سائنس کیا ہے

ترجمہ اور تلخیص: قدیر قریشی

, سائنس کیا ہے

نوے فیصد سے زیادہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ
الیکٹرانکس کے گیجٹس سائنس نہیں ہیں
لیبارٹری میں موجود سامان بھی سائنس نہیں ہے
ڈی این اے کے بارے میں آُپ کیا کہیں گے؟ جی نہیں – یہ بھی سائنس نہیں ہے
اور فزکس یا ریاضی کی پیچیدہ مساوات؟ یہ بھی نہیں
لارج ہیڈرون کولائیڈر تو یقیناً سائنس ہی ہوگی – جی نہیں یہ بھی سائنس نہیں ہے
اکثر لوگ اس بارے میں متذبذب رہتے ہیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں کیا فرق ہے – سائنسی آلات سائنس کی ریسرچ میں مدد تو دے سکتے ہیں لیکن یہ از خود سائنس نہیں ہیں – ٹیکنالوجی سائنس کے اصولوں کے استعمال سے ایجاد کی جاتی ہے اور سائنسی آلات سائنس کی کھوج میں مدد کرتے ہیں – تو پھر سائنس کیا ہے؟


سائنس صرف معروضی حیقیقت کا کھوج لگانے کے ایک طریقہِ کار کا نام ہے – حضرتِ انسان کے ارتقاء پذیر ہونے اور کامیاب ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمارا تجسس تھا – چنانچہ ہم ہزاروں سالوں سے دنیا کے بارے میں سوچتے اور اپنی ذہانت سے اس کے سربستہ راز کھولتے چلے آئے ہیں – ہم عرصہ دراز سے معروضی حقیقت کے بہتر سے بہتر ماڈلز بناتے آئے ہیں – لیکن کیوں؟ – اس لیے کہ ہم نے تجربے سے یہی سیکھا ہے کہ دنیا بظاہر خواہ کتی ہی بے ہنگم نظر کیوں نہ آئے، اس کے محرکات کچھ بنیادی قوانین ہیں – ہماری کوشش یہ رہی ہے کہ ان بنیادی قوانین کو سمجھ سکیں اور انہیں استعمال کر کے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کر سکیں
یہی شوق، یہی تجسس آگے چل کر ہمیں اس قابل بنا سکا کہ ہم حقیقت کو جاننے کے مختلف طریقے ایجاد کر سکیں – ان طریقوں کی ہر دور میں مختلف لوگوں کی طرف سے مخالفت کی گئی لیکن بہت سے ذہین اور دھن کے پکے لوگ اس مخالفت کے باوجود تن دہی سے ان طریقوں کی تلاش میں مگن رہے – اس طریقے کو سائنسی طریقہِ کار یا scientific method کہا جاتا ہے – اس میں ذات پات، مذہب، جنس وغیرہ سے بالاتر ہوکر حقیقت کو صرف مشاہدات سے پرکھا جاتا ہے – آپ کا عقیدہ خواہ کچھ بھی ہو، آپ جب بھی روشنی کی رفتار کی پیمائیش کریں گے، جواب ایک ہی آئے گا یعنی تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ


سائنس لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا لفظی مطلب علم ہے – تاہم آج کل سائنس کا لفظ اس مخصوص طریقہِ کار کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کے استعمال سے ہم معروضی کائنات کے بارے میں حقائق کو اپنے تعصبات سے بالاتر ہوکر جان سکتے ہیں – اگرچہ انسان کو کائنات کے بارے میں تجسس تو زمانہِ قبل از تاریخ سے ہی رہا ہے لیکن جدید سائنس کا آغاز یونانی فلسفہ دانوں سے ہوا – خاص طور پر ارسطو نے اپنے طلبہ کے ساتھ مل کر بہت سے مختلف معاملات پر تحقیق کی اور اپنے نتائج کو قلمبند کیا –


مسلمانوں کے عروج کے طور میں (اور خاص طور پر بنو عباس کے خلافت کے دوران) علمی تحقیق پر بہت زور دیا گیا – مسلمانوں نے بہت سے فلسفی اور سائنس دان پیدا کیے جن کی تحقیقات یورپ کی نشاۃِ ثانیپ کا نقطہِ آغاز ثابت ہوئی
یورپ میں سائنس کے سنہری دور کا آغاز سولہویں صدی میں ہوا جب فلسفہ دانوں اور سائنس دانوں نے فلکی اجسام کا تفصیلی مشاہدہ کیا اور پاپائے روم کی مخالفت کے باوجود زمین کے کائنات کا مرکز ہونے کے تصور کو غلط قرار دیا – یہاں سے مشاہداتی سائنس کا باقاعدہ آغاز ہوا اور سائنسی طریقہِ کار کی بنیاد پڑی
جدید سائنسی طریقہ کار کو یوں بیان کیا جاسکتا ہے


• کسی مظہر کا مشاہدہ کیجیے
• اس مظہر کے بارے میں تجربات سے مزید معلومات اکٹھا کیجیے – تجربات ایسے ہوں جنہیں اصولاً آزادانہ طور پر دہرایا جاسکے
• ان مشاہدات سے ایک مفروضہ قائم کیجیے جو تمام مشاہدات کی وضاحت کرتا ہو اور جسے اصولاً پرکھا جاسکے – اگر ممکن ہو تو اس مفروضے کو ریاضی کی زبان میں بیان کیجیے
• اپنے مفروضے کو پرکھیے اور اسے ہر ممکن طریقے سے غلط ثابت کرنے کی کوشش کیجیے
• اگر مفروضہ غلط ثابت ہوجائے تو تسلیم کر لیجیے کہ مفروضہ غلط ہے اور اسے ترک کر دیجیے
• اگر مفروضہ غلط ثابت نہیں ہوا تو اپنے نتائج کو ایک پیپر کی صورت میں کسی سائنسی جریدے میں چھپوائیے تاکہ دوسرے سائنس دان اس مفروضے کو مزید پرکھ سکیں اور اس کی نوک پلک سنوار سکیں
• اگر دوسرے سائنس دان بھی آپ کے مفروضے کو درست تسلیم کر لیں تو اپنے آپ کو مبارک دیجیے – آپ نے ایک درست نظریہ پیش کیا ہے
• اس نظریے کو مسلسل پرکھتے رہیے اور دوسروں کو بھی اسے پرکھنے اور اسے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہنے کی تلقین کیجیے – اگر مستقبل میں یہ غلط ثابت ہوجائے تو اسے ترک کر دیجیے اور اسے سے بہتر نظریے کی تلاش کیجیے


مختصراً یہ ہے سائنسی طریقہِ کار – اس طریقہِ کار میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ تجربات کرنے اور ڈیٹا کی پراسیسنگ میں انسانی تعصب کو کم سے کم کیا جاسکے – اس وجہ سے آنکھ سے مشاہدے کے بجائے مشاہدے کے لیے سائنسی آلات کے استعمال کیے کو ترجیح دی جاتی ہے جن کی خصوصیات معروضی طور پر معلوم ہوتی ہیں اور کسی کی نفسیات یا تعصبات سے متاثر نہیں ہوتیں – اس سائنسی طریقہِ کار کو استعمال کر کے ہم کائنات کی سمجھ کو مسلسل بہتر سے بہتر بناتے چلے جارہے ہیں – معروضی حقائق کے بارے میں علم حاصل کرنے کے لیے جتنا کامیاب یہ طریقہِ کار رہا ہے اتنا کوئی اور طریقہ نہیں رہا
آج کل کچھ حلقوں میں سائنس کو شک کی نگاہ سے دیکھنا فیشن بن چکا ہے – اپنی لاعلمی یا تعصب کی وجہ سے لوگ سائنس کو مطلق العنان (authority based) بتلانے یا سمجھنے لگے ہیں – لوگوں کے خیال میں سائنس دان محض چند مغرور لوگ ہیں جو اپنی لیبارٹری میں بیٹھ کر جھوٹے سچے پیپر لکھ کر عوام کو الو بناتے ہیں – ‘سائنس ابھی اس قابل نہیں ہوئی کہ اس مسئلے کو حل کر سکے’ ہمارے کچھ بھائیوں کا تکیہِ کلام ہے – ان کا یقین ہے کہ ایسے بیانات سے وہ اپنے تعصبات کو حقائق سے زیادہ معتبر ثابت کر سکتے ہیں – اسی طرح کچھ لوگ سائنس کے نظریات کو محض ایک اندازہ ہی سمجھتے ہیں جو جلد ہی غلط ثابت ہوجائے گا اور ان کے اپنے تعصبات درست ثابت ہوں گے – تاہم ایسے لوگ عموماً سائنس کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے – ایسے لوگ سائنس کو اکثر ایک عظیم سازش قرار دیتے ہیں اگرچہ سائنس سے فائدہ اٹھانے سے ہرگز نہیں چوکتے – بدقسمتی سے انسانی نفسیات کچھ ایسی ہیں کہ لوگوں کو کسی موضوع کے بارے میں جتنا کم علم ہوتا ہے اتنا ہی انہیں یہ اعتماد زیادہ ہوتا ہے کہ وہ درست ہیں

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں