صدف اقبال کا شعری تعارف

مضمون نگار : ڈاکٹر اشہد کریم الفت

, صدف اقبال کا شعری تعارف

اردو کے موجودہ شعری منظر نامے پر صدف اقبال کا نام جس تیزی سے ابھرا ہے وہ کئی لحاظ سے ہمیں چونکاتا ہے۔ صدف اقبال کا تعلق پٹھانوں کے ایک مشہور گاؤں “بھدیہ” سے ہے ۔ بھدیہ گوتم بدھ کی دھرتی بودھ گیا ، بہار سے بارہ کلو میٹر کی دوری پہ ہے ۔ یہ شیر ساہ سوری کی نسل سے ہیں ۔انہوں نے آنکھیں ایک تلوار باز جنگجو قوم کی گود میں کھولی جن کے مزاج کا حصہ ہی جنگ و جدال ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے تاریخی نسل اور خون کی وجہ سے ان کا پٹھانی جوش ابال کھاتا رہتا ہے ۔ صدف اقبال کی شخصیت کم عمری میں ہی علم و ادب کی کئی جہتوں میں اپنی شناخت کا پرچم لہرانے لگی ہے ۔ انھوں نے افسانہ نگاری کی ،شاعری کو مزاج میں رچایا بسایا ،تحقیق کی وادی میں پیام وصل یار دیا ،بدعنوانی کے خلاف اکیڈمی کے ایک باریش محترم شخصیت کی مذہبی نمائش کو چیلینج کیا اور اب مشاعروں میں خاتون کی نظامت کی خالی جگہ کو پر کیا ۔ بحیثیت ناظم بھی اپنے پ کو شہرت کی شاخوں پر جھولے جھول رہی ہیں ۔ بہار اردو اکادمی کی سکریٹی شپ کی بھی مضبوط دعوے دار ہیں ۔ دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔


صدف اقبال کی شاعری کا جہاں تک تعلق ہے انھوں نے سلسلہ وارایک عنوان سے ”صدف اقبال تم کون ہو اور کہاں سے آئی ہو ” ایک سریز کی کئی کامیاب نظموں کو فکر و خیال کے جامہ سے مزئین کیا ۔ امید ہے اسی عنوان سے انکی نظموں کی کتاب جلد ہی منظر عام پہ آئے گی ۔ یہ نظمیں ماضی تا حال کئی تاریخی و تہذیبی رنگ کی نقاش ہیں اور ان کے اندر اس کی بے بسی اور بے کسی کے ان گنت سماجی و معاشرتی سوال اٹھائے گئے ہیں ۔ اسی طرح انکی غزلوں میں بھی عجیب و غریب لطف و نشاط کی سرشاری ہے ۔ عورت جب اپنی محبت اور بے چارگی کی بات کرتی ہے تو مرد اساس سماج اسے بے حیائی قرار دیتا ہے ۔ لیکن یہی شریف مرد حضرات جب عشقیہ مضامین کو غزل کا حصہ بناتے ہیں تو جسم کی حرارت کو روح کی سرشاری کا نام دیتے ہیں ،صدف اقبال کی غزلوں میں محبت کے معصوم جذبے کی آمیزش ہے،اس کے اندر عورت کی جذباتی شدت ،خود سپردگی ،اٹوٹ محبت ،اور نا آسودہ زندگی کی شکایت و کشاکش کے بیان ملتےہیں ، دو غزلیں پیش خدمت ہیں جس سے مندرجہ ذیل باتوں کی روشنی میں غزل کی اس غزال چوکڑی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں


غزل


صدف اقبال
بھدیہ، گیا، بہار
رنگ بھرے ہیں سارے ہم نے جو تم بولے اور کہو
دکھ کے صحراوں میں سارے خواب ہیں میرے اور کہو
رشتے تم سے بُن تو گیے پر رشتوں میں ہے گانٹھ بہت
کچا سوت،اور زخمی پوریں، ٹوٹے دھاگے اور کہو
سسک رہے ہیں زخمی رشتے الٹی کھاٹ پہ دیکھو تو
بکھرے ہیں بدبو کرتے ہیں ساکھ کے ملبے، اور کہو
نیم کے بیج نے جب سے اسکے دل میں انکر پھوڑا ہے
کڑوی باتیں، آنسوں، آہیں، تلخ ہیں رشتے ،اور کہو
گوری ہوگئ عشق میں کیسی میلی اور کجلائ سی
پھیکاچہرہ، سوکھی آنکھیں، ہونٹ ہیں روکھے ، اور کہو
میرے دل کے سارے ارماں ارزانی کے بھینٹ چڑھے
جھولی میں کچھ طعنے طشنے کچھ اندیشے،اورکہو
اک تم اور تمہارے میلے، ہیرے، موتی، تاج اور تخت
ایک صدف نے تنہائی کے سب دکھ جھیلے، اور کہو


غزل


ہوں مرض میں عشق کے مبتلا ، تو اثر کہاں سے دوا کرے
مجھے وصل یار نصیب ہو ، کوئی کر سکے تو دعا کرے
یہ سفر ہے آبلہ پائی کا ، نہ زیاں کا ذکر نہ سود کا
یہ جو راہ دل نے دکھائی ہے ، تو قدم اسی پہ چلا کرے
ہیں یہ مرہم آپ کے رائگاں ، ہیں فضول ساری دوائیاں
یہ جو زخم سینہ فگار ہے ،ملے اشک نم تو بھرا کرے
نہ تو شمش میں وہ تمازتیں ، نہ قمر میں ویسی حلاوتیں
پس نصف شب کی جو شعلگی ، میرے جسم و جاں میں جلا کرے
ہے تجھے پتہ ہے تجھے خبر ، کہ طلب ہے مئے کی شدید تر
کوئی اور دے تو پیوں نہ میں ،میرا جام تو ہی بھرا کرے
ہے وصال یار میں ایک مزہ ، تو فراق یار میں دوسرا
کبھی دور دور رہا کرے ، کبھی پاس پاس ملا کرے
کبھی یوں بھی ہو کہ تو خود بڑھے ، میرے دست ناز کو تھام لے
سر رہ گزر ترا حوصلہ بھی دئے کی طرح جلا کرے
ترا عشق بھی ہے وہ تشنگی ،کہ طلب ہے اور سرور بھی
تو رہ طلب کی یہ تشنگی مرا رب ہمیشہ سوا کرے
نہ تو روکئے نہ تو ٹوکئے نہ تو مشورہ کوئی دیجئے
بزبان شعر اگر صدف کبھی خود سے بات کیا کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی تحریر میل کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں