سید محمد اشرف کی افسانہ نگاری

مضمون نگار : ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی

, سید محمد اشرف کی افسانہ نگاری

۱۹۸۰ کے بعد اردو افسانے میں فکروفن کی جو نئی جہتیں سامنے آئی ہیں اور طرزاحساس کے جو نئے رنگ پیدا ہوئے ہیں ان میں یقینا کئی لوگوں کا ہاتھ ہے مگر افسانے کی جمالیات کا علم، تہذیب وتاریخ سے آشنائی اور انسانی رشتوں کا عرفان لے کر جو افسانہ نگار بہت نمایاں ہو کر سامنے آئے ان میں سید محمد اشرف بھی ہیں۔


سید محمد اشرف ۱۹۵۷ ء میں سیتا پور میں پیدا ہوئے ۔اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور ان دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ڈارسے بچھڑے (۱۹۹۴) باد صبا کا انتظار(۲۰۰۰) اور دو ناول نمبر دار کا نیلا(۱۹۹۷) اور آخری سواریاں (۲۰۱۶)کے نام سے شایع ہوچکے ہیں۔افسانوی مجموعہ باد صبا کا انتظار پہ سید محمد اشرف کو ۲۰۰۳میںساہتیہ اکادمی انعام سے بھی نوازا جا چکا ہے۔


سید محمد اشرف دور حاضر کے ایسے دردمند فنکار ہیںجن کے فن کو ضابطوں اور اصولوں کی مٹھی میں بند کر کے دیکھنا یا دکھانا بہت مشکل ہے۔ خواہ یہ ضابطے اور اصول نئے ہوں یا پرانے۔ ہاں اگر ان کے فن کو سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کے لئے ضابطوں سے کام لینا ہی پڑے تو پھر یہ ضابطے خود انہیں کے فنّی رویّوں سے اخذ کرنے ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ ان کی قصّہ گوئی، سوچ، طرز احساس اور فنّی برتاؤ ہر لحاظ سے اردو افسانے کے ماضی اور حال دونوں سے اتنی مختلف ہے کہ نقدو نظر کے مروجہ اصول اس کی پرکھ کے لئے بہت کارآمد نہیں ہو سکتے۔ اشرف کی قصّہ گوئی کو سمجھنے کے لئے افسانے کے خدوخال اور بوطیقا کے بجائے افسانے کی جمالیات پر غور کرنا ہو گا کیونکہ انہوں نے اپنے سامنے پھیلے ہوئے افسانوی منظرنامے اور بعض مشہور اور اہم لکھنے والوں کے باوجود اپنے لئے ایک الگ راہ نکالی ہے اور افسانے کی نئی جمالیات کو تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جو شعری جمالیات سے یکسر مختلف ہے۔ بعض لوگ جو جمالیات کو محض احساس حسن کا نام دیتے ہیں انہیں سوسن لینگر کا یہ قول جاننا چاہئے کہ فنون لطیفہ کے شعبے میں جب ہم جمالیات کی بات کرتے ہیں تو ہماری تہذیب، ہمارا عہد، ہمارا ماحول، جغرافیہ، طرز فکر اور احساس حُسن ایک تاریخی معنویت کے ساتھ شامل رہتا ہے۔ اور اشرف نے اپنے افسانوں کی تخلیق یقینا عہد، محل وقوع اور تہذیبی وتاریخی تناظر کا احساس رکھتے ہوئے کی ہے اس لئے ان کے افسانوں میں جس انسانی تجربے کا اظہار ہے اس کا کینوس بہت وسیع ہے۔ مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنے عہد، اپنے ماحول، اپنے عہد کے تضادات اور تصادمات کو ایک ایسے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے جس میں ان کی افسانوی انفرادیت کے ساتھ ساتھ افسانے کی نئی جمالیات بھی موجود ہے۔ اس جمالیات میں ’’قصہ گوئی‘‘ ہی آخری منزل نہیں بلکہ اصل منزل وہ ہے جب افسانہ نگار کائنات کو اپنے اندر محسوس کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیتا ہے۔ اس صلاحیت کے بعد ہی افسانہ نگار کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے بنیادی خیال کے اظہار کے لئے کائنات کی مختلف اشیاومظاہر کو جب اور جس طرح چاہتا ہے استعمال کر سکتا ہے۔ اشرف اس منزل تک پہنچ گئے ہیں اس لئے لکڑبگھّا ہو یا کعبے کا ہرن، ہاتھی ہو یا گِدھ، بڑے پُل کی گھنٹیاں ہوں یا ببول کے کانٹے، قربانی کا جانور ہو یا اندھا اونٹ، جنگل ہو یا شہر، شجرہ ہو یا جنت، طوفان ہو یا رنگِ رائگاں ہر شئے کو جیسے چاہتے ہیں جب چاہتے ہیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ اپنی فکر اور اپنا بنیادی خیال پوری فنکاری اور قوت کے ساتھ پیش کردیتے ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں باہر کی کائنات کو اس کی تمام جزئیات کے ساتھ اندر کی کائنات سے جس طرح ہم آہنگ کرتے ہیں یہ ہنر ان کے ہم عصروں میں بڑی مشکل سے ملتا ہے۔ دراصل ان کے یہاں اپنی روایت، اردگرد پس منظر، پیش منظر اور اپنے اندرون سے جڑے رہنے کا جو تسلسل ہے یہ ان کی فنکاری کو ارفع بنانے کا سبب ہے –

اشرف خواب دھندلکوں میں سفر کرتے ہوئے بھی شعور کو ساتھ رکھتے ہیں۔ ان کی نگاہیں حالات وواقعات سے گزر کر ان اسرارورموزتک جا پہنچتی ہیں جہاں عام لوگوں کی نگاہیں نہیں پہنچ پاتیں۔ وہ زندگی کی سادہ اور سچی قدروں کی ترجمانی حرف واحساس کے فنکارانہ امتزاج کے ساتھ کرتے ہیں اور اپنے افسانوں میں ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق مسائل فرد کی محرومیاں، افلاس، محنت کا استحصال، روزمرہ کی زندگی کے دکھ سکھ اور انسانی رویوں کو اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں۔ اسی لئے فرد اور معاشرے کے درمیان ایک گہرے اور بامعنی رشتے کی تلاش وجستجو ان کے افسانوں کا حاصل بن جاتی ہے۔ وہ افراد کی نفسیات اور ان کے سلوک کی راہ سے فرد، خاندان، معاشرے اور قوم کی کج روی پر طنز وتنقید کرتے ہیں تو اس کی زد میں فرد اور اجتماع دونوں آجاتے ہیں۔ فرد کا رویہ صحت مند نہ ہو تو افراد کے تعلق سے بناہوا معاشرہ بھی غیرصحت مند ہوگا۔ محض اپنی خواہشات کی تکمیل، اپنی اپنی بقائے باہمی کی فکر، بزدلی اور کمینگی پیدا کرتی ہے اس لئے کعبے کا ہرن کے امیر میاں ہوں یا دعا کی میم صاحب، آخری موڑ کا شیام سندر ہو یا طوفان کا ٹاٹی والا سب ہمت شکن، بے حس اور بداسلوب معاشرے کو جنم دے رہے ہیں اور معاشرے کی تمام قوت روگ جیسے ہاتھیوں، لکڑبگھّوں اور نمبردار کے نیلوں کا روپ لے رہی ہے۔ اشرف اس معاشرے کا آئینہ دکھا کر قاری کے ماتھے پر سوالیہ نشان ثبت کر دیتے ہیں کہ ہماری تہذیب، انسانیت اور زندگیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ اسی لئے قاری کو ان کی اکثر کہانیوں کی بافت میں درد کی ایک زیریں لہر جاری وساری نظر آتی ہے ایسی لہر جس کے پیچھے زندگی کی گہری معنویت چھپی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ’’لکڑبگھّاہنسا‘‘ میں دیکھئے بظاہر افراد خاندان ایک دوسرے کا اعتماد حاصل کئے ہوئے ہیں مگر اپنے باطن میں ہر فرد ’’لکڑ بگھا پن‘‘ محسوس کرتے ہوئے اپنی چال سے ہراساں ہے۔ یہاں ہر شخص اپنی دنیا میں گم ہے، باتیں تو ایک دوسرے سے ملی ملائی ہیں مگر عمل کے اعتبار سے معمولی خوشیاں اور فوائد آڑے آکر ایک دوسرے کو فریب دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ایک فرد کو دوسرے فرد پر چپ چاپ حملہ کرنے کے لئے اُکسارہے ہیں۔ یہ جنگل کی وحشی فطرت ہے کیونکہ افراد کی چالوں میں لکڑبگھّا سرایت کر گیا ہے :


’’پاپا کے دوست خواجہ صاحب پاپا کو بزنس کے متعلق ایک اہم مشورہ دے کر جارہے تھے……جاتے جاتے جب خواجہ صاحب نے مڑ کر پاپا سے یہ کہا کہ اس کام کو ان کے مشورے کے مطابق کرنے میں پاپا کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا تو معلوم نہیں کیوں پاپا کو یہ محسوس ہوا کہ خواجہ صاحب کی آنکھیں بالکل سرخ ہوگئی ہیں اور ان سے درندگی ٹپک رہی ہے جیسے…..جیسے……پاپا نے خود کو بستر پر گرادیا‘‘ (لکڑبگھّا ہنسا)
’’اور پھر صبح جب پاپا سب سے پہلے سو کر اُٹھے تو ایک عجیب سی بات ہوئی انہیں ایسا لگا جیسے ان کی ٹانگوں سے چٹ چٹ کی آوازیں آرہی ہیں۔ وہ ٹھٹھک کر کھڑے ہوگئے چلے تو وہی آواز پھر سنائی دی۔ رک کر انہوں نے امی کی طرف دیکھا جو کھڑی ہوئی اپنے پیروں کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ ’’کیا تمہیں بھی‘‘؟ پاپا کے منہ سے اتنا ہی نکلا۔ ’’ہاں‘‘ امی نے ان کی طرف دیکھ کر روہانسی آواز میں جواب دیا۔ تھوڑی دیر بعد بڑی اپّی نے سہمے سہمے لہجے میں آکر بتایا کہ انہیں اپنی ٹانگوں سے چٹ چٹ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔‘‘ (لکڑبگھّا ہنسا)


یہاں علامت کی سطح انفرادی مرکز سے پھیل کر اجتماعی سیاست تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی سارا معاشرہ جنگل کے قانون کی گرفت میں ہے۔ جنگلی قانون ہر جگہ لاگو ہے بالکل ویسے ہی جیسے لکڑبگھّا معصوم لوگوں کے خون کا لاگو ہوگیا ہے۔ یہ افسانہ تہذیبی شکست وریخت، استحصال اور فرد کے منافقانہ رویوں کو بے لاگ اور حقیقت پسندانہ انداز میں نمایاں کرتا ہے۔ ’’لکڑبگھّا چپ ہوگیا‘‘ میں بھی افسانہ نگار نے اخلاقی آلودگی، انسانیت سوز رویّے اور خود غرضی وبے حسی کا ایسا ہی منظر پیش کیا ہے جسے دیکھ کر انسان تو انسان لکڑبگھّے پر بھی سکتے کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہاں پر ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ دونوں افسانوں میں اشرف نے مرکزی کردار دو بچوں کو بنایا ہے جو ابھی نوخیزی کی منزل میں ہیں ان کے لئے دنیا اتنی ہی معصوم، پاکیزہ اور بے ریا ہے جیسے وہ خود ہیں۔ منو معصوم ہے اس لئے اس کے پاؤں کے نیچے سے چٹ چٹ کی آواز نہیں آتی اور ٹرین کا لڑکا بھی معصوم ہے جو معمولی بسکٹ کی چوری پر بھی دکھ محسوس کرتا ہے اور بارش مین بھیگتے ہوئے رحم کی بھیک مانگنے والے آدمی پر شک کی نگاہ ڈالنا اس کے لئے تعجب کا امر ہے کیونکہ لڑکا شک وشبہے سے بلند ہے اس کے لئے انسانی دکھ درد کا ہر موقع، رحم چاہنے والا ہر شخص قابل رحم ہے۔ وہ مسافروں کی بے حسی پر ششدر ہے اور مونچھوں والے کے انداز گفتگو پر خون کے گھونٹ پی رہا ہے۔ یہ بچے افسانوں کے مرکزی کردار ہیں جو اپنی عمر اپنی معصومیت اور اپنے پاکیزہ زاویۂ نظر کے وسیلے سے انسان کو اس کے بھیانک روپ میں دیکھ سکتے ہیں اور یہی کردار دوسروں کے برخلاف کہانی کے مرکزی نکتے کو اس کی پوری شدت کے ساتھ محسوس کر سکتے ہیں کہ اخلاقی آلودگی اور انسانیت سوز حرکات سے سمجھوتہ کرتے رہنے والے بالغ نظر اور پختہ کار لوگ بھی اس شرف سے محروم ہو چکے ہیں۔ معصومیت اور تجربے کے تصادم پر مبنی یہ افسانے چوں کہ بنیادی طور پر سادگی، نیکی اور معصومیت کی نمائندگی کرتے ہیں اس لئے پورے معاشرے کے سامنے سوال قائم کرتے ہیں کہ کیا آنے والی نسلوں کی سادگی اور معصومیت کو ہم اپنی خودغرضی اور دنیاوی تجربات سے اسی طرح مجروح کرتے رہیں گے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو لکڑبگھّا بننے کی طرف راغب نہیں کر رہے ہیں؟


رشتوں کے بکھراؤ، قدروں کی پامالی اور انسانی بے حسی کی آئینہ داری کرنے والا اشرف کا خوب صورت افسانہ ’’آخری موڑ پر‘‘ بھی ایسے ہی سوالات اٹھاتا ہے۔ مگر یہاں بچے معصوم نہیں ہیں، یہ اب عمر کی اس منزل پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہم نے خود غرضی، بے حسی اور منافقت کو ان کی شخصیت کا حصّہ بنادیا ہے۔ اس لئے یہاں معصومیت اور تجربے کا تصادم نہیں بلکہ انسان کے مشین اور برانڈ بن جانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ نئے زمانے کے چار پانچ بچے سراج، زبیر، عامر، سلیمان اور رافعہ اور ساتھ میں ایک لاولد چچا جان جو اپنی وصیت ان بچوں کے نام کرنا چاہتے ہیں۔ بچے ایک اندھیری خوفناک رات میں اس بوڑھے کے ساتھ ٹرین میں سفر کر رہے ہیں۔ اسٹیشن ابھی دور ہے چھوٹے۔ چھوٹے دلچسپ قصوں سے بات ٹاٹا، برلا، گاڑی اور شیئرز کی ہونے لگتی ہے :
’’زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ٹاٹا ہی سب سے اچھا ٹرک بناتا ہے۔ نہیں صاحب۔ تھیوری اور ہے اصل حقیقت اور ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے سب سے اچھا ٹرک کون بناتا ہے۔ اس کمپنی کا نام ہے لی لینڈ۔ آپ پوچھئے گا ایسا کیوں؟ پوچھئے ایسا کیوں صاحب؟‘‘
(آخری موڑ پر)
دوسرے مسافر بھی اپنی اپنی باتوں میں لگے تھے۔ شیام سندر، عامر، زبیر اور سلیمان ایک دوسرے سے کمپیوٹر، ٹی وی کی باتیں اور جانوروں کے واقعے پر واقعے سن رہے تھے کہ ایک ادھیڑ آدمی جواب تک خاموش بیٹھا تھا اچانک بولا :
’’جانوروں والی بات پر مجھے ایک کتے کا واقعہ یاد آگیا۔ میں اپنے دوست کی کار میں ہائی وے پر جا رہاتھا۔ سامنے ایک بھورا کتا آگیا۔ دوست نے ہارن دیا تو وہ چونک کر سیدھے ہاتھ کی طرف بھاگا اور سامنے سے آنے والی کار سے کچل گیا۔ سڑک پر لیٹے لیٹے پھڑ کا اور مرگیا۔ ہم نے دیکھا وہیں کہیں سے ایک کالا کتا آیا پھر اس نے بے چینی سے اس مرتے ہوئے کتے کو بار بار سونگھا ایک طرف کو چلا پھر واپس لوٹا اور پھر اسے سونگھا۔ بار بار جاتا تھا اور واپس لوٹ آتا تھا۔ اس بیچ کالے کتے کی دم اکڑ کر بالکل سیدھی ہوگئی تھی۔ جب اسے بالکل یقین ہوگیا کہ بھورا کتا مر چکا ہے تو اس نے دھیرے دھیرے اپنی دم نیچے کی اور دیر تک وہیں سڑک کے کنارے سر جھکائے کھڑا رہا۔‘‘


اب کہانی کا آخری حصّہ ملاحظہ کیجئے۔ گاڑی رکتی ہے مسافر سڑک پار کرتے ہیں۔ ایک ٹرک ایک شخص کو کچلتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ وصیت کرنے والا بوڑھا چچا سناٹے میں ہے۔ لڑکی پوچھتی ہے کون تھا وہ؟ اور یہی اس کہانی کا مرکزی موڑ ہے شیام سندر نے بتایا :
’’حالانکہ اندھیرا تھا میں ٹھیک سے نہیں دیکھ سکا۔ لیکن معلومات اور تجربے سے بھی انسان بہت کچھ جان سکتا ہے۔ میرے لئے یہ بتانا مشکل نہیں ہے کہ وہ ٹرک یا تو اشوک لی لینڈ کمپنی کا تھا یا پھر ٹاٹا کمپنی کا۔‘‘
’’تب بوڑھے نے کانپتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے اور آنکھوں کو چھپالیا۔ سب مسافروں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب انہوں نے واضح انداز میں محسوس کیا کہ بوڑھے کے سینے سے ابلنے والی آوازیں سنائی تو نہیں دیتی تھیں لیکن ان آوازوں کا ارتعاش اتنا زبردست تھا کہ دوڑ تی ہوئی بس کا ایک ایک حصّہ کانپنے لگا تھا۔‘‘
یہ کیسا ارتعاش ہے؟ یہ انسان کی بے حسی، خود غرضی اور اس کے انسان سے برانڈ بننے تک کا عمل ہے۔ رشتے ناطے تعلقات سب نے اس لئے دم توڑ دیا کہ اس کے زندہ رہنے کے لئے جس ماحول اور آب وہوا کی ضرورت تھی وہ مفقود ہے۔ اب اپنی ذاتی زندگی کے خول میں بندانسان کے لئے موت کیا سے کیا ہوگئی۔ جانور کو تو اپنے ساتھی کی موت کا غم ہے مگر انسان کو انسان کی بالکل پروا نہیں۔ لڑکی مرنے والے کے بارے میں جاننا چاہتی ہے اور شیام سندرکا دماغ یہ سوچ رہا ہے کہ ٹرک اشوک لی لینڈ کا تھا یا ٹاٹا کمپنی کا۔ حقیقتاً انسان آج مشین اور برانڈ بن گیا ہے۔ زندگی اور موت کی معنویت، احساسات وجذبات اور ہمدردی و دردمندی کی جگہ کمپیوٹر، شیئر اور کمپنیوں نے لے لی ہے۔ آدمی اپنے معاشرے سے پوری طرح کٹ چکا ہے۔ اب اسے اقدار کے خلا میں تنہا زندگی گزارنا ہے یہی اصل سچائی ہے۔ تنہائی، عدم تحفظ، زندگی کی بے معنویت، اخلاقی خلا، ذات کا کرائسس، فرد کی گم شدگی، فناکاخوف، مشینی زندگی کی جبریت، اقدار کی شکست وریخت آج کی زندگی کے ایسے محر کات ومسائل ہیں جو ہر باشعور آدمی کے دل ودماغ کو ایک طرح کی الجھن میں ڈالے ہوئے ہیں۔ سید محمد اشرف کی حساس طبعیت نے ان باتوں کا کچھ زیادہ ہی اثر لیا ہے۔ اس لئے اس قسم کے محسوسات کااظہار ان کے افسانوں میں اکثر وبیشتر ملتا ہے اور بعض جگہ بڑی شدومد کے ساتھ۔ چنانچہ ’’طوفان‘‘ کی بنت پر بھی غور کیا جائے تو پورا افسانہ اسی مشینی زندگی کی جبریت اور احساسات کی بے معنویت کا استعارہ ہے۔ یہاں کوئی کسی کو خوش کرنا نہیں چاہتا کوئی کسی کی مسکراہٹ نہیں چاہتا غرض تو صرف اس اکسپوزر سے ہے جس سے مادی فائدہ حاصل ہو۔ اس افسانے کا سب سے اہم کردار بھی آٹھ برس کی ایک معصوم بچی پورنما ہے جس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ماں باپ طوفان میں بہہ گئے اور وہ ایک پیڑ سے چپکی رہ گئی تھی اس لئے بچ گئی۔ زبردست طوفان کی آمد اور اس کے نتیجے میں تباہی وبربادی نے بچوں کے ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین لی اور وہ چپ چپ سے رہنے لگے تھے۔ انہیں مختلف رفاہی اداروں اور انجمنوں کے ذریعہ نفسیاتی طور پر معتدل بنایا جا رہا تھا اور مسکرانا سکھایا جا رہا تھا تا کہ وہ اپنے دردوغم بھول کر نئی زندگی شروع کر سکیں۔ مگر یہاں بھی بچے استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔


’’پچھلے دو ہفتوں سے لگی ہوئی ہوں تب یہ بچے مسکرائے ہیں۔ بس ایسے ہی کسی نہ کسی طرح ان کو ان کی شخصیت پر بھروسہ دلا کر انہیں اچھی اچھی چھوٹی چھوٹی باتوں کے ذریعے خوش کر کے مسکرانے پر لے آتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ٹریننگ کے دوران بتایا تھا کہ اتنی بڑی ٹریجڈی کے بعد بچے مسکرائے نہیں تو ان کی آتما پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ یہ اکیلی بچی تھی جو اب تک نہیں مسکرائی تھی۔ آپ کے آنے کی برکت سے یہ مرحلہ بھی آسان ہوگیا ورنہ کل بہت مشکل ہوتی۔
کیوں کیا مشکل ہوتی؟


کل ان سب بچوں کا گروپ فوٹو ہوگا جو ایک بڑے میگزین میں چھپے گا اور ان بچوں کی مدد کے لئے ریلیف فنڈ کی اپیل بھی چھپے گی فوٹو گرافر کہتا ’’اسمائل‘‘ اور یہ لوگ چپ کھڑے رہتے تو مجھے کتنا افسوس ہوتا کہ اتنے سارے دنوں کی محنت برباد گئی‘‘ (طوفان)
سب کا سب دنیاوی کاروبار اور استحصال کا بازار ہے۔ دوسرے دن فوٹو گرافر اپنے معمول کے مطابق میگزین کے لئے تصویر اتارتے ہوئے بچوں کو مسکرانے کے لئے کہتا ہے۔ بچے مسکراتے ہیں۔ اچانک ایک ٹائی والا شخص نمودار ہوتا ہے اور کہتا ہے :
’’ایک تو نہادھو کر کنگھی کر کے آئے ہو اوپر سے فوٹو کھنچواتے وقت مسکراتے بھی ہو۔ کون تمہیں اناتھ سمجھے گا۔ کون تمہارے لئے پیسے بھیجے گا۔ کس کو وشواس ہوگا کہ تمہارے ماں باپ مر چکے ہیں۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر بچوں کے سنورے ہوئے بالوں کو بکھیر دیا اور زور سے غرایا ’’خبردار جو کوئی بھی مسکرایا چپ چاپ بیٹھے رہو مسکرانا مت‘‘۔ ’’یس‘‘ فوٹو گرافر چلایا سارے بچے اجڑے بالوں کے ساتھ سہمے سہمے بیٹھے رہے۔ کلک، کلک پھر کلک۔ تھنک یو، فوٹو گرافر نے عادتاً کہا۔‘‘ (طوفان)


اب اشرف کہانی کا نقطۂ انتہا پیش کرتے ہیں جس سے افسانہ افسانہ بن جاتا ہے :
’’اچانک بچوں میں سے پورنما دوڑتی ہوئی نکلی اور خاموش کھڑی آرادھنا کا ہاتھ پکڑ کر بے چینی کے ساتھ کچھ بولنا چاہا ’’آنٹی ہمیں اب مسکرانا ہے کہ چپ رہنا ہے‘‘
اس ایک جملے میں خارجی دنیا کی بے حسن مصنوعیت، برانڈزدہ زندگی کی بے معنویت اور استحصال پر ٹکی معاشرت پر معصومیت کی جو نشترزنی ہے وہ قاری کے ذہن میں سناٹا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا اظہار افسانہ نگار بھی کرتا ہے۔
’’ایک گہرا اور اجنبی سناٹا سارے میں پھیل گیا تھا اور اسی وقت بالکل اسی وقت ہم دونوں نے شاید ایک ساتھ ایسی آواز سنی جیسے بے شماروحشی درندے اپنے اپنے سہمے ہوئے شکاروں پر آہستہ آہستہ داؤ لگا کر اچانک غرّا کر ٹوٹ پڑے ہوں۔‘‘ (طوفان)


اشرف کے کئی افسانے معصومیت اور تجربے ، معصومیت اور قدروں کے تصادم پر مبنی ہیں جن میں ڈرامائی تاثر خلق کرکے وہ اچانک ایک گہرا اور بھرپور وار کرتے ہیں اور قاری کو بہت دیر تک ایک اندیکھے درد میں مبتلا رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں سارا زور کسی ایک آخری اقتباس یا کسی آخری جملے پر صرف ہوتا ہے اور کہانی کا ڈھانچہ اس ایک جملے یا اقتباس پر ٹکا ہوتا ہے۔ ’’آخری موڑ پر‘‘ کا آخری اقتباس جس میں شیام سندر نے لڑکی کے سوال کا جواب دیا یا ’’طوفان‘‘ کے آخر میں پورنما کا ایک جملہ افسانے کی بنیاد ہے جس پر کہانی کی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔ اس جملے کے علاوہ باقی سب اشرف کی کاریگری اور زور بیان ہے جس کے ذریعے قاری کو اس منتہاتک لے جانے کی کوشش کی گئی ہے جہاں بہت دیر تک وہ افسانے کے حصارسے باہر نہ نکل سکے۔ ان کے مشہور افسانے ’’دعا‘‘ میں معصومیت اور تجربے کا یہ تصادم سب سے زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے جس میں خوش حال افراد کی مکاری اور غریب طبقے کی علامت نوکر کو مجبوری کا استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے اور دکھایا گیا ہے کہ گاؤں سے شہر آکر ایک بچہ گھریلو کام کے لئے ملازمت کرتا ہے جس گھر میں وہ کام کررہا ہے اس کی تمام ذمہ داریاں صبح ۵بجے سے رات کے ۱۲ بجے تک خوشی خوشی نبھاتا ہے مگر رفتہ رفتہ اسے تجربہ ہوتا ہے کہ اس کے اپنے گھر اور اس گھر میں کیا فرق ہے اور اس کی حیثیت یہاں ایک کام کرنے والی مشین سے زیادہ نہیں۔ احساس اجنبیت کم ہونے کے بجائے بڑھتا جاتا ہے اور اسے پختہ کار اور ہشیار لوگوں کے طرز زندگی کا شعور حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لئے طوفان کی آمد پر جب اسکے مالک طوفان روکنے کی دعا پڑھنے کو کہتے ہیں تو وہ وظیفہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دل ہی دل میں طوفان کی شدت کی آرزو کرتا ہے تا کہ سب کچھ تاراج ہو جائے اور توہین ذات کے ازالہ کی صورت نکل آئے۔ اِس افسانے میں اشرف کی فنکاری عروج پر نظر آتی ہے۔ اختصار، کم بیانی اور نفسیاتی دروں بینی نے افسانے کو بے حد چُست، پراثر اور تہہ دار بنادیا ہے۔ بچہ اپنے مالک کا ہر حکم یا اس کی ہر بات دُہراتا ہے۔ بڑبڑانے اور دہرانے کا عمل انسانی نفسیات اور ردعمل کے احساس کو اجاگر کرتا ہے جس سے استحصال کا شکار ہونے والا ذہنی تسکین حاصل کرپاتا ہے۔ اشرف نے بچے کے ردعمل کو اس کی ’’بڑبڑاہٹ‘‘ کے ذریعہ پیش کرکے اپنی اعلیٰ فنکاری اور نفسیاتی مطالعے کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اختصار اور کم بیانی کا ثبوت سب سے واضح صورت میں آخر میں ملتا ہے جب بچہ دعا کرتا ہے۔ دعا تو اس نے مانگی مگر افسانہ نگار نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نے دعا میں کیا مانگا؟ اس کے باوجود کہانی کا بیانیہ اور لہجہ اشارہ کر دیتا ہے کہ بچے نے وہ مانگا جو گھروالوں کی خواہش نہیں تھی۔ ایجاز بیان کی کرشمہ سازی نے تاثر کی شدت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ اختصار اور ایجاز بیان کی ایسی کرشمہ سازی آپ ’’اندھااونٹ‘‘ ’’بادصبا کا انتظار‘‘، ’’ساتھی‘‘، ’’چمک‘‘، ’’نجات‘‘، ’’آدمی‘‘، ’’چکّر‘‘ اور ’’گِدھ‘‘ جیسے افسانوں میں بھی بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔


سید محمد اشرف کی ایک فنی خوبیی یہ بھی ہے کہ انہوں نے روایت سے بھرپور آگہی حاصل کی ہے اور پرانے موضوعات واسالیب کو بھی نئے طرز وانداز سے ہم آمیز کرکے فنکارانہ روپ دے دیا ہے مثلاً عشق اور محبت تو ہمارے فکشن کا بہت پرانا اور روایتی موضوع ہے مگر اشرف نے اپنے افسانے ’’تلاش رنگ رائگاں‘‘ میں اِسی پرانے اور روایتی موضوع کو اس خوب صورتی، ندرت اور تازگی کے ساتھ برتا ہے کہ ’’محبت‘‘ کو موضوع بنا کر لکھی گئی کہانیوں میں شاید ہی کوئی پرانی کہانی اس کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ تجریدیت کے رجحان نے محبت کی معصومیت اور اس کی کیفیت کو دبیز تہوں میں گم کردیا تھا۔ اشرف نے اس محبت کی بازیافت کی اور اتنے بھرپور انداز میں ایک کہانی تخلیق کر دی جس میں محبت ہی محبت ہے۔ امنگ ہے، جوش ہے ولولہ ہے تلاش اور جستجو ہے۔ قاری اس کے سحر انگیز ماحول میں خود کو گم ہوتا محسوس کرتا ہے اور محبت کا تجربہ اسے حسیات کی نئی منزلوں سے آشنا کراتا ہے اور محبت کا درد اس کی کسک، اس کی ٹیس اسے آج کے درد اور عصری حسیت کا ناگزیر حصّہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک طویل افسانہ ہے جس میں متن درمتن کئی افسانے یا کئی کرداروں سے وابستہ افسانے ایک دوسرے میں پیوست کچھ اس طرح مختلف رنگوں میں نمایاں ہوئے ہیں کہ جیسے یہ افسانہ ہفت پہلو شیشہ ہے جس میں الگ الگ طرز کے رنگ اور کیفیتیں ابھرتی رہتی ہیں۔ شاید اسی لئے سید محمد اشرف نے اس افسانے کی ہمہ گیر معنویت کو نمایاں کرنے کے لئے ایک ہشت پہلو شیشے کے ٹکڑے کو علامت کے طور پر بیان کیا ہے جس میں وہ تمام انوکھے، انجانے یا گم شدہ رنگ بھی موجود ہیں جو ارشد کی زندگی اس کے معاشقوں، اس کے احساس اور اس کے جمالیاتی سوالات کو رنگوں کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ ارشد کی زندگی میں جو محرومیاں ہیں، جو حسرتیں ہیں، جو خواہشیں ہیں انہیں بے نام رنگوں میں نمایاں کرنے کی ایسی کوشش ہمارے عہد میں کسی اور افسانہ نگار کے یہاں نہیں پیدا ہو سکی۔ اشرف کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بے تحاشا مفاہیم اور فکشن کے رشتوں کو تخلیق کرنے پر قادر ہیں۔ تقریباً نوے ۹۰؍ صفحات پر پھیلے ہوئے اس افسانے میں ہمارا عہد بھی ہے، ہمارے عہد کی محرومیاں اور محجوبیاں بھی ہیں ہمارے عہد کے وہ ہیرو اور ہیروئن ہیں جو عشق کے واردات سے گزرتے ہوئے جسم کے احساس اور لمس کی قوت سے باخبر تو ہوتے ہیں لیکن شہوت کی منزل تک نہیں پہنچتے۔ اشرف نے ایسے موقعوں پر جسمانی رشتے اور جسمانی لذتوں کو ایک جمالیاتی اشارے کے طور پر استعمال کرنے کے بعد مفہوم کی تہہ تک پہنچنے کے لئے سب کچھ قاری پر چھوڑ دیا ہے اور قاری اس مفہوم کو جان کر افسانے کے جمالیاتی حسن کا لطف تو اٹھا سکتا ہے ذہنی عیاشی نہیں کر پاتا۔ صرف ایک مثال :


’’یہ کیا ہے ارشد؟ پڑوس کی بیٹی نے اس اندھیرے کمرے میں لے جاکر اسے قریب کر کے پوچھا جہاں سب بچے آنکھ مچولی کھیلنے میں چھپتے تھے۔ ’’مجھے نہیں معلوم‘‘ غزالہ آپا کی گرم گرم سانسیں اس نے اپنے چہرے پر محسوس کیں۔ ’’تمہیں سب معلوم ہے‘‘ ’’اب تم بچے نہیں ہو‘‘ تب اس نے غور سے دیکھا اور ویسا ہی لذت بھرا خوف محسوس کیا جیسا رحمت علی کے مکان کی دیوار سے جھانکتی امرود کی شاخ سے امرود توڑتے وقت محسوس ہوتا تھا۔
اس نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ اٹھایا اور بہت دیر تک اس فکر میں ڈوبا رہا کہ اس کی انگلیاں سخت ہیں یا وہ جگہ
بہت نرم ہے‘‘ (تلاش رنگِ رائگاں)


یہ اقتباس بلاشبہ بدن کی لذت اور اس کے ارتعاش سے وابستہ ہے لیکن اشرف نے اس میں جمالیات کی ایسی شائستگی، بدن کا ایسا حسن شامل کر دیا ہے جو ہماری حسیات کو اندر سے گدگدانے کے باوجود شہوانی جذبات سے دور رکھتا ہے۔ جسم کے ایک مخصوص حصے سے آگاہی کے خوف کو پڑوسن کے مکان کی دیوار سے جھانکتی امرود کی شاخ سے امرود توڑتے وقت کے خوف سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے محسوسات کی پوری فضا ہماری نگاہوں کے آگے متحرک ہو اٹھتی ہے۔ اس کے بعد یہ جملہ کہ ’’اس نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ اٹھایا اور بہت دیر تک اسی فکر میں ڈوبارہا کہ اسکی انگلیاں سخت ہیں یا وہ جگہ بہت نرم‘‘ قاری کو عجیب وغریب لذت اور سرور سے آشنا کرتا ہے۔ بیان کی اسی معصومیت کے سبب اشرف کے یہاں جنس یا جنسی بیان کبھی شہوانیت یا ہوس کی سرحدوں میں داخل نہیں ہو پاتا۔ یہ اقتباس افسانے کے آغاز کا حصّہ ہے اس لئے قاری کو شروع ہی میں پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اسے ایک نشست میں افسانہ پڑھنے پر مجبور کردیتا ہے۔ اس طرح اشرف نہ صرف اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں بلکہ کہانی کے ٹریٹمنٹ اور اپروچ میں بھی ماہر اور منفرد دکھائی دیتے ہیں۔ افسانے کے آخر میں یہ سوال ضرور ذہن کو پریشان کرتا ہے کہ ارشد کو اپنے کسی معاشقے میں کامیابی کیوں نہیں ملتی؟ حالانکہ زندگی کے ہر موڑ پر اسے ایک لڑکی ملتی ہے جس میں وہ اپنا مخصوص رنگ تلاش کرتا ہے لیکن ٹریجڈی یہ ہے کہ جب جب اُسے وہ مخصوص رنگ قریب بہت قریب محسوس ہوا ہو ا کے ایک تیز جھونکے نے فاصلے کو بڑھا دیا اور ارشد ہمیشہ کی طرح دل مسوس کر رہ گیا۔ رنگ کی تلاش ساری عمر جاری رہتی ہے۔ مختلف لڑکیاں ملتی ہیں اس سے ٹکراتی ہیں اور زخموں میں اضافہ کرکے چلی جاتی ہیں اور آخر میں اس مقام پر پہنچا دیتی ہیں جہاں وہ اپنا سب کچھ کھو چکا ہوتا ہے تب گیتا کے ذریعہ قاری کو افسانہ نگار جواب دیتا ہے کہ ارشد جو مختلف لڑکیوں سے محبت کرتا ہے دراصل اُن سے نہیں خود سے محبت کرتا ہے اور شاید اسی لئے اس کہانی کا عنوان تلاش رنگِ رائگاں ہے کہ اپنے سے عشق تو نرگسیت ہے جو اصلاً انگِ رائگاں ہے۔ افسانہ ’’اندھااونٹ‘‘ میں بھی اشرف نے خود پسندی اور نرگسیت کا شکار ایسے ہی انسان کی روداد پورے فنکارانہ شعور کے ساتھ پیش کی ہے۔


اردو زبان کو موضوع بنا کر لکھاگیا ’باد صبا کا انتظار‘بھی اشرف کا شاہکار استعاراتی اور علامتی افسانہ ہے۔اس کی بنت میں علامت و استعارہ سے اس طرح کام لیاگیاہے کہ پہلی قرات میں افسانہ کھل کر سامنے نہیں آپاتا۔دراصل یہ افسانہ بیک وقت دو سطحوں پر آگے بڑھتا ہے ۔بظاہر ایک عام بیانیہ کہانی ہے جس میں ایک مریضہ اور اس کے علاج کے احوال درج ہیں۔مگر باطنی تہہ میں یہ راز ہوشیدہ ہے کہ مریضہ دراصل اردو کی زبوں حالی کی علامت ہے،جس کے سہارے اردو زبان کی تاریخی ،تہذیبی روایت ،ارتقا اور نئے زمانے میں اس کو درپیش مسائل کو بے حد فنکاری سے پیش کیاگیاہے۔کہانی میں کردار کم سے کم ہیں۔مرکزی طور پر ایک مریضہ ،درازقد بزرگ اور معالج اس افسانے کو شروع سے آخر تک اپنی گفتگو اور مکالمو ں سے باندھے رکھتے ہیں۔مریضہ کے علاج کے لئے جو معالج لایا جاتاہے وہ اس تہذیب سے بالکل نا آشنا ہے اس لئے پہلے تو دراز قد بزرگ اسے اس تہذیب کی باریکیوں سے روشناس کراتے ہیں اور اس طرح قاری اردو کی تہذیبی روایت سے آگہی حاصل کرلیتاہے۔ڈاکٹر مریضہ کی تشخیص اور چیک اپ کے بعد حیرت زدہ رہ جاتاہے کہ اس کے تمام اعضا درست اور توانا ہیں اس کے باوجود تنفس کا نظام کیوں خراب ہے؟اور پھر اس کے بعد اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ اس کے ارد گرد کا دائرہ اتنا تنگ کردیاگیاہے کہ باہر سے تازہ ہوا کا گزر نہیں ہوپارہاہے۔یعنی ماحول کی گھٹن اسے بہ آسانی سانس لینے میں مانع ہے اور اس کی صحت روز بروز رو بہ زوال ہے۔گویا اردو کی بقا اور حیات کے لئے تازہ ہوا اور بادصبا کی ضرورت ہے۔تعصب ،تنگ نظری اور گھٹن بھرا ماحول اس زبان کوافزائش کے بجائے دھیرے دھیرے موت کی طرف لے جارہاہے۔اشرف نے موجودہ عہد میں اردو کی زبوں حالی اور اس کے اسباب کو علامتی و استعاراتی انداز میں برت کر ایسا شاہکار افسانہ خلق کیاہے جس کی مثال شاید افسانے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اردو کی تاریخ ،تہذیب اور اس زبان کی اوصاف بیان کرنے کے لئے انہوں نے جو جملے تراشے ہیں وہ بیانیہ کے عمدہ نمونے ہیں۔مثلاً مریضہ یعنی اردو کا پیکرملاحظہ کیجیے:
’’وہ ایک دراز قد حسین و جمیل خاتون تھی۔اس کے بال ترکی نژاد عورتوں کی طرح سنہرے تھے
جن سے عمر کی شہادت نہیںملتی ۔اس کی پیشانی شفاف اور ناک ستواں اور بلند تھی۔آنکھیں نیم وا
اور سرمگیں تھیں۔ہونٹ اور رخسار بیماری کے باوجود گلابی تھے۔ہونٹ بھی نیم واتھے اور سفید موتی
سے دانت ستاروں کی طرح سانس کے زیروبم کے ساتھ رہ رہ کر دمک رہے تھے۔شفاف گردن
پر نیلگوں مہین رگیں نظر آرہی تھیںاور گردن کے نیچے کا عورت کا حصہ اٹھا ہواتھا اور مخروطی تھا۔
ساعد سیمیں کولہوں کے ابھار سے لگے ہوئے رکھے تھے۔‘‘(باد صبا کا انتظار)


اسی طرح اردو زبان کی دلکشی،خوبصورتی اور تاریخی جلال وجمال کو بڑی فنکاری سے انہوں نے مریضہ کے علاج کے دوران اس کے سینے سے نکلنے والی آوازوں کے سہارے پیش کیاہے۔وہ منظر ملاحظہ کیجیے جب معالج اسٹیتھواسکیپ کے ذریعہ اس کی سانسوں کو چیک کرتاہے تو متحیر رہ جاتاہے۔اس کے تحیر کو دراز قد بزرگ یہ بتاکر دور کرتے ہیں کہ
’’اس آواز میں میدان جنگ میں طبل پڑنے والی پہلی ضرب کی آواز کا ارتعاش بھی ہوگا۔دو
محبت کرنے والے بدن جب پہلی بار ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے ہونٹوں سے محسوس
کرتے ہیںوہ نرم لذت بھری آواز بھی ہوگی۔ملاگیری رنگ کی عبا پہنے صوفی کے نعرہ ٔ مستانہ
کی گونج بھی ہوگی۔دربار میں خون بہانے کا فیصلہ کرنے والے بادشاہ کی گرج بھی شامل
ہوگی۔صحرائوں میں بہار کی آمد سے متشکل ہونے والی زنجیر کی جھنک بھی ہوگی اور بنجر زمین
پر پڑنے والے موسم برشگال کے پہلے قطرے کی کھنک بھی ہوگی۔‘‘(بادصبا کا انتظار)
اسی طرح پورا افسانہ اردو کی تاریخ ،اس کے اوصاف اور حسن کے ساتھ عہد حاضر کی مخلوط زبان اور اس کے مضر اثرات کو استعاراتی اسلوب میں پیش کرتاہے۔ اشرف کایہ افسانہ ان کے مخصوص اسلوب سے ہٹ کر فنی ایجاز وا ظہارکابہترین اعجاز ہے،اور شاید اسی لیے انہوں نے اس افسانے کو اپنے مجموعے کا سرنامہ بھی بنایاہے۔
اشرف کی مذکورہ کہانیوں کے ذکر سے اتنا ضرور اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ روایت سے گریزاں نہیں بلکہ روایتی عناصرو عوامل کو انہوں نے نئے طرزوانداز سے ہم آمیز کر کے فنکارانہ رنگ وروپ دے دیا ہے۔ کلاسیکی کہانی کا شاید کوئی ایسا فنّی تقاضہ نہیں جسے انہوں نے بدلی اور نکھری شکل میں پیش نہ کیا ہو۔ مگر اس کے ساتھ ہی انہوں نے وقت پڑنے پر روایتی اسالیب سے ضروری انحراف بھی کیا ہے اور افسانوں میں انسان، جانور، جنگل اور دنیا کے پراسرار باہمی رشتوں، بدلتی ہوئی قدروں اور زندگی کے گمبھیر ڈراموں کو نئی تازگی اور قوت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بقول صغیر افراہیم
’’وہ نوع بہ نوع تخلیقی تجربوں کے ساتھ نہ صرف علامتی استعاراتی اور تمثیلی کہانیاں لکھتے ہیں بلکہ
جانور ستان کو فن کا حصّہ بنا کر اردو افسانے کی دنیا میں ایک نئی جہت بھی پیدا کرتے ہیں‘‘ (فکشن کی تنقید اور تجربہ)۔


اس کی واضح مثال ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ کی اکثر کہانیاں اور ناولٹ ’’نمبردار کا نیلا‘‘ ہے۔ مجموعہ ’’ڈار سے بچھڑے‘‘ کی اشاعت کے بعد بعض لوگوں نے ان سے موضوعات کی یک رنگی و محدودیت کا شکوہ کیا تھا مگر ’’بادصبا کا انتظار‘‘ میں شامل دعا، طوفان، اندھا اونٹ، بادصبا کا انتظار، ساتھی، نجات اور تلاش رنگ رائگاں جیسے افسانوں نے ثابت کر دیا کہ اشرف کے یہاں موضوعاتی تنوع نمایاں طور پر موجود ہے اور انہیں قدرت حاصل ہے کہ وہ کسی بھی موضوع کو اسی تاثر، فنکاری اور شدت سے پیش کر سکتے ہیں جس فنکاری سے جانوروں پر مشتمل کہانیاں پیش کرتے ہیں۔ جانوروں کے حوالے سے سید محمد اشرف سے ایک اور شکایت کی جاتی رہی ہے کہ ان کی کہانیوں پر ابوالفضل صدیقی اور رفیق حسین کی کہانیوں کا بڑا اثر ہے یا ’’پنچ تنتر‘‘ اور ’’کلیلہ ودمنہ‘‘ سے انہوں نے مواد حاصل کئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ اعتراضات اشرف کو غیر سنجیدگی اور سطحی طور پر پڑھنے کا نتیجہ رہے ہیں۔ یقیناً جانوروں کے وسیلے سے انسانی اعمال اور افعال پر تبصرہ کی روایت ہمارے یہاں قدیم زمانے سے موجود ہے۔ پنچ تنتر، جاتک، کدم راؤ پدم راؤ، خاورنامہ مورنامہ، فسانۂ عجائب وغیرہ میں جانوروں کی تمثیلی کہانیاں ہیں اور جانور کے توسط سے انسانی ڈرامہ پیش کیا جاتا ہے اور انہیں کی زبانی نصیحت آمیز باتیں کہی جاتی ہیں۔ یعنی ان میں ٹھوس قسم کی تمثیل نگاری ہوتی ہے بالکل ایسا لگتا ہے جیسے جانور انسان کی ادا کاری کر رہے ہیں یا انسانوں کے بدلے میں بول رہے ہیں جبکہ اشرف نے اس قسم کی سہل الحصول تمثیل وضع کرنے سے یکسر انحراف کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں جانور اور انسان متبادل حیثیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی سامنے ہونی چاہئے کہ اشرف کو جانوروں سے بچپن سے قربت رہی ہے۔ ان کے گھر میں بے شمار جانور پلے ہوئے تھے، ان کے بچپن میں شکار ممنوع نہیں تھا۔ انہیں شکار میں جانوروں کا مشاہدہ کرنے کا موقع براہ راست ملا۔ ان کا سامنا، ان کی حرکات وسکنات کا مطالعہ، ان کی جبلتوں کا مطالعہ، ان کی عادتوں کو دیکھنا یہ تمام چیزیں افسانہ نگار کو کسی خاص وقت تحریک دیتی ہیں کہ ان چیزوں کو انسانی زندگی کے پس منظر میں دیکھیں۔ اور ایسے وقت کچھ مماثلتیں کچھ نکتے ضرور سامنے آئیں گے جہاں آدمی سوچنے پر مجبور ہوگا کہ یہاں پر اس کے بجائے یہ ہوتا یا جانور کے بجائے انسان ہوتا یا انسان کے بجائے جانور ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس کی فضا کیسی ہوتی؟ وغیرہ۔ اشرف نے ایسے وقتوں کی سوچ کو ہی اپنے افسانوں کا مرکز بنایا ہے۔ جہاں تک رفیق حسین اور ابوالفضل صدیقی سے مماثلت کا تعلق ہے یہ بالکل بے معنی ہے۔ کیونکہ اشرف کی کہانیاں دونوں حضرات کی کہانیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ رفیق حسین اور ابوالفضل کے یہاں جانور بالکل جانور رہتا ہے اس میں کوئی فرق نہیں آتا ہے وہ صرف جانور کی نفسیاں اور اس کی مختلف کیفیات کے بارے میں ہمیں مطلع کرتے ہیں جو ہمیں پہلے سے کسی حد تک معلوم بھی ہوتی ہیں۔ ان کے یہاں شکار کے پس منظر میں جانوروں کا ذکر ہوتا ہے جیسے ہاتھی کے سلسلے میں یعنی ہاتھی جو روگ بن گیا ہو جو لاگو ہوگیا ہو۔ اشرف کے افسانے نہ تو جانور کی نفسیات بتانے کے لئے ہیں اور نہ تمثیل کے لئے ہیں بلکہ یہ جانور انسان کے متبادل ہوجاتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ جی چاہنے لگتا


ہے کہ یہاں انسان نہ ہوتا جانور ہوتا یا اس کے برعکس ہوتا۔ قاضی عبدالستار نے ’’ڈارے بچھڑے‘‘ کے فلیپ پر اس فرق کو بہت وضاحت اور خوبصورتی سے بتایا ہے لکھتے ہیں :
صدیقی کی زبان قدیم اور ثقیل ہے، جزئیات کی کھتونی اور تفصیلات کا کھلیان ان کی خصوصیات بھی ہیں اور کمزوری بھی ۔ نہ صرف یہ بلکہ صدیقی وہ سب کچھ لکھ ڈالتے ہیں جو انہیں نہیں لکھنا چاہئے۔ صدیقی کی کہانی کا ’’روگ‘‘ بہرحال شکار کر لیا جاتا ہے جبکہ اشرف کا روگ ٹھیک سے دکھلائی بھی نہیں دیتا لیکن افسانے میں موجود تمام انسانوں کے حواس پر چھا جاتا ہے۔‘‘ (فلیپ)
یہاں پر نکتہ یہ ہے کہ صدیقی کا روگ شکار کر لیا جاتا ہے اس لئے وہ صرف جانور ہے جبکہ اشرف کا روگ شکار نہیں ہوتا بلکہ گاڑی کی چاروں طرف دکھائی دیتا ہے اس لئے وہ صرف جانور نہیں بلکہ سماج میں موجود کرپشن، استحصال، بے قدری، خودغرضی اور مختلف برائیوں کی تمثیل بن جاتا ہے جو ہمارے پورے معاشرے سماج، زندگی میں پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ برائیاں سب کو دکھائی دے رہی ہیں مگر کوئی انہیں ختم نہیں کر پارہا ہے، کوئی اس کا شکار نہیں کر پارہا ہے۔ اس طرح صدیقی کی کہانی اکہری ہے جب کہ اشرف کی کہانی تہہ واراور معنویتوں سے بھرپور ہے۔ مہدی جعفر نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :


’’اشرف کے یہاں صریح اور شفاف علامت سازی ہے……ان کی تخلیق غیر مرئی حقیقتوں کو جانوروں کا تمثیلی روپ دیتی ہیں۔‘‘ (بیسویں صدی اور اردو افسانہ مرتبہ نارنگ ص۔۱۹۳)
اور یہ غیر مرئی حقیقتیں کیا ہیں؟ قدروں کا زوال، تہذیبی بکھراؤ، رشتوں کا ٹوٹنا بکھرنا، استحصال، کرپشن اور بے معنویت سے بھری زندگی۔ اشرف کے ایسے افسانوں میں منعکس ہونے والی تہذیب موجودہ عہد کا عطیہ ہے۔ موجودہ عہد جو جنگ وجدل اور ہلاکت آفرینی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ زر پرستی اخلاقیات کے برج الٹا چکی ہے۔ اغراض اور ذاتی مقاصد رشتوں کی قلب ماہیت کر چکے ہیں۔ انسان کیڑے مکوڑوں کی عادتیں اختیار کر رہے ہیں، جانوروں کی جبلتیں اپنا چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے اشرف نے دنیاوی بدیوں اور شیطنتوں کو صوفیا کی داخلی آنکھوں سے دیکھنے کا جتن کیا ہے اس لئے ان کے افسانوں میں لکڑ بگھّے، گدھ، ہاتھی، کتے اور اونٹ نظر آتے ہیں تو اس میں اچنبھے کی بات نہیں۔ انسان اپنے وطیروں میں جانوروں کی صورت نظر آنے لگے ہیں۔ حقوق غصب کرنا، دوسروں کے لہو سے اپنی پیاس بجھانا، ایک دوسرے کا گلا کاٹنا، غاصبانہ قبضے کرنا، جذباتی اور فطری میل جول کو روکنے کے لئے فصیلیں کھڑی کرنا اور حقیقی انسانی تمناؤں کو دفنانا آج کے انسانوں اور خصوصاً سیاسی وسماجی اداروں اور ان کے ٹھیکیداروں کا مشن ہے ایسے میں ہمارا افسانہ نگار اگر جدید پنچ تنتر ترتیب دے رہا ہے تو وہ عصری تقاضوں سے باخبر ہے۔ نئے عہد کا یہ پنچ تنتر نئے اخلاقی اور انسانی اسباق کا خزینہ سمیٹے ہوئے ہے۔ اشرف کی تمثیلوں اور علامتوں کے پس منظر میں طبقاتی تفاوتوں انسانی خودغرضیوں اور سماجی افراتفریوں نے کیا کردار ادا کیا ہے اس کی تفصیل کسی اور وقت پر اٹھا رکھئے یہاں تو فی الحال
یہی کافی ہے کہ ہمارے عہد کا یہ صاحب بصیرت افسانہ نگار ہمارے عہد کی بے

ضابطگیوں بدیوں، شقاوتوں اور ہلاکت آفرینیوں کی تصویر کشی میں منفرد ویکتا ہے۔
اس فنکار کو یکتا ومنفرد بنانے میں زندگی اور کائنات کے بارے میں اس کے مخصوص وِژن کے علاوہ اس زبان واسلوب اور طرز ادانے بھی اہم رول ادا کیا ہے جو معاصر افسانہ نگاروں سے منفرد ہونے کے علاوہ افسانوی جمالیات اور اسلوبی حسن کی تمام خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ یہ اسلوب صاف، شفاف اور تہہ دار ہے۔ اشرف نے اپنے بیانیہ کی بنیاد کہانویت پر رکھی ہے اور تجربے کے اکہرے پن اور ابہام سے گریز کرتے ہوئے ایسے عناصر کو جگہ دی ہے جو مفہوم کی کئی تہیں پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اگر ۱۹۷۰ کے پہلے کے ابہام سے اپنے کو بچایا ہے تو ۱۹۶۰ کے پہلے کے سپاٹ بیانیہ کی ناکامی بھی یقینا ان کے پیش نظر رہی ہے نتیجتاً ان کا بیانیہ ایسا تشبیہی واستعاراتی بیانیہ کہا جائے گا جو تلمیح وتمثیل کی آمیزش سے بے حد پرکشش اور خوب صورت ہوجاتا ہے۔ مگر ان کے ذریعہ استعمال کی گئی تشبیہیں عام یا پیش پا افتادہ نہیں بلکہ نئی اور افسانوی فضاسے ہی حاصل کی ہوئی ہوتی ہیں۔ بعض مقامات پر انہوں نے نئی تشبیہوں اور استعاروں کو باہم آمیز کرکے نثر میں گہری معنویت اور توانائی پیدا کی ہے۔ مثلاً :


’’برسوں پہلے کی تیز طرار، چکنی چپڑی، گوری چٹی دلہن سو کھی بکری کی طرح پھٹے لحاف کے نیچے بے حواس پڑی تھی‘‘ (چمک)
’’بجلی کے کھمبے زمین سے آن ملے اور ٹیلی فون کے پتلے لوہے کے کھمبے مڑ کر سوالیہ نشان بن گئے تھے۔‘‘ (طوفان)
’’خاموشی کا وہ اجنبی اور سناٹے کو گہرا کرنے والا مختصر وقفہ ایک ایسی زبردست آوازسے ٹوٹا جیسے بے شمار درندے اپنے سہمے ہوئے شکاروں پر آہستہ آہستہ داؤں لگا کر اچانک غرا کر ٹوٹ پڑے ہوں۔‘‘ (طوفان)
افسانے میں بیانیہ عرصہ عمل یا مکالموں کے توسط سے خلق کیا جاتا ہے۔ سید محمد اشرف کا اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے مکالموں کی وساطت سے حواسِ خمسہ کی خاطر خواہ مدارات کا اہتمام کرتے ہوئے عمل میں ایسی قوت اور تحریک پیدا کی ہے جو بیانیہ کو ڈرامائی کیفیت کا حامل بناتی ہے۔ مکالموں کو افسانوی ضرورت اور موقع کے لحاظ سے ڈھال دینا ماحول کی دہشت کو گرفت میں لانا اور مکالموں کے توسط سے وقوعے کو آرپار دکھانا اشرف کی ہنرمندی کا غماز ہے۔ یہاں مکالموں کا تفاعل واقعہ یا صورت حال کی تشریح کا نہیں بلکہ حسیاتی اور جذباتی تاثر کی شدت میں اضافہ کرنے کا ہے۔ ’’دعا‘‘ اور ’’آخری موڑ پر ‘‘ خاص طور سے اس لحاظ سے دلچسپ ہیں کہ کہانی کا بڑا حصّہ مکالموں کی صورت میں قاری تک پہنچتا ہے مگر کمال یہ ہے کہ مکالموں کے تو سط سے منظر نگاری کے عمل کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ کہانی خود بخود آخری موڑ تک جا پہنچتی ہے اور اپنا بھرپور تاثر قاری کے ذہن پر چھوڑتی ہے۔


کہانی ’’بادصبا کا انتظار‘‘ میں مکالموں نے افسانہ نگار کو ممکن حد تک غیر ضروری بیان سے گریز کا موقع دیا اس حد تک کہ ہزار سالہ داستان چودہ صفحات میں سماگئی۔ یہ مکالمے چُست، درست اور مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ فضا کو واضح کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ اشرف نے مکالموں کے توسط سے طنز کا فنی حربہ بھی تو اتر کے ساتھ استعمال کیا ہے بالخصوص افسانہ طوفان، دعا اور چمک میں طنز یہ جملوں اور فقروں کی کاٹ نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ افسانہ نگار نے جس طرح زبان کے باطن میں پوشیدہ بیانیہ کی قوت اور گہرائی کو دریافت کیا ہے اور زبان کے خلاقانہ استعمال سے قاری کو نئی لذتوں اور نئی راحتوں سے آشنا کیا ہے اس کی مثال بہت کمیاب ہے۔
اور آخر میں اشرف کے افسانوں کی ایک خصوصیت کی طرف اشارہ کرنے کو جی چاہتا ہے جو مجھے بہت پسند ہے کہ بڑے شہروں اور صارفی سماج کا حصّہ ہونے کے باوجودانہوں نے بیشتر قصبوں اور دیہی علاقوں کی کہانیاں لکھنے میں دلچسپی دکھائی ہے جن میں اپنی مٹی کی خوشبو ہے، ارضیت ہے اور دیہاتوں کے پرفضاماحول سے وابستگی کی چاہت ہے۔ ان افسانوں کے پس منظر میں دیہات اور قصبات کی فضا اپنے دامن میں ہر یالی شادابی، تازگی، معصومیت، کشادگی، پاکیزگی، بے تکلفی، سادگی اور انسانی پیار کو لئے ہوئے بہت آسانی سے قاری کے سامنے ابھر آتی ہے۔ دیہات اور قصبات کی زندگی کی وہ سہانی رُت جس کا تعلق تازہ ہوا کھلی فضا، چٹیل میدانوں، چاندنی راتوں، مسجدوں کے محراب ودر، مندر کی مورتیوں، صوفیوں کی خانقاہوں، آم کے گھنے باغوں، پھولوں سے مہکتے جنگلوں، بارش کے موسم کی رنگ رلیوں، اذانوں کی گونج، چڑیوں کی چہکار، رنگ رنگیلے پنکھ والے پنچھیوں، دریاوتالاب کے کناروں کی صبح وشام اور اس طرح نہ جانے کتنے خوش آئند مناظر اور ان مناظرسے پیدا ہونے والی کیفیتوں سے ہے کہ جن سے گاؤں کی زندگی مالامال اور شہر کی زندگی یکسر محروم ہے اشرف نے ان مناظرو کیفیات کو اپنے افسانوں میں ایسی خوش اسلوبی سے جگہ دی ہے کہ لفظی ومعنوی دونوں سطحوں پر اردو افسانے کے لئے نئے امکانات پیدا ہوگئے ہیں ایسے امکانات جو ایک طرف تہذیبی قدروں کی بحالی میں معاون ثابت ہوں گے اور دوسری طرف اردو افسانے کو نئے افق سے ہمکنار کریں گے۔


اشرف ایک سچے فنکار اور سچے انسان ہیں اس لئے دیہات کی صاف وشفاف پاکیزہ فضا کی طرح وہ خاندان، معاشرے اور پورے سماج کو صحت مند اور پاکیزہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک اخلاقی ضابطے اہم ہیں، انسانی رشتے اہم ہیں، فرداہم ہے اور افراد سے مل کر بنا ہوا معاشرہ اہم ہے۔ قدریں اہم ہیںاور قدروں کے زوال کی المناکی اہم ہے اس لئے اشرف کے افسانے ان کے خوابوں، تمناؤں، امیدوں اور بشارتوں کا پرتو لئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے انسانی صورتوں کو بگڑتے دیکھا ہے مگر یہ آرزو ان کے دل سے کبھی رخصت نہیں ہوئی کہ وہ انسانوں کو جانور کی بجائے انسانی روپ میں دیکھیں۔ وہ انسانی چہروں کے بگڑنے کے نوحے اس لئے رقم کرتے ہیں کہ اُن کے وِژن میں حقیقی انسان کے خدوخال موجود ہیں۔ حقیقی انسان جو
کعبے کا ہرن نہیں، جو گِدھ نہیں، جو لکڑبگھّا نہیں جو روگ نہیں اور جو دوسروں کے لئے ضرر رساں نہیں ہے۔ جو دنیا کو خوشیوں، رنگوں اور خوشبوؤں کا مسکن بنانا چاہتا ہے۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں