شخصی مرثیہ

پراسرار شیطانی کتاب

جب ہم صرف مثریہ کی بات کرتے ہیں تو یہ اردو ادب کی اصطلاح میں یہ شاعری کی ایک صنف ہے، یعنی ایک صنف ِ سخن ہے۔ لیکن جب ہم شخصی مرثیہ کی بات کرتے ہیں تو ہم مرثیہ کی سخن کو مخصوص (سپیسفائی) کر رہے ہوتے ہیں۔

شخصی مرثیہ کی تعریف

شخصی مرثیہ سے مراد کربلا کے علاوہ سیاسی، سماجی، نسبتی یا کسی اہم شخصیت کی موت پر لکھی جانے والی شاعری ہے۔ اس کی کوئی خاص ہیت نہیں ہوتی۔ بیسویں صدی میں اسے مرثیہ ہی کی طرز پر لکھا جاتا رہا لیکن جلد ہی اس نے دیگر نظموں کی ہیت اختیار کر لی۔ موجودہ دور میں آزاد نظم کے طور پر بھی مرثیہ یا شخصی مرثیہ نگاری دیکھنے میں آتی ہے۔

مثالیں

مرزا غالب کی وفات پر اردو ادب کے سب سے بڑے مرثیہ نگار جناب میر انیس نے اشعار کہے۔ ان اشعار کو شخصی مرثیہ کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مرزا غالب کی وفات پر مولانا حالی نے بھی شخصی مرثیہ کہا۔ خدائے سخن میر تقی میر نے اپنی بیٹی کی وفات پر مرثیہ لکھا تھا جو کہ شادی کے کچھ دن بعد وفات پا گئی تھیں۔ اس مرثیے کو بھی شخصی مرثیہ کہا جا سکتا ہے۔ میر تقی میر کے مرثیے سے ایک شعر ملاحظہ ہو:

کھلا ہم پر یہ اے آ را م جا ں اس نا مرا دی میں
کفن دینا تجھے بولے تھے ہم اسباب شا دی میں

شخصی مرثیہ کی روایت پرانی ہے پہلا شخصی مرثیہ 980ھ میں برہان الدین جانم نے اپنے والد کی وفات پر کہا تھا۔ اس کے علاوہ فارسی شاعر فردوسی نے بھی اپنے بیٹے کی وفات پر شخصی مرثیہ کہا تھا۔ یہ مثالیں تو نامور شعراء کی ہو گئیں، ان کے علاوہ بے شمار ایسے علاقائی شعراء نے اپنے ادوار میں مرثیے کہے تھے جو شخصی مرثیہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

وفاتیہ مرثیہ

کچھ اہلِ علم کے نزدیک ایسی شخصیات جن کا شاعر سے خاندانی یا کوئی رشتہ داری کا معاملہ نہ ہو، ان پر لکھی جانے والی شاعری کو شخصی مرثیہ کی بجائے وفاتیہ مرثیہ کہا جائے گا۔

مرثیہ اور شخصی مرثیہ کا فرق

مرثیہ کے لغوی معنی کسی بھی غمناک حادثہ کے حوالے سے نظم کہنا ہے۔ لیکن اسے خاص طور پہ فقط واقعہ کربلا کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے جو کہ معنوی اعتبار سے غلط ہے۔ لیکن صدیوں سے رائج ہے سو اسے غلط العام کہا جا سکتا ہے اور یہ فارسی اور اردو ادب کی روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ شخصی مرثیہ کا مطلب کسی بھی انسان کی وفات پہ اشعار کہنا ہے اور اس کی روایت بھی بہت پرانی ہے۔

قدیم عربی اور فارسی میں شخصی مراثی کی امثلہ کثیر تعداد میں ملتی ہیں۔ بلکہ انگریزی زبان میں بھی موجود ہیں۔

اردو بک ریویو کے مطابق شخصی مرثیہ سے مُراد واقعہ کربلا کے بغیر دنیا میں موجود کوئی بھی سیاسی، سماجی ،نسبتی یا کسی اہم شخصیت کی موت پر لکھی جانی والی شاعری ہے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر فیروز دہلوی لکھتے ہیں ـ:۔ ’’ اکابر قوم کے علاوہ شعراء نے اپنے اقرباء کی وفات پر جو مرثیے لکھے انھیں شخصی مرثیے کہا گیا ‘‘ ۔ (اُردو بک ریو یو۔ ص۴۵ ؛اکتو بر ،نومبر دسمبر ۲۰۱۰ء)

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں