سفر : افسانوی مجموعہ

مصنفہ نوشی قیصر سحر
اظہار خیال : فرخندہ رضوی خندہ

, سفر : افسانوی مجموعہ

یہ سفر نئی منزل کی بشارت ہے ۔ تقریباََ سات آٹھ ہفتے پہلے بذریعہ ڈاک مجھے ایک کتاب محصول ہوئی مصنفہ کی زبانی تو اِس کتاب کا تذکرہ سُن چکی تھی خدا خدا کر کے منظر ِعام ہوا ہے سفر ۔ ۔ ۔

مصنفہ نوشی قیصر سحر سے میری جان پہچان زیادہ عرصے سے تو نہیں فیس بُک کی دنیا میں بہت سے تخلیق کاروں نے اپنی نگارشات سےخود کو متعارف کروایا ۔ ایسی ہی تخلیق کار نوشی قیصر سحر سے میری دوستی ہوئی تو اسی دوران میرے شعری مجموعے خوشبوئے خندہ کی تقریب رونمائی کا پروگرام بن رہا تھا تو ایک دعوت نامہ انہیں بھی ارسال کر دیا ۔

میرے پُرخلوص دعوت نامے پر خوشبوئے خندہ کی رسم اجراَ میں تشریف لائیں یہ میری اور نوشی قیصر سحر صاحبہ سے پہلی ملاقات تھی ۔فیس بُک کا تعارف دوستی میں بدل گیا پھر اکثر ہی فون پَر گفتگو ہونے لگی ۔ آج ان کی کتاب جو کہ افسانوں کا مجموعہ سفر ، ہے میرے ہاتھ میں پکڑی کتاب کا نام سفر جس کی مصنفہ نوشی قیصر تخلص سحر ہے سویرا اکیڈیمی لندن سے مرزا امجدمرزا نے اس مجموعے کو شاءع کیا ۔ مصنفہ نے انتساب اپنی جنت مکانی ماں آمنہ ملک کے نام خوبصورت لفظوں سے انہیں خراج تحسین پیش کر تے ہوئے اچھی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا ۔
نعیم بیگ صاحب کی پہلی رائے لکھتے ہیں کہ نوشی قیصر اور سحر کے نام سے سوشل میڈیا پر اپنے وجود کی تڑپ خوبصورت الفاظ سامنے لائیں
ابتداَ میں شاعری کی لیکن پھر نثرنگاری میں نام کمایا ،شریک حیات لکھا تو نقادوں کی نظر میں مستند ٹھہریں ۔ کیا خوبصورت بات کہی نعیم بیگ صاحب نے کہ انسانی زندگیوں میں سماجی ،ثقافتی و معاشی اضطراب جو مزاج کا غالب حصہ بن جاتاہے ۔

اسی طرح دوسری رائے ان تحریروں کے بارے میں مرزا امجد مرزا صاحب کی ہے برطانیہ میں افسانے کے حوالے سے مثال پیش کی کہ
بہت سے قلم کار ابھی بھی شاعری کے ساتھ ساتھ نثرنگاری جس میں افسانے کی صنف بھی آتی ہے جس پر بہت لکھا جا رہا ہے۔اسی فہرست میں الحاج چودھری محمد بشیر شاد ( ایتھنزیونان ) سے مصنفہ کے قلم کا اعتراف کیا نوشی قیصر سحر صاحبہ کو سفر نام کے افسانوی مجموعے کی مبارک پیش کی ۔

میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ کتاب کا مطالعہ کئے بغیر کسی تحریر پر ایک لفظ بھی لکھنے کی جسارت نا کروں تمام افسانے میرے مطالعے میں رہے حالانکہ اِس سے پہلے میں نے نوشی قیصر کی کوئی تحریر پڑھی ہی نہیں تھی حال ہی میں یو ٹیوب چینل پَر ان کی آواز میں افسانہ سننے
کا موقع ملا ۔ ویسے دیکھا جائے تو اردو ادب میں افسانوی ادب کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے نثر نگار ہونے کی حیثیت سے بہت سے
افسانہ نگاروں کی نگارشات پڑھنے کا اتفاق ہوا افسانے طویل ہوں تو قاری اُلجھن کا شکار ہو جاتا ہے مختصر بات کہنا اور تحریر لکھنا آج کے
وقت کی ضرورت و تقاضا ہے ۔

سفر کی ابتدا َ سے اس کے اختتام تک کے دیکھے احساسات ،محسوسات ،ایماندرانہ طور پر ضبط تحریر میں لانے کا نام اور افسانے کے تمام
تقاضوں کو پورا کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے نوشی سحر نے اپنی کم ضخامت کی کتاب میں کسی حد تک کر دیکھایا ہے ۔اِن کے تمام افسانے جذبات کی عکاسی کرتے اپنے سے متعارف ہوتے ہوئے قاری کی کشش کو متوجہ کرتے ہیں ۔ جس طرح بندروازہ، میں نومی کا کردار مجھے لگا آجکل حال ہی میں ایسے واقعات رونما ہوئے جن کا اثر ہمارے دل و دماغ پر ایک اسیب کی طرح چھایا رہا ۔ والدین کا اپنی مرضی مصلحت کرنا اپنی اولاد پر کتنا ضروری ہے اِس سے پہلے کہ ڈائیری سے راز فاش ہوں بچوں سے وجہ پوچھنی بہت ضروری ہوتی ہے ۔ اس افسانے کا مطالعہ مجھے کہیں بہت دور لے گیا ۔ اردو ادب کے عالمی منظر نامے میں محترمہ نوشی صاحبہ جیسی ہمہ جہت شخصیت کو اپنی گراں قدر ادبی خدمات کے عوض بہت اہمیت حاصل ہے اسی طرح اور بہت سے افسانے میری توجہ کا مرکز بنے اور کہانی کا طلسم اپنی طرف کھینچتا ہی چلا گیا ۔ گم شدہ ،اعتراف ،گُنا ہ ، حویلی ،سبھی کو خوبصورت پلیٹ فارم پر سجایا گیا شریک حیات بے انتہا خوبصورت افسانہ ہے ۔ ایک اور افسانہ جو کہ میری توجہ کا مرکز رہا وہ ہے اس مجموعہ کا افسانہ بیڑیاں جس نے ہر پل مجھے اپنی طرف متوجہ کیا مصنفہ نوشی قیصر سحر کی تخلیق کردہ افسانوں کی کتاب نے ان کے قلم کا قد اور بڑھا دیا انہیں بات کہنے کا ہُنر آتا ہے جب بات کہنے کا ہُنر آ جائے تو قلم لفظوں کی خوبصورت مالا پروہنے لگتا ہے پھر ہر کہانی و افسانہ اپنے رنگ و آہنگ سے قاری پر ایک سحر طاری کرتا ہی چلا جاتا ہے

میں کبھی کبھی کسی پر تحریر پر لکھتے ہوئے رُک سی جاتی ہوں یہ کہوں تو زیادہ مناسب لگے گا کہ اپنا قلم روک لیتی ہوں اور ایک سوچ میرے ساتھ ساتھ چلنے لگتی ہے کہ کیا میں ایک مصنف کی ہر تحریر پر رائے دیتے ہوئے انصاف کر پا رہی ہوں ،ایسا ہی اس افسانوں کے مجموعے کے ساتھ بھی ہوا کچھ دن بعد دوبارہ اسی سوچ کے سنگ سنگ چلتی کاغذ و قلم کو اپنا ساتھی بنا لیا خیالات کی زنجیر میں جکڑے ذہن کے دریچوں سے لفظ پھر جھانکنے لگے چند افسانے جو اس سفر کے رہ گے تھے انکا بھی آج مطالعہ کیا الحمدو للہ سفر کی آخری تحریر کا مطالعہ کر چکی تو اپنے فرض سے سبکدوش ہونے کے لیے قلم کاغذ پھر سے سنبھال لیا ۔

چار افسانے لمحے کی قید ، جہادی دُلہن ، برف کا وجود ، مات اور آخری افسانہ خوشیاں ۔
اِن افسانوں کے کردار ہر گھر کی دوسری دیوار کے پیچھے چھپے فراءض دکھوں کی بٹھی میں سُلگتی چنگاریوں کی مانند بکھرے ملتے ۔ ظاہر ہے
افسانے اور کہانیوں کے پلیٹ فارم ہمارے اردگرد کی داستانوں سے جدا تو نہیں ان تمام افسانوں میں جہادی دُلہن ، کی کہانی بھی اسی
طرح جانی پہچانی سی لگی کچھ سال پہلے ایسے بہت سے واقعات رونما ہوئے نوشی قیصر سحر صاحبہ نے بھی بڑی مہارت سے قلم بند کیا ایک قلم کارکی سب سے بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ کہانی کو سمیٹتا کیسے ہے ۔ مصنفہ کے کچھ افسانے طوالت کی لپیٹ میں تھے بیشتر افسانے مختصرہی ہیں ۔ آج کے دور میں طویل افسانہ پڑھنے کی زحمت نہیں کی جاتی ۔ افسانہ تو ایسی صنف تخلیق کار عملی دنیا کی حقیقتوں ،مسائل تجربات ،مشاہدات اور احساسات کو فن کے تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش اور بے سمت راہوں پر چلنے کایقین ایک اچھے تخلیق کار کے عمیق مشاہدے کی مرہون ِ منت ہوتا ہے ۔ نوشی قیصر صاحبہ نے اپنے اس تخلیقی کارنامے کو سفر کا نام دیا ۔ دراصل مجھے یہ سفر نئی منزل کی بشارت کا پتہ دیے رہا ہے ۔ نوشی قیصر سحر صاحبہ کو اس افسانوں کے مجموعے سفر کی ڈھیروں مبارک اور دعائیں قلم اور تحریروں کا سفر جاری و ساری رہے ۔ اور شکریہ اس بات کا کہ ایک دوست نے خوبصورت کتاب تحفے میں دی میں اپنے انداز میں چند لفظ لکھ کر اس شکرئے کا حق ادا کر پائی یا نہیں یہ فیصلہ تو مصنفہ پر ہے ۔

بہت سی دعا کے ساتھ
ایک قلمکار
فرخندہ رضوی خندہ ، برطانیہ

شیئر کریں

کمنٹ کریں