سانپ کا زہر : ایک بہترین روزگار

مضمون نگار : عامر الیاس

, سانپ کا زہر : ایک بہترین روزگار

آج کا آرٹیکل سانپوں کے زہر نکالنے والوں کے حوالے سے ہے جنکو snake milker، کہا جاتا ہے. آج کے آرٹیکل میں اس کام کے متعلق اور اسکے فوائد و نقصانات کے متعلق روشنی ڈالوں گا کس طرح یہ انڈسٹری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پھل پھول رہی ہے اور کسطرح لوگ اس کام سے ملکی ترقی و لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں.


سنیک ملکر کی اصطلاح کو اس شخص کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو زہریلے سانپوں سے زہر نکالتا ہے اور سانپوں سے زہر نکالنے کے عمل کو وینم ایکسٹریکشن کہا جاتا ہے اور ایک snake milker اسپتالوں اور لیبارٹریوں کو سانپوں سے نکالا گیا زہر مہیا کرتا ہے جس سے لیبارٹریز و میڈیکل انسٹیٹیوٹس اینٹی وینم و مختلف قسم کی میڈیسن، میک اپ پروڈکٹس بناتے ہیں ۔


اگر کسی شخص کو سانپ کاٹ جائے تو یہ ضروری ہوتا ہے کہ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا جائے جہاں اسے اینٹی وینم ویکسین لگائی جائے تاکہ اسکی جان بچائی جا سکے. یہ اینٹی وینم ویکسین بھی سانپ کے زہر سے ہی بنائی جاتی ہے جو کہ مخصوص سانپوں کی نسلوں سے ایک snake Milker حاصل کرتا ہے اینٹی وینم بھی دو قسم کا ہوتا ہے ایک polyvalent اور دوسرا Monovalent ۔


پولیویلنٹ اینٹی وینم کسی بھی قسم کے زہریلے سانپ کاٹے پر مریض کو لگایا جاتا ہے جبکہ مونوویلنٹ اینٹی وینم سانپوں کی نسل کے مطابق ہی دیا جاتا ہے، یعنی اگر کوبرا کاٹا ہے تو جو اینٹی وینم کوبرا کے زہر سے حاصل کیا گیا ہے وہ ہی مریض کو لگے گا، اگر وائیپر کاٹا ہے تو وائیپر کے زہر سے بنایا گیا اینٹی وینم، سنگچور کاٹا تو اسکے زہر سے بنایا گیا اینٹی وینم… امید ہے سبکو دو طرح کے اینٹی وینم ٹائپ کی سمجھ آگئی ہوگی،
ایک snake milker جس سانپوں کی نرسری (جہاں سانپ رکھے جاتے ہیں) میں کام کرتا ہے اسے Snake milking Farm کہا جاتا ہے. یہاں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے سانپوں کو زندہ رکھا جاتا ہے ۔ جن میں کوبرا ، مامبا ، وائیپرز ، کریٹ ، سمندری سانپ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔


سانپوں سے زہر حاصل کرکے اس کو منجمد ( خشک) کرلیا جاتا ہے اور لیبارٹریوں ، دوا ساز کمپنیوں اور میڈیکل یونیورسٹیوں کو تحقیق کیلئے فروخت کر دیا جاتا ہے۔ کنگ کوبرا کے ایک لیٹر زہر کی عالمی مارکیٹ میں قیمت $1,53000 ڈالر پر گیلن ہے جو کہ پاکستانی روپیوں میں 24,522,824 (دو کڑوڑ، پینتالیس لاکھ، بائیس ہزار، آٹھ سو چوبیس روپے ) بنتی ہے. اور آپ لوگوں کو بتاتا چلوں کے ایک گیلن میں 3.785 لیٹر زہر ہوتا ہے لگ بھگ 4 لیٹر ہی سمجھ لیں..


اسی طرح پاکستان میں پائے جانے والے ناجا ناجا اوکسیانہ کوبرا کا زہر بھی لگ بھگ دو کڑور روپے پر گیلن تک ہی بکتا ہے. اسی طرح ناجا ناجا سپیکٹیلڈ کوبرا کا پر گرام خشک زہر 511 امریکی ڈالر کا ہے، کامن کریٹ سنگچور کا زہر 888 امریکی ڈالر پر گرام، رسل وائیپر کا زہر 650 امریکی ڈالر پر گرام، سا سکیلڈ وائیپر ،جلیبی کا زہر 1000 امریکی ڈالر پر گرام ہے.
پاکستان میں سالانہ سینکڑوں سانپ کاٹنے کے واقعات ہوتے ہیں جن میں سے کچھ ہی رپورٹ ہو پاتے ہیں کیونکہ پاکستان میں کوئی مستند ادارہ اس حوالے سے کام نہیں کر رہا اسلیے صیح تعداد کا شمار ممکن نہیں ہے.. اس حوالے سے انڈیا قدرے پاکستان سے آگے ہے جہاں کے ہسپتالز میں ویکسین بھی مل جاتی ہے اور سانپوں کے کاٹنے کے واقعات کا کسی حد تک ریکارڈ بھی رکھا جاتا ہے، رپورٹس کے مطابق انڈیا میں سالانہ لگ بھگ 81000 سے 100000 تک سانپ کاٹنے کے واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں تقریباً 11000 لوگوں کی اموات ہو جاتیں ہے. اگر گراونڈ ریلیٹییز کو دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی زیادہ تر وہی زہریلے سانپ چند ایک کو چھوڑ کر پائے جاتے ہیں جو کہ انڈیا میں پائے جاتے ہیں. اسلیے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 18000، 15000 تک سالانہ سانپ کاٹنے کے واقعات پیش آتے ہیں جن میں سے کچھ غیر زہریلے سانپوں سے کاٹے جاتے ہیں جبکہ کچھ زہریلے سانپوں سے ڈسے جاتے ہیں جبکہ اموات کا شمار 1000 سے 2000 تک سالانہ ہے.


پاکستان میں سنیک ملکنگ کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے اور اسکی فی الحال کوئی نظیر نہیں ملتی کے کسی لوکل شہری کو اس چیز کی اجازت دی گئی ہو اور اسکے ہنر سے حکومتی سطح پر فائدہ حاصل کیا گیا ہو. البتہ اب اسلام آباد پاکستان کے دارالحکومت میں کچھ لیبارٹریز و میڈیکل یونیورسٹیز نے اینٹی وینم بنانا شروع کیا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے…


لیکن ظاہری سی بات ہے خالی زہر اکٹھا کر لینا ہی سب کچھ نہیں اسکے لیے ایک مکمل سیٹ اپ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مشنری سے لیکر اعلی نسل کے صحتمند گھوڑے بھی شامل ہیں جنکو پہلے وینم انجیکٹ کیا جاتا ہے اور بعد میں انکے خون سے اینٹی باڈیز الگ کی جاتیں ہیں جسکو سیرم یا اینٹی وینم کہا جاتا ہے اور ظاہری سی بات ہے کوئی فرد واحد یہ تمام کام اکیلا نہیں کر سکتا اسکے لئے حکومتی توجہ و اداروں کا تعاون انتہائی ضروری ہے.


باہر کے ممالک میں ایک سنیک ملکر سالانہ 35000 امریکی ڈالر تک خالی سیلری کی مد میں کماتا ہے جبکہ اگر سنیک ملکنگ فارم ہی اسکا خود کا ہو تو وہ لاکھوں ڈالر تک ماہانہ لیبارٹریز اور فارما سیوٹیکل کمپنیز کو زہر بیچ کر کما لیتا ہے..
ابھی تک جو میڈیسن سانپوں کے زہر سے بنائی گئیں ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں.
Captopril (Enalaprill)
جو کہ ہائی بلڈ پریشر اور دل کے دورے کو روکنے کیلئے استعمال ہوتی ہے جو کہ برازیلین پٹ وائیپر سانپ (Bothrops jararaca) کے زہر سے حاصل کردہ اہم پروٹین یا ٹاکسن سے بنائی جاتی ہے اور یہ FDA سے اپروو شدہ میڈیسن ہے.
Integrilin (Eptifibatide),
یہ بھی شریانوں میں جمنے والے خون کے لوتھڑوں کو پتلا کرنے کے کام آتی ہے یعنی شدید قسم کے ہارٹ اٹیک میں فوراً مریض کو دی جاتی ہے جسکی وجہ سے دل کی شریانوں میں جم چکا خون پتلا ہو کر دوبارہ نارمل چل پڑتا ہے.. یہ بھی سانپ کے زہر سے بنائی جاتی ہے اور FDA سے تصدیق شدہ و رجسٹر ہے
Aggrastat (Tirofiban).
یہ بھی دل کے امراض کیلئے ہی استعمال ہوتی ہے اور مندرجہ بالا میڈیسنز کیطرح ہی FDA(فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن امریکہ) سے منظور شدہ ہے .
اسی طرح اگر پاکستان میں کوئی اسطرح کی میڈیسن بنائی جاتی ہے تو اسکو DRAP ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے منظور شدہ ہونا چاہیے..


اسی طرح پوری دنیا میں کئی میڈیکل انسٹیٹیوٹس انتھک محنت کر رہے ہیں مزید امراض کیلئے سانپوں کے زہر کو استعمال میں لایا جائے جیسے کئی صدیاں پہلے چائنیز لوگ اپنی ہربل ادویات میں زہر کا استعمال کرتے تھے.
اسی طرح افریقہ میں institute of Molecular and Cellular Pharmacology میں بلیک مامبا کے زہر پر ریسرچ زور شور سے جاری ہے اور امید کی جارہی ہے کی اسکے زہر میں پائے جانے والی درد کش پروٹین یا ٹاکسن جسکو mambaligin کہا جاتا ہے سے ایک بہترین پین کلر میڈیسن بنائی جا سکتی ہے جو کہ Morphine(درد کش دوا) سے کئی درجے بہتر اور کم سائیڈ افیکٹڈ ہو گی..
اسی طرح فالج، جوڑوں کے شدید درد، برین ٹیومرز، انٹسٹائن کینسر، اینٹی ایجنگ پروڈکٹس کیلئے سانپوں کے زہر کا استعمال کرکے بہترین ادویات اور پروڈکٹس بنانے کی کوششیں آخری مراحل میں ہیں جوکہ ظاہری سی بات ہے ایک اہم سنگ میل پر عبور ہوگا..
رہ گئی بات کی سنیک ملکنگ کے کیا فائدہ جات و نقصانات ہیں تو اسکی بھی تھوڑی وضاحت کرتا چلوں آخر میں..
جیسا کہ آپ سب نے آرٹیکل پڑھا ہے آپ مجھے بتائیں کے کیا اگر اس انڈسٹری کی پاکستان میں بنیاد رکھی جائے لوگوں کو ٹریننگ دی جائے، لیبارٹریز و میڈیکل انسٹیٹیوٹس آگے آئیں تو کیا اسکا کچھ نقصان ہو سکتا ہے؟


یقیناً اسکا کوئی نقصان نہیں ہوگا لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے، لوکل سانپ پکڑنے والے سپیرے، سانپ سنیک ملکنگ فارمز کو بیچ کر اچھی خاصی رقم کما پائیں گے، سنیک ملکنگ فارمز سانپوں کا زہر نکال کر اسکو لیبارٹریز و میڈیکل انسٹیٹیوٹس کو بیچ کر پیسہ کما سکیں گے، لیبارٹریز و میڈیکل انسٹیٹیوٹس سانپوں کے زہر سے مختلف قسم کی میک اپ پروڈکٹس، ادویات و اینٹی وینم بنا کر انسانیت کی خدمت کرنے کے علاوہ اچھا خاصا بزنس جنڑیٹ کر سکیں گے، لوگوں کی سانپ کاٹنے سے ہلاکتیں کم ہونگیں جب گورنمنٹ و پرائیویٹ ہسپتالوں میں اینٹی وینم وافر موجود ہوگا، اگر زیادہ تعداد میں ایسی ادویات، میک اپ پروڈکٹس و اینٹی وینم بنائے جائیں ان چیزوں کو ترقی پذیر ممالک کو ایکسپورٹ کرکے بھی اچھا خاصا زرِمبادلہ کمایا جا سکے گا..


اس سے نقصانات کا اندیشہ انتہائی کم ہے کیونکہ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ لوکل سپیرے سانپ زیادہ سے زیادہ پکڑ کر بیچنے کی کوشش کریں گے، جس سے ماحولیاتی نظام میں تھوڑا سا بگاڑ کا خطرہ رہے گا، لیکن اسکا بھی آلٹرنیٹو پلان موجود ہے، سنیک ملکرز کو وینم ایکسٹریکٹ (سانپ سے زہر نکالتے وقت) سانپ کاٹے جانے کا خطرہ رہے گا اور جان جانے کا اندیشہ بنا رہے گا.لیکن ظاہری سی بات ہے اسطرح کے کام میں تھوڑا رسک تو ہوتا ہی ہے، لیکن فائدہ جات زیادہ ہیں انسانیت کیلئے اور نقصانات کم ہیں..
اسلیے میں اس انڈسٹری کے پاکستان میں قیام کے حق میں ہوں اور دعا گو ہوں صاحب حیثیت و طاقتور لوگ جو اسکے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں آگے بڑھیں اور انسانیت کی خدمت کرنے کیساتھ ساتھ خود بھی پیسہ کمائیں..

شیئر کریں
عامر الیاس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن اب بینکاک تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں ۔ پیشے کے لحاظ سے پروفیشنل فوٹوگرافر ہیں ۔ سانپوں کے متعلق جاننے کا پاگل پن کی حد تک جنون ہے ۔ سانپوں پہ طویل عرصے سے ریسرچ کر رہے ہیں ۔ تقریباً 14 سال سے بےشمار سانپوں کو رہائشی علاقوں سے پکڑ کر دوبارہ جنگلات میں چھوڑ رہے ہیں. یہ ہرپ ٹولوجسٹ نہیں ہیں لیکن انہیں ہوبیسٹ کہا جا سکتا ہے ۔ سانپوں کے بارے میں حقائق پر مبنی انکشافات کا خلاصہ کرتے ہیں ۔ سانپوں سے متعلق جو ابہام پائے جاتے ہیں انکی سائنٹیفکلی اور ایناٹومکلی ثبوت کے ساتھ نفی کرتے ہیں اور عام لوگوں کے سانپوں سے متعلق ڈر کو دور کرتے ہیں . سانپوں کی نسلوں سے متعلق لوگوں کو آگاہی فراہم کرتے ہیں ۔ زہریلے اور غیر زہریلے سانپوں کے فرق کو بتاتے ہیں تاکہ لوگ خود کو اور سانپوں کو بچا سکیں ۔ انسان اور ریپٹایلز ایک دوسرے کیلئے ایکوسسٹم کو بنائے رکھیں یہی انکی زندگی کا مقصد ہے

کمنٹ کریں