سانپوں کا ڈر

تحریر :عامر الیاس

, سانپوں کا ڈر

موضوع : Ophidiophobia


آج کا آرٹیکل سانپوں سے متعلق ڈر کے حوالے سے ہے سانپوں سے ڈرنے اور خوف طاری ہونے کے عمل کو Ophidiophobia کہا جاتا ہے، اوفیڈو فوبیا کچھ لوگوں کو کیوں لاحق ہوتا ہے اسکی علامات و وجوہات کیا ہیں؟ اسکا علاج کیا ہے اس سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟ آج کے اس آرٹیکل میں اس موضوع پر تفصیلاً بات کروں گا.
سب سے پہلے بات کرتے ہیں (Ophidiophobia) اوفیڈو فوبیا کی وجوہات کی یہ کس کس وجہ سے لاحق ہو سکتا ہے،


ایک ریسرچ کے مطابق کوئی بھی عام انسان چاہے اسکا کبھی سانپوں سے واسطہ رہا ہو یا نہ رہا ہو وہ لاشعوری طور پر سانپوں سے خوف رکھتا ہے یعنی عقل انسانی سانپ کو ایک خطرہ کے طور پر پیش کرتی ہے. کچھ چیزیں قدرتی ہوتیں ہیں جنہیں قدرت جانوروں، پرندوں، چرندوں، انسانوں کے دماغ میں انسٹال کرکے بھیجتی ہے یہ سینس انکو لاشعوری طور پر شکاری سے خبردار کرنے اور بچنے میں مددگار ہوتی ہے، بہت سے جانور، چرندوں میں جنم کے وقت ہی خود کا بچاؤ کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے.
اب آتے ہیں کہ اوفیڈو فوبیا لاحق کیوں ہوتا ہے اسکی کیا وجوہات ہوسکتیں ہیں


پہلی ممکنہ وجہ

انسان کے ماضی میں پیش آیا کوئی نا خوشگوار واقعہ جس میں انسان خود سانپ سے ڈسا گیا اور تکلیف برداشت کی ہو، یا اس نے سانپ سے ڈسے کسی فرد، جانور،چرند، پرند کو مرتے دیکھا ہو. اگر ایک فرد نے کسی دوسرے کو مرتے دیکھا ہے تو یہ ڈر (اوفیڈو فوبیا) بہت سنگین نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ کسی دوسرے کی اسوقت کی حالت اور موت کو دیکھ کر ہی کپکی طاری ہو جاتی ہے اور یہ ڈر انسانی دماغ میں تقویت پکڑ جاتا ہے کہ اگر اسکی جگہ پر میں ہوتا تو میرا بھی یہی انجام ہوا ہوتا، یعنی جسکو یہ فوبیا ہو جائے وہ راستے میں پڑی رسی سے بھی ڈر جاتا ہے.


دوسری ممکنہ وجہ


سانپوں سے متعلق معلومات کا نہ ہونا ہے، ہمارا رہن سہن ایسا ہے کہ ہمارے بڑے آباواجداد انتہائی فضول قسم کی منگھرت باتیں و قصّے سانپوں سے متعلق گھڑ کر اگلی نسلوں تک منتقل کرگئے ہوئے ہیں، اسی وجہ سے سانپوں کو ایک دشمن یا ڈر کے سمبل کے طور پر ہی لیا جاتا ہے. یعنی ہمارا ماحول، رہن سہن، سانپوں سے متعلق سنی سنائی منگھرت باتیں و قصّے بھی اوفیڈو فوبیا کو تقویت دیتے ہیں.
جیسے کسی کے دادے نے بتایا “اک بندہ راتی مسیتے نماز پڑھدا پئیا سی کہ اگے سپ آگیا، او انہوں مارن لگا تے سپ نے کہیا مینوں نہ مار میں تینوں کجھ نئیں کہندا، لیکن اونہے کول پئے سوٹے دے نال سپ نو مار دتا لیکن جہیڑا سوٹا اوہنے بندے نے پھڑیا سی اوہدے راہئیں زہر بندے نوں چڑ گیا تے او اوتھے ای مر گیا تے لاش اوہندی گل سڑ گئی تے اوہنوں کوئی چکدا وی نئیں سی”.
یعنی سنے سنائے ڈراونے، پرسرار قسم کے اسطرح کے قصّے جب بچپن سے سنے ہوں تو سانپوں سے ڈر تو لگے گا ہی نہ؟
اب آتے ہیں سانپوں سے ڈر کی علامات کیطرف کے اگر کوئی فرد سانپوں سے ڈرتا ہے تو اس میں کیا ممکنہ علامات ہو سکتیں ہیں.
کسی کو سانپوں سے متعلق بات کرتے سن کر جھرجھری آنا، ماتھے پر ٹھنڈے پسینے آنا، جسم میں برقی لہر جیسے دوڑنا، سانپ کو دور سے دیکھ کر ہی دل کی دھڑکن کا انتہائی تیز ہوجانا، جسم کا وقتی طور پر شل ہوجانا، جسم کا متواتر کانپنا و بے ہوشی جیسی کفیت کا ہونا ظاہر کرتا ہے کہ شخص اوفیڈو فوبیا سے متاثر ہے.ایسے شخص کے تصورات و خوابات میں بھی سانپ ہی اسے ڈسنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں.


اوفیڈو فوبیا کاعلاج


پاکستان میں تو اسکے علاج کا سرے سے ہی تصور ہی نہیں پایا جاتا جبکہ باہر کے ممالک میں باقاعدہ اوفیڈو فوبیا کو ایک بیماری کے طور پر لیا جاتا ہے اور باقاعدہ اسکا علاج کیا جاتا ہے
اسکا پہلا و بنیادی علاج
Exposure therapy
نمائشی تھراپی ہے
آپس میں بات چیت کرنے کے عمل کو نمائشی تھراپی یا
Systematic Desensitisation
سیسٹیمیٹک ڈسینسیٹائزیشن بھی کہا جاتا ہے ،
اس تھراپی میں ماہر سائیکالوجیسٹ متاثرہ فرد سے اسکے ممکنہ خوف اور اس واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے جس وجہ سے متاثرہ فرد اوفیڈو فوبیا کا خوف رکھتا ہےاور خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، ایک دفعہ جب ماہر اس شخص کے خوف کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے تو وہ مختلف طریقوں سے متاثرہ فرد کا علاج کرنے کی کوشش کرتا ہے.
سب سے پہلے معالج اسے خوبصورت سانپوں کی تصاویر دیکھاتا ہے اور متاثرہ فرد کے ان تصاویر کو دیکھ کر ظاہر ہونے والے جذبات و حرکات و سکنات کو دیکھتا ہے اور متاثرہ فرد سے اسکے جذبات اور جسمانی رد عمل پر گفتگو کرتا ہے،
کچھ معاملات میں متاثرہ فرد کو سانپوں کے اینکلاوثررز کے پاس لیجایا جاتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے یہ شیشے کے اینکلاوثررز میں قید ہیں آپکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں. متاثرہ فرد کو سانپوں کے اینکلاوثررز کو ٹچ کرنے کا کہا جاتا ہے، تاکہ اسکا ڈر تھوڑا کم ہو.
اسکے علاوہ متاثرہ فرد کو ڈیجیٹل ورچوئل رئیلٹی سسٹم کو استعمال کرتے ہوئے سانپوں کے آس پاس والی جگہ کا منظر دکھایا جاتا ہے، افیڈو فوبیا سے متاثرہ فرد کو ایسا لگتا ہے کہ وہ خود وہاں موجود ہے اور سانپ اسکے آس پاس رینگ رہے ہیں، لیکن متاثرہ فرد کو یقین دلایا جاتا ہےکہ کوئی بھی سانپ حقیقت میں آپ کو تکلیف نہیں پہنچا سکتا ۔ اسکے علاوہ چڑیا گھر جیسے محفوظ اور منظم ماحول میں حقیقی سانپ کے آس پاس رہنے کی مشقیں بھی کروائی جاتیں ہیں.


عملی برتاؤ کی تھراپی (Cognitive behavioral therapy)


اس تھراپی میں متاثرہ فرد کو ماہر ہرپٹالوجسٹ کی موجودگی میں غیر زہریلے سانپ عملی طور پر تھمائے جاتے ہیں اور قلیل و طویل مدتی سیشن ہوتے ہیں متاثرہ فرد کو سانپوں کے متعلق معلومات دی جاتیں ہیں اسکو پکڑنا کیسے ہے، چھوڑنا کیسے ہے، کب سانپ غصے میں ہوگا کب ٹھنڈا ہوگا وغیرہ وغیرہ
اسکے ساتھ ساتھ سانپوں کی قسموں سے متعلق لیکچرز دیے جاتے ہیں جس میں زہریلے و غیر زہریلے سانپوں سے متعلق معلومات دی جاتیں ہیں الغرض متاثرہ فرد کا ایک بہترین طریقے سے سانپوں سے متعلق ڈر اتار دیا جاتا ہے. اور اوفیڈو فوبیا کا مرض جاتا رہتا ہے
اس کام میں الحمد للہ میں بھی ماہر ہوں اور کئی ایک بھائیوں کا اوفیڈو فوبیا ختم کروا چکا ہوں امید ہے انشاءاللہ مستقبل میں بھی یہ کام جاری رہے گا.
امید کرتا ہوں یہ آرٹیکل آپ سب کے علم میں اضافہ کا باعث ہوگا انشاءاللہ، باقی اس آرٹیکل کو لائک کریں ساتھ ہی شئیر کیا کریں شکریہ

شیئر کریں
عامر الیاس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن اب بینکاک تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں ۔ پیشے کے لحاظ سے پروفیشنل فوٹوگرافر ہیں ۔ سانپوں کے متعلق جاننے کا پاگل پن کی حد تک جنون ہے ۔ سانپوں پہ طویل عرصے سے ریسرچ کر رہے ہیں ۔ تقریباً 14 سال سے بےشمار سانپوں کو رہائشی علاقوں سے پکڑ کر دوبارہ جنگلات میں چھوڑ رہے ہیں. یہ ہرپ ٹولوجسٹ نہیں ہیں لیکن انہیں ہوبیسٹ کہا جا سکتا ہے ۔ سانپوں کے بارے میں حقائق پر مبنی انکشافات کا خلاصہ کرتے ہیں ۔ سانپوں سے متعلق جو ابہام پائے جاتے ہیں انکی سائنٹیفکلی اور ایناٹومکلی ثبوت کے ساتھ نفی کرتے ہیں اور عام لوگوں کے سانپوں سے متعلق ڈر کو دور کرتے ہیں . سانپوں کی نسلوں سے متعلق لوگوں کو آگاہی فراہم کرتے ہیں ۔ زہریلے اور غیر زہریلے سانپوں کے فرق کو بتاتے ہیں تاکہ لوگ خود کو اور سانپوں کو بچا سکیں ۔ انسان اور ریپٹایلز ایک دوسرے کیلئے ایکوسسٹم کو بنائے رکھیں یہی انکی زندگی کا مقصد ہے

کمنٹ کریں