صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی

کالم نگار : گل بخشالوی

, صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی

پارلیمانی جمہوریت اور دنیائے اسلام کی عظمت کے علم بردار ذولفقار علی بھٹو نے مسلم امہ کے اتحاد اور ایک لیٹ فارم پر لانے کےلئے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ نظر انداز نہیں کر سکی ۔ 22 فروری 1974 پاکستان کی سر ز مین پر تاریخِ اسلام کا تاریخی دن تھا مسلم امہ کے 50ممالک کے سربراہان ِ ِ مملکت نے لاہور کی بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ اسلامی سربراہی کانفرنس ذولفقار علی بھٹوکی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت تھا ، اسلام دشمن قوتوں کے لئے پاکستان کی سر زمین پر اسلامی سربراہی کانفرنس خطرے کی گھنٹی تھی اس لئے یہودی لابی نے شیطانی کھیل کھیلا اسلامی ممالک اور ان کے سربراہانِ مملکت کے خلاف شازشوں کا جال پھیلا یا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک دنیائے اسلام کی عظیم قیادت کو زندہ درگور کر کے ایک ایک کو شہید کروا دیا گیاان میں عراق کے عظیم لیڈر صدام حسین بھی شامل ہیں دہلی میں تاریخ کے کالم نگار ریحان فضل لکھتے ہیں


14 برس قبل یعنی 30 دسمبر 2006 کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ عراق کے سابق صدر صدام حسین کی سکیورٹی پر مامور 12 امریکی فوجی ان کی زندگی کے بہترین دوست تو نہ تھے تاہم وہ ان کے آخری ایام میں بہترین ساتھی رہے۔یہ 551 ملٹری پولیس کمپنیوں سے منتخب ہوئے تھے اور انھیں ’سپر 12‘ کہا جاتا ہے۔ان محافظوں میں سے ایک ول بارڈنورپر تھے جنھوں نے ’دی پرزنر اِن ہز پیلس‘ کتاب لکھی۔ جس میں انھوں نے صدام حسین کی زندگی کے آخری دنوں کے بارے میں لکھا۔


بارڈنورپر کا کہنا ہے کہ جب صدام حسین کو پھانسی دینے والے اہلکاروں کے سپرد کیا جا رہا تھا تو ان کے تمام محافظوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اپنے ایک ساتھی ایڈم فوگرسن کا حوالہ دیتے ہوئے کتاب کے مصنف ول بارڈنور نے لکھا کہ ہم نے صدام کو کبھی بھی نفسیاتی مریض اور قاتل کے طور پر نہیں دیکھا ہم اسے گرینڈ فادر کے طور پر دیکھتے تھے۔ صدام کا دوسروں کے ساتھ رویہ بہت نرم تھا اور انھوں نے یہ تاثر نہیں چھوڑا کہ وہ بہت ظالم حکمران تھے۔صدام کو سگار پینے کا بہت شوق تھا جسے وہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انھیں سگار کا استعمال فیڈل کاسترو نے سکھایا تھا۔انھیں باغبانی کا بھی بہت شوق تھا۔ وہ اپنے قید خانے کے گرد موجود بکھری ہوئی جھاڑیوں کو خوبصورت پھولوں کے طور پر لیتے تھے۔


ایک بار ایک امریکی سپاہی جو کہ صدام کی حفاظت پر مامور تھے نے انھیں اپنے بھائی کی موت کے بارے میں بتایا تو جواب میں صدام نے کہا کہ ‘تم مجھے آج سے اپنا بھائی سمجھو۔’انھوں نے ایک دوسرے محافظ سے کہا کہ اگر مجھے میرے اپنے پیسے کو استعمال کرنے کی اجازت ملے تو میں تمھارے بیٹے کی تعلیم کے اخراجات ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔اگرچہ صدام کے محافظوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس سے قریب نہ جائیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا محافظوں کی صدام سے دوستی بڑھتی گئی۔


مقدمے کے دوران صدام حسین کو دو جیلوں میں رکھا گیا تھا۔پہلی جیل بغداد میں موجود انٹرنیشنل ٹریبونل کا تہہ خانہ اور دوسری شمالی بغداد میں موجود ان کا محل تھی۔ یہ محل ایک جزیرے پر تھا جس تک پہنچنے کے لیے پل کا استعمال کیا جاتا تھا۔بارڈنورپر کہتے ہیں کہ ہم نے صدام کو اس سے زیادہ نہیں دیا جس کے وہ حقدار تھے لیکن ہم نے کبھی بھی ان کی تضحیک نہیں کی۔’ محافظوں نے سٹور روم کو صدام کا دفتر بنانے کی کوشش کی اور منصوبہ یہ تھا کہ صدام کو ‘سرپرائز’ دیا جائے۔


سٹورروم میں پڑے سامان سے چمڑے کی ایک کرسی اور ایک چھوٹی سی میز کو نکالا اور میز پر ایک چھوٹا سا جھنڈا رکھا دیا گیا۔یہ سب اس لیے کیا گیا تاکہ ہم آفس کا ایک ماحول پیدا کر سکیں ا ور جیسے ہی صدام کمرے میں داخل ہوئے ایک سپاہی نے میز کی گرد صاف کرنی شروع کر دی۔یہ دیکھ کر صدام اونچی آواز میں ہنسنے لگےاور کرسی پر بیٹھ گئے۔ ان کی سکیورٹی پر مامور سپاہی ان کے سامنے موجود کرسی پر بیٹھ گیا۔ یہ منظر ایسا تھا جیسے صدام عدالت میں موجود ہیں۔ سپاہیوں کی یہی کوشش تھی کہ صدام کو خوش کیا جائے۔ جواب میں صدام بھی ان کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے اور ماحول کو خوشگوار رکھتے تھے۔جب بھی صدام کو وقت ملتا تھا تو وہ سپاہیوں سے پوچھتے تھے کہ ان کے خاندان کی حفاظت کون کرتا ہے۔


ان سپاہیوں میں شامل ایڈم روتھرسن نے بارڈنورپر کو بتایا کہ ‘جب صدام کو پھانسی دے دی گئی، ہمیں لگا ہم نے اسے دھوکہ دیا ہے۔ ہم خود کو قاتل تصور کرتے تھے۔ ہمیں لگا جیسے ہم نے ایک ایسے شخص کو قتل کر دیا ہے جو ہمارے بہت قریب تھا۔’ ایک سپاہی سٹیو ہچنسن نے امریکی فوج سے استعفیٰ دے دیا۔مصنف کا کہنا ہے کہ اپنے آخری ایام میں صدام کو توقع تھی کہ انھیں پھانسی نہیں دی جائے گی


30 دسمبر 2006 کو صدام حسین کو صبح تین بجے اٹھایا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ انھیں کچھ ہی دیر میں پھانسی دے دی جائے گی۔صدام کو مایوسی ہوئی۔ وہ خاموشی سے جا کر نہائے اور پھانسی کے لیے خود کو تیار کرنے لگے۔اپنی پھانسی سے کچھ ہی دیر پہلے صدام نے سٹیو کو باہر بلایا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اسے دے دی۔جواب بھی جارجیا میں سٹیو کے گھر میں وہ گھڑی محفوظ ہے اور اس کی ٹک ٹک سنائی دیتی ہے۔

شیئر کریں
والدین کا دیا ہوا نام : سبحان الدین ۔ قلمی نام : گل بخشالوی ۔ تعلیم : میٹرک ( پرائیویٹ ) پیدائش 30مئی 1952 ۔ مقام ِ پیدائش : بخشالی ضلع مردان،خیبر پختونخواہ ۔مادری زبان : پشتو شاعر کالم نگار ادب دوست ، ناظم اعلیٰ قلم قافلہ کھاریاں۔ ادبی سفر کا باقاعدہ آغاز1984ء حال مقیم کھاریاں شہر ضلع گجرات پنجاب (پاکستان)

کمنٹ کریں