ہے اور جسم کی فالتو چربی سے بھوکے رہ کر انرجی حاصل کرکے موٹاپے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب یوٹیوب پہ باقاعدہ چینل چلاتے ہیں اور انکے کروڑوں فالورز ہیں۔ اسکے علاوہ وہ روزہ اور زیابیطس (شوگر) پہ کتابیں بھی لکھ چکے ہیں۔
اے مومنو تم پر روزے فرض کئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ چند دن گنتی کے ، تو جو ہو تم میں بیمار یا سفر میں تو شمار پورا کرلے دوسرے دنوں میں ۔ اور ان لوگوں پر جو اسکی طاقت رکھتے ہیں (لیکن نہ رکھیں) تو فدیہ ہے کھانا کھلانا ایک مسکین کو۔ پھر جو کرے اپنی مرضی سے زیادہ نیکی تو یہ زیادہ اچھا ہے اس کے حق میں۔ اور اگر روزہ رکھو تو یہ بہت بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھو ۔ ( سورہ بقرہ 185)
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com


شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں