کاسمیٹکس میں سانپ کے زہر کا استعمال

مضمون نگار :عامر الیاس
lafznamaweb@gmail.com

, کاسمیٹکس میں سانپ کے زہر کا استعمال

آج کا آرٹیکل بہت ہی زیادہ اہم اور آپ سب کے علم میں اضافہ کا باعث بننے والا ہے کچھ دن پہلے ایک آرٹیکل لکھا تھا سانپوں کے زہر ایکسٹریکشن کے حوالے سے اور آپکو بتایا تھا کیسے زہر ادویات، کاسمیٹکس پروڈکٹس بنانے میں استعمال ہورہا ہے..
آج آپکو بتاتا ہوں کے زہر کو کیسے کاسمیٹکس پروڈکٹس میں استعمال کیا جاتا ہے.


جیسا کے آپ سبکو پتہ ہوگا کے سانپ کا زہر مختلف قسم کی پروٹینز یا پیپٹائڈز و پولی پیپٹائڈز کا مرکب ہوتا ہے جو کہ سانپ اپنے salivary glands میں تیار کرتے ہیں یعنی کے آپ کہہ سکتے ہیں کے زہر سانپ کا تبدیل شدہ یا تیارکیا گیا شدہ تھوک ہی ہوتا ہے جس میں کئی طرح کی پروٹینز اور پولی پیپٹائڈز ہوتے ہیں.
ابھی تھوڑا آپکو پروٹینز، پیپٹائڈز و امائنو ایسڈز کا بھی بتاتا چلوں تاکہ آپکو اس آرٹیکل کو پڑھ کر سمجھنے میں آسانی ہو


اصل میں امائنو ایسڈز پروٹینز یا پیپٹائڈز کو بنانے والے ضروری بلڈنگ بلاکس ہیں یعنی انتہائی چھوٹے چھوٹے کیمیکلز کمپاونڈز ہیں جو مل کر ایک چین بناتے ہیں اور پھر پیپٹائڈز کی صورت بناتے ہیں، اگر زیادہ امائنو ایسڈز کی چین بنے تو پولی پیپٹائڈز کہلاتے ہیں اور اس بھی زیادہ جڑیں تو مل کر ایک مکمل پروٹین بناتے ہیں…


یعنی 2 سے 10 امائنو ایسڈز پیپٹائڈز کہلاتے ہیں
10 سے 50 امائنو ایسڈز مل کر پولی پیپٹائڈز بناتے ہیں 1 سے 20 پولی پیپٹائڈز کا سیٹ مل کر پروٹین بناتا ہے،یعنی آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پروٹین بڑے پولی پیپٹائڈز ہی ہوتے ہیں.
قدرتی طور پر سینکڑوں قسم کے امائنو ایسڈز ملتے ہیں لیکن ضروری طور پر 20 قسم کے امائنو ایسڈز ہوتے ہیں جو انسانی جسم میں ملنے والی پروٹینز کو بنانے کیلئے کافی ہوتے ہیں.. اور یہ بہت ہی ناگزیر ہوتے ہیں، جو جسم میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں ، بشمول غذائی اجزاء کو ہضم کرنے ، قوت مدافعت کو بڑھانے ، ٹشووں کی مضبوطی و افزائش ، پٹھوں کی مرمت اور توانائی کی پیداوار، مختلف قسم کی بیماریاں ختم کرنے وغیرہ وغیرہ.


یاد رکھیں کے ہمارا میٹابولک سسٹم خود سے ضروری امائنو ایسڈز نہیں بنا سکتا ہے مختلف اقسام کی غذائی اجزاء کھا کر ہی انکا حصول ممکن ہوتا ہے.
(میٹابولزم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ آپ کا جسم آپ کے کھانے پینے کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ اس پیچیدہ عمل کے دوران ، کھانے اور مشروبات میں کیلوری آکسیجن کے ساتھ مل کر آپ کے جسم کو چلنے کے لئے جس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اسے جاری کرتا ہے)
20 سے 22 قسم کے ضروری امائنو ایسڈز جو مل کر انسانی جسم کیلئے پروٹینز بناتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں
1- Alanine. 2- Arginine. 3- Asparagine. 4- Asparitic Acid. 5- Cysteine
6-Glutamic Acid. 7- Glutamine. 8- Glycine 9-Histidine.10-Isoleucine. 11- Leucine. 12- Lysine. 13- Methionine.
14- Phenylalanine. 15- Proline. 16- Serine. 18- Threonine. 19-Tryptophan. 20- Tyrosine. 21- Valine. 22- Selenocystenine.
ان مندرجہ بالا اماینو ایسدز میں سے بھی 9 ایسے امائنو ایسڈز ہیں جو کہ انتہائی ضروری ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہے
1- Phenylalanine. 2- Valine. 3- Tryptophan. 4- Threonine 5- Isoleucine
6- Methionine 7- Histidine 8- Leucine. 9- Lysine
ان میں سے ہر ایک اماینو ایسڈز کے جسم میں موجودگی کے اپنے اپنے فوائد ہیں جیسے Phenylalanine ڈپریشن، پھلہری، دائمی درد کو ختم کرتا ہے.


اور valine پٹھوں کی نشوونما و توانائی کی پیداوار میں یعنی قوت مدافعت بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، isoleucine خون کی شوگر کو کنٹرول کرنے و زخمی شدہ پٹھوں کو جلد صحتیاب ہونے میں مدد کرتا ہے…


ہر ایک امائنو ایسڈز کے الگ الگ فوائد بتا سکتا ہوں لیکن آرٹیکل بہت ہی لمبا اور بور ہو جائے گا اسلئے صرف اسی پر اکتفا کرتا ہوں بس اتنا جان لیجیے کے ان امائنو ایسڈز کی جسم میں موجودگی ضروری ہے اور انکی غیر ضروری بڑھوتری یا کمی فائدہ مند یا نقصان دہ سکتی ہے.


جن امائنو ایسڈز کی چین مل کر پیپٹائڈز کی تشکیل کرتی ہے ان کی کارکردگی کا انحصار انکی قسم پر ہوتا ہے. پیپٹائڈز اکثر ہارمون کی طرح ہی کام کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک ٹشو سے دوسرے ٹشو کو معلومات لے کر بھیجتے رہتے ہیں۔


پیپٹائڈ ہارمونز پیٹ ، دماغ ، آنتوں اور غدود میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بھوک اور بلڈ شوگر، جلدی امراض، بیماریوں کو بڑھاوا دینے و ختم کرنے کے زمہ دار ہوتے ہیں.


اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، تو جیسا کے آپکو بتایا ہے سانپوں کا زہر بھی مختلف قسم کے پیپٹائڈز کا مرکب ہوتا ہے. اس میں کچھ پیپٹائڈز مختلف بھی ہوتے ہیں، زیادہ تر سانپوں کے زہر میں پروٹیولائٹک انزایمز، آرگنائن ایسٹر ہائیڈرولیز، ہائیلورونائڈز، فاسفولیپیس، ایل- اماینو ایسڈز پائے جاتے ہیں. آگے چل کر ان پیپٹائڈز کو مزید ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے جو کہ ایک لمبی فہرست ہے.


مختصر آپکو بتاتا چلوں کے کے جو سائنسدان بیالوجیکل ٹاکسنز پر تحقیق کر رہے ہیں انہوں نے سانپوں و مختلف جانداروں کے زہر پر کافی زبردست کام کیا ہے اور شب و روز کی انتھک محنت کے بعد مختلف جانداروں( سانپوں، شہد کی مکھیوں، گونگھوں، جیلی فش، بچھوؤں) کے زہر سے اُن کارآمد پیپٹائڈز یا امینو ایسڈز کو الگ الگ کرکے مختلف مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر قادر ہوئے ہیں اور کامیابی سے ان اہم پیپٹائڈز کو ادویات بنانے و کاسمیٹکس پروڈکٹس بنانے میں استعمال کر رہے ہیں.


سوئٹزرلینڈ میں سائنٹسٹس نے SYN-SKE نامی سانپ کے زہر کی مصنوعی شکل بھی تیار کر لی ہے جسکو کامیابی سے بیوٹی پروڈکٹس خاص طور پر اینٹی ایجنگ پروڈکٹس میں استعمال کیا جا رہا ہے اور اسکے حیرت انگیز فوائد دیکھنے کو مل رہے ہیں جو خواتین و مرد ان پروڈکٹس کا استعمال کر رہے ہیں انکی عمر کافی کم دکھتی ہے کیونکہ اسطرح کی پروڈکٹس چہرے پر جھریاں پڑنے کے عمل کو بہت دھیما کر دیتیں ہیں. کچھ بیوٹی پروڈکٹس کی تصاویر بھی لگا رہا ہوں.. یہ پرودکٹس انتہائی مہنگی ہوتیں ہے جنکی قیمت 10000 پاکستانی روپے سے لے کر لاکھوں روپے تک ہوتی ہے
امید کرتا ہوں سب کو آرٹیکل پسند آئے گا


نوٹ: سانپوں کےزہر پر تحقیق اور اس میں پائے جانے والے تمام بنیادی امائنو ایسڈز، پیپٹائڈز و پروٹینز پر بات کرنا و تفصیل فراہم کرنا ایک مشکل کام ہے اور آرٹیکل میں طوالت کا باعث ہے اسلیے مختصراً لکھا و سمجھایا ہے

شیئر کریں
عامر الیاس کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن اب بینکاک تھائی لینڈ میں رہائش پذیر ہیں ۔ پیشے کے لحاظ سے پروفیشنل فوٹوگرافر ہیں ۔ سانپوں کے متعلق جاننے کا پاگل پن کی حد تک جنون ہے ۔ سانپوں پہ طویل عرصے سے ریسرچ کر رہے ہیں ۔ تقریباً 14 سال سے بےشمار سانپوں کو رہائشی علاقوں سے پکڑ کر دوبارہ جنگلات میں چھوڑ رہے ہیں. یہ ہرپ ٹولوجسٹ نہیں ہیں لیکن انہیں ہوبیسٹ کہا جا سکتا ہے ۔ سانپوں کے بارے میں حقائق پر مبنی انکشافات کا خلاصہ کرتے ہیں ۔ سانپوں سے متعلق جو ابہام پائے جاتے ہیں انکی سائنٹیفکلی اور ایناٹومکلی ثبوت کے ساتھ نفی کرتے ہیں اور عام لوگوں کے سانپوں سے متعلق ڈر کو دور کرتے ہیں . سانپوں کی نسلوں سے متعلق لوگوں کو آگاہی فراہم کرتے ہیں ۔ زہریلے اور غیر زہریلے سانپوں کے فرق کو بتاتے ہیں تاکہ لوگ خود کو اور سانپوں کو بچا سکیں ۔ انسان اور ریپٹایلز ایک دوسرے کیلئے ایکوسسٹم کو بنائے رکھیں یہی انکی زندگی کا مقصد ہے

کمنٹ کریں