سقراط دنیا کا پہلا فلسفی

انتخاب : قراۃ العین راٹھور

, سقراط دنیا کا پہلا فلسفی

سقراط نے جو دنیا کا پہلا فلسفی شمار کیا جاتا ہے کوئی کتاب نہیں لکھی کیو نکہ وہ لکھنا نہیں جانتا تھا۔ سقراط انتہائی کم صورت تھا اس کے شاگرد نے اس کی مثال ایک ایسے مجسمے سے دی تھی۔ جو اوپر سے تو نہایت مضحکہ خیز ہوتا ہے لیکن اس کے اندر دیوتا کی تصویر ہوتی ہے۔ سقراط کی ماں دایہ تھی جبکہ باپ مجسمہ ساز تھا۔سقراط کبھی پیسہ کمانے کے بارے میں سنجیدہ نہ تھا کیونکہ اس کی بیوی ہر وقت لڑتی رہتی تھی ۔سقراط نے اس کا کبھی برا نہیں مانا ۔


سقراط کا ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والا شاگرد کیٹو لکھتا ہے۔”ایک روز میں سقراط کے گھر گیا تو دیکھا کہ سقراط مکان کی دہلیز پر بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کو برا بھلا کہہ رہی تھی سقراط کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جب اسکی بیوی نے دیکھا کہ سقراط آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا تو وہ غصہ سے مکان کے اندر گئی اور پانی بھرا ہوا تسلا لا کر سارا پانی سقراط پر انڈیل دیا۔ سقراط نے ہنس کر مجھ سے کہا۔ کیٹو مجھے معلوم تھا بادل گرج رہے ہیں بارش ہوگی”


افلاطون اپنے استاد سقراط کے پاس آیا اور اس سے کہنے لگا آپ کا نوکربازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا، سقراط نے مسکر ا کر پوچھا “وہ کیا کہہ رہا تھا”افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا “آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروا دیا اور کہا“آپ یہ بات سنانے سے پہلے تین کی کسوٹی پر رکھو ، اس کا تجزیہ کر و اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے”افلاطون نے عرض کیا “یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے” سقراط نے کہا “کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جوبات بتانے لگے ہو وہ سو فیصد سچ ہے” افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا ، سقراط نے ہنس کر کہا “پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہوگا “افلاطون خاموشی کے ساتھ سقراط کا چہرہ دیکھنے لگا۔سقراط نے کہا یہ پہلی کسوٹی تھی۔ ہم اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں “مجھے تم جو بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے” افلاطون نے انکار میں سر ہلادیا “جی نہیں یہ بری بات ہے “سقراط نے مسکر ا کر کہا “کیا تم یہ سمجھتے ہوتمہیں اپنے استاد کو بری بات بتانی چاہیے ” افلاطون نے انکار میں سر ہلادیا ۔ سقراط بولا “گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پورا نہیں اترتی ” افلاطون خاموش رہا ۔ سقراط نے ذرا رک کر کہا ” اور آخری کسوٹی یہ بتاؤوہ بات جو تم مجھے بتانے لگے ہو یہ میرے لیے فائدہ مندہے “ افلاطون نے انکار میں سر ہلا دیا اور عرض کیا “یا استاد یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں” سقراط نے ہنس کر کہا “اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے” افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنےلگا۔


سقراط کی قوت برداشت کمال کی تھی شہر میں وہ واحد شخص تھا جو ننگے پیر برف پر گھومتا رہتا تھا۔ سقراط نے نوجوانی میں میدان جنگ میں بہادری کا انعام حاصل کیا تھا۔سقراط کا زیادہ وقت ایتھنز کے باغات اور معبدوں کے دادان میں اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے گزرتا ۔ آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے کا عجیب و غریب فلسفی اپنی طرف سے کوئی فلسفہ بیان نہیں کرتا تھا اس نے اپنے پیچھے کوئی کتاب تو کیا چار صفحوں کو کوئی چھوٹا سا مضمون بھی نہیں چھوڑا۔ وہ کچھ نہیں لکھتا تھا۔ اس کا اپنا کوئی فلسفہ نہیں تھا وہ لوگوں کو کچھ بتانے کی بجائے ان سے پوچھتا زیادہ تھا اس کے سوال ہی اس کا فلسفہ تھا ساری زندگی ایک چادر میں گزاری۔کسی نے اس سے کہا کہ ڈیلفی کے معبد میں ایک آواز سنی گئی ہے کہ سقراط ایتھنز کا سب سے بڑا داناٰ آدمی ہے سقراط نے ہنس کر جواب دیا: “میں اس لئے داناٰ ہوں کہ مجھے اپنی بے علمی کا احساس ہے”۔


ایک صبح جب سقراط بازار میں آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے خلاف مندرجہ زیل قرارداد جرم چسپاں کی گئی ہے “سقراط نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کا پہلا جرم یہ ہے کہ وہ ان دیوتاؤں کی پرستش نہیں کرتا جن کو یہ شہر پوجتا ہے، اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے نئے دیوتا لے آیا ہے۔ دوسرا جرم اس کا یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو بگاڑتا ہے، لہذا اس کی سزا موت ہے”۔اس الزام آرائی کے پیچھے سب سے بڑا محرک انی ٹس نامی ایک چمڑا فروش تھا۔ اس کو سقراط کے خلاف زاتی بغض تھا۔ بات یہ ہے کہ سقراط نے اس کے بیٹے کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کھالوں اور چمڑے کا کام چھوڑ کر فلسفے سے ناتا جوڑے۔ انی ٹس کا اصرار تھا کہ اس کے بیٹے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لئے سزا موت سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ یوں چمڑا اور علم ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ فتح چمڑے کو حاصل ہو گئی۔ سقراط کو گرفتار کر لیا گیا اس پر مقدمہ شروع ہو گیا۔

سقراط چاہتا تو موت کی سزا سے بچ سکتا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ ایتھنز کے قانون کے میں یہ گنجائش موجود تھی کہ موت کی سزا پانے والا کو ئی شخص جلاوطنی کو متبادل سزا کے طور پر چن سکتا تھا۔ گویا جس شخص کو موت کی سزا ملتی تھی اس کو یہ اختیار بھی مل جاتا تھا کہ وہ اپنی ریاست سے باہر چلاجائے اور یو ں موت کی سزا سے بچ جائے۔ سقراط یہ اختیار کر سکتا تھا مگر وہ اس طرح بچ نکلنے پر تیار نہیں تھا۔ اس کا وقت آ چکا تھا اور وہ جانے کے لئے تیار تھا۔ جب سقراط کی زندگی کا آخری دن آیا تو اس کے کئی شاگرد اس سے جیل ملنے کے لیے آئے۔شاگرد سقراط کے گرد جمع ہیں۔سقراط نے ان میں سے ایک کو اپنے پاس بلاتا ہے۔ اس کے بالوں کو چھوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زندگی، موت اور روح کی ابدیت کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ” موت تو ابدی نیند ہے، وہ خود فراموشی کی میٹھی ابدی کیفیت ہے، جس میں کوئی ایذا رسانی نہیں، کو ئی ظلم اور نا انصافی نہیں، کو ئی مایوسی نہیں اور نہ ہی دکھ درد ہے یا پھر وہ ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر ہم زمین سے جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، وہ ایسی غلام گردش ہے جو ہمیں سیدھی خدا کے ایوان میں لے جاتی ہے اور دوستوں وہاں کسی کو اس کے خیالات کے باعث صلیب نہیں چڑھایا جاتا، لہذا ہنسو اور میرے جانے پر افسوس نہ کرو۔ جب تم میر ی قبر میں اتاروگے تو جان لینا کہ تم بس میرے جسم کو دفن کر رہے ہو میری روح کو نہیں”۔جب اس کو موت کی سزا دی گئی اس کے شاگرد جیل کی کوٹھڑی میں اس سے ملنے آئے ایک شاگرد نے کہا افسوس ہمارے استاد کو بے گناہ مارا جارہاہے۔سقراط نے زیر لب تبسم کے ساتھ کہا:”توکیا تم چاہتے تھے کہ میں گناہ کرنے کے بعد مارا جاؤں؟” مرنے سے چند لمحے پہلے سقراط کے ایک شاگرد نے اس سے پوچھا آپ کو کہاں دفن کیاجائے؟ سقراط نے جواب دیا: “اگر میں تمہارے ہاتھ آجاؤں تو جہاں جی چا ہے دفن کر دینا”۔سقراط نے ہنستے ہوئے اپنے روتے ہوئے شاگردوں کے سامنے زہر کا پیالہ پی لیا۔یہ واقعہ ایتھنز میں 404 قبل مسیح پیش آیا۔
۰۰۰۰ کتاب فلسفہ حیات اور نظریات ۰۰۰۰ سے

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    Bht mhbt

    Reply

کمنٹ کریں