سردیوں میں زیادہ بارشوں کی سائنس

مضمون نگار : قدیر قریشی
بشکریہ سائنس کی دنیا

, سردیوں میں زیادہ بارشوں کی سائنس

سردیوں میں جو بارشیں ہوتی ہیں ان کے بخارات ہمارے قریبی علاقے سے ہی ہم تک پہنچے ہیں- جب شمالی نصف کرے میں سردیاں ہوتی ہیں تو اس وقت جنوبی نصف کرے میں گرمیوں کا موسم ہوتا ہے- سمندر صرف شمالی نصف کرے میں ہی نہیں ہیں- جنوبی نصف کرے میں سمندر خشکی کی نسبت زیادہ ہیں اس لیے بخارات ان دنوں میں بھی سمندر سے اٹھ رہے ہوتے ہیں جب ہمارے ہاں سردیوں کا موسم ہوتا ہے- یہ تصور بھی درست نہیں ہے کہ سردیوں میں سورج کی تپش سمندر سے بخارات اٹھانے کے لیے ناکافی ہوتی ہے- شمالی نصف کرے کے سمندروں میں سردیوں میں اگرچہ بخارات کی مقدار کم ہو جاتی ہے لیکن صفر کبھی نہیں ہوتی-


بارش برسانے میں ہواٶں کا بنیادی کردار ہوتا ہے جو ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک دور دور تک بارش اور برفباری کا باعث بنتی ہیں۔ بادل موافق حالات پیدا ہوتے ہی برسنا شروع کردیتے ہیں سیزن گرمی ہو یا سردی کا سمندر سے بھاپ نکلتی رہتی ہے ان علاقوں میں بھی خوب ارش ہوتی ہے جو سمندر سے بہت دور ہیں۔
جب پاکستان میں شدید سردی ھوتی ھے تب آسٹریلیا میں شدید گرمیاں ھوتی ہیں
زمین پہ کبھی بھی ھر جگہ پہ گرمی یا سردی نہیں ھوتی ھے
ھاں اگر گرین ہاوس گیسز میں تبدیلی آجائے یعنی کمی ۔ ۔ ۔ تو ساری زمین پہ برفانی دور شروع ھو جائے گا ۔


فطری مظاہر کو سٹڈی کرنے سے ہی ہم یہ سمجھ پائے ہیں کہ موسم کیسے تبدیل ہوتے ہیں اور موسمی پیش گوئیوں کے قابل ہوئے ہیں
سردیوں میں درجہ حرارت کم ہوتا ہے وہ بخارات کو جلد منجمد کرتا ہے
جبکہ گرمیوں میں درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے
اگر چہ بخارات تو ہوا میں موجود ہوتے ہیں
مگر وہ condense نہیں ہوتے

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں