آسیب

نظم نگار : شاہین کاظمی سنا ہے ویران مکانوں میںآسیب بسیرا کر تے ہیںجہاں خوف کی بے رحم ساعتیںاپنے مکروہ پنجے گاڑےزندگی کا احساس تک چُوس لیتی ہیںپُراسرار دھندلکوں میں لپٹےویرانیوں کا دکھ سہتےآنگنجن کے درو دیوار سے پھوٹتیزمستانی ہواؤں کی سسکیاںاُداسی کو بھی ٹھٹھرا دیتی ھیںکھڑکیوں میں جھانکتی چاندنی تھک ہار کرمایوسی اُوڑھےسیاہ بادلوں… Continue reading آسیب