’’بہائو ‘‘میں شاعرانہ وسائل کا استعمال

مضمون نگار : محمد عباس

, ’’بہائو ‘‘میں شاعرانہ وسائل کا استعمال

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ نثر میں شعری وسائل استعمال نہیں ہوتے، نثر تشبیہ ، استعارہ ، مجاز، کنایہ، تمثال گری، تجسیم اور محاکات وغیرہ سے احتراز برتتی ہے۔شعرو نثر کے تقابلی جائزے میں نثر کو شعری وسائل سے بیگانہ صنف کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے۔اور اگر کہیں نثر ان شعری وسائل سے استفادہ کر لے تو اس نثر کو مرصع ، مسجع ، مقفّیٰ اور شاعرانہ نثر کہہ کر ادب کے برہمن طعن و تشنیع کرتے ہیں جیسے کسی شودر نے ویدوں کا پنّا چھو لیا ہو۔ یہ عمل نثر کی کمتری ٹھہرتا ہے کہ جس کے پاس تکمیل اظہار کے لیے اپنے حربے نہیں اور وہ شاعری سے مستعار لیتی ہے۔ یعنی الزام یہ ہے کہ نثر شاعرانہ وسائل استعمال نہیں کرتی اور اگر کبھی ان کو برت ہی لے تو اسے نثر کا احساسِ کمتری قراردے دیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ ایک متعصبانہ رویہ ہے اور دونوں کی زبان اپنے موضوع کے اظہار کے لیے ایک سی تخلیقی حسیت کی رہین ہوتی ہے ۔ اس کے بغیر شاعری محض نعرہ یا فقط موسیقی ہی رہ جائے اور نثر فارمولا بن جائے۔ طنزو مزاح ہو یا سفر نامہ ، خاکہ ہو یا انشائیہ، افسانہ ، ناول ہوں یا داستان سبھی کی نثر جب تک تخلیقی احساس کے ساتھ گتھ کر نہ آئے تب تک اس میں ادبیت کی شان ہی نہیں پیدا ہوتی اور نہ ہی ایسی نثر اہلِ ذوق کی نظر میں بار پا سکتی ہے۔ نثر تب ہی مقبول ہو گی جب وہ موضوع کو بیان کرنے کے لیے تمام ممکنہ تخلیقی وسائل استعمال کرے گی۔ نثرمیں زبان شاعری کی طرح مقصود بالذات نہیں ہوتی اور صرف زبان کے تخلیقی استعمال ، آہنگ، ترنم یا نغمگی وغیرہ سے اپنا سحر نہیں جگا سکتی۔ نثر نے کوئی چیز بیان کرنی ہوتی ہے، اس کے سامنے زبان دانی کا اظہار مقصد نہیں بلکہ زبان کے ذریعے کسی اور چیز کا بیان مقصود ہے ، اس لیے منظر ہو یا واقعہ ، طریقِ مجاز پرالفاظ کے استعمال کے بغیر کسی کا بیان لطف دے ہی نہیں سکتا۔ اگر ادیب تشبیہ استعارہ استعمال نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہی ہو گا کہ وہاں اس کی ضرورت نہیں، جہاں اس کی ضرورت ہو وہاں ادیب استعمال کر کے منظر یا واقعہ کو ایک تخلیقی حسن دے دیتا ہے۔ خلاق ادیب مثلاً منٹو، بیدی اور غلام عباس وغیرہ تو ایسی نادر تشبیہ لے کے آتے ہیں کہ شعرا کا تخیل بھی بے اختیار داد دے اٹھے۔شاعری اور نثر دونوں کی زبان میں تخلیقی سطح پر کیا رشتہ ہے، اس کے متعلق وارث علوی لکھتے ہیں:


’’نثر نے بدلے ہوئے روپ میں ان تمام حربوں کا کامیابی سے استعمال کیا ہے جو شاعری کے تصرف میں تھے اور جو حربے اس کے لیے کارگر ثابت نہ ہو سکتے تھے، انہیں ترک کر کے ان کی جگہ نئے وسائلِ اظہار ایجاد کیے ہیں۔ تخلیقی نثر کا ارتقا چوں کہ شاعری کے سینکڑوں سال بعد ہوا ، اس لیے نثر نے کم و بیش شاعری کے تمام حربے مستعار لیے۔ حد تو یہ ہے کہ مقفّیٰ اور مسجع نثر تک کے تجربات کیے گئے۔ شاعری کے تمام صنائع لفظی اور معنوی کا استعمال کیا گیا۔ ہماری قدیم داستانوں میں تو استعارات کی افراط ہے۔ فارسی اضافتوں کے ساتھ تراکیب اور بندشوں کی بھی افراط ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بیشتر چیزیں متروک ہوئیں لیکن بہت سی چیزیں رہ گئیں مثلاً تجنیس، استعارہ اور تشبیہ کہ وہ تخلیق اور تخیل دونوں کے تصرف میں تھے اور وہ ناول اور نثری ڈرامے کے اسالیب کے لیے بھی کارآمد تھے۔ جہاں نثر نے شاعری کے بہت سے ہتھکنڈوں کو ترک کیا ، وہاں اپنے بہت سے ہتھکنڈے ایجاد بھی کیے۔ اگر نہ کرتی تو زبان کا تخیلی استعمال کیسے ہوتا۔ ناول اور افسانہ میں زبان کی مختلف سطحیں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ کبھی زبان حد درجہ شاعرانہ ہوتی ہے ، کبھی نثری ، کبھی کھردری بنتی ہے، کبھی نازک اور لطیف۔ کبھی زمین کے قریب رہتی ہے ۔ کبھی تخیل کے پر لگا کر اڑتی ہے ، کبھی اس کا رنگ طنزیہ اور مزاحیہ ہوتا ہے ، کبھی غنائی اور کیف آور، افسانوی بیانہ میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ تاریخی ، دستاویزی اور صحافتی سطح سے لے کر فلسفیانہ ، غنائی اور تجریدی سطح کی انتہائی بلندیوں کو چھو سکے۔ ‘‘٭۱


فکشن کی زبان بظاہر سادہ اور بے رنگ نظر آتی ہے مگر اس کی وجہ محض یہی ہے کہ پڑھتے وقت ہماری توجہ اس کی خصوصیات پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے موضوع پر ہوتی ہے، اگر ایک دفعہ ناول یا افسانہ پورا پڑھنے کے بعد دوبارہ اسے پڑھا جائے تب معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے کس طرح زبان کی روشن چمک کن رنگوں کی آمیزش سے امڈ رہی ہے۔ پہلی دفعہ تجسس کے زیرِ اثر پڑھتے گئے اور دیکھا ہی نہیں ،اب بنا تجسس لطف لے کر پڑھتے ہوئے اپنا جوبن دکھاتی ہے ۔ جہاں سے راہرو ارد گرد دیکھے بغیر انجام تک پہنچنے کی چٹک میں تیزی سے گزرتا گیا تھا، وہاں اب ایک ایک قدم پر رک کر راستے کا حسن اور زمین کی نرمی کا مزا لیتا ہے۔ کھردری ، بے رنگ نثر ادبی رنگ میں آ کر مجاز کی ایک پوری دھنک قائم کرتی ہے جو قاری کو مبہوت کر دیتی ہے۔ کچھ ایسی ہی سحر انگیز نثر ’’بہائو‘‘ کی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ نے اس ناول میں زبان کا ایسا خلاقانہ استعمال کیا ہے کہ جیسے لفظوں سے قوسِ قزح بنا کر رکھ دی ہے ۔ تشبیہات کی رنگینی بہار کا سماں باندھتی ہے اورتمثالیں حواس کو مسحور کیے دیتی ہیں۔ استعارے اور کنائے کی بدولت زبان ایک ایسی نوخیز دوشیزہ کی مانند معلوم ہوتی ہے جس کی ہر کروٹ سبھی مشامِ جاں کو نئی خوشبو سے تازہ کرتی جائے۔ تجسیم اس قدر جاندار ہے کہ بستی کی گلیوں میں پیاس اور بھوک کی دیویاں فاقوں مرتی دکھائی دیتی ہیں۔ لفظ لغوی معنی کا جامۂ صوف اوڑھنے کی بجائے خلعت ہائے رنگا رنگ میں ملبوس ہر آن ایک نئی چھب دکھاتے ہیں۔حقیقت اپنی اصل شکل میں نہیں آتی بلکہ فن کے اندر ڈھل کر مجازی صورت اپنا کر زیادہ دلکش اور مزید دلآویز بن کے سامنے آتی ہے۔ذیل میں ہم ’’بہائوکا تفصیلی جائزہ لیں گے کہ مستنصر نے اپنی نثر میں شاعرانہ وسائل سے کس قدر کام لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا نثر میں شاعری کے ہتھکنڈوں کا استعمال ناول کے مجموعی بیانیے کے ساتھ مل کر آتا ہے یا پھر ایک آزاد وجود رکھتا ہے۔


سب سے پہلے ہم تشبیہ کا جائزہ لیں گے۔ تشبیہ ادبی زبان کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر کوئی مصنف اچھی تشبیہ نہیں دے سکتا تو اس کا اظہار کبھی بے ساختگی نہیں پا سکتابے شک وہ جتنا بڑا دیب ہو۔ اردومیں اس کی سب سے موزوں مثال قرۃ العیں حیدر ہے جس کے پاس گھسی پٹی تشبہییں ہیں اور اسی وجہ سے اس کا بیانیہ بہت بیزار کن لگتا ہے۔ تشبیہ مجہول سے معروف کا سفر ہے۔ جو چیز نہیں معلوم، اس کی کیفیت ،مزاج ، ہیئت بتانے کے لیے اُس چیز کے ساتھ مشابہت دینا جو سب کے مشاہدے یا تجربے میں ہو۔تشبیہ کا پانچ ارکان ہیں جنہیں پہلے دو کے یکجا کرنے سے چار بھی شمار کیا جاتا ہے۔ طرفین تشبیہ، وجہ شبہ، حرفِ تشبیہ، غرضِ تشبیہ۔ البتہ ضروری نہیں کہ کسی جگہ تشبیہ دیتے وقت یہ چاروں رکن استعمال ہوں۔ تشبیہ میں محض پہلا رکن یعنی طرفینِ تشبیہ (مشبہ اور مشبہ بہ) دونوں کا ذکر آ جانے سے ہی تشبیہ قائم ہو جاتی ہے۔ زید شیر ہے، محبوب چاند ہے اورزلف ناگن ہے وغیرہ مکمل تشبیہات ہیں۔ ایک اچھی تشبیہ تخلیق کرنے کے لیے اول تو یہ ضروری ہے کہ جس چیز کو تشبیہ دی جائے ، وہ مجہول ہو، لوگ اس کے متعلق جانتے نہ ہوں، یا پھر اس کی صحیح کیفیت سے آگاہ نہ ہوں، یا فن کار سمجھتا ہو کہ بغیر تشبیہ کے اس کی صحیح کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ دوسری یہ ضروری ہے کہ مشبہ بہ معروف ہو، اس کے متعلق سبھی جانتے ہوں، نام یا ذکر سنتے ہی قاری یا سامع کے تخیل میں اس کی ساری کیفیت آ جائے، یا اگر سبھی لوگ واقف نہ ہوں تب بھی اتنی سہولت ہو کہ مشبہ کی نسبت مشبہ بہ کی کیفیت بہ آسانی متخیلہ کی گرفت میں آ جائے، جیسے انتظار حسین نے آخری آدمی میں لڑکی کو فرعون کی رتھ کی گھوڑی سے تشبیہ دی ہے، ہم دونوں سے واقف نہیں لیکن فرعون کی گھوڑی کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ان دو شرائط کے بعد تیسری شرط یہ ہے کہ ان دونوں کی بنیادی خوبی مشترکہ ہو اور وہی خوبی وجہ شبہ ہو، جیسے ماہ نو، پشتِ فلک، قوسِ قزح، تیرِ شہاب چاروں چیزوں میں سوداؔ نے خم کو وجہ شبہ قرار دیا اور یہاںان چاروں کی بنیادی خوبی خم ہی ہے۔ اگر بنیاد ی خوبی وجہ شبہ نہ ہو تو پھر وجہ شبہ بتانی پڑے گی جیسے میر صاحب نے بتائی :


؎نازکی ان لبوں کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
نازکی کے ذکر کے بغیر ہر گز نہ معلوم ہوتا کہ یہاں وجہ شبہ کیا ہے، کیوں کہ گلاب کی کچھ خصوصیات اور بھی ہیں جو بنیادی خوبی قرار پا سکتی تھیں مثلاًنرمی، ندرت، تازگی، خوشبو، خوشنمائی وغیرہ۔ مگر نازکی کا بطورِ خاص ذکر بتا رہا ہے کہ محض اسی صفت کے لیے لبوں کو گلاب کے ساتھ تشبیہ دی جارہی ہے۔ چوتھی شرط کا تعلق فنکار کی فن سے وابستگی اور ذوق سے ہے۔ تشبیہ کا پورا عمل غرضِ تشبیہ کو بہ احسن پورا کرتا ہو۔ جس مقصد کے لیے تشبیہ دی گئی ہے وہ پورا نہ ہو تو تشبیہ ناقص ہے اور اگر مشبہ کو کسی اور مشبہ بہ کے ساتھ تشبیہ دینے سے بہتر اظہار کا امکان ہو تو دی گئی تشبیہ مبتذل قرار پائے گی۔ پانچویں اور آخری شرط یہ ہے کہ تشبیہ نادر ہو، نئی ہواور تخلیقی سطح رکھتی ہو ورنہ وہ اپنی طرف کشش ہی نہیں کرے گی۔ اگر گھسی پٹی اور سطحی سی تشبیہ استعمال ہو تو وہ فنکار کے عجزِبیان کی دلیل ہو گی۔ مستنصر کے ہاں تشبیہ ان پانچوں شرائط کو پورا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر درج ذیل تشبیہ ملاحظہ کیجیے:
’’پانی کو پیاس سے دیکھتے اس نے آسے پاسے دیکھے بغیر اپنے سینے پر کسا ہوا لِیڑا ڈھیلا کر کے کھول دیا، لِیڑے کی پکڑ سے چھوٹنے پر اس کی چھاتیاں پل دو پل کے لیے ایسے تھرتھرائیں جیسے چنکارے ہرن کی پیٹھ پر زہریلی مکھی بیٹھ جائے تو وہ ہلتی ہے۔ تھرتھرائیں اور پھر اپنے بوجھ کو سہار کر پنڈے کا ایک خاموش حصہ بن گئیں۔ دریا کی باس کو ان کی اٹھان نے ایک ناک کی طرح سونگھا اور اپنے اندر رچایا۔‘‘٭۲


چنکارے ہرن کی تشبیہ بہت متحرک ہے بیک وقت حسی بھی اور عقلی بھی ۔ حسی لحاظ سے ملموسات کی ذیل میں ہے۔ ہرن کی پیٹھ پر بیٹھی مکھی نظر آتی ہے مگر نظر آنے کے بعد اس کی پیٹھ کے ہلنے کا تصور عقلی ہے۔ اس تشبیہ کو پڑھتے وقت قاری ایک دفعہ ہرن کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھے تو یہ حسی تشبیہ بنتی ہے۔ ایک لحظے کے لیے تو اپنی پشت تھرکتی محسوس ہوتی ہے، یوں اس تشبیہ کے جادو سے قاری خود کو ہرن سمجھ کر زہریلی مکھی کے مَس سے پیدا ہونے والی تھرتھراہٹ تو محسوس کرتا ہی ہے، اگلی تشبیہ میں ان چھاتیوں کے ذریعے بہ یک وقت دریا کی ٹھنڈی خوشبو اور یخ لمس کو محسوس کرتا ہے۔ یوں تشبیہ کی غرض پوری ہو جاتی ہے اور پاروشنی کا وجود اس کی تمام تر حرارت، مہک اور تازگی کے ساتھ قاری کی متخیلہ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔


تشبیہ کی بہت سی اقسام ہیں اور مستنصر نے ان سبھی کواستعمال کیا ہے۔سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا ان کی تشبیہات موضوع اور کرداروں کے مطابق ہوتی ہیں یا پھر وہ بلا تفریق جو تشبیہ سوجھتی ہے، اسے بھرتی کر ڈالتے ہیں۔ مستنصر کے اس ناول میں کوئی تشبیہ ایسی نہیں جو ناول کے ماحول سے لگا نہ کھاتی ہو یا کسی طرح ناول کے اندر سے ہی نہ پھوٹی ہو ۔ ایک تشبیہ تو کمال کی استعمال کی گئی ہے جو ناول کے پورے موضوع کو محیط ہونے کے ساتھ غرضِ تشبیہ بھی پوری مہارت سے پوری کرتی ہے۔ صورت حال یہ تھی کہ ورچن پاروشنی کے اندر کی عورت کو پوری طرح نہ جگا سکا تھا اور وہ اس کے پہلو سے اٹھ کر سمرو کے پاس چلی جاتی ہے۔ ایسے میں ورچن سوچتا ہے:
’’پورن کو اگر میں یہ بتائوں کہ پاروشنی ایک بڑے پانی کی طرح آئی اور مجھ سے دور بہتی ہوئی چلی گئی اور میں سوکھا رہا …یا وہ سوکھی رہی اور چلی گئی تو وہ کیا کہے۔‘‘(ص:۱۲۸)


اگر ناول کا موضوع مدِ نظر ہواور ناول کے اندر بڑے پانیوں کے رُخ موڑنے کے عذاب نے اپنا احساس دلایا ہو تو ورچن کی کیفیت قاری پر پوری طرح واضح ہوتی ہے اور یہ کمال اسی تشبیہ نے دکھایا ہے۔ مستنصر نے اکثر جگہ کردار کے پس منظر کو سامنے رکھ کر ہی تشبیہ دی ہے۔ پاروشنی کو بڑے پانیوں کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے، ورچن کو پیونا سانپ نے کاٹا ہے اور اس کے عضوِ تناسل کو پیونا سانپ سے ہی تشبیہ دی جاتی ہے۔ ایک جگہ ڈورگا کے چہرے کا حال بتانے کے لیے انہوں نے جو تشبیہ استعمال کی ہے، وہ عمر بھر اینٹوں کے بھٹے پر کمر توڑنے والے ڈورگا پر پوری طرح جم کر بیٹھتی ہے۔
’’وہ ورچن ایسا ہی تھا، آناسا تھا پر اس کی شکل مورتیوں ایسی سخت پتھر تھی جیسے زیادہ آگ دینے سے اینٹ کھِنگر ہو جاتی ہے۔‘‘(ص:۷۷)


ناول میں انہوں نے بہت سی جگہوں پر تشبیہ کو مفرد کی بجائے مرکب استعمال کیا ہے۔ مرکب تشبیہ دینا زیادہ بڑے تخیل کا کام ہے، دنیا بھر میں مارسل پروست اس فن کے ماہر سمجھے جاتے ہیں جو جملہ بہ جملہ تلازمے استعمال کرتے تشبیہ کو وسعت دیتے جاتے ہیں۔ مستنصر بھی کسی کیفیت کو بتانے کے لیے تشبیہ کو سیدھی سطح کی بجائے پرت در پرت استعمال کرتے ہیں۔ جیسے پاروشنی کے پانی میں ڈوبے جسم کے ساتھ بوٹے کے لپٹنے کو سرسراتے سانپ کے لپٹنے سے اور اس کے ٹھٹکنے کو نوکدار کانوں والے سیاہ بِلے کے چونکنے سے تشبیہ دی۔ کئی اور جگہوں پر تو بڑی بے ساختگی سے مرکب تشبیہ کو استعمال کرتے ہیں۔
’’میری مرضی تو ادھر تیرے پاس ہے۔ ادھر اس چولہے کے پاس جس میں سلگتے اپلے تیرے مہاندرے کو ایسے لشکاتے ہیں جیسے بادلوں کی چمک سے کالے ہرن کا جُسّہ لشکتا ہے۔‘‘(ص:۱۷۰)


’’مور کے رانگلے پر ڈھیلے پڑ رہے تھے جیسے الگنی پر سوکھتا کپڑا ہو جو ڈھلکتا ہو اور دھوپ سے اس کا رنگ اڑتا ہوتو اس کے رنگ بھی اب پھیکے ہو رہے تھے۔ ‘‘-(ص:۲۰۷)
’’ڈورگا کے مہاندرے میں کچھ اور بھی تھا… جیسے ہرن ڈرا ڈرا ہوتا ہے اور چوکنا کھڑا ہوتا ہے، جیسے سانپ زمین کے ساتھ لگ کر تیزی سے آگے سرکتا ہے اور جیسے پکھیرو کا بوٹ آلنے سے گرے تو جہاں گرتا ہے، وہیں پڑا رہتاہے۔‘‘(ص:۱۰۷)
تشبیہ کا کمال اس میں ہے کہ وہ پہلے کبھی استعمال نہ ہوئی ہو اور اس حوالے سے ندرت رکھتی ہو۔ مستنصر نے کیوں کہ ہر جگہ تشبیہ دیتے وقت ناول اور کرداروں کا پس منظر ذہن میں رکھا ہے تو اس وجہ سے ان کے ہاں جو بھی تشبیہ آتی ہے، بہت نادر ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ایسی تشبیہ پہلے اردو میں کہیں بھی استعمال نہیں ہوئی ہو گی۔ مثال کے طور پر ذیل کی تشبیہات کو ملاحظہ کیجیے:


’’میں آدھا رہ گیا ہوں‘‘ ڈورگا پورے پیٹ کے ساتھ زور سے ہنسا:’’میں پائوں اٹھاتا ہوں تو جَو کی بالی کی طرح ہلکا لگتا ہے۔اس سے پہلے میں کبھی نہیں نہایا۔ ‘‘(ص:۱۱۲)
’’تم مجھے چھوتے ہو تو میں ایسے تھراتی ہوں جیسے جھیل کی تہہ میں مچھلی کنول کے ڈنٹھل کے ساتھ کھَے کر گزرتی ہو تو … اوپر پانی کی سطح کے اوپر تیرنے والا کنول ہولے سے تھراتا ہے۔‘‘(ص:۱۱۷)


مستنصر کی یہ صلاحیت تمام ناول میں قائم رہتی ہے اور ہر جگہ پر منظر، کردار اور واقعے کی صحیح کیفیات کو پیش کرنے میں بھرپور معاون رہتی ہے۔ پورے ناول میں۸۹تشبیہات استعمال ہوئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اپنی جگہ کمزور ، بلاجواز یا غیر فصیح نہیں ہے۔ البتہ صرف ایک تشبیہ نے بد مزہ کیا ہے، اور جہاں تک میری ذاتی رائے ہے، اس تشبیہ کو ہم ناقص تشبیہ بھی قرار دے سکتے ہیں۔ پاروشنی کی شادی چیتر کے اخیر میں ہوتی ہے اور پھر چیتر بیتنے کے بعد وساکھ میں پاروشنی اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچتی ہے کہ اسے ماگھ پوہ میں آنا ہے۔ چیتر پہلا مہینہ ہے اور پوہ دسواں، ماگھ گیارہواں۔ پوہ کی آخری اور ماگھ کی پہلی تاریخوں میں نو مہینے پورے ہوتے ہیں۔مطلب یہ کہ ابھی حمل ٹھہرے ہوئے ایک مہینہ بھی نہیں ہوا اور تشبیہ یوں بتاتی ہے:’’پاروشنی نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا جو دریا میں پانی کم ہونے سے اس کے بیچ کسی ٹاپو کی طرح ابھرتا جاتا تھا۔‘‘(ص:۱۳۱)اتنی صحت مند لڑکی کا پیٹ حمل کے پہلے ہی مہینے کیسے اتنا ابھرسکتا ہے کہ کسی ٹاپو کی طرح نظرآنے لگے۔ سو یہاں دی گئی تشبیہ بالکل نامناسب ہے۔اس تشبیہ کے علاوہ ان کے ہاں کوئی تشبیہ بھی ناقص یا مبتذل نہیں ہے اور جو بھی تشبیہ آئی ہے، وہ ناول کے موضوع اور کرداروں کی نفسیاتی کیفیت کو پوری طرح سے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بیانیے کا حسن بھی بڑھاتی ہے۔


اب دیکھتے ہیں استعارہ کو، کسی لفظ کو مجازی معانی میں استعمال کرنا، جب کہ لغوی معانی اور معانی مطلوب کے درمیان تعلق تشبیہ کا ہو ، استعارہ کہلاتا ہے۔ استعارہ میں ارکانِ تشبیہ کے چار ارکان میں سے تین وجہ شبہ، حرفِ تشبیہ اور غرضِ تشبیہ تو بالکل حذف کر دیے جاتے ہیں اور پہلے رکن طرفینِ تشبیہ کے دونوں اجزاء میں سے اکثر صرف ایک ہی استعمال ہوتا ہے۔ استعارے کی ایک قسم استعارہ بالتصریح میں صرف مشبہ بہ یا مستعار منہ استعمال ہوتا ہے اور دوسری قسم استعارہ بالکنایہ میں صرف مشبہ یا مستعار لہٗ کا ذکر ہوتا ہے البتہ اس کے ساتھ خصوصیات مستعار منہ کی منسوب کر دی جاتی ہیں۔ مستنصر نے اس بیانیے میں استعارہ سے بہت زیادہ کام لیا ہے۔ کہیں براہِ راست استعارہ بنایا ہے اور کہیں استعارہ بالکنایہ استعمال کر کے تجسیم اور Personificationکی ہے۔ ان دونوں کا مطالعہ آگے چل کر کیا جائے گا، سرِ دست تو استعارہ کی چند خوبصورت مثالیں دیکھتے ہیں۔


’’انہیں ہم بڑا بناتے ہیں ، چھوٹی بستیوں والے۔ ادھر گھاگرا کی بستیوں کے میرے جیسے لوگ وہاں گئے تو ان کو سکھایا۔ یہ برتن اور کھیتی کرنے کے ڈھنگ ادھر سے گئے۔ بیج یہاں کا تھا اور پھوٹا وہاں جا کر اور رُکھ ان کے سروں پر چھایا بنا۔ ‘‘(ص:۲۹)
’’اسے معلوم نہ تھا کہ کس طرح اپنے آپ کواس سے چھپائے اور وہ اس کی پیٹھ پر اور سینے پر گرم لُو ایسے سانس لیتا تھا جو اسے پگھلاتے تھے۔ پھر اس نے ایک سیاہ پیونے سانپ کو دیکھا جو کھڑا تھا اور اس نے اس کا سانس پی لیا۔‘‘(ص:۱۱۸)
’’تم دونوں برابر کے باٹ ہو،نہ کم نہ زیادہ۔‘‘(ص:۲۲۰)


مندرجہ بالا مثالوں میں عربی فونٹ میں لکھے گئے الفاظ استعارتاً استعمال ہوئے ہیں اور تشبیہ کے رشتے سے اپنے مجازی معانی ادا کرتے ہیں۔ جملوں سے ہٹ کر پورا ناول ہی اپناایک استعاراتی نظام قائم کرتا ہے۔ یہاں بستی دنیا کا استعارہ ہے اور دریا اس بستی کے قدرتی وسائل کا۔ افرادنسلِ انسانی کو پیش کرتے ہیں جو ہر دم اپنی بقا کے لیے حالات سے لڑ رہی ہے۔


استعارے کے بعد مجاز کا مطالعہ ضروری بنتا ہے۔ جب لفظ اپنے غیر لغوی ، وضعی یا مجازی معانی میں استعمال کیے جائیں اور دونوں کے درمیان تشبیہ کا تعلق بھی نہ پایا جائے اور کوئی قرینہ اس بات کی دلیل دے کہ معانی مجازی ہی مطلوب ہیں تو یہ مجاز مرسل ہو گا۔ مجاز کا استعمال ہم اپنی روز مرہ زندگی میں بہت زیادہ کرتے ہیں۔ ۱:دریا بہہ رہا ہے۔۲:آدمی مٹی کا پتلا ہے۔۳: اس کی ٹانگ میں گولی لگ گئی۔۴:میں نے سو مرتبہ الحمد شریف پڑھ لی ہے۔۵:امتِ مسلمہ کی رگوں میں حسینؑ کا لہو دوڑ رہا ہے۔۶:منجھلا بیٹا اُن کا دستِ راست ہے۔


مندرجہ بالا جملوں میں گرامر کی رو سے کوئی غلطی تو نہیں ہے؟جو معنی بظاہر نظر آ رہے ہیں ، ان کے اصل معنی وہی ہیں؟…شاید نہیں۔دریا کا مطلب تو کنارہ، پانی کے نیچے کی ریت اور پانی سب مراد ہوتے ہیں ، یہ سب بہتے نہیں، صرف پانی بہتا ہے۔دریا کے بہنے سے مراد پانی کا بہائو ہی ہے۔ لیکن یہاں پانی کی جگہ دریا لکھا گیا ہے۔آدمی مٹی کا پتلا ہونے سے مراد اس کا مٹی کا بنا ہوا ہونا ہے، لیکن در حقیقت آدمی مٹی کا پتلا تو نہیں ہے۔گولی پوری ٹانگ میں نہیں لگتی، ٹانگ کے کسی ایک حصے میں لگتی ہے۔ الحمد سورۃ فاتحہ کا پہلا حرف ہے، لیکن الحمد شریف کہنے سے مراد پوری سورۃ فاتحہ ہے۔حسین ؑ کا لہو امتِ مسلمہ کی رگوں میںدوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمان ان کے جذبے اور حوصلے کی پیروی کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ دستِ راست کا مطلب دایاں بازو ہے ، اور دایاں بازو کیوں کہ انسان کی تمام طاقت کا حامل ہوتا ہے، اس لیے یہاں دایاں بازو بول کر مراد ساری طاقت لی گئی ہے۔ ان ساری مثالوں میں لفظ اپنے اصل معنی سے ہٹ کر دوسرے معنی دے رہے ہیں۔ مرادی معنی تک پہنچنے کا یہ راستہ مجاز مرسل یا صرف مجاز کہلاتا ہے۔


مجاز کا مطلب یہ ہے کہ لفظ اپنے اصل معنی کی بجائے کوئی اور معنی دیں لیکن ان میں استعارے کی طرح تشبیہ کا تعلق نہ ہو۔ بس ویسے ہی کسی طریقے سے پڑھنے والا اصل معنی تک پہنچ جائے۔ اس کے بہت سے طریقے ہیں جن کی تقریباً ۲۴ قسمیں ہیں۔ البتہ مشہور یہی ہیں۔ جزو بول کر کل مراد لینا، کل بول کرجزو مراد لینا، سبب بول کر مسبب مراد لینا، مسبب بول کر سبب مراد لینا، بہ اعتبارِ زمانہ آئندہ، بہ اعتبارِ زمانہ سابق، ظرف سے مظروف اور مظروف سے ظرف مراد لینا، مکین سے مکان اور مکان سے مکین مراد لینا۔


مستنصر کے اس ناول میں مجا زکا بھی خوبصورت استعمال ملتاہے۔ بیانیے میں چھوٹی چھوٹی کیفیات کو مجاز کے استعمال سے ابھارتے چلے جاتے ہیں اورپہلی نظر میں محسوس بھی نہیں ہوتا۔ یوں تو بیسیوں جگہوں پر انہوں نے مجاز کا استعمال کیا ہے ، لیکن ذیل میں ہم صرف وہ مثالیں دیکھتے ہیں جہاں انہوں نے اسے خوبصورتی سے نبھایا ہے۔
’’گرم ہوا کا بھبھوکا اس کی چونچ کو بھربھرا کرتے ہوئے منہ میں داخل ہوا اور سُوکھتی زبان کو پھپھولتا حلق میں گیا اور ناگ پھنی کی فصل بوتا، شریانوں اور رگوں میں ببول بن کر چبھتا اٹکتا اس کے پورے بدن میں جڑیں پکڑگیا۔‘‘(ص:۷)
’’پھر مامن ماسا!‘‘ پاروشنی نے رُکھوں سے کہا۔(ص:۵۳)
’’ہاں تم سانس کو مٹی اور پتھر کردیتے ہو۔‘‘(ص:۶۷)
’’جو بھی کھیت میں کام پورا کر لیتا، وہ اپنا چولہا چنگیر اٹھا کر گھاگرا کے کنارے آ بیٹھتا۔‘‘(ص:۱۸۷)
’’اُس رُکھ کی کوکھ میں اس رات دو پکھیرو اترے۔‘‘(ص:۱۲۱)
یہاں رُکھ پاروشنی کا اورپکھیروسمرو اور ورچن کا مجازی معنی دے رہا ہے ۔ یہ قرینہ اس بیانیے میں خود ہی طے ہو رہا ہے۔


ایک جگہ تو انہوں نے کمال ہی کیا ہے۔ استعارے اور مجاز کو بیک وقت یوں استعمال کیا ہے کہ بیان کی خوبصورتی تعریف سے بالا تر ہے۔ ملاحظہ کیجیے:’’ایک ہی ماہ میں تیسرے بیل کی آنکھیں پتھر ہو گئیں۔ ‘‘(ص:۲۲۲) اس جملے میںپتھر کا استعمال استعاراتی ہے یعنی آنکھیں بیل کی طرح بے جان ہوگئیں لیکن اس پورے جملے کا مطلب مجازی لحاظ سے یہ بنتا ہے کہ تیسرا بیل بھی موت کا شکار ہو گیا۔ یوں انہوں نے استعارے کو ایسے استعمال کیا کہ وہ مجاز بھی بن گیا ہے۔


تشبیہ اور مجاز کی ذیل میں ہی ایک اور چیز بھی پائی جاتی ہے، جس کا استعمال مستنصر نے بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔ یہ ہے اضافت استعارہ۔حقیقی اضافت تو ہوتی ہے ، خانۂ زید، اسپِ تازی، امیدِ وصل وغیرہ جس میں دونوں الفاظ کے درمیان تعلق حقیقی ہوتا ہے جب کہ اضافتِ استعارہ اس وقت بنتی ہے جب اضافت کے دونوں الفاظ کے درمیان معنوی رشتہ فرضی، اعتباری یا اضافی ہو۔ مثلاً توسنِ تخیل، دستِ تقدیر، آہوئے فکر، ہجر کا کانٹا وغیرہ۔عابد علی عابد نے اس کے متعلق جلال الدین احمد جعفری زینبی کے حوالے سے لکھا ہے:
’’اضافتِ مجازی وہ ہے جس میں مضاف الیہ کے لیے مضاف محض فرضی طور پر ثابت کیا جائے ۔ جیسے تدبیر کا ہاتھ، خیال کے پائوں، آرزو کی آنکھ، د ل کا کنول۔ اس اضافت کو اضافتِ استعارہ بھی کہتے ہیں۔استعارے کے معنی ہیں ’مانگ لینا‘ ۔ چونکہ اس اضافت میں مضاف ایک اصل چیز سے عاریتاً لیا جاتا ہے ، اس لیے اس کو استعارہ کہتے ہیں۔ ‘‘٭۳


اس اضافت کی دو اقسام ہیں۔ اضافتِ تشبیہی اور اضافتِ مجازی۔ اضافتِ تشبیہی تب قائم ہو گی جب دونوں الفاظ کے درمیان تشبیہ کا رشتہ ہو جیسا کہ بحرِ علم، آتشِ غضب، تیرِ تشنیع، تیغِ مژگاں۔ اس کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان دونوں الفاظ کے درمیان حرفِ تشبیہ لگا کر دیکھا جاتا ہے ، اگر جملہ صحیح بنے تو یہ اضافتِ تشبیہی ہو گی۔ مثلاً سمندر جیسا علم، آگ کے مانند غصہ، تیر کی طرح طنز، تیغ کے جیسی ابرو۔ اضافتِ مجازی سے مرادایسی اضافت جس کے دونوں الفاظ کے درمیان حقیقی رشتہ نہ ہو اور تعلق کی نوعیت تشبیہ کی بجائے مجازی ہو، مثلاً تیغِ اجل ، گوشِ ارادت، چشمِ آرزو، مسرت کا آبشار وغیرہ جن میں تشبیہ کا تعلق نہیں اور معانی کا تعین داخلی قرینہ ہی طے کرتا ہے۔


مستنصر حسین تارڑ نے اضافتِ استعارہ کی یہ دونوں اقسام استعمال کی ہیں ۔ ذیل میں اضافتِ تشبییہی کی مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’وہ دیوار کے ساتھ پکی اینٹوں کے ایک چبوترے پر بیٹھا پانی کی اس چمکتی چادر کو دیکھ رہا تھا جو دریامیں سے نکل کر پھیلتی جا رہی تھی۔‘‘(ص:۵۱)
’’اور چاند کا تھال جب پورا ہو جاتا تو زمین کو چھوڑ کر اوپر ہی اوپر اٹھتی جاتی۔‘‘(ص:۷۱)
اور یہ اضافتِ مجازی کا حسنِ استعمال :
’’ماتی کی شکل پر جو دُکھ کی کالک تھی،وہ اور گہری ہوئی۔‘‘(ص:۵۴)
’’ان کے کڑھنے اور برائی کی باس آتی ہے۔ ‘‘،’’کبھی اُس کی تھکاوٹ کی باس آئی۔‘‘(ص:۹۷)
اور ذیل کی اضافت تو قابلِ دا د ہے۔
’’دھروا لگتا نہیں تھا کہ سا نس لیتا ہے پر ابھی اس میں حیاتی کا اُپلا سلگتا تھا۔‘‘(ص:۲۵۷)
اسی ضمن میں ترکیب کا ذکر بھی بنتاہے۔ اس ناول میں زمانہ ما قبل از تاریخ کی زبان کی وجہ سے فارسی اور عربی زبانوں کا اثرو رسوخ بہت کو ہے، اس لیے یہاں مرکبِ اضافی تو نہیں بن سکتا تھا، سادہ شکل میں دو حرفی ترکیب ہی بن سکتی تھی۔ مستنصر نے یہ دو حرفی تراکیب ہی بنائی ہیں لیکن اس سادگی میں بھی ایک فنکاری نظر آتی ہے۔ پیڈا پینڈا، ڈوبو مٹی، یم کتے، بڑے پانی ،مرد کا میل، جیاجنت، زہر پانی،ہڈ پیر، سیت پالا، انگ ساک، چپ پکھیرو۔ یہ تراکیب زبان کی حد درجہ سادگی کے باوجود قدیم زبان پر ماہرانہ دسترس کی بنا پر ہی وجود میں آئی ہیں اور مستنصر نے اپنے فنی شعور سے اس زبان کو دوبارہ تخلیق کر دیا ہے جو شاید کبھی یہاں بولی جاتی رہی تھی۔


علم البیان میں چوتھی چیز کنایہ ہے۔ جب لفظ اس طرح استعمال ہو کہ مجازی معانی مقصود ہوں اور لغوی اور مجازی معانی میں نہ تو تشبیہ کا رشتہ ہو اور نہ ہی کوئی اور قرینہ ہو تو اسے کنایہ کہیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ کنائے میں لفظ کے لغوی اور مجازی دونوں معانی مراد ہوتے ہیں اور اصل مقصود مجازی معانی ہوتا ہے جب کہ کچھ کہتے ہیں کہ صرف مجازی معانی بھی اگر مراد ہوں تو کنایہ قائم ہو جاتا ہے ۔ اس معاملے میں عابد علی عابد نے حتمی دلیل دی ہے:


’’نجم الغنی کے بیان کے مطابق کنایہ اس لفظ سے مراد ہے جو اپنے معنی موضوع لہٗ میں مستعمل ہو، لیکن مقصود وہ معنی نہ ہوں، جو اِن پہلے معنی کے ملزوم ہوںاور ان دوسرے معنی کا مقصود ہونا معنی موضوع لہٗ کے ارادہ کرنے کے منافی نہیں … پس کنائے میں لازم یعنی موضوع لہٗ بھی مراد ہوتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ یہ بالعرض مراد ہوتا ہے اور دوسرے معنی جو ملزوم ہیں، وہ بالذات مراد ہوتے ہیں۔ پھر وہ خاص طور پر اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ جب امیر نے ’’طائرِ کم پر ‘‘تو مراد اُڑنے والا جانور لی لیکن اگر اس مراد کے ساتھ پروں کی مقدار کا تھوڑا ہونا مراد ہو تو وہ بھی ہو سکتا ہے، اسی طرح دوسری مثالوں میں بھی انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے۔ لیکن بحث کے دوران میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو تنگ چشم کہیں اور مراد اس سے کنجوس آدمی ہو ، گو شخصِ مذکور کی آنکھیں نہ ہوں ، اگر ہو ں تو بڑی بڑی ہوں تو کنایہ وجود میں آ جائے گا۔ اسی طرح انہوں نے ہوس کا شعر کیا ہے ، اس میں قدِ خمیدہ سے عالمِ پیری مراد لی ہے اور کہا ہے کہ گو قائل کا قد بظاہر سیدھا ہو، اس سے تو مراد یہ ہوئی کہ کنایہ میں لغوی معانی مراد لیے ہی نہیں جا سکتے اور صرف معانیِ لازم و ملزوم مطلوب ہوں گے۔ بات یہ ہے کہ کنائے میں دونوں موقف درست ہیں ۔ یہ صورت بھی پیدا ہوئی ہے اور وہ صورت بھی کہ لغوی معنی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔‘‘٭۴
خیر ہمیں تو غرض ہے مستنصر کے بیانیے سے ،تو یہاں تشبیہ اور مجاز کی طرح ہی کنایے کی بھی رونق نظر آتی ہے اور کنایے میں چونکہ حقیقی معانی بھی مراد لیے جاسکتے ہیں اس لیے یہ تو بہت سی جگہوں پر نظر انداز ہو جاتا ہے۔ یقینا راقم کی نظریں بھی بہت سی جگہوں پر چوک گئی ہوں گی۔ البتہ جہاں کہیں بھی کنایہ نظر آیا، ایک ماہرانہ خوبصورتی کے ساتھ تھا۔ ذیل میں کچھ مثالیں ملاحظہ کیجیے:


’’ہر دھاگہ ایک ایسی عورت نے باندھا تھا جو خشک تھی اور فصل چاہتی تھی۔ ‘‘(ص:۱۰)
’’چارہ بیلوں کے آگے ڈالنا دھروا کا کام تھا اور اُن کی لید کو صاف کرنا اور اگر وہ ڈھیلے پڑ جائیں تو اُن کو خاص بوٹیاں کھلا کر پھر سے ہٹا کٹا کرنا یہ سب اس کا کام تھا۔‘‘(ص:۵۲)
’’کسی کے سامنے جاتے ہیں تو ان کے ہاتھ آپو آپ بندھ جاتے ہیں۔ ‘‘(ص:۱۰۷)
’’تم دونوں یہ سمجھ رہے ہو کہ میں سر میں ذرا کچی ہوگئی ہوں؟‘‘(ص:۲۴۰)
کنایے کا کمال ناول کے آخر میں جا کر دکھائی دیتا ہے۔ پاروشنی اپنے گھڑے میں موجود کنک کی معمولی سی تعداد کو امید کا آخری سہارا قرار دیتی ہے اور اس کے بچا کے رکھنے پر بضد ہے۔ پوری بستی بھوک سے اجڑ گئی ہے اور ورچن اور سمرو کے لیے روٹی بننے والی ہے۔ ایسے وقت میں پاروشنی اس تھوڑی سی کنک میں سے بھی آدھی مٹھی کنک بچا کے رکھنے کو کہتی ہے۔ وہ دونوں حیران ہوتے ہیں کہ ایسے وقت میں جب کھیت ریت میں دب چکے ہیں ، چھپر آندھی میں اُڑ چکے ہیں اور سب کچھ گُم ہونے کو ہے تو پاروشنی یہ کنک بچا کے کیا کرے گی۔ تب پاروشنی کی آنکھیں امید کی تپش سے جلنے لگیں۔’’سب کچھ ختم ہو جاتا ہے، کھیت ہرے بھرے ہو جاتے ہیں اگر تمہارے پاس آدھی مٹھی کنک ہو تو… ‘‘


آدھی مٹھی کنک کنایۃً استعمال ہوا ہے، اس سے مراد واقعی تھوڑی سی کنک بھی ہو سکتی ہے اور اس کا مطلب باقی ماندہ حوصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال کنایے کا یہی خوبصورت استعمال اس آدھی مٹھی کنک کو ایک پوری علامت کا درجہ دے دیتا ہے ۔ناول کے پورے نظام میں اس جملے کی وہی اہمیت ہے جو ہیمنگوے کے ناول’’بوڑھا اور سمندر‘‘ میں اس جملے کی اہمیت ہے۔ ’’ آدمی تباہ کیا جا سکتا ہے، مگراسے ہرایا نہیں جا سکتا۔‘‘
علم البیان کی چار ذیلی شاخوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اب ہم ان چیزوں کا مطالعہ کریں گے جوشاعری کے حربے ہیں۔ تجسیم، Personificationاور امیجری۔ تشبیہ ، استعارہ ، مجاز اور کنایہ کے خوبصورت استعمال سے امیج بنانا ، کسی کیفیت کی تجسیم کر دینا یا کسی چیز کو شخصیت عطا کرنا ممکن بنتا ہے۔ایسا کرنے سے تشبیہ اور مجاز وغیرہ کا مقصد زیادہ سنور کر سامنے آتا ہے۔ ان چیزوں میں سے ہم سب سے پہلے تجسیم کا مطالعہ کریں گے۔


تجسیم سے مراد ہے کہ کسی ایسی چیز کو جسم عطا کر دینا جو اصل میں وجود نہیں رکھتی۔ چیز مجرد ہو، بے وجود ہو اور اس کا ذکر ایسے کیا جائے جیسے وہ کوئی زندہ شے ہو جس کا وجود ہو۔دکھ، تکلیف، اداسی، مایوسی، امید، خوشی، یاد، جدائی، دعا، وغیرہ کو کسی زندہ شخصیت کی طرح بیان کرنا۔ عام طور پر ایسا کرتے وقت اس چیز کے ساتھ کسی زندہ مخلوق کی صفات جوڑ دی جاتی ہیں۔ ؎
اس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہاتھ

یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبحِ فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن ، آ بھی گئی وصل کی رات

تجسیم کا کمال یہ ہے کہ انسانی جذبات کی ایک محسوس صورت بنا کر دکھا دیتی ہے۔ ہم جن جذبات کی صحیح کیفیت سے واقف نہیں ہوتے یا نثر ان کی مکمل شدت بیان نہ کر پائے ، ان کو بتانے کے لیے تجسیم کام آتی ہے۔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے، آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں ظلم سہتے ہوئے حبشیوں کی طرح رینگتی ہیں، ایسے امیج ہیں جو جذبات کی تجریدی شکل کو ہمارے سامنے ٹھوس صورت میں پیش کرتے ہیں۔ مستنصر صاحب نے بھی اس ناول میں تجسیم سے بہت کام لیا ہے۔ اسی تکنیک سے انہوں نے ناول کے کتنے ہی طاقتور امیج بنائے ہیں۔ کئی امیج تو ایسے ہیں کہ موضوع پوری معنویت کے ساتھ ذہن کے پردے پر زندہ وجود کے ساتھ منتقل ہو جاتا ہے۔ مثلاً ذیل کا امیج دیکھیے کہ جس میں تجسیم ایسی خوبصورتی سے استعمال ہوئی ہے کہ شیو کمار بٹالوی ؔ کے امیجز کی یاد تازہ ہو جاتی ہے:
’’وہ پھر لیٹ گیا اور نیند کے نرم پیروں والے چُپ پکھیرو اس کی آنکھوں میں اترتے چلے گئے۔ ‘‘(ص:۱۷۵)


کچھ جگہوں پر تجسیم کو پورے تلازمے کی حیثیت دے دی گئی ہے اور تلازمات کی توسیع سے اس کی صورت کو مزید نکھارتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کمال کئی جگہ دکھایا گیا ہے لیکن مندرجہ ذیل دو جگہوں پریادگار مناظر تخلیق کیے گئے ہیں:


’’وہاں بہت ساری کھڈیاں تھیں اور ان سب کی آواز مل کر موہنجو کے اندر ہی اندر کھٹ کھٹ کرتی گم ہوتی رہتی تھی۔ ورچن اس گم ہوتی کھٹ کھٹ کے لیے وہاں رکتا اور سنتا۔ اس نے اِس لے کو ساری رتوں میں سنا۔ گرمیوں میں یہ کھٹ کھٹ پسینے سے بھیگے بدن پر پھسلتی ۔ پالے کی رُت میں یہ بندے کے اندر نگھی ہو کر بیٹھی جاتی۔ برساتوں میں مدھم ہو جاتی اور چاند کا تھال جب پورا ہوتا تو زمین کو چھوڑ کر اوپر ہی اوپراٹھتی جاتی۔ ‘‘٭۵


’’تھکاوٹ جو ہر مسافر کے پائوں میں سارا وقت بیٹھی رہتی ہے، جب وہ گھر سے باہر ہوتا ہے ، چاہے آرام سے ہو ، مزے سے ہو اور کھاٹ پر پڑا رہے، تب بھی وہ تھکاوٹ اس کے پائوں میں بیٹھی رہتی ہے اور وہ جاتی ہے تو اس سمے جب وہ واپس آتا ہے اور ایک گھر کے اندر پائوں رکھتا ہے تو گھر سے باہر اور درمیان وہ چلی جاتی ہے۔ ‘‘٭۶


ان کے علاوہ تجسیم اس ناول میں کئی جگہوں پر خوبصورتی سے بیانیے کی صورت گری کرتی ہے۔جس چیز کے متعلق بتایا جا رہا ہے، وہ وجود نہیں رکھتی لیکن بیانیے کے حسن کی وجہ سے مجسم ہو کر ہمارے سامنے ان موجود ہوتی ہے۔ نمونے کے طور پر چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:


’’سمرو کی بھیگی ہوئی پشت پر ہوا نے ہاتھ رکھا اور اس میں ٹھنڈک تھی۔ ‘‘(ص:۴۴)
’’ادھرادھر چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں دبکی ہوئی تھیں اور کہیں کہیں خشک گھاس کے ٹکڑے تھے۔ ‘‘(ص:۸۹)
’’املی اور پیپل کے پتوں میں گیلی ہوا دم روکے موجود تھی۔ ‘‘(ص:۱۰۴)
’دریا کی طرف سے ٹھنڈک ہولے سے چلتی آتی تھی۔ ‘‘(ص:۱۷۰)
شخصیانا (Personification)سے مراد وہ تکنیک ہے جس میں بے جان چیزوں کو شخصیت عطا کر دی جاتی ہے۔ چیز موجود ہے مگر زندہ نہیں ہے، اب اس کے ساتھ ایسی صفت منسوب کر دی جاتی ہے جو کسی زندہ اور متحرک چیز کی خوبی ہو۔ مثلاً دھند آتی ہے بلی کے دبے پائوں، موج محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں یہ دونوں شخصیانے کی مثالیں ہی ہیں۔انگریزی لغت کے مطابق۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہبے جان چیز کی بجائے چیز کا جاندار احساس قاری کو اس کے ساتھ قلبی طور پر وابستہ کر دیتا ہے۔ مستنصر نے اس ناول میں اپنے بیانیے میں پوری توجہ جن چیزوں پر دی ہے، ان میں سے تجسیم اور شخصیانا سرِ فہرست ہیں۔ ان کے نزدیک ہر مجرد چیز کسی محسوس پیکر کی طرح وجود رکھتی ہے۔ ان کے لیے ہر بے جان چیز سانس لیتی اور حرکت کرتی ہے۔انہوں نے جہاں بھی کسی کی تجسیم کی یا کسی چیز کو شخصیادیا، وہاں بیان کا حسن دو چند ہے۔


’’بوٹے کی جڑوں میں مٹی کم ہو رہی تھی اور اسے سانس لینے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ ‘‘(ص:۲۱)
’’ہاں مدھم سی آواز تھی۔ دریا بول رہا تھا۔ بڑے پانی آرہے تھے۔‘‘(ص:۲۵)
’’تمہاری اس بستی میں ساری دیواریں اندھی ہیں۔ ‘‘(ص:۶۴)
’’اس کے اوپر پیپل کے ایک گنجے ہوتے رُکھ میں وہ دونوں بیٹھے تھے۔‘‘(ص: ۲۰۷)
ان بیانات میں انہوں نے بے جان چیزوں کو ایسے پیش کیا جیسے وہ زندہ ہوں اور سانس لیتے ہوئے افراد ہوں۔ اس کے بعد اگلے دوبیانات میں ملاحظہ کیجیے کہ انہوں نے کس طرح پانی اور ریت کو شخصیا کر چھوٹے چھوٹے منظر تشکیل دیے اوریہ ایسے خوبصورت منظر ہیں کہ دوسرے ناول نگاروں کے لکھے ہوئے درجنوں سطور کے بیانات پر بھی بھاری ہیں۔
’’اسّوں کے شروع میں گھاگرا کے پانی اونچے ہوئے پر یوں جیسے سوچ میں ہوں ، دھیرے دھیرے اور اپنے میں گُم… اور پھر وہ گُم سُم کناروں سے باہر آئے پر ایک جھجک کے ساتھ۔ بستی کے آس پاس رینگتے گئے جیسے کینچلی اتارنے سے پہلے کا سانپ رینگتا ہے۔‘‘(ص:۱۴۶)
’’ریت رُکھوں میں اب رکتی نہ تھی… پہلے وہ رینگتی تھی پر اب کوئی دیکھنے والا ہوتا تو دیکھتا کہ وہ کیسے سوکھے ہوئے رُکھوں کے گرد پھیل کر انہیں ساتھ ملاتی تھی اورکیسے وہ بڑھتی تھی اور رُکھ گھٹتے تھے۔ ‘‘(ص:۲۳۲)


تکرار شاعری کا حربہ ہے اور ترنم پیدا کرنے کے لیے خاص استعمال کیا جا تا ہے، لیکن اکثر کسی بات پر زور دینے کے لیے بھی تکرار کا استعمال ہوتا ہے ۔ اس سے بات کا وزن بڑھتا ہے اور معنی میں شدت پیدا ہوتی ہے۔ مستنصر نے ناول کے بیانیے میں کئی جگہ تکرار کی بنیاد پر موضوع میں شدت پیدا کی ہے ۔ سب سے پہلے تو سمرو اور ورچن کے درمیان اٹکی پاروشنی کی سوچ بار بار آ کر یہ ذہن نشین کراتی ہے کہ پاروشنی انہی دو پر اٹکی رہتی ہے اور کبھی فیصلہ نہیں کر پاتی۔ اس کے بعد ہمیں دھروا کی نامردمی کے بیان میں تکرار نظر آتی ہے جہاں بار بار دہرایا جاتا ہے، ’’گھاس پھونس اور سروٹ ہو گیا، کسی نہ کام کا کسی نہ کاج کا۔‘‘اس کے بعد ورچن اور ڈورگا کی واپسی کے وقت موسم کی شدت بیان کرنے کے لیے ’’پھاگن کے اخیر کی ہوا میں پالا کاٹتا تھا۔ ‘‘ بار بار دہرانے کی وجہ سے اس ٹھنڈکا صحیح امیج بنتاہے۔ اسی طرح ڈورگا کے ڈرنے کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور ہمیں اس بات کا حقیقی معنوں میں احساس ہوتا ہے کہ ہزار برس کے بوجھ نے ڈورگا کو کس قدر ڈرا کے رکھا ہوا ہے ۔ تکرار کا سب سے عمدہ استعمال ایک ایسی جگہ ہوا ہے جہاں ایک ہی بیان میں دو دفعہ ایک جملہ استعمال ہوا ہے ، تھوڑے سے ردو بدل کے ساتھ آنے والے اس جملے نے پورے منظر کی کیفیت جما کے رکھ دی ہے:


’’پاروشنی نے بوٹے کوسونگھا اور پھر اپنا دایاں کان پانی کے ساتھ لگا کر سانس روکا تا کہ وہ دریا کے بولنے کو سن سکے، اس ہلکے شور کوسن سکے جو اَب ادھر آنا تھا۔ پر ابھی وہی سرسراہٹ تھی پانی کے گم بہنے کی اور کچھ نہ تھا۔ پاروشنی نے کان لگائے رکھا اور اس دوران اس کا جُسّہ پانی کی سیت سے ٹھنڈا ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں اسے لگا کہ اگر وہ پانی سے نہ نکلی تو اسے ضرور تاپ چڑھے گا اور وہ مرے گی پر اس نے اپنے آپ کو باندھے رکھا اور کان لگا کر بیٹھی رہی … صرف وہی سرسراہٹ تھی پانی کے گم بولنے کی اور کچھ نہ تھا۔ ‘‘٭۷
سرسراہٹ کا احساس قاری کے ذہن کے نہاں گوشوں تک پہنچ جاتا ہے۔


متحرک منظر کو محاکات کہتے ہیں۔ ایسا منظر جس میں واقعہ اپنی متحرک شکل میں دکھائی دے۔ رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے، گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں ، تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے،وغیرہ ایسے مناظر ہیں جنہیں محاکات کی ذیل میں رکھا جاتا ہے۔ مستنصر کے ہاں محاکات کا استعمال بھی بہت خوبصورت انداز میں ملتا ہے۔ انہوں نے جو واقعہ لکھا ہے ، اسے پوری طرح سے متحرک کر کے دکھایا ہے۔ اس حوالے سے جو منظر ناقابلِ فراموش ہے، وہ ذیل کا منظر ہے:


’’بھینسے کی سیاہ کھال پسینے سے تب لشکتی تھی جب گھنے درختوں کے پتوں کی چھتوں میں سے دھوپ بہتی ہوئی نیچے آتی اور وہ ڈکراتا ہوا وہاں سے گزرتا… گزرتا تو دھوپ سے پل بھر کو لشکتا اور اگلے پل پھر رُکھوں میں سیاہ ہو جاتا… پاروشنی کا جُسّہ بھی بھینسے کی طرح پسینے میں بھیگا ہوا تھا اور جب کبھی وہ بھی رُکھوں کے اندر داخل ہوتی ، دھوپ کی لکیر میں سے گزرتی تو ان تینوں کے جو اُس کے پیچھے چلے آتے تھے، دم رکتے۔ پسینے نے اس کی لنگی کو اس کے پنڈے کے ساتھ یوں چپکایا تھا کہ وہ اُسی رنگ کی ہوتی تھی اور دھوپ میں آتے ہی وہ سب دکھائی دیتی جو کہ وہ تھی۔ وہ بھاگتے تھے اور ان کے آگے آگے رُکھوںمیں گُم ہوتا پاروشنی کا بھیگا ہوا جُسّہ بھاگتا تھا۔‘‘٭۸


امیجری کا مطلب ہے کہ کسی کیفیت کو یوں بیان کرنا کہ ہم اسے اپنی حسیات سے محسوس کر سکیں۔ تشبیہ، استعارہ، مجاز،تجسیم، شخصیانے اور محاکات سبھی امیج بنانے کے حربے ہیں۔ اگر ان کے استعمال سے اچھا امیج بن جائے تو ان حربوں کو کامیاب گردانا جاتا ہے وگرنہ اگر امیج پوری طرح ابھر نہ سکے تو پھر ان حربوں کاا ستعمال بھی ناقص کہلائے گا۔ امیج کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ کسی کیفیت کی تصویر بنا دینا امیج کہلاتا ہے لیکن ادب میں امیج سے مراد زبان کا ایسا برتائو ہے جو ہماری کسی بھی حِس کو متاثر کرے ۔ باصرہ کے علاوہ، شامہ، سامعہ ،ذائقہ اور لامسہ کے امیج بھی بن سکتے ہیں۔


ادب کا ، زبان کا مقصدہی یہ ہوتا ہے کہ اشیاء کو لفظ کا پردہ عطا کیا جائے جس سے ان اشیاء کی صحیح حالت، کیفیت اور شدت کا بیان ہو سکے ۔تمام الفاظ اپنے طور پر امیج کا درجہ ہی رکھتے ہیں۔ کیا ہم مسرت کا لفظ پڑھتے وقت اپنے ذہن میں ایک خوشگوار کیفیت کا امیج بنتا محسوس نہیں کرتے؟ کیا اداسی کا لفظ ہمارے وجود میں ایک بے معنی خاموشی کا تاثر نہیں بھر دیتا؟ یوں یہ الفاظ ان مجرد کیفیات کو وجود عطا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ یہ سادہ شکل ہے اور زبان کے اندر ان الفاظ کے معنی طے شدہ ہیں لیکن اگر کیفیت پیچیدہ ہو اور کسی ایک لفظ کی گرفت میں نہ آتی ہو تو اس کے لیے فنکار کو امیج بنانا پڑتا ہے تا کہ قاری اپنی حسیات سے اس کیفیت کو محسوس کر سکے۔ جس فنکار نے اچھا امیج تخلیق کر لیا وہ بڑا فنکار کہلاتا ہے۔ہومر، سوفوکلیز، دانتے، رومی، فردوسی، گوئٹے، شیکسپئیر، ملٹن، فلابیئر،بالزاک، دوستوفسکی، ٹالسٹائی، ڈکنز، ہارڈی،مارسل پروست،جین آسٹن، لارنس، کافکا اور مارکیز سبھی نے فکشن کے اندر انوکھے اور نادر امیج تخلیق کیے اور ان کی بنا پر بڑے فنکار کہلائے۔ کوئی فنکار اس عمل کے بغیر بڑا فنکار نہیں کہلا سکتا۔


مستنصر کے اس ناول میں تشبیہ ، تجسیم اور شخصیانے کے بھرپور استعمال کی وجہ سے انتہائی طاقتور امیج نظر آتے ہیں۔ جس کیفیت کے متعلق مستنصر لکھ رہے ہوں وہ پوری طرح ابھر کر ذہن کے پردے پر نمودار ہو جاتی ہے اور بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ امیج تخلیق کرنے کی قوت ان میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے اور انہوں نے سبھی حسیات کے امیج نہایت خوبصورتی سے پیش کیے ہیں۔ ہم ان سب امیجز کا الگ سے جائزہ لیںگے تا کہ ان کی اس مہارت کو پوری طرح سراہا جا سکے۔


سب سے پہلے لامسہ کے امیجز دیکھتے ہیں۔ ان کے امیج اتنے جاندار ہیں کہ بدن سے مَس ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ ذیل کے امیجز میں دیکھیے کہ کس طرح خوف بدن کے رونگٹے کھڑے کرتا نظر آتا ہے :


’’اس کے ننگے وجود پر خوف سے کانٹے ابھرے اور ہڑبڑا کر کھڑی ہو گئی۔ ‘‘(ص:۲۵)
ٹھنڈک کا احساس انسانی جلد کو گرمی سے زیادہ ہو تا ہے اور اس کی کاٹ کسی تیز دھار آلے کی کاٹ جیسی معلوم ہوتی ہے۔ مستنصر نے ناول کے بیانیے میں جگہ جگہ سردی کے احساس کو امیجزکی صورت میں دکھایا ہے۔ ذیل کے چار بیانیات ملاحظہ کیجیے اور دیکھیے کہ کس طرح وہ ٹھنڈک کی مختلف سطحوں کے امیجز بناتے ہیں:


’’کشتی میں پھاگن کے اخیر کی ہوا میں پالا کاٹتا تھا۔‘‘(ص:۷۲)
’’پانی میں سویر کی ٹھنڈک گھلی تھی اور پنڈے کے اندر تک جاتی تھی، ٹھٹھرتی تھی۔ ‘‘(ص:۱۷۶)
’’سمرو کی بھیگی ہوئی پشت پر ہوا نے ہاتھ رکھا اور اس میں ٹھنڈک تھی۔ ‘‘(ص:۳۸)
’’پانی سرد تھا اور جُسّے کو کپکپاتا تھا، بھلا لگتا تھا ، پر ٹھنڈا تھا۔‘‘(ص:۲۰۳)
سادہ سے امیجز ہیں اور پڑھ کر انہی جیسا ایک سادہ امیج ذہن میں آتا ہے جو ناصر کاظمی کا تخلیق کردہ ہے۔
؎ ہاتھ اب تک کانپ رہے ہیں
وہ پانی کتنا ٹھنڈا تھا
لامسہ کے بعد باصرہ کے امیجز کی باری آتی ہے۔ باصرہ تو پورے ناول میں متحرک رہتی ہے کیوں کہ ہرتشبیہ، تجسیم اور Personification اپنے طور پر ایک امیج تو بناتی ہی ہیں۔ لیکن پھر بھی بعض جگہوں پر تو کمال کے امیج تخلیق کیے گئے ہیں جن کا الگ سے ذکر ضروری بنتا ہے۔ مثال کے طور پر ذیل کے امیج ملاحظہ کیجیے:


’’یہیں دریا کے ساتھ بھکشو ٹیلا بھی تھا جو اپنی جگہ بدلتا رہتا ، مٹی اور ریت کا یہ ڈھیر سست کچھّو کی طرح ہوا کے راستے میں پڑا سرسراتا رہتا ، آلتی پالتی مارے بیٹھا رہتا۔ ‘‘(ص:۳۲)
’’ورچن کے پیلے پڑتے مہاندرے پر بے بسی تیرتی تھی ۔‘‘،’’ ورچن کی سیاہ رنگت پر جیسے ڈھلتا سورج بجھنے لگا۔‘‘(ص:۵۷-۵۶)
اس کے علاوہ بیسیوں جگہ پر انتہائی سادہ انداز میں ایسے مناظر بیان کیے گئے جو باصرہ کو پوری طرح سے متحرک اور فعال رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل امیج دیکھیے:
’’وہ ایک سیاہ ہرن کی طرح پانی کو کود کود کر پھلانگتی کنارے پر گئی … اور سروٹوں والے راستے پر چلتی ہوئی بستی کی طرف منہ کر لیا۔ پانی مٹی پر اس کے پائوں کے نشان بناتا تھا اور وہ چلتی تھی۔‘‘(ص:۲۵)


سامعہ کے امیج بھی پوری توانائی کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ سامعہ کے سلسلے میں ہی ناول کا سب سے طاقتور امیج تخلیق ہوا ہے۔ جب ناول کے آخر پر سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور پاروشنی ابھی بستی کے اندر موجود ہے جو کہتی ہے کہ کچھ بھی ختم نہیں ہوتا اگر تمہارے پاس آدھی مٹھی کنک ہو تو ، تب پاروشنی اپنے اوکھلی میں کنک کوٹنا شروع کر تی ہے اور اس کی جانی پہچانی ’’ہائو… دھم ‘‘ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہاں پہنچتے تک یہ آواز محض کنک کوٹنے کی آواز نہیں رہی جو یہ بتاتی ہو کہ پاروشنی کنک کوٹ رہی ہے،بلکہ پوری بستی کی اکلوتی آواز ہونے کے باعث یہ آواز تمام ماحول کو حاوی ہو رہی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اس ’’ہائو… دھم ‘‘ کا ردھم کائناتی گردش کے ردھم کے ساتھ جا کر مل گیا ہے۔ یہ خیال آتا ہے کہ شاید یہی وہ آواز ہے جس کے متعلق اقبال نے کہا تھا :


؎یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکون
ناول کا یہ سمعی امیج پورے ناول پر محیط ہے اور ناول کے تاثر کوبڑھاوا دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ بھی مستنصر نے کئی شاندار سمعی امیج پیش کیے ہیں۔ مثلاً
’’چھپر کے اندر یہاں وہاں جو دھوپ کی کرنیں اندر آتی تھیں، وہ مدھم ہوئیں اور پھر تھوڑی دیر بعد ہولے ہولے بادل بولنے لگے جیسے دریا کے بہائو پر کان لگائو تو وہ بولتا ہے… بادل ہولے ہولے بولتا ہوا جیسے یکدم چھپر کے اندر آ کر گرجنے لگا۔ ‘‘(ص:۴۷)
’’پورن ہنسا اوراس کی ہنسی ویہڑے کے چاروں طرف بنی کوٹھڑیوں میں گئی اور گونج کر باہر آ گئی کہ ان کی دیواریں اندھی تھیں اور ان میں کوئی سوراخ نہ تھا۔ ‘‘(ص:۶۵)
ذیل کا بیان ملاحظہ کیجیے جہاں سمعی امیج تخلیق کرنے کی مہارت درجہ کمال تک پہنچی ہوئی ہے۔ خاموشی کے سمعی امیج کے حوالے سے اردو شاعری کے دو زبردست امیج ذہن میں رکھیے ،اتنا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیں، اس کے بعد اک لمبی چُپ اور تیز ہوا کا شور، اور پھر مستنصر کے بنائے ہوئے مندرجہ ذیل امیج کو سنیے، خاموشی حسِ سماعت کو اپنے ہونے کا احساس دے گی:


واہ۔’’اس نے کشتی کو گھسیٹ کر خشکی پر کیا اور پھر کھڑی ہو گئی۔ وہاں چپ تھی ۔ اس نے اس چپ کو سننا چاہا کہ اس میں و ہ سب ہوں گے جو کبھی تھے پر کوئی نہیں بولا۔ وہاں صرف چپ تھی یا پھرچند جھاڑیوں کے نوکیلے پتوں میں سے گزرتی ہوا تھی اور ان سے پرے ریت تھی اور اس سے پرے بھی ریت تھی اور اس سے پرے اسے نظر نہیں آتا تھا…وہ وہاں بہت دیر پڑی رہی اور اس کے آس پاس ایسی چپ تھی کہ وہ چپ بولتی تھی۔ ‘‘٭۹
سمعی امیج کے حوالے سے دو امیج ایسے ہیں جن کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہیے۔ یہاں مستنصر نے حددرجہ فنکارانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ امیج اپنے پورے پس منظر کے ساتھ جُڑ کر آیا ہے اورتخلیقی رعنائی کے ساتھ ساتھ اپنا مقصد بھی پوری شدت کے ساتھ پورا کر رہا ہے۔ پہلا بیان اس وقت پیش ہو تا ہے جب ورچن کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کنویں میں پانی کم ہو گیا ہے، ورچن دو تین دفعہ ڈورگا سے تصدیق کرتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ پھر جب اسے سمجھ آتی ہے تو وہ ایک لمبی ’ہاں ‘ کرتا ہے۔بات کنویں کے پانی کی ہورہی ہے اور اسی کے تلازمے سے بیانیہ ہمیں ورچن کی کیفیت اس طرح بتاتاہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں کنویں کے اندر ڈول کے گرنے کی آواز بہت دیر کے بعد آئی ہے اورورچن کے ساتھ ہم بھی جان گئے ہیں کہ پانی کتنا کم ہو گیا ہے:


’’ورچن کے اندر یہ بات دور تک گئی اور بہت دیر کے بعد چھپاک سے کہیں گری کہ پانی نیچے ہو گیا ہے۔‘‘(ص:۱۹۵)
دوسرا امیج بھی پانی کے کم ہونے کے متعلق ہی ہے، اب کی بار ورچن کی جگہ سمرو کو یہ بات معلوم ہوئی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ سمرو کو کنویں کی بجائے دریا کے پانی کے کم ہونے کاعلم ہوا ہے اور یہاںجو سمعی امیج تخلیق ہوا ہے وہ بھی دریا کی مناسبت سے ہی ہواہے۔
’’سمرو کی آواز نیچے تھی شاید تہہ میں کنکریوں اور ریت کے ساتھ اور وہ پانی سے باہر آتی تو گم لگتی اور وہ اسی گم آواز میں بولا۔‘‘(ص:۲۲۱)
سب سے آخر میں شامہ کے امیج پر بات ہو گی۔ جنگل کی گھنی تہذیب میں باصرہ سے زیادہ شامہ متحرک ہوتی ہے۔ جانور چیزوں کو دیکھ کر جانچنے کی بجائے سونگھ کر ہی جانچتے ہیں۔ ابتدائی وحشی انسان باصرہ سے زیادہ شامہ سے اپنے ماحول کی پہچان کرتے تھے۔ مستنصر کے اس ناول میں بھی جو حِس کرداروں کے اندر سب سے زیادہ طاقتورہے ، وہ شامہ کی حِس ہی ہے۔ وہ اپنے ماحول کی ایک ایک چیز کو شامہ کی مدد سے ہی پہچانتے ہیں۔ ذیل کی تشبیہ دیکھیے جہاں دو مختلف چیزوں کے درمیان متعلقاتِ شامہ کو ہی وجہ شبہ قرار دیا گیا ہے۔
’’کنک کے سٹوں میں سبز کچا دانہ پڑنے سے ان کی باس الگ ہو چکی تھی جیسے عورت میں بیج پڑ جائے تو اس کے بدن کی باس بھی پہلے سے الگ ہو جاتی ہے۔ ‘‘(ص:۱۰۲)
پھر کچھ امیج ایسے ہیں جہاں شامہ نامعلوم چیزوں تک کی بو بھی سونگھ لیتی ہے۔ اِس امیج میں دیکھیے کہ کس طرح انہوں نے کس طرح ایک بے وجود چیز کی بُو محسوس کرائی ہے۔
’’پر انہوں نے دیکھا، ڈھلتی شام میں اور اس دھول میں جو بستی پر اور گھاگرا پر ٹھہری ہوئی تھی اور اس میں ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ٹھہرائو کی بو تھی۔ ‘‘(ص:۲۳۸)


ان کے علاوہ وہ امیج خاص طور پر دیکھنے کے قابل ہیں جہاں پاروشنی کے وجود سے مہک پھوٹتی ہے۔ پاروشنی کی اس مست مہک نے ہی پورے ناول کو وہ شہوانی حِسیت عطا کی ہوئی ہے جو ناول کی فضا میں ایک ایسی نامحسوس لذت پیدا کرتی ہے جو گھرمیں نئی بہو کے آنے سے پیدا ہوتی ہے۔ گھر کے سربراہ بوڑھے بزرگ کی طرح جس کی زندگی میں جوان بیٹے کی بھرپور دلہن کو سہاگ کے نشے سے سرشار دیکھ کرایک نیا سواد بھر جاتا ہے،قاری بھی پاروشنی کے وجود سے اپنے احساس میں ایک نئے سواد کو رچتامحسوس کرتاہے۔ پاروشنی کی مست مہک نے کئی ایک امیج تخلیق کیے ہیں لیکن ایک امیج تو قابلِ داد ہے جہاں اُس کی مہک سے اُس کے پیچھے آنے والے تینوں مرد ہی پاگل نہیں ہو جاتے بلکہ آگے آگے بھاگنے والا بھینسا بھی مست ہو جاتا ہے۔ یہ منظر شامہ کے متحرک کردار کی وجہ سے ناول کے یادگار مناظر میں سے ایک ہے۔:


’’وہ بھاگتے تھے اور ان کے آگے آگے رُکھوں میں گم ہوتا پاروشنی کا بھیگا ہوا جُسّہ بھاگتا تھا اور اس میں سے … اس کی کچھّوں اور چھاتیوں اور ٹانگوں کے بیچ میں جو باس تھی، وہ پھیلتی تھی اور ان تینوں کو جکڑتی ہوئی اپنے پیچھے گھسیٹتی تھی… وہ بھینسے کو بھولے ہوئے تھے، صرف پاروشنی کے بھیگے ہوئے پنڈے کو رُکھوں میں سے پھسلتے ہوئے دیکھتے تھے اور اُن کے ماتھے گرم ہوتے تھے اور آنکھوں میں آگ دہکتی تھی اوروہ اس کے پیچھے پیچھے تھے اور اس کی بھیگی باس ان کے نتھنوں میں اب بہت اتھل پتھل کرتی تھی اور انہیں بے حال کرتی تھی… اتنا بے حال کرتی تھی کہ اب رُکھوں کے تنوں میں ایک پاروشنی نہیں جاتی تھی بہت ساری تھیں جن کے بدن پسینے سے بھیگتے تھے اور لنگیاں ڈھیلی پڑتی تھیں۔‘‘٭۱۰


یہاں پہنچ کر مستنصر کے ناول کا یہ جائزہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے جس میں ہم نے ناول کے بیانیے میں شاعرانہ وسائل کے استعمال کا مطالعہ کیا ہے۔ہم نے دیکھا کہ مستنصر حسین تارڑ اپنے بیانیے کو ان تمام محاسن سے سنوارتے ہیں جو شاعری کا خاصہ ہیں اور یہ آرائش محض لفظی بازی گری یا تصنع نہیں ہے بلکہ ان کے تمام تشبیہات ، استعارے ، کنایے اور امیجزسبھی ناول کے کُل کے ساتھ مل کر آتے ہیں۔انہوں نے خواہ مخواہ زبان کی زینت کی طرف توجہ دی ہے اور نہ ہی کہیں یہ شاعرانہ اندازِ بیان ان کی واقعہ نگاری یا منظر نگاری پر حاوی ہوتاہے۔ یہ سبھی محاسن ناول کے پورے ماحول کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، کرداروں کی سوچ اور مزاج کے لحاظ سے ڈھل کر آتے ہیں اور ناول کے موضوع کو زیادہ ابھارتے ہیں۔ یہ ناول کے چہرے پر تھوپا ہوا مصنوعی غازہ نہیں ہے بلکہ شباب کی تپش سے گالوں پہ چھلکتی لالی ہے جو اس کے حسن میں فطری دلکشی پیدا کرتی ہے۔


مستنصر کا یہ ناول اردو کے ان روکھے پھیکے ناولوں سے بالکل الگ ہے جن کا مطالعہ کسی اجاڑ ویرانے میں بسرام کرنے جیسا لگتا ہے۔ ناول زندگی کا عکس ہے اور اسے زندگی کا عکس بنانے کے ساتھ ساتھ اس میں زندگی جیسی ہی دلکشی بھی لانی چاہیے ۔ جیسے آدمی زندگی سے پیار کرتا ہے اور اس کے خاتمے کا خیال اس کے وجود کو ہلا کے رکھ دیتا ہے، ایسے ہی ناول بھی اس قدر دلآویز اور لذت انگیز ہو کہ قاری اس کے ختم ہو نے کا سوچے تو اداس ہو جائے۔ اردو کے بیشتر ناول اس قدر بیزار کن ہیں کہ قاری انہیں انتقامی عجلت میں ختم کرتا ہے اور ناول سے محبت کرنے کی بجائے عبرت پکڑتا ہے۔ بہائو اپنی خوبصورت زبان اور شاعرانہ بیان کی وجہ سے ناول کی زندگی میں دلکشی کا وہ احساس پیدا کرتا ہے کہ آدمی کو وہ زندگی گزارنے کی خواہش ہوتی ہے جو اس ناول میں پیش ہوئی ہے۔ وہ خود کو خوش نصیب محسوس کرتا ہے جسے اس قدر بھرپور زندگی کا تجربہ ملا۔ اس ناول میں یہ کمال اس کی نثر کی اُس پرکاری کا ہے جو بظاہر زمین کی قوتِ نمو کی طرح نظر نہیں آتی لیکن اپنی زرخیزی سے اس قدر دلنشین بیانیے کا سبزہ زار تخلیق کرتی ہے۔ مستنصر کا یہ ناول اپنی اس صلاحیت کی بناپر اردو کا ایک دلنشیں اور پرکشش ناول نظر آتا ہے جو ’’آگ کا دریا‘‘، ’‘اداس نسلیں‘‘ اور ’’علی پور کا ایلی‘‘ جیسے (علی الترتیب) خشک ، سپاٹ اور بیزار کن ناولوں کی روایت کو ختم کرتاہے۔
٭٭٭

حوالہ جات

۱۔ وارث علوی،’’بورژواژی، بورژواژی‘‘ ،ص: ۶۴-۶۳
۲۔ مستنصر حسین تارڑ، ’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء، ص:۱۹
۳۔ عابد علی عابد، ’’البیان‘‘، لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2002ء، ص: ۲۲۹
۴۔ ایضاً، ص:۲۴۸
۵۔ مستنصر حسین تارڑ، ’’بہائو‘‘،لاہور، سنگِ میل پبلیکیشنز، 2004ء، ص:۷۱
۶۔ ایضاً،ص:۱۶۷
۷۔ ایضاً،ص:۲۰۴
۸۔ ایضاً،ص:۱۰۲-۱۰۰
۹۔ ایضاً،ص:۵۰-۴۹
۱۰۔ ایضاً،ص:۱۰۲-۱۰۰

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں