صحت پر اشعار

Read Urdu Poetry on the topic of Health Par Urdu Shayari (Health Pe Shayari Status). You can read famous Urdu Poems about Sehat Par Urdu Poetry and Fitness Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

صحت شاعری sehat poetry

صحت زندگی کی بقاء کے لئے ایک بنیادی عنصر کا کردار ادا کرتی ہے۔ سو صحت ہے تو سب کچھ ہے۔ صحت کے بغیر زندگی بے رونق اور بے مہک معلوم ہوتی ہے۔ شفایابی نہ ہو تو دنیا کی ہر خوشی بوریت کا روپ دھار لیتی ہے اور ہر جانب ایک ہی نوعیت کی اداسی دکھائی دیتی ہے۔ معروف شعراء نے صحت کے موضوع پر بہترین اشعار تخلیق کیے ہیں، آئیے منتخب اشعار کی طرف بڑھتے ہیں

مریض ہجر کو صحت سے اب تو کام نہیں
اگرچہ صبح کو یہ بچ گیا تو شام نہیں
رجب علی بیگ سرور
۔
بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے
اسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے
ظفر اقبال
۔
شاہ کے ہے غسل صحت کی خبر
دیکھیے کب دن پھریں حمام کے
مرزا غالب
۔
احباب ہاتھ اٹھائیں ہمارے علاج سے
صحت پذیر عشق کا بیمار ہو چکا
امداد علی بحر
۔
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے
صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے
مجید امجد

صحت پر اشعار

میں تو مریض عشق ہوں میری صحت صحت نہیں
اچھا مجھے نہیں کیا تم نے برا نہیں کیا
صوفیہ انجم تاج
۔
جس کی صحت کے لئے آپ دعائیں مانگیں
ایسے بیمار کو بھی موت کہیں آئی ہے
بسمل الہ آبادی
۔
اس طرح سوچتے رہنا نہیں اچھا شہزادؔ
فکر صحت ہی نہ کر دے کہیں بیمار مجھے
شہزاد قمر
۔
کس قدر تیری دعاؤں میں اثر تھا اے دوست
ہو گیا ہوں میں صحت یاب دوا سے پہلے
دانش فراہی
۔
بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحت عشق
یہ جو مجھ کو تیرے دیدار کی بیماری ہے
سالم سلیم

دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط
دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
جون ایلیا
۔
ہوئی مدت ترے زلفوں کے دیوانے کی صحت کو
بگڑ جاتا ہے شب زنجیر کی آواز آتی ہے
رشید لکھنوی
۔
ہر وقت فکر مرگ غریبانہ چاہئے
صحت کا ایک پہلو مریضانہ چاہئے
مجید امجد
۔
بجھ جائے دل بشر کا تو اس کو شفا سے کیا
کس درجہ ہوگی کارگر اس کو دوا سے کیا
امیر چند بہار
۔
ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلب
وہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلب
نظیر اکبرآبادی

صحت پر اشعار

تم شفا ڈھونڈتے ہو دنیا میں
اور وہ خاک شفا کی قید میں ہے
عمران راہب
۔
عجب نہیں ہے معالج شفا سے مر جائیں
مریض زہر سمجھ کر دوا سے مر جائیں
راکب مختار
۔
بس وہ اک سرسری نظر ڈالے
اور بیمار کو شفا لگ جائے
وسیم تاشف
۔
اُن کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
لوگ کہتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب
۔
تھا آگ ہی گر مرا مقدر
کیوں خاک میں پھر شفا رکھی تھی
پروین شاکر

شفا بھی دیتا ہے یہ معجزہ محبت کا
کسی مریض کا ایمان تیرے جیسا ہو
نینا عادل
۔
طبیبوں کی ساری ہے اپنی کہانی
وفا بیچتے ہیں شفا بیچتے ہیں
مریم ناز
۔
درد دل کی دوا نہیں معلوم
اب امید شفا نہیں معلوم
نادر شاہجہاں پوری
۔
مکتوب میں لکھا ہے مجھے اب شفا ملے
بیمار کو عطا ہو کبھی ایک مس کہ بس
احمد نثار
۔
شفا اپنی تقدیر ہی میں نہ تھی
کہ مقدور تک تو دوا کر چلے
میر تقی میر

دن نے اتنا جو مریضانہ بنا رکھا ہے
رات کو ہم نے شفا خانہ بنا رکھا ہے
فرحت احساس
۔
خون سادات نے مٹی کو فضیلت بخشی
خاک میں بھی مرے مولا نے شفا رکھی ہے
حسیب الحسن
۔
جب راکھ سے اٹھے گا کبھی عشق کا شعلہ
پھر پائے گی یہ خاک شفا اور طرح کی
بشریٰ اعجاز
۔
کسی کے دست شفا کیسے میرے کام آئیں
مرے طبیب اگر تم بچا سکے نہ مجھے
بشیر دادا
۔
کہ ہر بیمار ان آنکھوں سے دوا پائے
شفا خانہ یہ خیراتی نہیں ہے
فرحت احساس

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں