شام سے بھیجی گئی ایک اِی میل کا جواب

افسانہ نگار : اسد محمود خان

, شام سے بھیجی گئی ایک اِی میل کا جواب

”نیو اِی میل رِیسیوڈ؛ وِیٹنگ فار رِیپلائی“
لیپ ٹاپ اسکرین کے بائیں اور اُوپری کنارے پر ”پَوپ اَپ“ سرخ دائرے میں لکھا پیغام چیخ پڑا؛
پردۂ نمائش پر مرکوز آنکھوں کے سامنے دائیں اُوپری کنارے پر موجود ٹیمپلٹ کے خانے میں ایک طرف بھیجنے والے کے نام کے نیچے ”اَین اَوپن سورس اِی میل“ (An Open Source Email) کا ٹیک دیکھ کر ”اَوپن میسج“ کی آپشن پر کلیک کرنا بنتا تھا؛ اِی میل کی پہلی لائن میں اپنے آپ کو ننگا کرتے چند الفاظ کا بوسہ لینے جڑے لب ہائے کنار نے الفاظ کے لمس پردَر آنے والے ایک بے مقصد مزے کے سامنے خُود کو بے قابو چھوڑ دیاتھا؛اُنگلیاں لیپ ٹاپ اسکرین کے سامنے بچھے ”کی بورڈ“ کا اُتار چڑھاؤ میں اُلجھی سوچ کے سنگ تنہارہ گئیں؛ پرکشش آنکھوں کے اشاروں پر معانقہ کرتے لب ہائے کنار الفاظ کی باہمی کروٹ میں آگے بڑھتے چلے گئے؛


”ڈیئر آل!!!
جانتی ہُوں آپ کے پاس وقت نہیں ہے……
جبھی تو اپنا تعارف بھی نہیں کراتی؛ بس ”شام“ کو میرا تعارف اور واحدحوالہ جان کر چند لمحے مستعار کیجئے؛ جانتی ہُوں!نئے سال کا آغاز ہونے کو ہے اور آپ سب کو تحائف سے بھرے تھیلیوں کی تقسیم بھی تو کرنا ہے؛ تھیلیوں میں بند خوشیوں کے دھماکوں کی گونج پُوری دُنیا میں سنائی بھی دیتی ہے اور منائی بھی جاتی ہے؛ ”نیویارک ٹائمز اسکوائر“ میں جمع ہونے والے لوگوں نے زمین کو چھپا لینے کی تیاریاں کرنی ہُوں گی؛ ”آک لینڈ سکائی ٹاور“سے آسمان کو آنکڑے ڈالنے والی روشنیوں کی راسیں کسی جارہی ہُوں گی؛ ”بُرج خلیفہ“ سر کرنے کی تیاریاں کی جاچکی ہُوں گی؛ برلن کے ”برینڈ نبرگ گیٹ“ کے پلّے نئی صبح کے استقبال کے لیے کھولے جارہے ہُوں گے؛ ماسکو میں سال بھر کے یک بارگی تحائف کی تقسیم کا اہتمام بھی کیا جارہا ہوگا؛ برازیل میں لمبی دوڑ کی آغاز لائن پر کھڑے لوگوں کو بڑھنے کا اشارہ دیا جانے والا ہوگا؛ چین میں رنگوں بھرے تارے اور جاپان میں سفید غباروں کو آسمان پر ٹکائے جانے کا انتظام کیا جاچکا ہوگا؛ لندن اور فرانس میں اُترنے والی تاریک شبوں کو روشن کرنے کا سوچا جارہا ہوگا؛ ”ویٹیکن سٹی“ میں اجتماعی دُعا کی تیاریاں بھی اپنے بامِ عروج کو پہنچ رہی ہوں گی اور ایران و عراق میں جائے نمازوں پر عبادتوں کی صورت بھی بنائی جارہی ہوگی؛
وقت کسی کا نہیں اور نہ ہی کسی کا ہوسکتا ہے؛


شام میں اُترنے والی گہری اور تاریک رات کا سفر کیوں نئے سال کی روشنی کے ساتھ ختم نہیں ہوتا؛ ایک پر ایک نیا سال آتا اور گزر جاتا جا رہا ہے لیکن نہ تو شب بھر کی تاریکی ختم ہونے پر آتی ہے اور نہ ہی نئی صبح کا اُجالا کوئی نوید لے کر آتا ہے؛ گزشتہ برس بھی سال کی آخری شب نے جس دَم نئے سال کی پہلی صبح کو گلے لگایا، اُس لمحے شام میں ٹھہرے قافلوں کی نوحہ گری گونج رہی تھی؛ جس لمحے ”نیویارک ٹائمز اسکوائر“ میں جمع ہونے والے لوگزمین کو چھپا لینے کی تیاریاں میں اکھٹے ہو رہے تھے، ”حلب“ میں بکھرے اجسام سمیٹ کر زمین کی گود بھری جارہی تھی؛جب ”آک لینڈ سکائی ٹاور“سے آسمان کو آنکڑے ڈالنے والی روشنیوں کی راسیں کھینچی جارہی تھیں، ”دمشق“ میں اجتماعی جنازوں پر پھینکے جانے والے کفنوں کے کمر بند کَسے جارہے تھے؛ جس ساعت میں ”بُرج خلیفہ“سر کرنے کی تیاریاں مکمل ہُوئیں، ”عفرین“ کو طاغوتی قوتیں سر کر تی گزر چکی تھیں؛ جو لمحے ماسکو میں سال بھر کے یک بارگی تحائف کی تقسیم کا اہتمام دیکھ رہے تھے،وہی ”السفیرہ“ پر یک بارگی حملے میں فتح و شکست کے عنوانوں کی بندر بانٹ بھی دیکھ رہے تھے؛ ایران و عراق میں بچھائے جانے والی جائے نمازوں اور ”ویٹیکن سٹی“ میں اجتماعی دُعاؤں کے وقت پُورے شام میں معصوموں کی اجتماعی قبروں کی تیاریاں بامِ عروج کو پہنچ چکی تھیں؛
سوچتی ہُوں شاید میرے پاس وقت نہیں ہوگا؛
بے شک وقت بڑا ہی ظالم ہے؛ لاکھ چاہ لیں مگر یُوں بے رُخی سے گزر جاتا ہے جیسے کبھی آشنا نہیں رہا؛ملک شام کی ایک بڑی مشہور کہاوت ہے:
”He who has his hand in the water is not like him who has his hand in the fire“
جی ہاں! آگ میں جلتے ہُوئے ہاتھ کا احسا س،پانی میں ڈوبے ہُوئے ہاتھ جیسا کبھی نہیں ہوتا؛میں ہرگز ایسی خواہش نہیں رکھتی کہ آپ بھی جلتی ہُوئی آگ کے جاں گزیر احساس کے کرب سے لمحہ لمحہ گزریں؛ البتہ! اپنے احساس کے کرب پر آ پ کے احسا س کا پھاہا رکھنے کی خواہش میں وقت کاتنگ دامن جھنجھوڑ رہی ہُوں؛ میں جہاں بیٹھ کر اِی میل لکھ رہی ہُوں، وہاں پہنچنے اور لیپ ٹاپ تک رسائی میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا؛ کل کی بات لگتی ہے جب میں دروازے میں ہاتھ ہلاتی اپنی والدہ کو خدا حافظ کہہ کر گاڑی میں انتظار کرتے بابا کی جانب بڑھی تھی؛


”بیٹی! اپنا خیال رکھنا!!!“
والدہ صبح سویرے جائے نماز سے اُٹھ کر پہلی دُعا میں یہی کہتی اور سکول کے لیے نکلتے لمحے تک دوہراتی رہتی؛خاص کر جب سے ”حلب“ میں اکھٹے ہونے والے سر پھروں پر حکومتی لائسنس والی بندوقوں سے گولی داغی گئی اور جواب میں بغاوتی ٹولوں کی گولیوں نے بے سمت نکلنا شروع کیا تو والدہ کی پریشانی کچھ بڑھ سی گئی تھی؛ اگرچہ ہمارا گھر دمشق کے مضافات میں کھڑے ایک بڑے تجارتی مرکز کے پہلو میں موجود اپارٹمنٹس میں تھا لیکن بڑھتے شور نے شہر شہر ایک بے چینی سی پھیلا دی تھی؛
”جی! فکر نہ کریں اوراجازت دیں“
میں چلتے چلتے ٹھہر گئی اور تب تک ٹھہری رہی جب تک والدہ نے آنکھ میں آجانے والے پانی میں میرا عکس نہیں دیکھ لیا تھا؛ تب وہ دروازے میں کھڑے کھڑے مسکرائی اور سر کو ہلا کر میرے منجمند قدموں کی افسردگی ختم کرنے میں مدد فرمائی تھی؛
”جلدی کرو، دیر ہو رہی“
گاڑی کے اگلے دروازے سے جھانکتی والد کی آواز نے منجمند قدموں کی ختم ہوتی افسردگی میں تیزی بھر دی؛ میں نے ایک بار پھر ہاتھ ہلاتی والدہ کو خدا حافظ کہا اور دوڑتے قدموں کے ساتھ گاڑی کا اگلا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے والد کے پہلو میں جمی اگلی سیٹ پر آن کر بیٹھ گئی؛ کالج گھر سے تیس منٹ اور والد کا دفتر مزید پندرہ منٹ کی دُوری پر تھا؛ والد مجھے کالج کے گیٹ پر چھوڑ کراپنے دفتر جو حکومتی پٹوار خانہ تھا،میں دن بھر گزارتے اور واپسی پر مجھے گیٹ سے لے کر دروازے میں انتظار کا کشٹ کاٹتی والدہ کے پاس پہنچا دیتے تھے؛ آس پاس کے سبھی اپارٹمنس سے کئی اور لڑکے لڑکیاں بھی اِسی کالج میں آتے تھے اور جب کبھی ضرورت پڑتی ایک دوسرے کو سواری کی سہولت بھی پیش کر دیتے تھے؛ والد گاڑی لے کر آگے بڑھے تو میں نظروں سے اجھل ہوتی گاڑی کو دیکھتے گیٹ عبور کرچکی تھی جہاں زندگی سے بھر پور سہلیوں کی درمیان وقت کا احساس جاتا رہا؛
”جلدی کرو نکلو؛ پناہ میں آؤ؛ جہازوں نے بم گرائے ہیں“
آسمان کی سمت نکلنے والے جہازوں کی اچانک شورکے پیچھے دھماکوں کی آوازوں نے خوف جگایا توہر سمت چیخیں بھاگ رہی تھیں؛


اللہ! اللہ!!اللہ اکبر!!!“
خوف میں جاگی چیخوں نے دوڑ لگائی تو خدا یاد آیا؛
شُوں؛ شُوں“
جہازوں نے کالج کی حد سے باہر جاکر چکر کاٹا اور واپسی پر پھر سے گرتی چھتوں کا طواف کیا؛
”دھم، دھم، دھاک!!!“
واپسی کے سفر میں برسائے جانے والے بموں نے زمین پر اُترتے ہی شور مچایا؛
”دھڑام، دھڑام“
دیواروں پر کھڑی چھتیں زمین پر اُترے بموں کے پیچھے پیچھے پہنچ گئیں؛
”جلدی، جلدی پناہ میں آؤ“
خوف سے جاگی چیخوں کے درمیان مداوے اور بلاوے کی کئی آوازیں بھی جاگ رہی تھیں؛
میں بھی پناہ کی تلاش میں ڈوڑنے والوں میں شامل بم دھماکوں سے گرتی دیواروں سے دُور نکلنے کی کوشش میں بھاگ رہی تھی؛ اچانک لگنے والی ٹھوکر نے اعصاب پر طاری خوف اور دوڑ میں اندھیرے بھرے تو چیخوں کی آوازیں آنا بھی چھُوٹ گئیں؛ آنکھوں نے روشنی کو محسوس کیا تو بہت دیر گزر چکی تھی بلکہ سچی میں بہت دیر گزر چکی تھی؛ میں اپنے آس پاس سفید لبادوں والوں میں گھری پڑی تھی؛
”تم ٹھیک ہو!!!“
ایک سفید لبادے والے نے جس انداز میں پوچھا، اُس میں ایک مسیحا سے زیادہ کا تشکر جھلک رہا تھا؛
”جی!!!“
میں سمجھ نہ پائی کہ وہ مجھے بتا رہا ہے یا مجھ سے پوچھ رہا ہے؛
”بستر چھوڑو؛ ایک کریٹیکل پیشنٹ ہے؛ جلدی! جلدی!!“
سفید لبادے میں موجود ڈاکٹر نے دوبارہ کہا تو میں نے تیزی سے بستر چھوڑ دیا اور پاس دیوار کے سینے سے جا لگی؛اگرچہ میرے سر میں اُٹھنے والی درد کی ٹیسیں باقی بدن کے درد سے قدرے ہلکی لیکن موجود ضرور تھیں؛میں اپنے زخم اور درد کا حساب کرنے کا سوچ رہی تھی کہ سرخ چیتھڑوں میں ملبوس ایک نوجوان کو میرے والے بستر پر لٹا کر سفید لبادوں والوں نے پردہ تان لیا؛”چیک بی پی“،”مینٹین آئی وِی“، ”پری پیر فار سرجری“ جیسے یک مشت احکام نے اگلے چند لمحوں میں بستر کو نئے زخمی کے لیے خالی کروادیا؛وارڈ میں اور بھی بیڈ موجود تھے اور قریب سبھی پر ایسی ہی صورت کے احکام جاری تھے؛ میں کچھ سوچنے قابل ہُوئی تو وارڈ میں زخمیوں پر اُلجھے سفید لبادوں کو چھوڑ کر اکلوتے دروازے سے باہر نکل کر باہر راہداری میں آگئی؛ راہداری کے ایک سرے پر آپریشن تھیٹر کا کھلتا بند ہوتا دروازہ شور مچا تارہا جب کہ دوسرے سرے سے اندر داخل ہونے والے اسٹریچرز واویلا مچا رہے تھے؛ میں دیوار کی انگلی پکڑے دروازے سے باہر آئی تو پہلو سے نکلے ایک مضبوط ہاتھ نے تھام کر سامنے لان میں بیٹھے لوگوں کے ساتھ لاکر بٹھا دیا؛ یہاں بیٹھے سبھی نے جسم کے کسی نہ کسی حصّے کو سفید پٹی میں باندھ رکھا تھا البتہ اِن سب کی حالت اَندر رہ جانے والوں سے حد درجہ بہتر تھی؛ لان کے دوسرے کنارے پر بھی سفید پٹیوں ملبوس بے سدھ زخمیوں کی قطاریں تھیں جو نہ تو شور مچا رہے تھے اور نہ ہی اپنے زخموں کا واویلا سنا رہے تھے؛


”تمہارانام!!!“
سائیں سائیں کرتے کانوں پر دستک ہُوئی تو لہولہان منظر میں گم آنکھوں کے منظر جاگ گئے؛ میرے سامنے ایک ادھیڑ عمر شخص ہاتھ میں قلم کاغذ اُٹھائے کھڑا میرا نام پوچھ رہاتھا؛
”آمینا……آمینا بنت فاتحی“
سر میں اُٹھنے والی درد کی ٹیسوں میں گم شناخت بھی لوٹ آئی؛
میرے سمیت باقی لوگوں سے بھی چند سوال پوچھ کر کاغذ پر دائرے بنائے گئے اور کچھ دیر میں ہمارے سامنے آکر رکنے والی گاڑی میں بیٹھ کر گھر تک چھوڑنے کا پیغام سنا دیا گیا؛ گاڑی چلنے سے پہلے شناخت اور یاد مکمل طور پر لوٹ چکے تھے؛ میں نے کاغذ قلم سنبھالے ادھیڑ عمر شخص سے جہازوں کی بابت پُوچھا تو پتا چلا کہ دن بھر کی کئی پروازوں میں حکومتی عمارتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں آس پاس کی عمارتیں اور علاقے بھی زد میں آگئے ہیں جن میں مرنے والوں کی تعداد، زخمیوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے؛
”کیا حکومتی پٹوار کی بلڈنگ بھی!!!“
جہازوں کے نشانہ پر آنے والی حکومتی عمارات کا سن کر میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا؛
”ہاں! وہاں تو کوئی بھی نہیں بچا“
ادھیڑ عمر شخص نے لان کے دوسرے کنارے پر موجود سفید پٹیوں ملبوس بے سدھ زخمیوں کی قطاروں کی جانب دیکھ کر جواب دیاجو نہ تو شور مچا رہے تھے اور نہ ہی اپنے زخموں کا واویلا سنا رہے تھے؛
”کیا!!!“
میں اتنے زور سے چیخی جیسے پٹوار کے دفتر میں بیٹھے والد کو بلا رہی ہُوں؛
”ہاں! اُسی حدف میں تمہارا کالج اور قرب و جوار کے اپارٹمنٹس بھی رگیدے گئے ہیں؛ وہاں بھی جانیں گئیں البتہ زخمی زیادہ ہُوئے“
ادھیڑ عمر شخص بھی اپنے سینے پر رکھا بوجھ ہلکا کرنے بیٹھ گیا تھا؛
میں پاگلوں کے جیسے قطاروں میں بے سدھ لیٹے زخمیوں کی جانب دوڑھی؛ دوچار قدم اُٹھائے اور اندھیرے میں جااُتری؛ روشنی کا جھماکاہُوا تو ایک بار پھر سفید لبادے والوں میں گھری بستر پر موجود تھی؛ اِس بار درد کی ٹیسوں میں والد کے زخموں سے چُور بدن کا خیال بھی حصّہ ڈال رہا تھا؛ ڈاکٹر کے کہنے سے پہلے ہی بستر چھوڑا اور ایک بار پھر سے بھاگتی ہُوئی راہداری کے دائیں کنارے پر شور مچاتے دروازے سے باہرنکل کر لان میں پہنچ گئی؛ لان کے دسرے کنارے پر موجود قطاروں میں بے سدھ لیٹے زخمیوں کی جانب بھاگ پڑی؛ زخمیوں کو کفن پہنا دیے گئے تھے اور ایک ایک کر کے پاس کھڑے بڑے کارگو ٹرک پر بنا تابوت ڈالے جارہے تھے؛ زخموں سے چُور بدن بے جان لاشے تھے جو صبح کی بمباری میں ایسے ٹوٹے کہ ٹکڑے سمیٹ کر تھیلیوں میں بھرے گئے تھے؛ مجھے یُوں آگے بڑھتا دیکھ کر وہی ادھیڑ عمر شخص کہیں سے سامنے آیا؛
”تم کسی کو ڈھونڈ رہی ہو!!!“
اُس نے کاغذ میری آنکھوں کے سامنے لہراتے ہُوئے پوچھا؛
”فاتحی!……فاتحی بن صالح“
میں نے تیزی سے جواب دیا؛
”فاتحی بن صالح“
ادھیڑ عمر شخص نے کاغذ پر کچھ ڈھونڈنے کے لیے سر جھکایا؛
”حکومتی محکمہ پٹوار میں تھے!!!“
میں نے مزید وضاحت دی؛
”ڈیڈ! باڈی اَن کمپری ہنسیبل“
(مردہ! ناقابلِ شناخت!!!)
جھکا ہُوا سر یُوں اُٹھایا جیسے محکمہ پٹوار کے سبھی افراد کا ڈیٹاحفظ کیے بیٹھا ہو؛
”پٹوار کی بلڈنگ میں کوئی بھی نہیں بچا“
جھکے ہُوئے سر کو اُٹھانے کی توجیح نکال آئی؛
”ٹرک میں ڈالی جانے والی لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں، انہیں اجتماعی قبر میں دفن کیا جائے گا“
ادھیڑ عمر شخص نے کاغذ بغل میں دباتے ہُوئے سارا معاملہ صاف بیان کردیا تھا؛میں بہت دیر تک قطاروں میں لیٹی لاشوں کو ٹرک میں جاتا دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ ابھی والدمجھے آواز دیں گے لیکن ٹرک بھر کر چلا گیا اور میں وہیں بے سدھ لاشوں والے گھاس پر جمے لہومیں انگلیاں ڈبوتی والد کی خوشبو کھوجتی رہی؛ میں یُوں ہی بیٹھی رہ جاتی جو وہی ادھیڑ عمر شخص مجھ سے گھر کا پتا پوچھ کر میری والدہ کی یاد نہ دلا دیتا؛ ایک بار پھر سے درد کی ٹیسیں جاگیں تو مجھے گھر لوٹنے کا خیال آیا؛ اب کی بار بھی وہی ادھیڑ عمر شخص مجھے ایک گاڑی میں بٹھا کر چلا گیا جو قابلِ رخصت زخمیوں کو گھروں تک پہنچانے کا انتظام کیے کھڑی تھی؛ میں اپنے اپارٹمنٹ کی سڑک پر مڑی تو بائیں ہاتھ پر کالج کی تباہ شدہ بلڈنگ میری صبح کی یاد دھندلانے کی کوشش میں تھی؛ اپارٹمنٹس والے چوراہے پر بھی ایک بگڈر دیکھی اور صبح تک اپنے کندھوں پر سر اُٹھا کر کھڑی بلڈنگز کو گھٹنوں کے بل بیٹھے دیکھ کر دل بھی بیٹھ گیا؛ لوگوں کا شور، کچھ زخموں کا واویلا مچا رہے تھے اور کچھ میتوں کا رونا رو رہے تھے؛ ہر بلڈنگ سے کوئی نہ کوئی دوسروں کے کندھوں پر جھولتا سڑک کنارے بے سدھ لیٹ رہا تھا؛ میں گاڑی کے آہستہ ہوتے ہی گھر کی جانب دوڑی؛ کچھ نوجوانوں نے یُوں اندھا دھند دوڑتی زخمی لڑکی کا پیچھا بھی کیا لیکن اچانک جم جانے والے میرے قدموں کو دیکھ کر ٹھٹھک گئے؛ میں گھر کے سامنے ٹھیک اُسی جگہ کھڑی تھی جہاں صبح جاتے ہُوئے والدہ کو آخری بار دروازے میں ہاتھ ہلاتے دیکھا تھا؛
”بیٹی! اپنا خیال رکھنا!!!“
ٹُوٹے دروازے کے بیچ بے سدھ پڑی والدہ، آدھی دروازے کی ایک طرف اور آدھی دروازے کی دوسری جانب ہاتھ ہلاتے پُوچھ رہی تھی؛
”والدہ!!!“
میں پہلی بار ایک بھیانک چیخ مار کر دروازے کی جانب دوڑی اور بے سدھ پڑی والدہ کے بے جان بدن سے چپک گئی؛ میں والدہ سے چپکی رہ جاتی جو کچھ مضبوط ہاتھ مجھے کھینچ کر جدا نہ کردیتے؛ میراپیچھا کرتے نوجوانوں نے ہی مجھے والدہ سے الگ کیا اور بے جان لاشے کو دروازے کے بیچ سے نکال کر سڑک کنارے رکھے جانے والے بے شمار باقی لاشوں کے پہلو میں لٹا دیا؛ میں نیم مردہ، نیم بدحواسی کی حالت میں شام تک وہیں گھر کے سامنے جمع ہو جانے والے دیگر لوگوں کے ہمراہ موجود رہی؛ شام میں شام کی سرخی آنے سے پہلے سڑک کنارے پھیلی لہو رنگ سرخی کو ایک اجتماعی جنازے کی حجت کے بعد اجتماعی قبر میں رکھ کرمٹی ڈال دی گئی تھی؛اِس دوران دوبار جہازوں نے اپنی موجودگی کی خبر دی اور سڑک کنارے رکھی جانے والی لاشوں میں اضافہ بھی کیاتھا؛تھیلوں میں بند لاشوں کی اجتماعی قبریں ایک گھر کی صورت تھیں جہاں پُوری فیملی مل کر ایک ہی دائمی گھر میں رہنے کی تیاریاں کررہی تھی؛
وہ رات بہت کالی اور لمبی تھی……
غم کی گہری چیخیں شام کی چادر اَوڑھ کر لیٹیں تو صبح کا سورج سسکیاں لیتے لیتے اُٹھ بیٹھا؛ گزشتہ روز کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام بھی پُورا نہیں ہُوا تھا کہ چنگھاڑتے جہازاپنے پیٹ کا بوجھ گھٹانے پہنچ گئے؛ گری ہُوئی دیواروں کی اَوٹ نے نئی لاشوں کی تعداد میں کچھ کمی لائی لیکن ملبے کا ڈھیربننے والی نئی عمارتوں نے کئی لاشوں کی قبر وہیں پر ہی بنالی تھی؛جس طرح جہازوں کے شور میں گرنے والے بموں نے گھر، گلی اور بازار کا پتہ نہیں معلوم کیا، اُسی طرح سے آسمان چھُوتی بلڈنگز کے ملبے تلے دبی لاشیں بھی عمرو جنس کی تفریق سے بے نیاز مٹی کے کفن میں،اجتماعی قبروں پربے نام کتبوں کی مستقل قیام گاہوں میں دفن کردی جاتی ہیں؛ اگلے چند روز کی مسلسل بمباری نے زمینی حملے کی پیشن گوئی کی تو لوگوں نے خالی ہاتھ ہجرت کرنے کا قصد کیا؛ میں ہجرت کرتی تو کہاں جاتی؛ میں خیمہ بستی چلی آئی جہاں چند روز کی اجنبیت نے زخموں سے رِستے لہو کا رشتہ ڈھونڈ لیا؛
کیمپ میں بخشی جانے والی زندگی نے موت کے بدتر خیال کو جھٹک دیا تھا؛
یہاں زندگی کیمروں کی آنکھ سے دیکھی جاتی تھی؛ ہر روز ایک بڑی سی گاڑی کیمپ کے دروازے پر ٹھہرجاتی کچھ کیمروں والے لوگ گاڑی سے اُترنے والوں کے آگے پھیل جاتے اور بخشی جانے والی زندگی کو اپنے کیمروں کی آنکھ میں محفوظ کرتے جاتے؛ یہاں بہت سے بچے اپنی اپنی والدہ کو ڈھونڈ رہے تھے اور بہت سی والدہ اپنی گود میں رہ جانے والے لہو کو سنبھالے سنبھالے گھوم رہی تھیں؛ حیان کووالدہ کے بغیر سونے کی عادت نہیں تھی جبھی تو اُس نے زمین پر اپنی والدہ کی تصویر بنائی اوراُس کی گود میں اپنی ٹانگیں سکیڑ کر سو گیا؛ وہ نہ تو اپنی عادت بدل پایا اور نہ ہی اپنی والدہ کو بھول پایا ہے؛
”والدہ یادآتی ہے“
میں سوال پوچھ کرخُود سے آنکھ ملانا بھول گئی؛
”نہیں!!!“
اُس نے ہنستے ہُوئے جواب دیا اور ہنسی ہنسی میں آجانے والی یاد کی چیخوں کو چھپانا بھول گیا؛ اُس کی آنسوؤں والی ہنسی کے ساتھ جھوٹ بولنے کی یہ پہلی کوشش تھی؛ ہم دونوں ایک دوسرے سے منہ چھپائے اپنی اپنی والدہ کو بھولنے کی کوشش میں دُورنکل گئے؛ جہاں پر گرنے والے بموں کی چندھیا دینے والی چمک میں دونوں اپنی اپنی آنکھیں کھولنا بھول چکے توایک لمبی خاموشی نے شام کے بعد کی روشنی پر دستک دے کر اگلے پل میں دھکیل دیا؛
کیمپ کے باہر کا مسئلہ تو آپ سب جانتے ہیں؛
آپ ہی تو ہیں جو ساری دنیا کے مسئلوں کا حل تلاش کرتے ہیں؛ معاف کیجئے گا! یُوں کہوں تو بُرا نہ مان جائیں کہ جن مسئلوں کو آپ بنا لیتے ہیں اُنہی کا حل تلاش کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؛ بغاوتی ٹولوں کی آواز کون بنا اور کس نے کس کے مفاد پر شام میں گہری رات اُتاری، یہ آپ لوگوں سے بہتر کو ن جان سکتا ہے؛ کہیں بھول رہے ہوں تو یاد دہانی کے لیے بتا دوں کہ یہ انقلابِ عرب کے نام پر جمہوری و غیر جمہوری یا حکومتی اور غیر حکومتی معاملہ نہیں رہا ہے؛ روس کے جنگی جہازبشار الاسد حکومت بچانے نہیں آتے بلکہ اپنی ”میڈیٹرینین نیول بیس“ کی حفاظت کی ذمہ داری پُوری کرنے آتے ہیں؛
”اِس لڑائی کا کیا نام ہوگا!!!“
میں اپنے آپ سے پوچھ رہی تھی؛
”جیت ہار کامعیار کیا ہوگا!!!“
آپ لوگ ہی بتا دیں؛
ایک طرف حکومت روس، ایران، حزب اللہ اور شیعہ مسلم لڑاکوں جنہیں ایران، عراق، افغانستان اور یمن سے بھرتی کیا جاتا ہے، کے ساتھ اپنی حکومت بچانے اور مستحکم کرنے کی کوشش میں بالاتفریق لاشوں کے انبار لگا رہی ہے؛ دوسری طرف حکومت مخالف اور آزاد ریاستی لڑاکے، ترکی، گلف ممالک اور امریکی معاملات کے ساتھاجتماعی قبروں پر مٹی ڈال رہے ہیں؛ تصویر کا تیسرا رُخ خلافت کے دعوے دار آئی ایس آئی ایس والے ہیں جو مذہب کے نام پر لادینیت و لا قانونیت کا جھنڈا اُٹھائے بچوں، عورتوں اور کمزوروں کو ذبیح کیے جاتے ہیں؛ یہ بھی نہیں! یہاں ایک چوتھی قوت بھی اپنے مقاصد کے لیے خون و آگ کے دریاؤں سے گزرنے کو تیار کھڑی ہے؛ جی ہاں! کردوں کی منطق سب سے الگ ہے جو نہ حکومت کے ساتھ ہیں اور نہ ہی حکومتمخالف معامالات میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو اپنی آزاد و خود مختار ریاست کا قیام مانگ رہے ہیں؛ یہاں بھی ترکی ساتھ کھڑا اپنی ملکی سرحد پر کردوں کی مضبوط ہوجانے والی تحریک کو دبانے کی خاطر ساتھ کھڑا ہے؛ یہ سب وہ باتیں ہیں جو آپ جانتے ہیں لیکن بَول نہیں سکتے؛
کیمپ کے اندر کا مسئلہ سب کو جاننے کی ضرورت ہے؛
یہاں پر روز صبح سویرے کوئی ایک این جی او آجاتی ہے اور بچوں میں کھلونے اور ٹافیاں تقسیم کرتی ہے لیکن نہ حیان کی والدہ واپس لاتی ہے اور نہ ہی اُسے والدہ کے پاس پہنچاتی ہے؛ اجتماعی قبروں میں دفن لاشوں کی پہچان کہاں باقی رہتی ہے؛یہاں تو دُعا بھی اندازے سے بھیجی جاتی ہے؛ کیا پتہ تھیلیوں میں ٹکڑے سمیٹتے وقت بہت سی آلائشیں تو ملبے سے چپک کر رہ گئی ہوں گی جنہیں بچ جانے والے گلی کے مردہ خور جانوروں اپنا حق سمجھ کر کھالیا ہوگا؛ یہاں تک پہنچے بچے، بس بچے کچے ہی ہیں جنہیں نہ تو سرحدون سے پار جانے کی توفیق ملی اور نہ ہی اپنوں کی کوئی ایک لاش کہ جس کی قبر پر بیٹھ کر حالات کا نوحہ پیٹتے؛ اچھے گھروں کی اولاد یہاں پر ایک بھکاری بننا سیکھ رہی ہے؛ جدید ”گیجٹر ی“ پر لفظوں کی پہچان سیکھنے والوں کی یاداشت سلیٹ پر فقط ایک سیاہ رنگ باقی ہے؛ زندگی کی مسکراہٹوں سے بھر پُور چہروں نے یہاں کیمروں کی آنکھ کے سامنے مسکرانے ہنر سیکھ لیا ہے؛ اب یہ کام سمجھ کر مسکراتے ہیں جس کی اُجرت میں ٹافیوں کے پیکٹ، چابی والے کھلونے اور کھانے کو نان ملتے ہیں؛ یہاں بڑے بھی کیا بچوں سے کچھ کم ہیں؛ یہی سب حرکتیں انہیں بھی دن کی مزدوری پر اُجرت کا حق دار بناتی ہیں؛ اُن کی اُجرت کچھ کم بھی نہیں؛ ایسا کون بچاجس کی خاطر جمع پونجی بچانی پڑ جائے گی؛
میں آپ سے وقت کی بھیک نہیں؛ وقت کا احساس مانگ رہی ہُوں ……
آ پ لوگوں کی سوچ ظالم ہوسکتی ہے لیکن دل بہت حساس ہیں؛ میں جانتی ہُوں یہاں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا ہے لیکن آپ تو جانوروں کے لیے انسانون سے بھی زیادہ درد رکھتے ہیں ناں!؛ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک جتنی درندگی انسانوں نے انسانوں کے ساتھ برتی، اتنی جانوروں نے بھی نہیں برتی ہے لیکن جتنی کوششیں کتوں کے بچوں کو زندگی دینے کے لیے کی جاچکی ہیں، اُس سے کم تر میں انسانوں کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچانے کے لیے کی جاتیں تو آج پُوری دُنیا میں اجتماعی قبروں پر اندازۃً مانگی گئی دُعاؤں کا معاملہ درپیش نہیں ہوتا؛ میں ایک امید کے ساتھ آپ کا احساس مانگ رہی ہُوں؛جانتی ہُوں ابھی کچھ روز پہلے ہی تو آپ نے نیپال کی گلیوں میں نچائی جانے والی ریچھنی رقاصہ کے پیروں سے گھنگرو کھولے، ناک میں پڑی نتھلی توڑ ی اور آزاد کراکر ”جوّالا خیل“ (Jawalakhel) کے چڑیا گھر پہنچایا، جہاں چند روز کی بے قدری نے اُسے موت کی بندش سے آزاد کرادیا؛ ایسے حساس لوگ کیوں کر برہنہ نوجوان لڑکیوں کو نجی محفلوں کی رقاصہ بننے دیں گے؛مجھے خبر ہے،امریکی عدالت میں لیبارٹری میں استعمال کیے جانوروں پر کیس چل رہا ہے، ”مایُون والکینو“ میں حاملہ سورنیوں کے بچوں کوپیدائش سے پہلے ہی مرنے سے بچا لیاگیا ہے،جرمنی جانوروں کو حقوق مہیا کرنے والاپہلا یورپی ملک بن چکا ہے، نیوزی لینڈ اور سوئٹزر لینڈ نے تو جانوروں کی خاطراپنے اپنے قانون تک بدل لیے ہیں؛
ڈیئر آل!!!
یہ بھی جانتی ہُوں جو لوگ ”گلوبل گھو سٹ گیئر اِنیشیئٹو“ (Global Ghost Gear Initiative) لے کر سمندری جانوروں کو ناگہانی موت سے بچانے کی کوشش میں ہوں، بھلاکیونکر ہجرت کرتے انسانوں کو بے رحم لہروں میں جانے دیں گے؛ مانتی ہُوں ساحلِ سمندر کی ریت کو والدہ کی چھاتی جان کر گلے لگا کر سوئے ”آلان“ کی آنکھ کھلی تو اپنی والدہ کی گود میں ہوگا لیکن شاید وقت اور مقام یہ نہیں ہوگا؛
معذرت خواہ ہُوں، وقت لیا لیکن آپ کے ”اِن بکس“ میں پہنچی میری اِی میل جواب لے آئی تو احساس بھی بچ جائے گا۔
آمینا بنت فاتحی“
پردۂ نمائش پر مرکوز آنکھوں کے سامنے اپنے آپ کو ننگا کرتے الفاظ کا رقص ختم ہُواتولیپ ٹاپ اسکرین کے بائیں اور اُوپری کنارے پر ”پَوپ اَپ“ سرخ دائرے میں ”نیو اِی میل رِیسیوڈ؛ وِیٹنگ فار رِیپلائی“ کا میسج چیخ رہاتھا؛
سکی بورڈ پرسوچتی انگلیوں نے ٹچ پیڈ کی رائٹ کلیک آپشن پر اِی میل کو ”تھریش“ میں ڈال کر ”رِی فریش“ کابٹن دبا دیا۔
٭……٭……٭

شیئر کریں

کمنٹ کریں