ہلکی پھلکی فزکس

تحریر : آفتاب سکندر

, ہلکی پھلکی فزکس

ہم صبح سویرے بستر سے اُٹھتے ہیں. کھڑکی کا پردہ کھولتے ہیں تو سورج کی کرنیں نمودار ہوتی ہیں. یہ کیا ہوتا ہے کہ ہم کیا ہے مطلب مادہ ہیں جو جگہ گھیرتا ہے وزن رکھتا ہے. ایسی شے کو ہم مادہ کا نام دیتے ہیں پھر کیا حرکت کی کہ بستر سے اُٹھ کر کھڑکی کا پردہ سرکا دیا یہ کیا ہوتا ہے یہ ہوتا ہے کام کرنا اور کام کرنے کی قابلیت کو توانائی کہتے ہیں. اب یہ کام تو مادہ سے سرانجام پاتا ہے ناں. تو یہ دونوں لازم و ملزوم ہوئے دونوں کا ایک دوسرے سے رشتہ، تعلق کام ہوگیا یوں اس تعلق کے خواص بھی ہونگے ظاہر بات ہے کام جو سرانجام دے رہے ہیں اس لئے ان کے تعلق کے خواص بھی ہونگے. ان کے تعلق اور خواص کے مطالعہ کا نام طبعیات ہے. بات یوں ہے کہ ایک حرکت ہوئی ہم سے جس کے سبب ہم نے کھڑکی کا پردہ کھولا اور حرکت ہوئی زمین سے جس کے سبب سویرا ہوا اک حرکت ہوئی یا ہورہی سورج سے. یوں یہ جو حرکت میں برکت ہے اس کو بھی کوئی نام دیا گیا ہے یا نہیں. پتہ کرنے پر علم ہوا کہ اس حرکت کا نام بھی ہے جس سے مکینیات بولتے ہیں. مگر ٹھہریے یہ تو ہم نے جان لیا اور مان لیا کہ حرکت ہوئی جس کے سبب رات دیکھی مگر یہ سورج کے پاس کون سا گُن ہے کونسا سحر ہے کہ یہ امیدِ سحر بن کر ابھرتا ہے تو روشنی کیا ہے اندھیرا کیا ہے اجالا کیا ہے اندھیرا روشنی کی عدم موجودگی کا نام ہوا اور ایک گتھی سلجھ گئی اب دوسری بات آگئی کہ ظلمت کو بجھانے والی سحر، روشنی کیا ہے یہ فوٹان کی حرکت کا نام ہے ہاں جناب وہی فوٹان جو نکلتے ہی مطلب خارج ہوتے ہی 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتے ہیں اور بے کمیت بھی ہوتے اور بغیر چارج کے ہوتے ہیں.


اب نئی حقیقت آگئی کہ فوٹان بہت ہی چھوٹا ذرہ ہے جو محوِ حرکت ہے اور ہم نے تو زمین کی حرکت کی بات کی، نہ کہ چاند سورج کی حرکت کی. یہ کیا طلسم ہے. مکینیات میں تفاوت ہے اور اسی تفاوت کی بنیاد پر زمین، سورج چاند یا بستر سے اٹھنے والے شریر کی حرکت کو کلاسیکل مکینیات جبکہ بہت ہی چھوٹے اجسام جیسے کہ الیکٹران، پروٹان اور فوٹان کی حرکت تو اس کو کوانٹم مکینیات کا نام دیا گیا. اب تو دیکھنے والی آنکھ نے آجو دیکھا کہ سورج کی کرنوں نے سویرا تو کیا ہے مگر اک آسمان نامی چیز جو ہے جس کا شور سنتے رہتے ہیں رات کو سیاہ تھا دن کے سویرے میں سرخی مائل نظر آیا اور پھر اپنا اصل رنگ دھار گیا جو نیلا ہے. اس کے پیچھے کیا سبب ہے. یہ نظارہ زینتِ دید و رصد ہوا تو ہوا کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا راز بھی عُریاں ہو. تو سورج کی کرنیں مختلف طول موج رکھتی ہیں اور جب وہ اوزون سے ٹکراتی ہیں تو زیادہ طول موج والی شعائیں گزر جاتی ہیں مگر کم طول موج والی شعائیں منعکس ہوتی ہیں اور نیلے رنگ کے طور پر نمودار ہوتی ہیں یہ تو ان کا عکس ہوتا ہے جس کو ہم آسمان بول رہے ہوتے ہیں. اور پھر بات آتی ہے سرخی مائل ہونے کی تو جب سورج کی کرنیں ترچھی پڑ رہی ہوتی ہیں کرہ ہوائی پر. تو زیادہ طول موج والی شعائیں گزر کر ہم تک پہنچ رہی ہوتی ہیں جس کے سبب آسمان نامی شے ہمیں سرخ نظر آرہی ہوتی ہے. پھر آئی بات کہ سمندر کا رنگ بھی تو نیلا نظر آتا ہے اُس کے پاس نیلا ہونے کا کیا جواز ہوتا ہے تو اُس کے پاس بھی یہی جواز ہوتا ہے کہ اُس میں سے زیادہ طول موج والی شعائیں منعکس نہیں ہوتی، جذب ہو جاتی ہیں البتہ کم طول موج والی شعائیں اُس سے منعکس ہوتی ہیں اور یوں وہ بھی نیلا ہوتا ہے. اب پھر سوال پیدا ہوا کہ ندی نالوں کے پانی کی سورج کی روشنی سے کوئی عداوت تو ہے نہیں تو کیا وجہ ہے بغاوت کی کہ وہ ایسا مظہر پیش کرنے سے قاصر رہتے ہیں تو اس کے پیچھے وہی معاملہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کا خاص لوگوں سے تفاوت کا ہوتا ہے. وسائل کا نہ ہونا. کمی کا ہونا. زیادتی کا نہ ہونا. دراصل ندی نالوں کی گہرائی کم ہوتی ہے اس لئے اُن کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہیں آتا.
—–
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں