افسانہ: چھید

افسانہ نگار : مائرہ انوار راجپوت جتنی سفاک زندگی میرے ساتھ تھی اس سے کہیں زیادہ سفاک اور ظالم میں خود اپنے ساتھ تھی۔۔۔۔ایک ہی تجربہ بار بار ہونے کے باوجود خوش فہمیوں کی اونچی اونچی مگر کمزور بنیاد والی عمارتیں کھڑی کر لینا شاید میری فطرت تھی۔جسامت کے لحاظ سے بظاہر میں کمزور تھی… Continue reading افسانہ: چھید

افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

افسانہ نگار : شموئل احمد اب کچلنے کی ریت ہے۔اب ایک بار میں قتل نہیں کرتے ہیں۔اب آدمی کو سب مل کر کچلتے ہیں۔اخلاق کچلے گئے۔…. پہلو خاں کچلے گئے…..۔ا ور وزیر محترم کو فکر تھی کہ باقی گوشت کہاں ہے ؟ ایک گائے سے ڈیڑھ من گوشت برآمد ہوتا ہے۔اخلاق نے زیادہ سے زیادہ… Continue reading افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

تتلیاں آواز دیتی ہیں

افسانہ نگار : نصرت اعوان شام دور کھڑی شرما رہی تھی ۔آسمان سورج کی آخری تمازت سے گلابی ہونے لگا تھا۔۔ پرندوں کے جھنڈ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف محو پرواز تھے۔۔ہر روز نماز عصر کے بعد یہ منظر چاے کا کپ ہاتھ میں لیے بالکنی سے دیکھنا میرا معمول تھا۔میں کچھ دیر کے لئے… Continue reading تتلیاں آواز دیتی ہیں

پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟

مضمون نگار : صفدر امام قادری پریم چند اردو اور ہندی کے ان ادیبوں میں سرِفہرست ہیں جن کے پڑھنے والوں کا دائرۂ اثر روز بروز بڑھتاگیا۔ ِان زبانوں کے مشترکہ ادبی منچ پر ۱۹۳۶ ء میں پریم چندکی جو اہمیت تھی،آج وقت کے تناسب میں اس میں کافی اضافہ ہواہے۔ ادب اورسماج دونوں جگہ… Continue reading پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟

شجر ممنوعہ کی چاہ میں

افسانہ نگار : پرویز شہریار اُس نے کہا تھا۔’’ازدواج کی ادلابدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہارآجاتی ہے ،جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔‘‘اُس نے در اصل مجھ سے جھوٹ کہا تھا۔’’میں اُس شجر ِممنوعہ پر چڑھنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اِس… Continue reading شجر ممنوعہ کی چاہ میں

گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال

ڈاکٹر کہکشاں عرفان گورکھپور موجودہ وقت میں ہندوستانی جمہوری حکومت اور سیاسی افق پر رخشندہ وتابندہ شہر ہے۔ پہلے یہ شہر ادبی نقطۂ نظر سے اہم تھا کیونکہ ہندوستانی عناصر، اور گنگا جمنی تہذیب کے عکاس مشہور و معروف شاعر رگھوپتی سہائے گورکھپوری کی جائے پیدائش یہی شہر ہے۔ مجنوں گورکھپوری کی شاعری، افسانہ نگاری… Continue reading گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال