سٹرنگ تھیوری کا تعارف

تحریر : افتاب سکندر

, سٹرنگ تھیوری کا تعارف

جب ہم طبعیات کے مشہور و معروف نام نیوٹن کا زبانِ زدِ عام واقعہ سنتے ہیں تو ہمارے اندر ایک خوشگوار تاثر پھوٹتا ہے کہ وہ سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے طبعیات کی نئی جہتیں کھولنے والا بن گیا پھر آج ہم خود کو اُسی شجر کے سایہ میں لے کر جاتے ہیں اور سیب ہمارے پاس گرتا ہے اور ہم سیب اٹھا کر اس کا ذائقہ چکھتے ہوئے گمان کرتے ہیں کہ آخر قدرت کے اس شاہکار کے پیچھے کیا ہے یہ بنا کس چیز سے ہے. چونکہ ہم جدید دور کے ہیں نیوٹن کی طرح قدیم دور کے نہیں ہیں اس لئے ہم اُس کو بڑا کرتے ہیں اور بڑا کرتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ہم مالیکیولز نامی چیز کے راز سے آشکار ہوجاتے ہیں اور فرحان و شادماں ہونے کی بجائے ششدر و حیراں ہوتے ہوئے


ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کی تقلید کرتے ہوئے اور بڑا کرنا شروع کردیتے ہیں اور کرتے جاتے ہیں کہ ایٹمز جیسے راز بھی آشکار ہو چلتے ہیں پھر بات آتی ہے کہ آخر اس میں بھی تو کچھ ہوگا جب مزید بڑا کرتے ہیں تو الیکٹران، پروٹان، نیوٹران وغیرہ سامنے آ تے ہیں اور پھر ہم پروٹان کو لے کر بات بڑھا کرنا شروع کرتے ہیں تو کوارکس تک پہنچ جاتے ہیں. یہاں پر روایتی نظریہ تو اختتام پذیر ہو جاتا ہے کہ سب چیزیں کوارکس سے مل کر بنتی ہے مگر تحقیق و تفتیش کی دنیا میں قدم رکھنے والے جب کوارکس کو چھیڑتے ہیں تو سُر تو نہیں پیدا ہوتے البتہ یہ حقیقت ضرور آشکار ہوتی ہے کہ دھاگہ نما ہیں مگر سارسی کے سُروں کو جیسے چھیڑنے سے سُر بکھرتے ہیں اِدھر سُر تو نہیں بکھرتے البتہ اس ارتعاش سے کوارکس ضرور بنتے ہیں یوں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نیوٹرینو ہو یا پوزیٹران یہ صرف ان دھاگوں کے مختلف ارتعاش کا نتیجہ ہیں . اس حقیقت کو پاکر ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ سب (تمام مادہ بشمول سیب) دھاگوں کی ارتعاش کا ہی نتیجہ ہوتا ہے.یہی سٹرنگ تھیوری کی بنیادی اساس ہے.
—-
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں