کیا کووڈ 19 سے صحت یاب لوگوں کوویکسن کی ضرورت ہے؟

تحریر : قدیر قریشی

, کیا کووڈ 19 سے صحت یاب لوگوں کوویکسن کی ضرورت ہے؟

ماہرین کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں کو پہلے وائرس لگ چکا ہے انہیں بھی ویکسین لگوانا چاہیے- اس کی دو وجوہات ہیں- پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اس وبا کو ابھی سال بھی نہیں ہوا اس لیے ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ جن لوگوں کو وائرس لگ چکا ہے ان میں امیونیٹی کتنی دیر تک رہتی ہے- یہ تو چند سالوں بعد ہی معلوم ہو پائے گا کہ یہ امیونیٹی سالوں تک رہتی ہے یا نہیں- وبا کے آغاز سے اب تک ایسے کئی کیسز ہو چکے ہیں جن میں کورونا وائرس لوگوں کو ایک سے زیادہ دفعہ لگا اور دوسری دفعہ اس کا حملہ زیادہ شدید تھا- اس لیے احتیاط کا تقاضہ یہی ہے کہ جن لوگوں کو وائرس لگ چکا ہے وہ بھی ویکسین لگوائیں


دوسری وجہ عملی ہے- ماہرین کی رائے میں جلد سے جلد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہر شخص کو ویکسین لگائی جائے جس کے لیے ایسے پروٹوکولز ترتیب دیے جا رہے ہیں کہ کسی بھی ایک ویکسینیشن سائٹ پر زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائی جا سکے- اگر اس عملے کو یہ ذمہ داری بھی دی جائے کہ لوگوں کا ریکارڈ چیک کرے اور یہ معلوم کرے کے کسی شخص کو پہلے وائرس لگ چکا ہے یا نہیں تو اس سے عملے کا بہت سا وقت ضائع ہو گا اور ویکسین لگوانے کے لیے قطاروں میں کھڑے لوگوں کو اپنی باری آنے کے لیے بہت زیادہ انتظار کرنا پڑے گا- اگر پروٹوکول یہ ہو کہ ہر شخص کو ویکسین لگائی جانے تو عملے کا کام بہت آسان ہو جائے گا.


ہزاروں تجربات سے یہ بالکل واضح ہے کہ ویکسین وائرس کی نسبت کہیں بہتر امیونیٹی پیدا کرتی ہے- یہ بات صرف کورونا ویکسین پر ہی نہیں کم و بیش تمام ویکسینز پر لاگو ہوتی ہے-ٓ اس کی وجہ یہ ہے کہ وائرس فطری ارتقاء سے موجودہ حالت تک پہنچا ہے اور اس پر سیلیکشن پریشر صرف یہ ہے کہ وہ اپنی زیادہ سے زیادہ کاپیاں بنائے- اس کے برعکس ویکسین انسان کی بنائی چیز ہے جسے ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور بہت سی مختلف ممکنہ ویکسینز میں سے وہ ویکسین چنی جاتی ہے جو زیادہ سے زیادہ امیونیٹی پیدا کرے- پھر اس کی مقدار بھی ایسی متعین کی جاتی ہے جس سے زیادہ سے زیادہ امیونیٹی پیدا ہونا یقینی بنایا جا سکے


یہ ہم نے تجربے سے جانا ہے کہ اکثر وائرس کے خلاف اگر ایک دفعہ امیونیٹی بن جائے تو وہ بہت دیر تک ہمارے امیون سسٹم میں رہتی ہے یعنی امیون سسٹم کو اس وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے کا پراسیس ‘یاد رہتا ہے’ اور اگر اس وائرس کا دوبارہ حملہ ہو تو ہمارا امیون سسٹم اس وائرس کو فوراً ختم کر دیتا ہے- لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ کوئی یونیورسل قانون نہیں ہے اور مختلف وائرس کے خلاف امیونیٹی عمر کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگتی ہے- خاص طور پر اگر کسی کو خسرہ کی بیماری ہو جائے تو اس کا ایک سائیڈ ایفیکٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ کئی دوسری بیماریوں کے خلاف پہلے سے موجود امیونیٹی کم ہو جاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے- اس لیے کئی بیماریاں ایسی ہیں جو ہمیں ہو چکی ہوں تو بھی ویکسین لگوانا زیادہ محفوظ ہوتا ہے-


چونکہ موجودہ کورونا وائرس کے معاملے میں ہمارے پاس فی الحال کوئی ڈیٹا نہیں ہے کہ اس کے خلاف امیونیٹی کتنی دیر تک رہتی ہے اس لیے یہ فرض کرنا درست نہیں ہے کہ اس کے خلاف امیونیٹی ایک دفعہ بن جائے تو تمام عمر رہے گی- اس کے علاوہ کورونا وائرسز بہت تیزی سے میوٹیٹ ہوتے ہیں اس لیے اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر وائرس کی ایک قسم کے خلاف امیونیٹی موجود ہے تو میوٹیٹڈ وائرسز کے خلاف بھی امیونیٹی ہو گی

شیئر کریں
قدیر قریشی بطور سائنس رائٹر سائنسی ادبی حلقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور اردو سائنسی فورم "سائنس کی دنیا" کے سرپرست اعلی بھی ہیں۔

کمنٹ کریں