سنڈے اسپیشل کالم

ہم لفظ کا علاج کریں

کالم نگار – مشرف عالم ذوقی

, سنڈے اسپیشل کالم

بات 1996ء کی ہے۔ہندوستان آزادی کی گولڈن جبلی سالگرہ کا جشن منا رہا تھا۔مجھے دوردرشن کی طرف سے آزادی کو لے کر ایک ڈکیو منٹری سیریل ملا تھا۔ پرانے فوٹیج کو حاصل کرنے کے لئے میں نیشنل آرکائیو گیا۔وہاں مجھ سے کہا گیا کہ بغیر ڈائریکٹر کی پرمیشن کے، ایسا ممکن نہیں۔آپ ایک درخواست لکھ دیجئے۔دس منٹ بعد ڈائریکٹر مجھ سے ملنے باہر آ چکا تھا۔یہ قمر احسن تھے،پیار سے انہوں نے میرا نام لیا”مشرف تم“مجھے لے کر اپنے ڈائریکٹر والے کمرے میں گئے۔طلسمی دروازہ کھلا، میں نے پہلی بار قمر احسن کو دیکھا اور آخری بار بھی،پھر دیدار نہیں ہوا،مجھے احساس ہوا جیسے میں داستان امیر حمزہ کے لا فانی کردار امیر حمزہ سے مل رہا ہوں۔ایسا احساس کیوں ہوا، میں نہیں جانتا۔قمر احسن کی دو کتابیں ہیں۔آگ الاؤ صحرا، شہر آہو خانہ،اسپ کشت مات، بریدہ جسموں کو چمکانے والا بوڑھا، قطمیر اور ہوا، طلسمات، ابابیل، سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں، کوڑھی کی مٹھی میں سور کی ہڈی، ہڈی کی مٹھی میں سور کا کوڑھی ان کی مشہور کہانیاں ہیں۔کہانیوں کے عنوان تک حیرت میں ڈالتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے وقت کا بڑا دانشور تھا۔اس کی کہانیاں بولتی تھیں،اس کی کہانیاں سنائی جا سکتی تھیں۔اسپ کشت مات کے دونوں حصّے اور بیشمار کہانیاں ایسی ہیں جو میں سنا سکتا ہوں۔کہانیوں پر جدیدیت کا گہرا رنگ غالب تھا مگر موضوع کے انتخاب اور کہانیوں کی بنت کے مہارتھی تھے قمر احسن۔اور وہ واقف تھے کہ انھیں کیوں لکھنا ہے، یہ بھی گمشدگی کا ایک پڑاؤ تھا۔


ہم کیوں لکھتے ہیں؟ کا جواب آج تک نہیں مل سکا۔ مارکیز سے لے کر مویان اور پایلو کو لہو تک اس کے جواب مختلف ہوں گے…. اردو میں بھی اکثر ایسے سوالوں کے جواب تلاش کیے جاتے ہیں پھر بھی کیوں لکھتے ہیں، کی الجھن دور نہیں ہوتی— آغاز سے ہی اردو ادب کو تحریکوں کا ساتھ ملا اور ہر ادبی تحریک نے اچھے ادب کے لیے راستہ بھی ہموار کیا۔ رومانی تحریک سے لے کر ترقی پسند، جدیدیت اور مابعد جدیدت تک جہاں برے لکھنے والے سامنے آئے وہیں بہتر لکھنے والے بھی تھے، جن کی شناخت میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ترقی پسند فارمولوں سے آگے نکلنے کے بعد زندگی کے مسائل درپیش تھے— یہ مسائل جس تیزی سے سامنے آ رہے تھے، اسی تیزی سے پریشان بھی کر رہے تھے۔ یہ مسائل اچانک ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ابھر کر سامنے آئے تھے— محکومی اور غلامی کے بادل چھٹنے کے بعد اپنی جڑوں کی تلاش کا جو سلسلہ چلا اس نے ادب کو انتظار حسین جیسا ادیب دیا— انتظار کی مجبوری تھی— جڑیں کہاں ہیں؟ ظاہر ہے، ان جڑوں کی تلاش دونوں طرف کی سرحدوں کے لوگ کر رہے تھے۔ یہ افسانوں کی تبدیلی کا عہد تھا— کہانی کا مجموعی ڈھانچہ بدلا جانا تھا— اس میں نئے پیوند لگنے تھے۔ کہانی نے علامت، تجزیہ اور فنتاسی کے نئے نئے راستوں کو دریافت کیا۔ انتظار نے اس کہانی کو اساطیر اور پنچ تنتر کا مشکل راستہ بھی دکھا دیا.ادب کے لیے یہ ایک سنہری عہد کی شروعات تھی جب موضوع کے تعاقب میں اردو کہانیاں بلراج، سریندر پرکاش، اقبال مجید، قمر احسن، اکرام باگ کی شکل میں نئی بلندیاں طے کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ 1996ء کے اواخر میں منعقدہ ساہتیہ اکادمی سمینار کا ایک موضوع تھا— میں اور میرا عہد- ملک کے ممتاز لکھنے والوں کو دعوت دی گئی۔ یہ جاننا بے حد اہم تھا کہ نیا لکھنے والا مین اسٹریم سے کس حد تک جڑا ہوا ہے۔ اس میں Political Sensibilty کتنی ہے۔ اس کا سماجی شعور کیسا ہے۔ وہ اپنے عہد کا تجزیہ کس طرح کرتا ہے اور منظر، پس منظر کی آنکھ سے اپنے آپ کو کیسے دیکھتا ہے یا اپنا محاسبہ کرتا ہے۔ قمر احسن کا خیال تھا:


”جس طرح گلیلیو کو پھانسی دینے کے باوجود زمین گول رہی اسی طرح اسپنگلر کے تاریخی تسلسل سے انکار کے باوجود تاریخی تسلسل کا نام ہی ارتقا رہا۔ اس لیے کہ تاریخ کا کھنچا ہوا خط امتیاز ریڈ کلف کی لکیروں سے زیادہ مبہم اور ناقابل گرفت ہوتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا ناممکن ہے کہ اچانک پرانا دور ختم ہوگیا۔ پہلی جنوری کی صبح کے سورج میں اگر کوئی تبدیلی بھی تھی تو اتنی متواتر اور مسلسل کہ کبھی کبھی سورج دیکھنے والی آنکھیں انہیں محسوس بھی نہیں کرسکیں۔ اور یہی سورج کی سی تبدیلی فن میں بھی آتی ہے۔ اس لیے کہ تاریخ کی طرح فن بھی نہیں بدلتا بلکہ ایک فنی تسلسل میں ہم خود تبدیل ہوتے ہیں۔“
—قمر احسن (نیا اردو افسانہ، چند مسائل)
شمس الرحمان فاروقی قمر احسن کے بارے میں لکھتے ہیں:’آگ، الاؤ اور صحرا‘ ایک ایسے نوجوان کی داخلی داستان ہے جو اپنے آپ کو دریافت کرنا چاہتا ہے لیکن جو یہ محسوس کرتا ہے کہ اس دریافت کے لیے اسے اپنے ذاتی اور تہذیبی دونوں ماضیوں کو جھٹلانا ہو گا۔ لیکن یہ ناول ہمارے عہد کے ہر نوجوان کی داستان نہیں بن سکا ہے۔ یہی اس کی کمزوری بھی ہے اور شاید یہی اس کی قوت بھی۔
پہلی بار شدت سے یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ نیا لکھنا جتنا ضروری ہے، اتنا ہی اس نئی کہانی کے لیے ”کھولنے والے“ یعنی نقاد کا ہونا۔ اس لیے کہ علامت اور تجرید کے مابین راستہ بناتے ہوئے یہ تخلیق کار جو کچھ خلق کررہے تھے، اسے سمجھنا آسان نہ تھا۔ اس تہہ بہ تہہ الجھی ہوئی تخلیق کے لیے فاروقی کے ساتھ قمر احسن کی بھی ضرورت تھی— اسٹریٹجی یہ بنی، کہ نئے افسانے کی قدر ومنزلت بحال کرنے کے لیے پرانی چیزوں (تخلیق) کو مسترد کرنے کا عمل تیز سے تیز تر کیا جائے۔ نتیجہ کے طور پر پہلا بت میاں پریم چند کا ٹوٹا:


”اردو افسانہ کو سب سے زیادہ نقصان پریم چند ہی نے پہنچا یا تھا۔ یہ تو خدا بھلا کرے منٹو کا کہ انہوں نے اس کیچڑ میں کنول کا پھول کھلانے کی کوشش کی۔ ورنہ منشی جی نے اردو افسانہ کی تمام روایت کو اپنی آئیڈیالوجی اور سماجی روشن خیالی کی نذر کردیا تھا۔
— قمر احسن
مگر قمر احسن کی تحریر میں بھی فلسفے اور مکالموں کا یہی رنگ غالب تھا—
”میں اپنی کوئی بہت قیمتی چیز کہیں بھول آیا ہوں۔“ اچانک عارف عبداللہ نے زور سے کہا۔
”کہاں۔؟ کون سی شے؟“ ابوزید کی طرف جھپٹا۔
”کوئی بہت کم قیمت لیکن میرے لیے نہایت اہم شے۔ شاید اپنا قلم۔ یا اپنی ڈائری یا کوئی اور بہت ذاتی شئے۔“
”کہاں۔؟“
”وہیں کسی پہاڑی پر۔“
”کسی بھی پچھلی پہاڑی پر۔ میں کوئی چیز بھول ضرور آیا ہوں۔ اور مجھے بے چینی ہورہی ہے۔“
”آخر کس پہاڑی پر۔؟ ابو زید جھلا گیا۔
”شاید وہیں جہاں سے مہاجر پرندوں کی آخری قطار اڑی تھی۔“ عارف عبداللہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔“
—طلسمات (قمر احسن)
ایک دلچسپ بات اور تھی۔ شروع کی کہانیوں میں علامتیں، بہت مبہم یا بوجھل نہیں تھیں. اکرام باگ سے قمر احسن تک یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ کہانیاں در اصل یوں لکھنی چاہئیں جس کی تفہیم ممکن نہ ہو۔
اورایک ساتھ ہی لاتعداد افسانہ نگار انہی نقوش پر چل نکلے جو افسانہ کو ابتدا سے ہی گمراہی کی طرف لے جارہے تھے— فکشن ہمیں عام اور خارجی زندگی سے نظم کی بہ نسبت زیادہ قریب رکھتا ہے۔ اور زندگی سے ہمارے روابط کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن ساٹھ کے بعد جو فنکار آئے انہوں نے انتہاپسندی سے کام لے کر افسانہ کی یہ سطح بھی مجروح کردی۔ساری ذمہ داری قاری کے سر ڈال کر ہم سبک دوش نہیں ہوسکتے۔“
— قمر احسن


ناقد تلاش کرنے میں اس نسل کو زیادہ دشواری پیش نہیں آئی۔ افسانوں پر دیو مالائی اثرات تلاش کیے جارہے تھے تو کبھی ان کے ڈانڈے اسطوری رجحانات سے جوڑے جارہے تھے۔ مگر قمر احسن نے کیا کہا، اس پر غور کیجئے۔ساری ذمہ داری قاری کے سر ڈال کر ہم سبک دوش نہیں ہوسکتے یہ گمشدگی کا پہلا پڑاؤ تھا۔یعنی قمر احسن شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ فکشن میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور افسانہ نگار افسانے کو گمراہی کی طرف لئے جا رہے ہیں۔اور یہ بھی کہ قلمکار انتہا پسند ہو چکا ہے۔ یہ فرار کی منزل تھی۔قمر احسن اردو فکشن سے بہت حد تک مایوس ہو چکے تھے۔ فاروقی بھی ان کو سمجھانے میں ناکام رہے کہ فکشن صحیح دشا میں جا رہا ہے۔مگر — قمر احسن واقف ہو چکے تھے کہ فکشن،زندگی سے ہمارے روابط کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن ساٹھ کے بعد کے فنکاروں نے انتہاپسندی سے کام لے کر افسانہ کی یہ سطح بھی مجروح کردی۔اس خیال کے بعد کچھ بھی باقی نہیں تھا۔رہے نام اللہ کا،خبر ملی کہ ادب کا راستہ چھوڑ کر وہ مذہب کی آغوش میں چلے گئے۔ایک بڑا داستان گو خاموش ہو گیا۔مگر جو کچھ قمر احسن کے ساتھ ہوا، اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
انیس سو چوراسی میں ژاں پال سارتر کی ایک اہم کتاب منظر عام پرآئی تھی۔ ادب کیا ہے۔ اس کتاب پر سارتر نے دلائل کے ذریعے اپنے موقف کا اظہار کیاتھا۔
سارتر کے مطابق عصری ادب کو جمالیات اور لفظوں کی قلابازی سے بچنا ہوگا۔ عصری ادب نئے سماجی نظام اور نئی سیاسی صورتحال سے گریز کر ہی نہیں سکتا۔
سارتر نے صاف طور پر کہا…. ایک مصنف کے طور پر ہمارا کام اپنے عہد کی نمائندگی کرنا ہے۔ اور اپنے ہونے کی گواہی دینا بھی ہے۔
سارتر نے یہ بھی کہاکہ Poetry میں ہم زبان کے ساتھ کھلواڑ تو کرسکتے ہیں، تجربے بھی کرسکتے ہیں مگر فکشن کے لیے یہ تجربے خطرناک ہوں گے۔ سارتر کی نظر میں لکھنے والے کا کام ہتھیار کو ہتھیار کہنا ہے، یعنی جیسا کہ وہ ہتھیار ہے۔ اگر لفظ، مرض میں مبتلا ہیں تو پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اس مرض (لفظ) کا علاج کریں۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں