خواتین کا تبدیلی نام کا مسئلہ

مضمون نگار : اعزاز کیانی

, خواتین کا تبدیلی نام کا مسئلہ

ہمارے ہاں عموماً خواتین شادی کے بعد اپنا نام تبدیل کر دیتی ہیں اور نام کے ساتھ والد کے نام کے بجائے شوہر کے نام کو جزو نام بنا لیا جاتا ہے.


میرے نزدیک یہ اقدام نہ کسی قانون کی پابندی ہے, نہ کسی مذہبی حکم کی تعمیل ہے اور نہ اس اقدام کا محرک کوئی اور علت مثلا شوہر سے اظہار محبت یا استواری وفا ہے بلکہ یہ اقدام صرف ایک روایت ہے.


روایات کا معاملہ یہ یے کہ کسی معاشرے میں جب کوئی روایت اپنے عملی تواتر سے مستحکم ہو جاتی ہے تو معاشرے کے افراد غیر شعوری و غیر ارادی طور پر اس روایت کے عامل بن جاتے ہیں, چنانچہ یہ بھی ایسی ہی ایک روایت ہے.


قانون کا تقاضا اتنا ہی ہے کہ آپ بعد از نکاح اپنا نکاح ریاست کے پاس رجسٹرڈ کروائیں گے. اس کی ضرورت بھی اس لیے پیش آتی ہے تاکہ یہ نیا رشتہ ریاست کے ریکارڈ میں موجود ہو اور آئندہ جب کبھی مالی معمالات یا وراثت وغیرہ کے معملات طے کیے جائیں یا دیگر امور مثلاً کسی ملک کی شہریت یا سفری دستاویزات کی تیاری یا کسی نجی و سرکارہ کمپنی کی جانب سے کوئی تحفظ دیا جانا ہو تو ورثاء و اہل خانہ کا تعین بلا نزاع و اختلاف کیا جا سکے. شناختی کارڈ کی تجدید اور شوہر کے نام کا اضافہ ( یا الگ اندارج) بھی اس مذکورہ ضرورت کے تحت ہے.


اس سب کے باوجود اپنے سابقہ نام کو بالکل برقرار رکھا جا سکتا ہے.
نام کا انتخاب بلا تفریق جنس شخصی استحقاق ہے,کوئی عورت چاہے تو والد کے نام کو جزو نام بنائے, چاہے تو شوہر کا نام استعمال کرے یا چاہے تو کسی اور دوسرے نام کو یا اپنی ذات کو بھی جزو نام بنا سکتی ہے.

شیئر کریں

کمنٹ کریں