صنم پہ شاعری

صنم شعر و شاعری


ایک کعبہ کے صنم توڑے تو کیا
نسل و ملت کے صنم خانے بہت
حبیب احمد صدیقی

مرہم ترے وصال کا لازم ہے اے صنم
دل میں لگی ہے ہجر کی برچھی کی ہول آج
سراج اورنگ آبادی

صنم کس بند سیں پہنچوں ترے پاس
ہزاروں بند ہیں تیری قبا کے
سراج اورنگ آبادی

صنم پہ شاعری

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ
بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا
آغا اکبرآبادی

زلف کیوں کھولتے ہو دن کو صنم
مکھ دکھایا ہے تو نہ رات کرو
ناجی شاکر

الجھا ہی رہنے دو زلفوں کو صنم
جو نہ کھل جائیں بھرم اچھے ہیں
دتا تریہ کیفی

جاوے وہ صنم برج کو تو آپ کنہیا
جھٹ سامنے ہو مرلی کی دھن نذر پکڑ کر
انشا اللہ خاں انشا

کعبہ بھی گھر اپنا ہے صنم خانہ بھی اپنا
ہر حسن کا جلوہ مرا ایمان نظر ہے
فگار اناوی

وعدۂ وصل دیا عید کی شب ہم کو صنم
اور تم جا کے ہوئے شیر و شکر اور کہیں
مصحفی غلام ہمدانی

دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست
اس عاشقی میں خانہ ہمہ آفتاب تھا
ظہیر کاشمیری

صنم پہ شاعری

کعبے سے کھینچ لایا ہم کو صنم کدے میں
بن کر کمند الفت زنار برہمن کا
ارشد علی خان قلق

شیخ ہے تجھ کو ہی انکار صنم میرے سے
ورنہ ہر شخص کو اقرار ہے اللہ اللہ
ولی اللہ محب

صنم خانہ جاتا ہوں تو مجھ کو ناحق
نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا نہ بہکا
انشا اللہ خاں انشا

اے صنم تو وہ کنھیا ہے بلائیں لوں اگر
بانسلی کی طرح نالاں ہوں سراپا انگلیاں
محسن خان محسن

صنم پہ شاعری

اللہ رے صنم یہ تری خود نمائیاں
اس حسن چند روزہ پہ اتنا غرور ہو
خواجہ امامی امانی

خاک میں مجھ کو ملا کے وہ صنم کہتا ہے
اپنے اللہ سے جا کر مری فریاد کرو
وزیر علی صبا لکھنؤی

شکوہ نہیں دنیا کے صنم ہائے گراں کا
افسوس کہ کچھ پھول تمہارے بھی ملے ہیں
ذکی کاکوروی

کل اس صنم کے کوچے سے نکلا جو شیخ وقت
کہتے تھے سب ادھر سے عجب برہمن گیا
جرأت قلندر بخش

صنم پہ شاعری

بت کو پوجوں گا صنم خانوں میں جا جا کے تو میں
اس کے پیچھے مرا ایمان رہے یا نہ رہے
حقیر

بت کدہ چھوڑ کے جانے والو
کیا کروگے جو صنم یاد آئے
ضامن جعفری

ترے دید سے اے صنم چمن آرزؤں کا مہک اٹھا
ترے حسن کی جو ہوا چلی تو جنوں کا رنگ نکھر گیا
فنا بلند شہری

صحن کعبہ بھی یہیں ہے تو صنم خانے بھی
دل کی دنیا میں گلستان بھی ہیں ویرانے بھی

شب وصل تھی، چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا، خدا مہربان تھا
آتش حیدر علی

خدا کے واسطے پردہ نہ کعبہ سے اٹھا ظالم
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے

طرب زاروں پہ کیا بیتی صنم خانوں پہ کیا گزری
دلِ زندہ ترے مرحوم ارمانوں پہ کیا گزری
ساحر لدھیانوی

پتھر کے خدا، پتھر کے صنم، پتھر کے ہی انساں پائے ہیں
تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں
سدھرشن فاخر

کیسے ہیں روابط مِرے محبُوب نما کے
بچھڑا ہے صنم مُجھ سے، کِھلا اور کوئی ہے
راشد بھٹ

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں