جسمانی صفائی اور پاکیزگی کی ضرورت

صحت اور صفائی

چند سال پہلے ایک بار ڈرائیونگ کرتے ہوئے ریڈیو آن کیا تو ایک خاتون دانتوں کی صفائی کے حوالے سے گفتگو کر رہی تھیں۔ اس نے کہا کہ ہماری اکثریت تو دانت صاف کرنے کا تکلف ہی نہیں کرتی اور جو لوگ صاف کرتے بھی ہیں وہ صبح اٹھ کر کھانے سے پہلے کرتے ہیں جبکہ ہونا یہ چاہیئے کہ صبح کلی کر کے ناشتہ کریں اور کچھ دیر بعد برش یا مسواک کریں۔ اسی طرح دوپہر یا شام کے کھانے کے بعد بھی دانت صاف کریں۔

تب سے اس بات کو پلے سے باندھ کر اس پر عمل کرنا شروع کردیا۔ اپنی ایک کٹ بنا لی جس کا لازمی حصہ ٹوتھ پیسٹ اور برش ہوتا ہے۔ جب بھی کہیں سفر پر نکلوں تو ساتھ ہی رکھتا ہوں۔ اب ایسی روٹین بن چکی ہے کہ ہر کھانے کے بعد اگر برش کرنے میں کچھ دیر ہو جائے تو اپنے آپ سے ہی الجھن ہونے لگتی ہے۔ جب تک برش نہ کر لوں تب تک سکون نہیں ملتا۔ اگر کسی وجہ سے برش کرنے میں تاخیر ہو جائے تو دوسروں کے قریب ہو کر بولنے اور بات کرنے سے گریز کرتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ لیکن خود کو دوسروں کی وجہ سے اکثر بار یہ کوفت جھیلنا پڑ جاتی ہے۔

اسی طرح کچھ لوگوں کے پسینے کی بدبو ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بعض میں یہ مسئلہ قدرتی طور پر ہوتا ہے اور اس سے جان چھڑوانا ممکن نہیں ہوتا لیکن روزانہ نہا کر کوئی اچھا پرفیوم استعمال کرنے سے اس کی شدت کو کم تو کیا جا سکتا ہے۔ پھر اکثر لوگ رفع حاجت کے بعد صابن سے ہاتھ دھونا شاید جسمانی صفائی کا حصہ ہی نہیں سمجھتے حالانکہ باتھ روم کے جراثیم سے بہت سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ہم نے تو اپنی گاڑی میں صابن مستقل طور پر رکھا ہوتا ہے۔ دوران سفر صابن کے بغیر باتھ روم استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اگر کبھی بس پر سفر کرنا پڑے تو اپنی کٹ میں یا پھر کسی شاپر میں ڈال کر جیب میں صابن ضرور رکھتا ہوں۔

یہ سب بتانے کا مقصد ترغیب دلانا ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنی جسمانی صفائی کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے اور دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس رمضان میں صفائی کی اہمیت کو سمجھ کر اپنا لیں تو یہ بھی بہت بڑی نیکی ہے کہ صفائی اور پاکیزگی نصف ایمان ہے۔

معاشرے میں رہتے ہوئے جو چیز میرے مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ کہ پاکستانیوں کی اکثریت کو صفائی اور پاکیزگی میں فرق ہی معلوم نہیں۔ ہم عام طور پر صاف ستھرے کپڑے پہنے شخص کو یا ایک چکمتے دمکتے گھر کو پاک صاف سمجھتے ہیں مگر ایسا ہے نہیں۔ صفائی سے ہی پاکیزگی حاصل کی جاتی ہے مگر عموماً ہم اسکی پرواہ نہیں کرتے۔ عموماً لوگ کتوں کے شوقین ہوتے ہیں جس میں برگرز فیملیاں ٹاپ پہ ہیں بظاہر وہ بڑے سوٹڈ بوٹڈ اور صاف ستھرے لگتے ہیں مگر وہ کتے کو گلے بھی لگا لیتے ہیں ، بسا اوقات کتا انکا منہ بھی چوم لیتا ہے ایسے میں پاکیزگی کیسے برقرار رہ سکتی ہے جبکہ کتا ایک ناپاک جانور ہے۔ پھر کئی ہوٹلوں ، ریسٹ ہاؤسز و گھروں میں میں نے نوٹ کیا کہ واش روم میں پڑا بالٹی لوٹا مگھا انتہائی گندے ہوتے ہیں۔عمومأ مگھا بالٹی سے باہر فرش پہ پڑا ہوتا ہے۔لوٹا کئی بار ڈبلیو سی کے اندر گرا پڑا ہوتا ہے اور کئی لوگوں کو میں نے دیکھا کہ ٹائلٹ والا لوٹا بالٹی میں ڈبو کر اسی میں پانی نکال کر نہاتے ہیں اور وضو کر کے پھر نماز بھی پڑھتے ہیں۔ کئی لوگوں کو سوٹ پہنے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے دیکھا ہے چھینٹیں ان کے بدن پہ پڑتی ہیں ۔کئی کاٹن میں ملبوس لوگ پیشاب کرنے کے بعد پیشاب کے چھینٹوں کی پرواہ کیے بغیر کھڑے ہوجاتے ہیں۔یہ بظاہر تو صاف ہوتے ہیں مگر پاکیزگی کا ان سے تعلق نہیں ہوتا ۔ اسلام دین فطرت ہے اور صفائی کے ساتھ پاکیزگی پہ بہت زور دیتا ہے۔ ہمارے برتن چاہے وہ نہانے والے ہوں یا وضو والے اتنے پاک ہوں کہ بندہ ان سے پانی پی سکے۔ اور کپڑے آپ کے اتنے پاک ہونے چاہیں کہ آپ کسی بھی وقت اس سے نماز پڑھ سکیں۔ الحمدللہ ہمارا اکثر وقت تو یونیفارم میں گزرتا ہے چھبیس سال میں چھوٹا پیشاب کرتے ہوئے میری یونیفارم صرف ایک بار ناپاک ہوئی ہے وہ کوئی حالات ایسے تھے کہ نہ وہاں پانی تھا اور باوجود کوشش کے یونیفارم پہ چھینٹے پڑ گئے۔ کوشش کریں پیشاب کسی واش روم میں ہی کریں یا پھر اپنے پاس ٹشو پیپر رکھا کریں تاکہ باوقت ضرورت استعمال کیا جاسکے۔ بچوں کو ایجوکیٹ کریں کہ کھانے کے برتنوں میں کوئی جانور منہ نہ ڈالے اور نہانے دھونے کے برتن ایسی جگہ اور اس طرح رکھیں کہ ٹائلٹ کی چھینٹیں اس میں نہ پڑیں۔ ٹوائلٹ دھوتے ہوئے بالٹی مگھا باہر نکال دیں۔ اگر آپ ان چیزوں سے نہیں بچ رہے تو آپ صاف تو ہیں پاک نہیں کیونکہ صفائی اور پاکیزگی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔صاف تو غیر مسلم بھی ہوتے ہیں مگر وہ پاک نہیں ہوتے ایک پاکیزگی ہی ہے جو مسلمان کو غیر مسلم سے الگ کرتی ہے چاہے وہ ظاہری ہو یا باطنی۔

اگر آپ اپنی زندگی میں فٹ اور سمارٹ نہیں ہیں، تو آپکی زندگی فضول ہے۔ ڈیلی ایکسرسائز، متوازن غذا، بھوک رکھ کر کھانا کھانا، نماز کا اہتمام، صفائی ستھرائی، پاکیزگی تمام قسم کے نشوں اور برائیوں سے دوری آپکے، جسم، چہرے، شخصیت کو پررونق، جاذب نظر بناتا ہے اور آپکو تمام بیماریوں سے بچاتے ہوئے تمام ذندگی تندرست و توانا، چست اور صحت مند بناتا ہے۔

صحت،خیریت،اور عافیت کی دُعا
شیئر کریں

کمنٹ کریں