شئیر بازار کی کچھ بنیادی جانکاری

مضمون نگار : ابرار مجیب

, شئیر بازار کی کچھ بنیادی جانکاری

شئیر بازار ایک ایسا بازار ہے جہاں کمپنیوں کے شئیر خریدے اور بیچے جا سکتے ہیں ۔ کسی بھی دوسرے بازار کی طرح شئیر بازار میں بھی خریدنے اور بیچنے والے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مول بھاؤ کرکے سودا پکا کرتے ہیں ۔
پہلے شئیروں کی بکری زبانی ہوتی تھی اور خریدنے پیچنے والے زبانی ہی سودا کیا کرتے تھے ۔ لیکن اب یہ سارا لین دین اسٹاک ایکسچینج کے نیٹ ورک سے جڑے کمپیوٹر کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ انٹرنیٹ پہ بھی یہ آسانی فراہم ہے ۔ آج حالت یہ ہے کہ خریدنے بیچنے والے ایک دوسرے سے انجان رہتے ہیں ۔

ایک قسم سے یہ شئیروں کی نیلامی ہے اگر کسی کو بیچنا ہوتا ہے تو سب سے اونچی بولی لگانے والے کو شئیر بیچ دیا جاتا ہے ۔یا اگر کوئ شئیر خریدنا چاہتا ہے تو بیچنے والوں میں سے جو سب سے کم قیمت لینے پہ تیار ہوتا ہے اس سے شئیر خرید لیا جاتا ہے ۔ شئیر منڈی جیسے ممبئ اسٹاک ایکسچینج یا نیشنل اسٹاک ایکسچینج اس طرح کی بولیاں لگانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کی طرح ہیں ۔

ایک دن میں کڑوڑوں شئیر خریدے اور بیچے جاتے ہیں ۔ کتنا مشکل ہوتا اگر شئیر بھی عام بازار کی طرح دوکان لگا کر یا چلا چلا کر بیچے جاتے ۔ اس طرح شئیر خریدنا اور بیچنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ شئیر منڈیوں نے ایک ایسا ڈھانچہ تیار کیا ہے جس سے یہ کام آسانی سے اور بہترین طریقے سے ہو ۔ کئ قسم کے قانون،کمپیوٹر کی مدد، شئیر بروکر، انٹرنیٹ کی مدد سے یہ ڈھانچہ تیار کیا گیا ہے ۔

کچھ سال پہلے تک ممبئی اسٹاک ایکسچینج سے سیدھے خرید و فروخت کرنی پڑتی تھی ۔ انٹرنیٹ آنے کے بعد کچھ سالوں سے کوئی بھی گھر بیٹھے اب یہ بزنس کر سکتا ہے یا
آپ دنیا کے کسی بھی کونے سے با آسانی شئیر خرید بھی سکتے ہیں اور بیچ بھی سکتے ہیں ۔جو کام پہلے کچھ پیسے والے لوگ ہی کرتے تھے۔ اب وہ سب ایک عام آدمی بھی کر سکتا ہے ۔

آج کل سبھی شئیر ڈیمیٹیریالائزڈ ہوتے ہیں ۔ شئیروں کے علاوہ آپ میوچل فنڈ میں بھی پیسہ لگا سکتے ہیں ۔ عام خریدار کو کسی ڈیمیٹ سروس دینے والے بینک میں اپنا کھاتا کھولنا پڑتا ہے ۔ آج کل کئی بینک جیسے آئ سی ایس سی آئی بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک، ایس بی آئی بینک، سینٹرل بینک آف انڈیا وغیرہ ڈی میٹ سروس دیتے ہیں ۔ اس طرح کے کھاتے کی سالانہ فیس پانچ سو سے آٹھ سو تک کی ہوتی ہے ۔


شئیر بازار کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی معاشیات کا ایک اہم حصہ مانا جاتا ہے ۔ جس طرح ملک گاؤں یا شہر کی ترقی کے لیے سڑکیں، ریل کی سہولت، بجلی، پانی کی فراہمی اہم ہے اسی طرح ملک کی صنعت کی ترقی کے لئے کیپیٹل چاہئے جو شئیر بازار مہیا کراتا ہے ۔ شئیر بازار کے ذریعہ ہر آدمی بڑی سے بڑی صنعت میں اپنی حصہ داری کر سکتا ہے ۔ اس طرح کی حصہ داری سے وہ بڑی صنعتوں میں ہونے والے منافع کا سیدھا حصہ دار بن جاتا ہے ۔

شیئر کریں
ابرار مجیب کا تعلق جمشید پور ، جھارکھنڈ سے ہے ، پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں لیکن اردو اور انگریزی ادب میں یکساں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ان کا افسانوی مجموعہ رات کا منظر نامہ شائع ہوکر موضوع بحث بن چکا ہے جب کہ ان کے تنقیدی مضامین ادبی حلقے میں ہنگامہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ان کی شاعری بھی بیحد منفرد ہے گوکہ شاعری پر ان کی توجہ کم لیکن ان کی بعض نظمیں بیحد اہم ہیں ۔ ان کا ناول "ایک تازہ مدینے کی تلاش" جلد ہی منظر عام پہ آنے والا ہے

کمنٹ کریں