شمس الرحمن فاروقی ایک عہد کا مرقع

مضمون نگار : علی اکبر ناطق

, شمس الرحمن فاروقی ایک عہد کا مرقع

قسط 1

ہم چھوٹے تھے، تیرہ چودہ برس کے ۔ گاوں میں رہتے تھے ،پنجاب کے شہر اوکاڑا کے پاس ۔ زمانے کا پھیر کہیے یا ہماری قسمت، جہاں گھر تھا ، اُس کے سامنے یونین کونسل کا آفس تھا ۔ مصطفیٰ زیدی صاحب ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر تھے ، تب یہ دفتر بنا اور اُنھی کی ایما پر بنا ۔ اوکاڑا اُن دنوں ساہیوال کی تحصیل تھی اور یہ گاﺅں ماڈل ولیج تھا ۔ یہاں کا ہائی سکول جب مڈل ہوا تو اِس کی بنیاد انسپکٹر سکولز مولوی کریم الدین کے ہاتھوں رکھی گئی ۔

شنید ہے اُن کے ساتھ مولوی محمد حسین آزاد بھی آئے تھے ۔ شاید اِس ولیج کو ماڈل بنانے کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو ۔ و اللہ اعلم ۔ یونین کونسل میں ایک لائبریری بنا دی گئی ۔ کسی دیہات میں اول یونین کونسل کا بننا ، وہ بھی گھر کے سامنے ،پھر اُس میں لائبریری قائم ہونا اور وہیں قریب ہمارا پیدا ہو جا نا ،یہ سب باتیں کم سے کم حادثے سے کم نہیں ۔ دفتر میں سیکرٹری کم آتا تھا بلکہ نہیں آتا تھا البتہ چوکیدارصاحب بلا ناغہ تشریف لاتے اور جمعہ کے روز بھی ناغہ نہ فرماتے (اُن دنوں جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی) اِس کی بڑی وجہ فرض شناسی کی بجائے وہ چائے تھی، جو ہم عین ۳ بجے گھر سے بنا کر لاتے ، اُسے پلاتے اور عوض میں کتابوں کی پوٹلی پاتے ۔ یہاں وہ ساری کتابیں پڑھ لیں جنھیں شاید یونیورسٹی اور کالج میں ممنوعہ قرار دے کر داخلِ دفترکر دیا جاتا ہے تاکہ اساتذہ اور طلبا کی ادبی تربیت خدا نخواستہ قومی ترانے سے آگے نہ بڑھ جائے ۔ کن کن کتابوں کا ذکر کروں کہ یہاں اُن کا مذکور میرے مضمون کی ضرورت سے باہر ہے ۔ بس یہ بتانا اِس تمہید سے مقصود ہے کہ یہیں سے فاروقی صاحب کی اور ہماری جان پہچان ہوئی، جب ایک کتاب تفہیم ِ غالب اور دو جلدیں شعر شور انگیز کی پڑھنے کو ملیں ۔ یہ کتاب اور اِسی طرزکی دیگر کتابیں ہندوستان کے شہر دہلی سے یہاں کیسے پہنچیں ، یہ مصطفیٰ زیدی صاحب جانیں یا اُن کی انتظامیہ مگر ہوا یہ کہ اِنھی کے ذریعے ہمیں پہلے غالب اور میر سے محبت ہوئی ، پھر خود فاروقی صاحب سے ہو گئی کہ نصیب میں بقائے دوام لکھی تھی ۔ وقت گزرتا چلا گیا ۔ ہم نے جو رشتہ میر و غالب سے عقیدت کا شعر شور انگیز او ر تفہیم ِ غالب سے آغاز کیا تھا ،وہ مولوی محمد حسین آزاد کی آبِ حیات سے ایسا وسیع ہوا کہ پھیلتا ہوا اردو کے تمام کلاسیک شاعروں تک نکل گیا اور مولانا سے محبت کا عریضہ بھی اُنھی عرصوں میں ہاتھ لگا ۔ ہمارا وطیرہ تھا ،سکول سے آتے ،بستہ پھینکتے اور مویشیوںکا کھاجالینے نکل جاتے ۔قریب دو گھنٹے میں بھینسوں کو چارہ ڈال کر جلدی سے کلاسیکل ادب کی کتاب پکڑ لیتے ۔ پھر تو رات دو بجے ہاتھ سے چھُٹتی اور صبح سکول جانے کے لیے سلیبس کا بستہ ڈھونڈنا پڑتا۔ سکول کا کام ہم نے کبھی کر کے نہ دیا اور روزانہ مار کھائی ۔اُنھیں دنوں کا ایک مزیدار واقعہ سُن لو ۔یہ ا۹۹۱ کا زمانہ تھا ، ہم ابھی میٹرک میں تھے اور چھُٹی کا دن تھا ۔ معمول کے مطابق گھر کے سامنے سے گزرتی سڑک کے کنارے چار پائی بچھائے لیٹے تھے ۔ نیچے ٹھنڈے پانی کا نالہ بہتا تھا اور اُوپر شیشم کے درختوں کے سائے تھے۔ فاروقی صاحب کی ایک کتاب تفہیم غالب پڑھ رہے تھے ،جو دہلی سے غالب انسٹیٹیوٹ نے چھاپی تھی ۔ ہم غالب کے اشعار کے معنی و مفہوم میں کھوئے ہوئے تھے اورطبیعت پر سحر طاری تھا۔ اچانک سڑک سے گزرنے والی ایک موٹر سائیکل گرِ گئی ۔ موٹر سائیکل پر مرد کے پیچھے غرارہ پہنے عورت سوار تھی اور غرارہ کیا تھا بقول میر ،،

آنچل اُس دامن کا ہاتھ آتا نہیں
میر دریا کا سا اُس کا پھیر ہے

مگر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ دریا کا سا پھیر موٹر سائیکل کے پہیے کی تاروں میں آ گیا ،جس کا اُنھیں پتا نہ چلا اور پہیہ گھومنے کے ساتھ غرارہ تاروں میں پھنستا چلا گیا اور ایسا پیچ در پیچ پھنسا جیسے غالب کے اشعار اپنی رعایتوں میں پھنسے تھےاور اُنھیں فاروقی صاحب کھولنے کی کوشش لگے تھے ۔ خیر عین ہمارے گھر کے سامنے آکر وہ دونوں میاں بیوی گِر گئے ۔ خاتون موٹر سائیکل کے نیچے آگئی اور غرارہ تاروں کے بیچ ۔ اب بیچارا وہ آدمی جیسے ہی موٹر سائیکل اُٹھانے لگتا ، بی بی درد کی کراہ سے چیخ مارتی ۔چنانچہ وہ موٹر سائیکل پکڑ کر کھڑا ہو گیا اور چار پانچ منٹ تک کھڑا دیکھتا رہا کہ شاید کوئی مدد کو آئے۔ سڑک بالکل ویران تھی۔ یہاں مَیں تفہیم ِ غالب میں مگن اور ایسا مگن کہ پاس کے حادثے کی خبر تک نہ ہوئی ۔ فاروقی صا حب ؓ کی شرحوں میں غروب رہا ۔ اِتنے میں والد صاحب باہر نکل آئے ۔ اُنھوں نے جب دیکھا کہ عورت بیچاری گری پڑی ہے اور مرد موٹر سائیکل پکڑ ے کھڑا ہے اور میرا برخوردار مزے سے لیٹا کتاب میں مصروف ہے ، تو وہ سیدھا میری طرف آئے ،کان پر ایک جما کر دی اور کتاب ہاتھ سے چھین لی ۔ اُس کے بعد دونوں خاتون کے غرارے کو موٹر سائیکل کی تاروں سے نکالنے لگے ، مگر وہ اِس طرح پھنس گیا تھا کہ ہزار کوشش کے باوجود غرارہءپُرپیچ و خم کے پیچ و خم نہ نکلے ۔آخر گھر سے قینچی منگوائی اور بڑی مشکل سے کاٹ کاٹ کے تاروں سے نکالا ، یعنی طُرہ کے پیچ وخم کھول کر اُسے دھجیوں میں تبدیل کیا اوریوں خاتون ِظالم کے خدو خال کا بھرم کھُلا اور وہ بچاری پہیے کی تاروں سے آزاد ہوئی ۔تب ایک چادر گھر سے لا کر اُسے دی اور دوبارہ موٹر سائکل پر سوار کرا یا۔ اُس کے بعد فاروقی صاحب کی تفہیمِ غالب کتاب والد صاحب نے پکڑی لی اور دو مہینے اُسی میں گرفتار رہے اور گھر بار یعنی اماں جان سے بھی بے خبر ۔ تب سے سلسلہ یہ ہوا ،جو کتابیں ہم نے پڑھیں تھیں، وہ ساری والد صاحب نے پڑھ لیں اور پھر پڑھتے چلے گئے، خدا زندگی دے ،یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔معاشی افلاس تو خیر جیسا تھا ویسا رہا ،کم از کم علمی افلاس تو گھر سے نکلا ۔

یہ تو ہمارا فاروقی صاحب سے پہلا تعارف تھا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ افتخار عارف صاحب نے ہمیں اکادمی ادبیات میں بلایا اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کتاب گھر کا انچارج بنا یا ۔ اِس کے بعد تو آن کی آن میں سب کتابیں ہماری دسترس میں تھیں ۔ چونکہ پاکستان بھر کے پبلشروں سے چنیدہ ادب ہمارے پاس پہنچ چکا تھا اور ہم نے وہاں بیٹھ کر اُنھیں سوائے پڑھنے کے کوئی کام نہ کیا ۔چنانچہ یہاں آنے کے بعدسب سے پہلے فاروقی صاحب کا ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں پڑھا ، بعد ازاںکچھ ہی مہینوں میںاُن کی سب کتابیں چاٹ گئے ۔ کیا فکشن ، کیا شاعری اور کیا تنقید ، کوئی چیز نہ رہی کہ ہم سے چھُٹی ہو ۔ یہ تو قصہ تھا ہمارافاروقی صاحب سے محبت کا ،جس کی ظاہر ہے فاروقی صاحب کو کیا خبر تھی کہ پنجاب کا ایک لونڈا اُن کا اسیرِ بے دام ہے اور اُن کے تحریروں کے سحر میں شاد باد ہے۔ اب ایک دلچسپ واقعہ اور سنیے ۔ ہم جب اکادمی میں تھے تو وہاں کا ایڈمن آفیسر جی دار آدمی تھا ۔پنجابی میں افسانے لکھتا اور یہ پنجابی اُس کی اپنی ہی تھی ۔ جسے شمال و جنوب میں اُن کی اپنی ہی لغت سہار سکتی تھی ۔ اُس کے پاس اسلام آباد کے اکثر ادیب اور شاعر حضرات جمع ہوتے ، خوش گپیاں کرتے اور ہمیں مذاق میں رکھتے ۔ تب تک ہم نے کسی کو کچھ نہیں سنایا تھا ۔ نہ شعر ، نہ نثر ،مگر دیکھنے سُننے والوں کو شاعر ضرور لگتے تھے یعنی طبیعت کچھ بے نیاز سی تھی ۔چنانچہ سب پوچھتے، میاں آپ کا مستقبل کیا ہے؟ اِدھر ہم نے کبھی اِس بارے میں غور نہیں کیا تھا ۔ وہاں ایک صاحب بہت اچھے شاعر تھے ،وہ بھی روزانہ تشریف لاتے اور اُن کا اسلام آباد میں بہت غلغلہ تھا ۔اپنے علاوہ نہ تو کسی کو شاعر مانتے ، نہ نقاد اور ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دیتے ۔ایک دن سب ہی ہمیں یہی کچھ مذاق کر رہے تھے ۔ اِنھی تمسخرانہ جملوں کے تسلسل میں اُسی ایڈمن آفسر نے کہا ، میاں ناطق جب آپ شاعری کریں گے تو آپ کے خیال میں فلاں صاحب آپ کی تحسین میں تنقیدی مضمون لکھیں گے ۔ ہمیں اِس بات پر ایک دفعہ جوش ہی تو آگیا اور اِسی جوش میں کہہ گزرے ،بھئی یہ کون صاحب ہوتے ہیں ہماری شعری جمالیات کو سمجھنے والے ؟ دیکھیے میاں جس وقت ہم نے کہنا شروع کیا تو اُس پر فاروقی صاحب لکھیں گے، اُن کے علاوہ ابھی تو کوئی پیدا نہیں ہوا جو یہ بار اُٹھائے ۔ ہماری اِس بات پر ایک زور کا قہقہ ایسا اُٹھا کہ ایڈمن آفس کا تمام عملہ دوڑا آیا،مبادہ کمرے میں زلزلہ آگیا ۔ تب ایک دوسرے شخص نے آوازہ کسا ، میاں اِسے علاج کے لیے دماغی دوا خانہ لے جاو ، کہیں بیماری لا علاج نہ ہو جائے ۔ لیجیے صاحب اُس دن کے بعد ہم نے وہاں بیٹھنا بند کیا اور اپنے کام میں لگ گئے ۔ اپنی تمام سابقہ تحریریں نکالیں اُنھیں پرکھا ،دیکھا ، اور اکثرپھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینکیں اور نئے سِرے سے اپنی ذات کے اندرون میں جھانکا مارا اور کچھ جگر کے لہو سے جوہر کشید کیے ۔ پھر ایک دن کچھ نظمیں آصف فرخی کو بھیجیں اور لکھا کہ اِن میں کچھ پسند آئے تو دنیا زاد میں چھاپ دیجیے ۔ چار دن بعد اُن کا فون آیا ،کہنے لگے بھئی آپ شاعری تو کمال ہی کرتے ہیں۔اپنا مکمل تعارف اور مزید نظمیں دو۔ ہمارا نام کے علاوہ کچھ تعارف ہوتا تو بتاتے ، بولے بس جناب یہی تعارف ہے کہ فلاں شہر میں پیدا ہوئے ، فلاں جگہ نوکری کرتے ہیں اور نظمیں مزید نہیں ہیں ،جو تھیں بھیج دیں ۔ لو صاحبو ! آنے والے شمارے میں ہماری سب نظمیں ایک گوشے کی صورت میں لگا دی گئیں اور وہ رسالہ پہنچ گیا فاروقی صاحب کے پاس انڈیا میں اُن کے گھر اِلہ آباد ۔وہاں سے اُن کا خط مدیر کے نام آیا کہ بھئی یہ علی اکبر ناطق نام کا جو شاعر آپ نے چھاپا ہے ، یہ تو بہت بڑے انوکھے طور کا شاعر دریافت کر لیا آپ نے ۔ ہمیں تو اِس پر رشک آتا ہے ۔ لیجیے اِس خط کا دنیا زاد کے اگلے شمارے میں چھپنا تھا کہ ہُمائے شہرت ہمارے سر پر لہرانے لگا ۔ اُس کے بعد اجمل کمال کے رسالے آج میں چھپنے والے ہمارے افسانے فاروقی صاحب کے ہاتھ لگ گئے ۔ وہاں بھی اُنھوں نے وہی باتیں کیں اور اِس کے ساتھ ہی اشعر نجمی صاحب کو ہدایت کی کہ علی اکبر ناطق سے رابطہ کر کے اُسے اثبات میں چھاپو ۔ پھر اشعر نجمی صاحب کے توسط سے اثبات میں چھپ کر ہم ہندستان بھر میں چلنے پھرنے لگے ۔ اب آپ ہی بتایے ، کجا ایک ایسا لڑکا جو پنجاب کے دور دراز کے گاوں میں پانی کے نالے پر چارپائی بچھائے اور اُس پر لیٹے فاروقی صاحب کی شعر شور انگیز اور تفہیم غالب پڑھتا تھا اور کبھی وہ کتابیں آنکھوں سے الگ نہیں کرتا تھااور پڑھ کر اُن کا صحابی ئِ خاص ہوگیا تھا ۔اُس لڑکے کے کہیں تصور تک میں نہیں تھا اپنے اِس ہیرو کا سامنا کرنے کا ۔ ہیرو بھی ایسا جو ادب کی دنیا میں ایک نابغے کی حیثیت رکھتا ہو ، جس سے بڑے بڑے طرم خانِ ادب اپنے لیے ایک جملہ کہوانے کو ترستے ہوں ، کجا آج وہی دیوتا ہماری شاعری اور افسانے کی تعریفیں کرے، اور فون پر اُن سے باتیں ہوں ۔ آپ ہی بتایے ہمارے پاﺅں کہیں زمین پر لگنے والے تھے ؟ اِدھر تو معاملہ یہ تھا کہ ہم فاروقی صاحب کی بندہ پروری سے پاکستان میں اور ہندوستان بھر میں آن کی آن مشہور ہوگئے اور ادب کی زلیخائیں گریبان پھاڑ کر رہ گئیں اور حاسدانِ مصر نے چھُریاں نکال لیں۔ یہ الگ بات کہ وہ چھُریاں اپنے ہاتھوں کی بجائے ہمارے گلے پر چلانے کی کوشش کی اور ہم پر پھبتیاں کسنے والوں کی آنکھیں حیرت سے اور دل حسد سے پھٹ گئے ۔ کیوں نہ پھٹتے ،وہ تو اُسی ایڈمن آفس میں سُکٹر کے رہ گئے اور ہم فاروقی صاحب کے دامنِ دولت سے بندھے برصغیر کے طول و عرض میں پھیل گئے ۔

قسط 2

, شمس الرحمن فاروقی ایک عہد کا مرقع

اِسی عرصے میں ہم نے فاروقی صاحب کی کہانیاں اور ناول پڑھا ۔ کہانیوں کے بارے میں عرض کر دوں کہ ’’’سوار اور دوسری کہانیاں ‘‘‘ جنھیں آج پبلشر نے کراچی سے چھاپا تھا ، ہمیں ایسے دہلی میں کھینچ لے گئیں کہ آج تک وہیں پھرتے ہیں وآپس نہیں لوٹے ۔ جنھوں نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کا دہلی دیکھنا ہے اُنھیں پڑھ لے ، پھر اُسی دنیا کا نہ ہو جائے تو ہمارا ایمان جھوٹا ہم جھوٹے ۔ اِسی طرح ناول اُن کا ، فقط ایک ناول نہیں جہان آباد ہے کہ اُس میں زمانوں کی آبادیاں بسی ہوئی ہیں ۔

اکادمی ادبیات میں میرے ایک باس تھے کہ وہ خود افسانہ اور ناول لکھے بیٹھے تھے اور اکادمی کا رسالہ ایڈٹ کرتے تھے مگر لوگوں کی تخلیقات پڑھنا اُنھوں نے میرے ذمے لگایا ہوا تھا اور خود کبھی نہ پڑھتے تھے ،ایک دن مجھے کہنے لگے دیکھو میاں یہ فاروقی کے ناول کا بڑا چرچا پھیلا ہے ، تم نے پڑھا ہے ؟ مَیں نے کہا جی مَیں نے پڑھا ہے۔ آف فرخی نے شہزاد سے چھاپ رکھا ہے اور ہم نے اکادمی کی بک شاپ میں بھی منگوا رکھا ہے ، آپ کو لا کر دوں ؟ کہنے لگے مجھے نہ دیجیے اتنی موٹی ناول مَیں نے پڑھ پاوں گا ۔ یہ بتایے اُس میں کیا ہے اور لوگ اُسے خریدتے بھی ہیں یا نہیں ؟

مَیں نے کہا حضت ،اُس میں ایک تو دہلی کی تہذیب اور ثقافت کا مرقع گُندھا ہے اور دوئم یہ بتایا ہے کہ انگریز بہادر نے یہ مرقع اُلٹ دیا یعنی اچھا نہیں کیا ۔ اس واسطے وہ اُن کے خلاف ہیں ۔ رہی بکنے کی بات تو ابھی تک میں اُن کے ناول کی اِسی بک شاپ سے دو سو کاپیاں ٓنکال چکا ہوں ۔ اور ظاہر ہے یہ سب قارئین اسلام آباد کے ہیں ، باقی شہروں کی کی بابت معلوم نہیں ۔

وہیں ایک صاحب اور بھی بیٹھے تھے اور سیاہ آئنے لکھتے تھے ، وہ کہنے لگے کیا ثقافت دکھانا ناول کا کام ہے ؟

مَیں نے اُس صاحب کو جواب دیا ، تو کیا ناول کا کام صرف لوگوں پر مُوت کی پچکاریاں مارنا رہ گیا ہے ( اُس صاحب کے کم و بیش ہر افسانے میں مُوت کا بہت ذکر ہوتا ہے ) ؟ میرے اس جواب پر وہ صاحب بہت سیخ پا ہوئے ۔ اور کہنے لگے ، پہلے فکشن پڑھنا سیکھو ۔ اب مَیں نے ایک پھر ترنت جواب دیا ، تو کیا بھائی صاحب مَیں اتنے عرصے سے صرف مُوت کرنا سیکھ رہا ہوں ؟ اور وہ بھائ صاحب آج تک ناراض ہیں اور وہی کچھ کر رہے ہیں ۔ جو اپنے افسانوں میں کرتے ہیں ۔

ہم نے عرض کیا تھا کہ ہم اکادمی میں افتخار عارف کے لطف سے ٹھہرے تھے لیکن اُنھوں نے جیسا کہ عام دنیا کا اُصول ہے کہ ڈھنگ کے آدمی کو ہمیشہ اُس جگہ چھوڑا جاتا ہے جہاں اُسے ہرصورت کربلا پیش آئے۔ افتخار عارف ہمیں ریگولر کیے بغیرایک دوسرے دفتر میں منتقل ہو گئے حالانکہ اُس سے پہلے اُنھوں نے تمام بقیہ ملازمین کو ریگولر کر دیا تھا ۔ تب ایک اور صاحب ایسے آئے کہ ادب کے نام پر اُنھوں نے الف لکھا تھا ۔ اُسں نے آتے ہی پہلا کام ہمیں وہاں سے نکالنے کا کیا لیکن خدا نے جو عزت ہماری شروع کی تھی ،وہ پھیلتی چلی گئی ۔ایک ایجوکیشن کے سیکرٹری ہمارے دوست بن چکے تھے ، اُٹھا کر ہمیں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکشن میں لے گئے ۔ اِس کے ساتھ ہی ہم نے ایک ایسا کام کیا کہ اسلام آباد میں غالب کتاب گھر کے نام سے ایک نجی بک شاپ کھول دی، جس کا افتتاح بھی افتخار عارف صاحب نے کیا ۔ اِس میں چُن چن کر اردو ادب کی نایاب کتابیں جمع کر لیں اور صرف پاکستان ہی نہیں، ہندوستان سے بھی بہت سی کتابیں منگوائیں ۔۔ اِن سبب سے خدا جھوٹ نہ بلوائے اور کئی دوست گواہ ہیں، ہماری اِس بک شاپ سے فاروقی صاحب کی کتابوں کے کئی کئی سو سیٹ قارئین تک پہنچے ۔لاہور میں ایک شخص ہیں شیخ مبارک ، صفاں والا چوک میں اُن کی پُرانی سی ایک دوکان تھی اور ہندوستان سے کتابوں کی تجارت کرتے تھے ، ہم نے اُن سے رابطہ کیا اور کتابیں منگوانا شروع کیں ۔ پھر اتنی کتابیں خریدیں اور بے منافع آگے بیچیں کہ کچھ نہ پوچھیے ۔ ایک دن شیخ صاحب کہنے لگے میاں ناطق ،آپ کتابیں بیچتے ہیں یا کھاتے ہیں ، اتنی تو ہم نے عمر بھر نہ بیچی تھیں اور یہ فاروقی صاحب کی کتابوں کو تو گویا پر لگ گئے ہیں۔ کیا وجہ ہے ۔ ہم نے کہا میاں وجہ یہ ہے کہ اسلام آباد میں فاروقی صاحب کو پڑھنے والوں کی بارش ہو گئی ہے ۔ اِس کا ایک سبب تو خود ہم ہی تھے کہ جو آتا ہے ہم اُسے فاروقی صاحب کی تحریر کا چٹخارالگا دیتے، دوسری وہاں کی اوپن یونیورسٹی ہے، جہاں کے ڈاکٹر عبد العزیز ساحر اور ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد ہیں جو خود فاروقی صاحب کی تحریروں کے عاشقان ِ جانثار ہیں۔ تیسری اور آخری اور حتمی وجہ فاروقی صاحب کا جمالیاتی تنقیدی شعور ہے جس پر برصغیر کا عام نقاد تو ایک طرف خود حسن عسکری بھی نہیں پہنچ پایا اور یہ بات ہم دعوے سے کہے دیتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ ہماری وہ بک شاپ یعنی مرزا غالب کتاب گھر ایسا ادبی مرکز بن گئی ،کہ اُس کی ایک الگ داستان ہے جس کا ذکر ہم الگ سے کریں گے۔ اِن کتابوں میں فاروقی صاحب کی تمام کتابوں کے تمام سیٹ موجود تھے ۔ اُنھی میں سوار اور دوسری کہانیاں (افسانے ) اور کئی چاند تھے سرِ آسماں (ناول ) اور شعرِ شور انگیز (شرح میر صاحب ) بھی شامل تھیں ۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بک شاپ اپنی طرز کا انوکھا کتاب گھر مشہور ہو گیا اور نام اِس کا ہوا مرزا غالب کتاب گھر ۔ یہ کتاب گھر آئی ایٹ مرکز اسلام آباد میں تھا۔ اب ہوا یہ کہ کچھ ہی عرصہ بعد یہاں کراچی سے لے کر لاہور اور وہاں سے ہندوستان کے ادیب شاعر اور ادب دوست افراد آنے لگے ۔ اُس میں ایک تو میری شاعری اور افسانوں کے سبب جان پہچان ہو گئی تھی اور دوسرے چونکہ مَیں نے آج اور دنیا زاد جیسے ادبی رسائل کو اسلام آباد کے ادبی حلقوں میں پھیلا دیا تھا ۔ اُس سبب سے بھی کم و بیش پورا شہر اور مضافات کے شہر بھی واقف ہو گئے تھے ۔ اُنھی دنوں اثبات رسالہ ممبئی سے شائع ہو رہا تھا ، جسے اشعر نجمی صاحب نکال رہے تھے اور فاروقی صاحب اُس کی سرپرستی فرما رہے تھے ، وہ بھی پاکستان آنے لگا اور مَیں یہاں اُس کا نمائندہ مقرر ہو گیا ۔ اس رسالے میں پاکستان کے ادیبوں اور شاعروں کی جزیات چھپنے لگیں ۔ اور فاروقی صاحب کے تبصرے بھی مسلسل پڑھے جانے لگے ۔ حالت یہ ہو گئی کہ جس شخص پر فاروقی صاحب کا کچھ لکھا ہوا شذرہ ملتا یا کسی کے خط کا جواب وہ دیتے وہی آدمی بحث میں آجاتا ۔ میرے ساتھ چونکہ فاروقی صاحب اب فون پر بھی گفتگو فرمانے لگے تھے چنانچہ میرے بانس کا جھنڈا سب سے بلند ہو گیا ۔ کراچی سے لے کر حیدر آباد دکن، دہلی ، لاہور اور لکھنئو تک پھریرا لہرانے لگا ۔ لوگوں میں یہ چرچے زبان پکڑنے لگے کہ میاں دیکھو اِس لونڈے سے فاروقی صاحب خود بات کرتے ہیں ۔ بلکہ اِس معاملے میں ایک دن ایک لطیفہ بھی رونما ہوا ۔

ایک صاحب اسلام آباد میں بڑے افسانہ نگار بزعم خود تھے اور میرے دشمن ایسے تھے کہ جگہ جگہ نام لے کر انگارے پھینکتے تھے حالانکہ مجھ سے کوئی بیس برس بڑے تھے اور ایک دوسرے بڑے افسانہ نگار کی دُم سے بندھے ہوئے تھے ۔ وہ مشہور کر نے لگے تھے کہ اصل میں فاروقی صاحب نے ناطق پر نہ کچھ لکھا ہے اور نہ اِس کے شعر و افسانہ کو پسند کرتے ہیں ۔ یہ ڈھونگ اِس نے خود رچا رکھا ہے، اپنی طرف سے جعلی مضمون لکھ کر فاروقی صاحب کے نام منڈھ رہا ہے ۔ وہ حضرت ایک دن بک شاپ پر تشریف لائے اور ابھی بیٹھے ہی تھے کہ خدا کا کرنا ہوا عین اُسی وقت فاروقی صاحب کا فون آ گیا ۔ فون پر فرمانے لگے میاں ہم نے کچھ دن پہلے کتابوں کا بنڈل بھیجا ہے وہ پہنچا کہ نہیں ؟ جلد مطلع کیجیو اور ہو سکے تو خود کسٹم والوں سے پوچھ لو ۔ اور ہاں اس بار اثبات میں جو آپ کی نظمیں اور افسانے چھپے ہیں ،وہ بہت کمال ہیں ، مَیں اُنھیں ایک اور رسالے میں بھی چھپوا رہا ہوں جو لکھنئو سے نکلتا ہے ، پھر اور بھی بہت سی باتیں کیں ۔ مَیں نے شرارت یہ کی کہ فون کی آواز اوپن کر دی ، اب ایک اور بڑی شرارت سوجھی اور اُسی حضرت کی طرف دیکھ کر کہا فاروقی صاحب ہمارے ہاں جو فلاں صاحب افسانہ نگار ہیں ، کیا اُن کا افسانہ بھی چھپنے کو بھیج دوں ؟ میرا یہ کہنا تھا ،کہ فاروقی صاحب نے یہ بڑی سی گالی دی اور فرمایا ، میاں تم بس اپنی چیزیں بھیج دو ، وہ سالا قیامت تک افسانہ نہیں لکھ سکتا ۔

لیجیے صاحب پھر تو کچھ نہ پوچھیے فاروقی صاحب کا جواب سُن کر اُن حضرت کی کیا حالت ہوئی ۔ یوں غصے سے لال پیلے ہو کر اُٹھے کہ ابھی آسمان کو قینچینوں سے کاٹ کر کائنات کا نظام خراب کر دیں گے ۔ بھئی ایسا غصہ پہلے میں نے کبھی اُن میں نہ دیکھا تھا ، اُن کے بس میں ہوتا تو اللہ میاں کو بے لباس کر دیتے ۔ اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل بھاگے کہ فاروقی صاحب سٹھیا گئے ہیں ، بوڑھے ہو کر لونڈوں کو شرفا پر سوار کرنے لگے ہیں ۔ اور ہر ایک سے اُلجھنے لگے۔ تب سے آج تک اُس سالے کی مجھ سے نہیں نبھ سکی

الغرض سب مملکت میں یہ بات شہرت پا گئی کہ میاںٓ ناطق کو فاروقی صاحب بہت مانتے ہیں ، دیکھو اُن سے فون پر باتیں کرتے ہیں ، اُن کی جو نظم یا افسانہ چھپتا ہے ، اُس پر ایڈیٹر کو خط لکھ کر اِس کی تعریفیں بھرتے ہیں ۔ چنانچہ کسی نے کچھ فاروقی صاحب کے بارے میں پوچھنا ہوتا تو مجھی سے رجوع کرتا اور میں اکٹرا اکڑا رہتا ۔ یعنی میرا حساب غالب کے اُس شعر کی صورت ہو گیا ،

بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

قسط 3

, شمس الرحمن فاروقی ایک عہد کا مرقع

جیسا کہ ہم نے عرض کیا تھا افتخار عارف صاحب مقتدرہ کے دفتر چلے گئے اور اکادمی کے کار مداروں نے ہمیں لات مار کر نکال باہر کیا۔ اِس کسمپرسی کے دور میں ہوا یہ کہ کم و بیش اسلام آباد کی زمین پر تمام شاعر اور ادیب اور نقاد ہمارے دشمن ہو گئے اور حسد کی ایسی منزلوں پر جا پہنچے جہاں عزازئیل کا مقامِ بلند ہے ۔ سوائے سید منظر نقوی کے کوئی ہمارا یاور نہ رہ گیا ۔ وہ اُن دنوں حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری تھے اور ہمارے داد گر دلی تھے ۔ بلکہ اُن کی ہم سے مسلسل محبت اور دلجوئی دیکھ کر خود اُن کے پرانے دوست بھی اُن سے بگڑ گئے ۔ مگر اُنھوں نے ہمارا ساتھ نہ چھوڑا اور برابر حوصلہ دیتے رہے اور آج تک دے رہے ہیں ، خدا اُن کو سلامت رکھے ۔ مگروہ صرف ادبی طور پر حوصلہ دے سکتے تھے، معاشی معاملے میں ہؤبے بس تھے ۔معاشی طور پر بے روزگار ہونے کے سبب ہم اپنے دیس اوکاڑا جانے ہی والے تھے کہ عین اُسی وقت ہماری پُرسش کو اللہ نے فیڈرل سینئرایڈشنل سیکرٹری ایجوکیشن عتیق الرحمن کو نازل کیا ۔ وہ صاحب کتابوں کے رسیا اور ہمارے داد خواں تھے اور فیڈرل ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ اسلام آباد کے انچارج کا عہدہ اُنھی کے پاس تھا ۔ وہ ہمیں سستے میں وہیں لے گئے اور نوکری پکی کر دی ۔ یہاں ہم نے چھ ماہ خوبی میں گزارے دفتر کی جوتی منزل کی چھت پر دھوپ میں صف بچھا کر کتابیں پڑھنے لگے اور چائے پینے لگے ۔ مگر بعد میں ایک ایڈمن آفیسر ایسا بے دماغ آیا کہ اُس نے ہم سے فائلوں پر نوٹنگ کروانا اور دھاگے بندھوانا چاہے ،اِدھر ہم روز اِس دفتر میں ایک کتاب ختم کرنے کے چکروں میں تھے اور وحید احمد خاں صاحب و دیگران آفسران کے ساتھ چائے پینے کے علاوہ کچھ کرنا نہ چاہتے تھے ۔ یوں ایڈمن آفس سے حالات خراب چل نکلے اور ایک دن اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ساتھ اچھی خاصی توتکار ہو گئی ۔ وہ سالا رائے ونڈیا مولوی ہم سےبھی چلہ لگوانے کے چکروں میں تھا ۔ یہاں پھر ہمارے کام افتخار عارف آئے اور ہمیں ڈپوٹیشن پر مقتدرہ لے گئے ۔ اوراِس جگہ ایک بک شاپ قائم کر دی ۔ لیجیے جناب دوبارہ یہاں وہی کتابوں کا کام تام شروع ہو گیا ۔ تب ہم نے بھی اپنی شاعری کی کتاب چھاپنے کا ارادہ کیا اور نام اُس کا ’’بے یقین بستیوں میں ‘‘ رکھا اور فاروقی صاحب نے فرمایا میاں لڑکے آپ کی شاعری کی کتاب کا دیباچہ ہم لکھیں گے ۔ ہم نے مسودہ فاروقی صاحب کوارسال کر دیا ۔ تب ہی اُنھوں نے دیباچہ لکھا ۔ جسے پڑھ کر یہاں کے ادبی مہاتیروں پر اچھی خاصی اوس پڑ گئی ۔ لیجیے بھائی وہ دیباچہ آپ بھی پڑھ لیجیے ۔

’’ علی اکبر ناطق کو ادبی منظر نامے پر نمودار ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا ہے مگر اُنھوں نے تقریباً سب کی توجہ اپنی طرف منعطف کر لی ہے ۔ وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور شاعر بھی لیکن عجب بات یہ ہے کہ اُن کے افسانے پنجاب کی زمین اور تہذیب سے غیر معمولی دلچسپی اور اُن کے بیان میں غیر معمولی مہارت کا ثبوت دیتے ہیں ۔ اُن افسانوں کو پڑھکر افسانہ نگار کی نثر ، مکالمہ اور بیانیہ کے نامانوس گوشوں پر بھی اُن کی قدرت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ پڑھنے والا ہر صفحے پر خود انسان اور فطرت کے پیچیدہ رشتوں،انسان اور انسان کے درمیان محبت اور آویزش کے نکات سے بہرہ اندوز ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہے ۔ لیکن یہی علی اکبر ناطق جب نظم کہنے پہ آتے ہیں تو اُن کی شاعرانہ شخصیت کےمابعد الطبیعاتی پہلووں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک ہی شخص بیک وقت دو اتنے مختلف اسالیب اور شخصیتوں کا اظہار کس طرح کر سکتا ہے ؟

یہ بات ہم پڑھنے والوں کے لیے معمہ ہو تو ہو لیکن علی اکبر ناطق بظاہر اس تضاد اور اس تضاد کی پیدا کردہ پیچیدگیوں سے بے خبر یا بے نیاز معلوم ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر اُن کی نظم کے مابعد الطبیعاتی سروکار میرا جی کی یاد دلاتے ہیں (اور میرا خیال ہے کہ کوئی جدید شاعر ایسا نہیں ہے جس نے میرا جی کو اِس طرح جذب کر لیا ہو ) ۔ متاثر ہونا اور بات ہے لیکن مزاج کے اختلاط کا میل بالکل دوسری بات ہے اور نادر بات ہے ۔ علی اکبر ناطق کو میرا جی کا مقلد نہیں کہہ سکتے لیکن اِس وقت اُن کے علاوہ کوئی شاعر ایسا ہے بھی نہیں جس کے شعر کی گہرائیوں اور دنیا کو دیکھنے کے اور برتنے کے طور اور اظہار کے پیرائے ہمیں میرا جی کی یاد دلائیں ۔ ایک معمولی سی مثال یہ ہے کہ میرا جی کی طرح علی اکبر ناطق بھی آزاد ، پابند اور معرا نظم میں یکساں طور پر مہارت رکھتے ہیں ۔

علی اکبر ناطق کی نظم ’’بانسوں کا جنگل ‘‘ مجھے کبھی خوفزدہ کرتی ہے اور کبھی رنجیدہ کرتی ہے ۔ نظم کا پہلا مصرع ہے
مَیں بانسوں کے جنگل میں ہوں جن کے نیزے بنتے ہیں
نیزہ نرکل کے ٹکڑے کو بھی کہتے ہیں جسے چھیل کر قلم بناتے ہیں اور نیزہ کے دوسرے معنی ہم سب جانتے ہیں ۔ اس جنگل میں نرم ٹھڈی ہوائیں چلتی ہیں
لیکن صد افسوس یہاں ٓکے کالے ناگ قیامت ہیں

اب نیزہ بمعنی قلم زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور بانسوں کا یہ جنگل انسانی اظہار کی علامت لگتا ہے ۔ کالے ناگ اور کالے حرف جنھیں نیزے لکھتے ہیں ،ایک ہی شے بن جاتے ہیں ۔ کچھ لوگ سانپ کے اندر جا کر خود سانپ بن جاتے ہیں ۔
یہ الفاظ کی وہ قوت ہے جو انسان کو مغرور ، دروغ گو اور مفسد بناتی ہے

وائے کچھ معصوم یہاں سے بچ کر بھاگنے لگتے ہیں
لیکن جنگل بانسوں کا ہے جن جس نیزے بنتے ہیں

ایک لمحے کے اندر یہ جنگل الفاظ کا نہیں بلکہ انسانوں کا جنگل بن جاتا ہے جہاں آلاتِ حرب و ضرب بنتے ہیں ۔ جن سے کسی کو مفر نہیں ۔ جو لوگ بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں وہ معصوم بمعنی احمق ہیں کہ اِنھیں خبر ہی نہیں کہ یہاںٓ سے بھاگنا ناممکن ہے ۔
ہزیمت نامی نظم بھی انسان کی تقدیر میں پنہاں نارسائی اور بے قیمتی کا قصہ انسان کی زندگی میں رفتار اور ترقی کے فریب کے استعارے میں بیان ہوا ہے ۔
مسافر کی سواری تیز اور اُس کا چابک سخت ہے ،اُس کے خون کی گردش اُس سے بھی زیادہ تیز ہے لیکن ریگزاروں کی ہوائیں اچانک اُس کی سواری کو دفن کر دیتی ہیں ۔

اور صحرا کی ہوائیں راستی پر آ گئیں
ایک پل میں پھر وہاں پر خامشی سی چھا گئی

یہ خاموشی موت کی بھی ہے اور تقدیر کی بھی جو اگلے مسافر کے لیے گھات لگائے بیٹھی ہےعلی اکبر ناطق سے اردو ادب جتنی بھی اُمیدیں وابستہ کرے ،نامناسب نہ ہو گا ۔اُن کا سفر بہت لمبا لیکن راہیں کشادہ اور منفعت سے بھری ہوئی ہیں ۔
شمس الرحمٰن فاروقی
اِلہٰ آباد ۱۱ستمبر۲۰۱۰

دیباچے میں فاروقی صاحب نے ہمیں زندگی کے فکری میلانات میں میرا جی کی شعوری اُپج کا شاعر قرار دیا لیکن جمالیاتی حوالے سےاُس سے الگ کہا اور سب جانتے ہیں کہ اردو نظم میں فاروقی صاحب میرا جی کو باقی شعرا پر کیسے فوقیت دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی ذراہ نوازی تھی کہ آگے کیا کہیے ۔

تب ایسا ہوا کہ ۲۰۱۰ میں دہلی میں کہیں سارک کانفرنس ہوئی ۔ اور ہمیں بھی وہاں لے جانے کا ارادہ ہوا ۔ اِس سفر میں کچھ خواتین کے ساتھ ،’’ آج‘‘ رسالے کے ایڈیٹر اجمل کمال اور وجاہت مسعود بھی ہمارے ساتھ تھے اور تمام رستے ہمیں مذہب کی گمراہی سے نکالنے کی کوششیں کرتے گئے ۔ ہم فاروقی صاحب سے ہر حال میں ملنا چاہتے تھے مگر وہ اُن دِنوں اِلہٰ آباد میں تھے جہاں کا ویزہ ہمارے پاس نہیں تھا ۔ البتہ فون پر کئی دفعہ بات ہوئی ۔ فاروقی صاحب نے ہمیں فرمایا کہ جلد وہاں موجود اُن کی بیٹی باران فاروقی سے ملوں مگر فون پر اُن سے رابطہ نہ ہو سکا کہ آج کی طرح ۲۰۱۰ میں فون زیادہ چالاک نہ تھا ۔ البتہ یہی وہ دِن تھے جب شمیم حنفی صاحب سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ اُنھوں نے ہمارے ساتھ غالب اکیڈمی میں ایک پروگرام رکھا اور بہت لوگوں کو جمع کر کے وہاں اچھا خاصا جلسہ کر مارا ۔ شمیم صاحب نے ایسی محبت دی کہ بہت سی یادوں میں وہ بھی ایک یاد کا حصہ رہ گئی ،کسی دوسری جگہ بیان میں لائیں گے ۔

اب ایک اور سُنیے، تین برس کے بعد ہی سال فاروقی صاحب پاکستان آئے ، لمز والوں کی دعوت تھی اور لمز یونیورسٹی لاہور کے ریسٹ ہاوس ہی میں ٹھہرے تھے ۔ ہم اُن دنوں اسلام آبادمیں تھے ۔ فاروقی صاحب نے آتے ہی اپنی آمد سے خبردار کیا اور ہم اسلام آباد سے لاہور کی طرف جبہ سائی کو دوڑے ۔ اب یہاں ایک مزے کا واقعہ سُنیے ۔ پاکستان میں ایک ایسے ادیب ہیں جن کی بہت سی کتابیں ہیں اور پندرہ بیس کے قریب ناول ہیں ۔ پاکستان بھر کی سرکاری لائبریریاں اُس کی کتابوں سے اَٹی پڑیں ہیں ۔ جب ہم یعنی مَیں یونیورسٹی میں مطلوبہ جگہ پہنچا جہاں فاروقی صاحب ٹھہرے تھے ، تو وہ صاحب بھی ریسٹ ہاوس کے ریسپشن پر موجود تھے اور ریسپشنلسٹ اُنھیں بتا رہا تھا کہ فاروقی صاحب کہیں نکلے ہیں ، پتا نہیں کب آئیں گے ۔ اپنی کتاب دے دیں ،مَیں اُن تک پہنچا دوں گا ۔ اُس ادیب صاحب نے اپنی ایک موٹی تقطیع کی ناول فاروقی صاحب کے نام لکھ کر دی اور وآپس ہو گئے ۔ وہ توچلے گئے مگر ہم کہاں جاتے کہ اسلام آباد بہت دُور تھا۔ بہت پریشان ہوئے کہ اتنی دور سے پہنچے ہیں اور فاروقی صاحب نہیں ہیں ، چلیے یہاں لان میں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں ۔ اب ہم نے اُسی آدمی سے عرض کیا حضرت !ہم یہیں سامنے والے لان میں بیٹھے ہیں ، جب فاروقی صاحب آجائیں تو ہمیں بتا دیجیے گا ۔ اُس نے نام پوچھا ۔ ہم نے بتایا ، وہ کہنے لگا ، بھائی ، فاروقی صاحب ۵ نمبر کمرے میں ہیں اور آپ کے انتظار میں ہیں ۔ یہ سُن کر ہم گھوم ہی تو گئے اور پوچھا بھئی ، اتنا بڑا ادیب ملنے آیا تھا۔ آپ نے اُنھیں کیوں جھوٹ بولا ، کہنے لگا ، فاروقی صاحب کی ہدایت ہے کہ اِس وقت تھکے ہوئے ہیں، کوئی بھی ناطق کے علاوہ آئے تو اُسے اندر نہ آنے دیں ۔ آپ تشریف لے چلیے ۔ لیجیے ہم کمرے میں داخل ہوئے اور فاروقی صاحب یعنی اردو ادب کے طُور کا جلوہ پایا ۔ یہ تو نہیں کہیں گے کہ نظارے سے جل گئے مگرمرعوبیت کی وادی ءسینا میں ضرور کھو گئے ۔ یہ وہی فاروقی صاحب تھے جن کو برسوں تک دل کی آنکھوں سے دیکھاتھا ۔ ہمیں دیکھتے ہی اُٹھ بیٹھے اوریوں گلے سے لگایا جیسے صحرائے سینا میں بھٹکا اسرائیلی ملا ہو۔ اب کیا تھا، اُنھیں دیکھتے جاتے تھے ا ور اُن کی ایک ایک کتاب کے حوالے یاد کرتے جاتے تھے ،۔کبھی شعرِ شور انگیز کی شرحیں کھُلنے لگیں ، کبھی ساحری شاہی اور صاحب قرانی کے باب آنکھوں میں پھرنے لگے ،کبھی سوار اور دوسری کہانیاں چلنے لگیں ،کبھی کئی چاند تھے سرِ آسماں کی گردشیں آغاز ہوئیں ۔ اِدھر فاروقی صاحب تو ہماری نظموں اور افسانوں کی بابت اچھا اچھا فرماتے جاتے تھے مگر وہاں یہ کچھ سُننے کا ہوش کسے تھا، رہ رہ کے اُنھی کی کتابوں کے دیباچے کُھلے جاتے تھے اور خیال اسپِ تیز رو دہلی، آگرہ اور وہاں وہاں ٹاپیں بھرتا جاتا تھا جہاں وہ اپنی کتابوں میں لے جا چکے تھے ۔ پھر ایک بات اور بھی تھی کہ جو شے ہم زندگی کے ابتدائی زمانوں میں پڑھتے ہیں ،وہ کبھی نہیں بھولتی ۔ اُس وقت دماغ سائنسی سے زیادہ تخیلاتی جمال کے پیچھے دوڑتا ہے اور تعقل کی بجائے سرشاری میں چلتا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ جو چیزیں ہم نے زمانہءلڑکپن اور جوانی میں پڑھیں ،ابھی تک حافظے نے اُنھی کے نشاط میں رکھاہے ۔ سچ پوچھیں تو اُس وقت میرے ذہن میں بالکل نہیں تھا کہ مَیں لمز یونیورسٹی کے ایک مہمان خانہ کے کمرہ نمبر ۵ میں بیٹھا ہوں ۔ فاروقی صاحب خود تو وہاں شمس الرحمن فاروقی ہی بن کر بیٹھے تھے مگر ہم اُنھیں کبھی میر صاحب تصور کر لیتے ، کبھی غالب ، کبھی مصحفی ،کبھی نواب شمس الدین صاحب اور کبھی وزیر خانم ۔ رہ رہ کر غیر حاضر ہوجاتے۔ یہ پہلی ملاقات تھی اور ہم ایک برخوردار کی حیثیت میں سامنے دوزانو تھے ۔وہ بولا کیے اور ہم محض سنا کیے اور تصور کیا کیے ۔ایک بار ٹھہر کر ہم نے عرض کیا، قبلہ !باہر فلاں ادیب آپ سے ملنے آئے تھے ، فرمانے لگے میاں صاحب ہم انھیں نہیں جانتے ۔ ہاں کچھ کتابیں ہندوستان بھجواتے رہتے ہیں اور یہاں بھی یہ موٹی کتاب دے گئے ہیں ۔ سالے کچھ پڑھتے وڑھتے ہیں نہیں، محض لکھنے کا شوق ہے ۔ پھر اپنا لکھا کوڑا ہمارے سر لا مارتے ہیں ۔ ایسی خزفی کتابوں پر آنکھوں کا تیل ہم سے تو خرچ نہیں ہوتا۔ ایسا صبر پیغمبروں میں ہو تو ہو ،ہم میں نہیں ۔یہ کہہ کر وہ ناول ایک میز پر رکھ دی ۔ یہ ہماری اُن سے پہلی ملاقات تھی ۔ بہت باتیں ہوئیں ۔ جس کرسی پر بیٹھے تھے ،دائیں طرف تپائی پر بیسیوں قسم کی ٹیبلٹ اور معجون دھرے تھے ۔ ٹھہر ٹھہرکے کچھ نہ کچھ معجون اور ٹیبلٹ کی خوراک لیے جاتے تھے ۔تھوڑی دیر میں ہمارے لیے چائے اور کچھ بسکٹ یا پیسٹری آگئی، جسے شاید ہم نے کھایا کہ نہیں ،یاد نہیں ہے البتہ چائے ضرور پی ہو گی کہ یہ مشروب اگر اچھا بنا ہو تو ہم کم ہی گریز کرتے ہیں ۔ چونکہ پہلی ملاقات تھی اِس لیے کچھ حیرانی کا سا دورہ اِس لیے پڑا کہ ہم سوچتے تھے، آپ مدھم آواز میں پُرتکلف گفتگو یوں کرتے ہوں گے کہ کان ذرا ہشیار باش کر کے رکھنا ہوں گے ورنہ کچھ سنائی نہ دے گامگر یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا ۔ آواز میں گرج دار طلسم کا سا عمل تھا ۔کان برابر ایسے سُنتے تھے کہ علم کا نقارہ بجتا ہو ۔ ہم ایک آدھ سوال کر کے چُپ ہورہتے پھر اُس کا تفصیل سے جواب پاتے ۔ دو گھنٹے سے اُوپر گزرے اور ہمیں لگا ابھی دو منٹ پہلے آئے ہیں۔ واللہ جھوٹ نہیں بولتا فاروقی صاحب خود بھی مزے میں تھے ۔ سُنتے تو مدتوں سے آئے تھے کہ عالم کی صحبت کا ایک لمحہ ہزار کتابوں کے پڑھنے سے بہتر ہے مگر تجربہ آج ہوا تھا ۔ شعر و ادب کے متعلق کسی بھی بات کو اتنی آسانی سے شرح کر دیتے کہ جھٹ پٹ علم سینہ گزیں ہو جاتا ۔ برس ہابرس میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کے ہر لفظ سے علم کی مہک آتی ہو ۔ وہ جو بولے وہی موتی ہو ۔ ہم تو کہیں گے، اِس وقت جتنے بھی شعر وعلم کے نقاد ہیں کچھ لمحے فاروقی صاحب کی خدمت میں ضرور بیٹھیں ،کہ اُن کی شورہ زمین کو آبِ شیریں ملے اور کچھ نمو بھی ہو ۔ اتنے میں فاروقی صاحب کی بیٹی مہر افشاں فاروقی بھی آگئیں ۔ وہ کہنے لگیں ، ابا جان تھوڑا آرا م کر لٰیں ،تھک گئے ہوں گے ۔ بولے ،لو بھئی ناطق کے آنے سے ہماری تھکاوٹ اُتر گئی ، مہر ، یہ ناطق بہت اچھا شاعر ہے اور افسانے بھی خوب ہی لکھتا ہے ، نام پائے گا ، ہمیں تو اِس میں بہت کچھ نظر آتا ہے ۔ وہ تو یہ کچھ فرما ئے جاتے تھے اور ہم اپنی کم ہنری پر آنکھیں چرائے جاتے تھے ۔ کچھ دیر میں کھانا آگیا ۔ ہمیں حکم ہوا ،میاں کھانا کھاﺅ۔ تب حکم کی تعمیل ہوئی ۔ واللہ اُس دن دیکھا ، فاروقی صاحب کھانا اِس قدر کم کھاتے ہیں ،گویا بالکل نہیں کھاتے ۔ بابا فرید کے بارے میں سُنتے ہیں کہ جب بھوک لگتی تھی تو کاٹھ کی روٹی کو چباتے تھے ۔ فاروقی صاحب تو یہ بھی نہیں کرتے ۔بس کھانے کے نام پر اُسے سونگھتے ہیں۔ پھر چائے آئی ،وہ بھی پی ۔ اب ہم نے محسوس کیا فاروقی صاحب تھک گئے ہیں ۔ یوں بھی ۴ گھنٹے ہو گئے تھے ۔ اجازت لے کر اور دوسرے دن خدمت میں حاضر ہو نے کا وعدہ لے کر نکل آئے ، یہ وہ سر شاری تھی جو سونا چاندی ملنے پر بھی حاصل نہ ہوتی

شیئر کریں

کمنٹ کریں