شمامہ افق کی شخصیت

شمامہ افق
شمامہ افق

شمامہ افق کی شخصیت اور شعری مجموعے (سحرش) پر تاثرات اور ایک نظم

نوید ملک

, شمامہ افق کی شخصیت

تقریبا ایک عشرہ قبل ایک ایسی شاعرہ ادبی محافل میں طلوع ہوئی جسے اپنے قلم پر پورا اعتماد تھا۔یہ شاعرہ ادبی تنظیم سخنور کا کچھ عرصہ حصہ بھی رہی۔اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ تنظیم تو صرف ایک پڑاؤ ہے ۔تخلیق کار کو شعری میدان میں طویل سفر کرنا پڑتا ہے اور وہ سفر کسبِ علم و ہنر کا ہے۔پہلے رابعہ رفیق رابی اور پھر شمامہ افق کے نام نے اپنے کلام کی روشنیاں بکھیریں۔


رابعہ رفیق رابی اور شمامہ افق دو الگ کردار ہیں۔
رابعہ رفیق کا تعلق ایسے گاؤں سے تھا جو جدید علوم اور سہولیات سے محروم تھا اور یہی وجہ تھی کہ اوریجنل تخلیق کارہ کی آنکھوں میں اپنے ادھورے گاؤں کی تصویر مکمل کرنے کے خواب سجے ہوئے تھے۔وہ سوچنے کے انداز بدلنے ی خواہشمند تھی۔ وہ اپنے جذبات سے روایتی عینکوں کو توڑ نا چاہتی تھی اس لیے ربِ کائنات نے اسے الفاظ سے مالا مال کر دیا۔اسکول ہونا چاہیے، راستے پکے ہونے چاہییں، عورت کے مقام و مرتبے کی قدر ہونی چاہیے وغیرہ وغیرہ جیسی باتیں اس کے ہونٹوں پر جھلملاتی تھیں۔


ادھورے گاؤں کی یہ لڑکی (پوری لڑکی) تھی۔عادات و اطوار میں تہذیب یافتہ، سوچنے سمجھنے میں غیر معمولی ذہانت اور لکھنے پڑھنے کے لیے جذبہ و جنوں رکھتی تھی۔اپنی تہذیب و روایات کی پاسدار اس شاعرہ میں تمام زنانہ خصائص موجود تھے اور کسی طرح سے بھی اسے نامکمل نسوانی وجود قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اس شاعرہ نے اپنے قلم کے بل بوتے پر شعری جواہر تراشے۔ ۔وکالت سے بھی منسلک تھیں اس لیے سماجی، سیاسی اور تہذیبی عناصر جب ابتدائی شاعری پر ابھرے تو بے باک اسلوب نے جنم لیا اور وہی اسلوب سنورتے سنورتے شمامہ افق تک اس طرح پہنچا کہ ادھورے گاؤں کی پوری لڑکی کی بصیرت نے پوری دنیا کو اپنے اندر سمیٹ لیا۔


اس شاعرہ میں شدت سے ایک چیز کی کمی ہے اور وہ ہے Compromise ۔سمجھوتے کا کوئی ایسا پودا اس شاعرہ کے وجود میں اگا ہی نہیں جس کی شاخوں پر کوے بیٹھ کر عہد نو کی فضاؤں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کر سکیں۔کئی آنکھوں اور کئی صداؤں نے اسے اپنے محاصرے میں رکھا مگر جذبات اور احساسات کے راستے میں کوئی دیوار حائل نہ ہو سکی اور سحرش کا وجود چاروں اطراف میں بکھر گیا۔سحرش کا طلسم ان کی شعری فضا میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔اس شاعرہ نے اگر خواہش کی تو ایک نا ختم ہونے والے اضطراب کی ، جو اس کی رگوں میں دوڑ دوڑ کی حقیقت آشکار کر سکے۔اگر کوئی کہے کہ کوئی ایسا شعر بتائیں جو شمامہ افق کی شخصیت کا عکاس ہو تو بلا جھجھک مرزا غالب کا شعر کہیں سے بھی کاپی کر کے پیسٹ کیا جا سکتا ہے جو کچھ یوں ہے:-


ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر
شمامہ افق نے خیالات کے ارد گرد ایسے حرفوں کے ایسے تھانولے ہر گز نہیں بنائے جن سے پانی بہہ نکلے اور شعر کا پودا مرجھا جائے۔مصرع سازی پر دسترس کے ساتھ ساتھ کیفیات کو اس طرح متشکل کرنا کہ ان کی صورتیں پوری کی پوری آنکھوں سے ہوتے ہوئے سینے میں اتر جائیں، ان کو کئی شعراء اور شاعرات سے منفرد کر دیتا ہے۔یہ آسانی سے بڑے پیغام کا ابلاغ کرتی ہیں جس سے کئی ایسے شعراء بھی محروم ہیں جنھوں نے علامتوں کے جنگل میں جذبات کو درندوں کے سپرد کر دیا۔ نئے اذہان کو جدید رجحانات کی طرف مائل کرنے کے لیےکس دلکشی سے ایک شکوہ کرتی ہیں اس شعر میں دیکھیے:-


زمیں سورج کا چکر کاٹ آئی
ہماری تار پر کپڑے پڑے ہیں
۔
یہ شاعرہ حق الیقین تک کے مدارج طے کرنا چاہتی ہے۔جس کائنات میں اس نے آنکھ کھولی ہے اس کی آسائشوں سے لطف اندوز ہونے یا سماجی ووتہذیبی نا ہمواریوں پر آنسو بہانا نہیں چاہتی بلکہ (کن) کے راز سے پردہ ہٹانے کی جستجو میں ہے ۔تخلیق کار کی ایسی فکری بلند پروازی اُسے تمام آنکھوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے اور اُسے تنہا سارے موسموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
یا تو باہر آ کے مجھ سے بات کر
یا مجھے اندر بلا تصویر میں
اس شعری مجموعے میں خوبصورت نظمیں بھی موجود ہیں جو نظمیہ مجموعے کا تقاضا کر ہی ہیں۔کتاب کی اشاعت پر شاعرہ کو دلی مبارک ۔اشعار کی طویل فہرست مرتب کرنے کے بجائے چند اشعاردوستوں کے لیے
۔
ادھر سے ایک صدا “العطش” کی آتی تھی
تڑپ کے اٹھتا تھا خیمے سے با خبر کوئی
۔
خوبیوں خامیوں اچھی بری عادات سمیت
بول! منظور ہوں میں سارے تضادات سمیت
پیڑ کا سایا نہیں، پھل بھی ضرورت ہے مری
دل بھی درکار ہے تیرا مجھے دن رات سمیت
۔
ہر کہانی میں نہیں موت کا مطلب مرنا
موت کردار کا آغاز بھی ہو سکتی ہے
۔
ایسا لگتا ہے ہم ملے ہیں کہیں
اس زمیں آسماں سے پہلے بھی
۔
سر بسر مہر و محبت سے بھرا رہتا ہے
پیڑ کب اپنے پرندوں سے خٖفا رہتا ہے
آدھا جملہ تو میں ہر روز اُسے بھیجتی ہوں
باقی آدھا مرے میسج میں لکھا رہتا ہے
۔
مانا بہت خراب ہے میرا نصیب بھی
لیکن میں اپنے حق میں زیادہ خراب ہوں
.
اپنے دریا سے کہو اور اچھالے موجیں
میرے پہلو میں ابھی ایک گھڑا رہتا ہے
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور آخر میں نظم—-شاعرہ کے لیے



نظم (ادھورے گاؤں کی پوری لڑکی)
۔
ادھورے گاؤں کی پوری لڑکی
ترے قلم نے نگاہیں اپنی بہت سے لہجوں میں بانٹ دی ہیں
اداس قریوں کی شاہزادی
شکاریوں نے کئی درختوں کے ایڈرس جب سے لکھ لیے ہیں
ترا قبیلہ پرندگاں کی مُحافَظت پر ڈٹا ہوا ہے
تو وہ کلی ہے کہ جس نے پریوں کے دیو آقا کی وحشتوں کو
خیال خوشبو سے روند ڈالا
قدیم گلیوں کی مہکی مٹی، نئے زمانوں میں گھر بنانے کہاں سے لائی
تواُن ہواؤں میں روشنی کی سفیر بھی ہے
جہاں چراغوں کو قتل کرنے کے سلسلوں پر
اندھیرا شفقت انڈیلتا ہے
سراب موسم کے تپتے لمحوں کو اپنی پلکوں پہ باندھنے سے
کہاں بدلتی ہیں کائناتیں
کہاں جھلستی ہیں ابتلائیں
مگر تو اپنے سفر کی شاخوں پہ حوصلے سے نمو پرو نا بھی جانتی ہے
بد ن قفس کی صدا الجھتی ہے اِس فضا میں
یہ دھوپ پھولوں کو نوچتی ہے
یہ شور خوشبو کو کاٹتا ہے
جو لوگ منکر ہیں روشنی کے
انھیں خبر کیا!
دمکتے چہروں کی کھلکھلاہٹ سے ہر مقدس نگاہ شاداب ہو رہی ہے
ادھورے گاؤں کی پوری لڑکی
یہ سارے رستے تری بصارت کے منتظر ہیں
زمین زادوں کے قبر سینوں کی دھڑکنوں پر حروف چھِڑکو
کہ منجمد ہیں بہت سےجذبے

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں