سخنِ دل آویز : ” شب آویز “

مضمون نگار : ارشد عبدالحمید

, سخنِ دل آویز : ” شب آویز “

مارے دوست قمر صدیقی ایک مکمل ادیب ہیں۔ میری نظر میں مکمل ادیب کی تعریف یہ ہے کہ ایک جانب اس کی تمام تر ادبی عمارت انسان دوستی پر استوار ہو تو دوسری جانب اس پر ادب کا کوئی حصہ , کوئی شعبہ بند نہ ہو۔ قمر ادیب کی پوری شخصیت اسی تکمیل کی غماز ہے۔ وہ یونیورسٹی کے استاد ہیں۔ ادیب ہیں۔شاعر ہیں۔ نقاد ہیں , محقق ہیں اور ایک رسالے کے مدیر بھی ہیں۔ اور تو اور ۔ ۔ ۔ ویب سائٹ اور میڈیا کے ذریعے انھوں نے جو خدمات انجام دی ہیں , ناقابلِ فراموش ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اپنی ان تمام حیثیتوں کے باوجود ( یا انھی کے با وصف ) ان کی شاعری میں عالمانہ طمطراق کی جگہ شاعرانہ انہماک ہے اور خوب سے خوب تر ہے۔ اس کا ثبوت ان کی شاعری کے مجموعے ” شب آویز ” سے بخوبی فراہم ہوتا ہے۔
” شب آویز ” کی شاعری ایک ایسے فنکار کی شاعری ہے جو اپنے ماحول اور اپنے عصر سے نہ صرف باخبر ہے بلکہ اس کی ناسازگاری اور دہشت ناکی کا نشانہ بھی ہے۔ وہ اپنے نشانہ ہونے کے جبر کو نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ اس کے شعری اظہار میں شدت سے بھی کام لیتا ہے :


ہر روز نئی جنگ ہے ہر روز نئی جہد
کب اپنے مقابل کوئی لشکر نہیں ہوتا
ہر پل وہی وحشت ہے وہی رقصِ ستم ناک
کس لمحہ یہاں فتنہء محشر نہیں ہوتا

ہر ایک لمحہ میں قید سوچوں نفس نفس بس مہار دیکھوں
میں اپنے اندر کبھی جو جھانکوں حصار اندر حصار دیکھوں

گم ہیں آشوبِ خودی میں ہمیں ورنہ اک شہر
خوں سے تر , شور سے آباد ہمارے لیے ہے

نواحِ جاں میں یہ آزار سا کیا ہے
مرے اندر بہت بیمار سا کیا ہے

کب ایسے تھے یہ لوگ جو اطراف ہیں میرے
کب تھا یہ مرا حال جو فی الحال ہے میرا

ہار اور جیت تو ایک اضافی قصہ ہے
پہلے جنگ میں نیزوں پر سر آتے ہیں

چار جانب سرسراتے رینگتے سانپوں کا خوف
کس طرف میں پاؤں رکھوں ہر طرف پھنکار ہے

پھر وہی قہر وہی فتنہء دجال کے دن
پھر وہی قصہء اصحابِ کہف کھینچتا ہے

اس آشوب کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے اور شدت یہاں بھی ویسی ہی ہے کہ :
جینا تھا جتنا جی لیے مر جانا چاہیے
حد ہو گئی تو حد سے گزر جانا چاہیے


۔ ۔ ۔ لیکن یہ ایک لمحہء احساس ہے ۔ ۔ ۔ نتیجہ نہیں ۔ ذرا اس معنی خیز شعر کو دیکھیے :
اس بار حرم چھوڑ کے پچھتانا پڑے گا
اس بار گرانی میں بہت کوئے بتاں ہے

اور یہ اشعار بھی ۔ ۔ ۔
ضمیر ِ خفتہ کو بیدار کیوں نہیں کرتے
یہ کیسے لوگ ہیں انکار کیوں نہیں کرتے
ہمارے صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے
ہم اپنے آپ کو بیزار کیوں نہیں کرتے


ان تمام اشعار سے ظاہر ہے کہ قمر صدیقی کا تخلیقی وجود جس کسمپرسی , ناچاری اور خوف سے متصادم ہے اس میں ان کے اطراف کی تمام دنیا اپنی تمام تر ہولناکی کے ساتھ ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہی ان کی تخلیقی شناخت ہے اور یہی ان کی شاعری کا غالب حصہ بھی ہے۔ اس کلیے کے باوجود قمر صدیقی بطور شخص بھی اپنی شاعری میں موجود ہیں اور اس شخص کے بھی وہی مسائل ہیں جو ہمارے آپ کے ہیں۔ ان پر وہ لمحات بھی وارد ہوتے ہیں جو خوابوں اور آرزوؤں کے لمحات ہوتے ہیں :

نواح ِ جاں تک آنا اور پر اسرار ہو جانا
ترا سب کچھ چھپپا لینا بہت دشوار ہو جانا
وہ تیرا آسماں تک پھیل جانا اور یکایک پھر
بدن کو قید کر لینا در و دیوار ہو جانا

اپنی محبتوں کا افسانہ رقص میں ہے
یا شمع گرد کوئے پروانہ رقص میں ہے

چاند تارے اور جگنو اور مرا رنگ ِ ہنر
یعنی اس کو یاد کرنا اس کو پیہم دیکھنا

یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا
اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

شبِ فرقت ہے ماضی کے فلک سے
تری یادوں کے لمحے گر رہے ہیں

اس کی گلی میں جور و جفا عام ہے بہت
اس کی گلی میں یار مگر جانا چاہیے

تمھارے واسطے سارے اجالے راہ میں رکھے
مگر اپنے لیے ہم نے یہی اک شام ِِ غم رکھی


۔ ۔ ۔ یہ جو شامِ غم ہے , ظاہر ہے محبوب کے حوالے سے ہے لیکن محبوب صرف محبوب نہیں ہے۔ اس میں ان کا دور اور قریب کا ماضی بھی ہے اور وہ لوگ بھی ہیں جو تاریخ کا حصہ ہو کر بھی تہذیب کا حصہ ہیں , یادوں کا حصہ ہیں اور عصر پر اثر انداز ہیں :

پرانے رشتے نہ جانے کب سے کھنڈر کی صورت کھڑے ہوئے ہیں
کہیں سے کوئی نکل ہی آئے ذرا ٹھہر کر پکار دیکھوں

بچھڑتے جاتے ہیں احباب خواب کی صورت
گزرتا جاتا ہے یادوں کا کارواں آگے

ہم اگر سوئی ہوئی یادیں جگانے لگ جائیں
نیند کو آنکھ تک آنے میں زمانے لگ جائیں

کون سی سوئی ہوئی پیاس کا رشتہ جاگا
آج کیوں مجھ کو یہ صحرائے نجف کھینچتا ہے

پھر وہی خانہء برباد ہمارے لیے ہے
شہرِ غرناطہ ؤ بغداد ہمارے لیے ہے

تھے کیسے کیسے لوگ میرے خیمۂ خیال میں
گئے دنوں کی خیر ہو کہ اب طناب بھی نہیں

اس طلسمِ عصرِ حاضر سے جب آنکھیں جل اٹھیں
دور جلتا اک چراغ ِ اسم ِ اعظم دیکھنا

اس صدی سے اس صدی تک رشتے ناتے دوستی
پیچھے کیا کیا رہ گیا ہے لوٹ کر دیکھے گا کون

تہذیب کی راہوں میں دشت آئے جبل آئے
پھر ٹھنڈی ہوا آئی صحرا میں کنول آئے


ان تمام اشعار سے یہ اندازہ تو ہو ہی گیا ہوگا کہ قمر صدیقی کا تخلیقی تناظر عصریت , انفرادیت اور تہذیبی تسلسل سے تعبیر ہے لیکن انھی اشعار سے یہ بھی باور آتا ہے کہ فنی سطح پر قمر صدیقی نہ برہنہ گفتاری سے کام لیتے ہیں نہ ابہام کو درخور ِ اعتناء سمجھتے ہیں۔ ان کی تمام تر توجہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک مخصوص آہنگ کی طرف مائل ہے۔ یہ آہنگ ایک جانب زبان کے رچے ہوئے ذوق سے ترتیب پاتا ہے تو دوسری جانب فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ تصورات سے مملو ہے۔ زبان کی صلابت , لہجے کی جاذبیت اور اظہار کی معنویت نے انھیں ہمارے عہد کا ایک ایسا نمایندہ بنا دیا ہے جس کی ” شب آویزی ” در اصل دل آویزی کی تطبیق ہے اور جو اپنے شاندار شعری مستقبل کا پیش خیمہ بھی ہے۔
آخر میں ان کے بعض پسندیدہ اشعار پر اپنی بات ختم کرتا ہوں :

حادثے جیسے ہیں سب سوچے ہوئے دیکھے ہوئے
کوئی حیرانی نہیں اب آنکھ اور منظر کے بیچ

کھل اٹھتا ہے گھر آنگن کا سناٹا
شام کو جب اسکول سے بچے گھر آتے ہیں

ہر ایک موڑ پہ میں پوچھتا ہوں اس کا پتا
ہر ایک شخص یہ کہتا ہے بس وہاں آگے

اس طرف وہ جو نظر کر دے تو ہم خانہ خراب
جسم کیا چیز ہے یہ جاں بھی سجانے لگ جائیں

زمین چھوڑ بھی دیتے مگر کہاں جاتے
پھلوں کو ڈھونڈنے آخر شجر کہاں جاتے

اس سفر میں دیکھنا اک موڑ ایسا آئے گا
سب تھکے ہاروں کو لینے ان کا رستا آئے گا

کیوں میری گرفتاری پہ ہنگامہ ہے ہر سو
وہ کون ہے جو تیرا گرفتار نہیں ہے
******
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
ارشد عبدالحمید صاحب کا اصلی نام ارشد حسن خاں ہے ۔ یہ سابق صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج ، ٹونک رہے ہیں ۔ جناب ڈاکٹر ارشد عبدالحمید نہ صرف بہترین شاعر ہیں بلکہ ان چند ناقدین میں سے ایک ہیں جن کی تجزیاتی اور تنقیدی آراء تخلیق کاروں اور قارئین کے حلقوں میں بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں ۔ ان کا آبائی وطن ٹونک (راجستھان ) ہے ۔ اہم تصانیف : ١۔ فرہنگ ِ اصطلاحات ِ بلاغت ٢۔ تجزیہ اور تنقید (مضامین کا مجموعہ) ٣۔ صدائے آبجو (شاعری کا مجموعہ) ٤۔ بھائی چارا ( بچوں کے لیے ) ٥۔ راجستھان اردو ریڈر ( نصابی کتب درجہ اول تا پنجم ) مرتبہ۔ ۶- چراغاں سر ِ خواب ( شعری مجموعہ۔زیرِ طبع )

کمنٹ کریں