صنوبر صدیوں کا مسافر

نظم نگار : دعا عظیمی

صنوبر صدیوں کا مسافر

وہ میرے قریب آئی تو میرے صدیوں کا انتظار کھل اٹھا.
“سنیں! جب سرما بیت جائے اور گل لالہ کھلنے لگے تو صنوبر کے درخت کا حال پوچھنے چلیں گے.”
وہ ایک عزم اور ارادے سے بولی
ان سے پوچھیں گے کہ برفیلی موت کا سفید لباس پہننے کے بعد دوبارہ سانس لینے کا عمل کیسا رہا؟؟
کیا شکست و ریخت کے عمل سے ان کی حیات نے نئ نمو پائی.
میں چاہتا تھا وہ مجھ سے میری بات کرے یا اپنی یا ہم دونوں کی مگر وہ ہمیشہ کسی تیسرے کی بات کرتی ,یوں تقریب ملاقات تو رہتی مگر تشنگی کا احساس سر چڑھ کے بولنے لگتا.
پوری ملاقات ادھوری میں بدل جاتی
کیا محبت تین کے بیچ ہو سکتی ہے
ایک نیا سوال سر اٹھانے لگتا
اسے تین سے محبت تھی.
میں وہ اور میرا رقیب . …
آہ !! میری محبوبہ …
جب کوئی عالم بے خودی میں ہو تو کوئی کیا کرے ؟؟
میں بھی اس کے ساتھ باتوں کی بارش میں بہنے لگتا , لطف کی ہوائیں چلتیں اور وہ ہر روز نئ کہانی لے کر بیٹھ جاتی …
“صنوبر میری پہلی محبت ہے”
میں غور سے سنتا, ایک ایک حرف جو اس کی حسین پنکھڑیوں کی عطا ہوتا..
کہنے لگی, کیا آپ صنوبر کے بارے میں جانتے ہیں؟؟
” میں نے کہا کچھ زیادہ نہیں بس اسی قدر کہ ان کی عمر بہت طویل ہوتی ہے ہزاروں برس ..


یہ آپ کی محبت کی داستان ہے آپ سنائیں
میری محبت کی داستان بھی صدیوں پہ محیط ہے
کچھ سنائیں
میں ہمہ تن گوش ہو جاتا
اس پر وہ اطمینان کا سانس بھرتی اور دور جنگلوں میں دیکھنے لگتی
صنوبر
وہ دھیرے سے مسکرائی جیسے اپنے محبوب کا دیدار کر رہی ہو.
مجھے تھوڑی جلن ہوئی…مگر اسے کب پرواہ تھی.
وہ اپنے خیال میں مگن تھی کہتی گئ,
” صنوبر اپنی نظر سے اس دنیا کے رنگوں کو دیکھتا ہے , سرما میں سفید کفن اوڑھ کے سو رہتا ہے جب بادام کا پہلا پھول کھلتا ہے تو اس میں دھیرے سے لرزش محسوس ہوتی ہے”
زندگی اس میں دوبارہ انگڑائی لیتی ہے. ایک وقفے سے دوسرے وقفے کی طرف سفر کرتی ہے.
کیا آپ کو پتہ ہے زیارت میں صنوبر کا ایک درخت اس دنیا کے قدیم ترین تین درختوں میں سے ایک ہے.
نہیں مجھے نہیں پتہ
یہ تو حیرت کی بات ہے
اسے دیکھنا چاہیے… اسے ملنا چاہیے اس سے لپٹ جانا چاہیے شاید وہ اپنے من میں چھپی صدیوں کے راز کی بات کہہ دے
ہاں بالکل
وہ جوش سے بولی
میں بھول گیا وہ میرا رقیب تھا
درخت زبان بےزبانی سے دلوں کے احوال کہتے ہیں.
” سچی مجھے اس بات پہ اعتبار نہیں آتا؟؟”


ہاں ‘
اس نے پہلی بار میری آنکھوں میں یقین سے دیکھا
یہ آپس میں میلوں دور سے ایک دوسرے کے احوال جانتے ہیں , ایک دوسرے سے پیغام رسانی کرتے ہیں.
اگر آپ کہتی ہیں تو مان لیتے ہیں..
وہ مسکرائی
اچھا..
اطمینان اس کے من میں اتر آیا.
جیسے میں نے اسے مان لیا ہو.
وہ صنوبر کے بارے میں ساری باتیں مجھے بتا دینا چاہتی تھی.
ایک آخری بات
پتہ ہے,
صنوبر کے درخت انسان کے لگانے سے نہیں پنپتے فطرت انہیں پرندوں کے زریعے زمین میں اگاتی ہے اور اپنے بزرگ ہاتھوں سے ان کی پرورش کرتی ہے.
محترمہ اور کچھ
یہ شکوہ نہیں کرتے, بہت صابر ہوتے ہیں. اسی لیے ان کی عمر دراز ہوتی ہے اور یہ صحت مند رہتے ہیں.


وہ بولی میراجی چاہتا ہے زیارت کےصنوبر کے درخت کو لپٹ جاؤں , بید مجنوں سے کچھ درس لوں اور شاہ بلوط کے سائے میں دوزانو بیٹھ جاؤں.
کیا,آپ تین کی محبت میں گرفتار ہیں
معلوم نہیں ایک وقت میں ایک پوری یکسوئی سے ایک..
جس چاہت سے میرے من میں اس درخت کی کشش جاگی ہے وہ بھی ہاتھ اٹھائے میرے لیے بےتاب ہو گا.
ہاں شاید وہ اپنی رو میں بولتی جا رہی تھی… سفید برف سے ڈھکی زرخیز زمین لینڈ سلائیڈنگ کے منظر کو دیکھا ہے کبھی
صنوبر انہیں دریا برد ہونے سے بچاتے ہیں… ان کی جڑیں مٹی کو بھر کے گرنے اور ٹوٹنے سے بچاتی ہیں..
” میں سمجھا نہیں”
کہانی تیرنے لگی
مکالمہ ہو تو کہانی تیرنے لگتی ہے.
“سنیں! جب سرما بیت جائے اور گل لالہ کھلنے لگے تو صنوبر کے درخت کا حال پوچھنے چلیں گے.”


ان سے پوچھیں گے کہ موت کا سفید لباس پہننے کے بعد دوبارہ سانس لینے کا عمل کیسا رہا؟؟
ہم ان سے سوال کریں گے
کیا ہر سرما کے بعد وہ نیا جنم لیتے ہیں … ؟؟
سفید برف کا لباس جب قطرہ قطرہ بہہ نکلتا ہے تو کیا ان کی آنکھوں سے بھی قطرے ٹپکتے ہیں؟؟
کیا شکست و ریخت کے عمل سے ان کی حیات نئ نمو پاتی ہے!!
ہم سنیں گے ان کے دکھوں کو جو وہ کسی اپنے سے نہیں کہہ پائے ..
میں فقط یہی کہہ پایا
ضرور ہم ضرور جائیں گے
تصدیق پا کے وہ میرے شانے سے لگ کے سو رہی, محسوس ہوا بادلوں پہ لطیف بچھونے ہیں… محبت کے خواب کتنے رنگین ہوتے ہیں….


رکیں اس سے پوچھیں گے ایک سوال اور بھی
صنوبر تمہاری روح قدیم ہے یا میری؟ کیا ہماری روحوں میں کچھ اشتراک ہے؟؟

شیئر کریں

کمنٹ کریں