زنجیر ۔ سو لفظی کہانی

افسانہ نگار : سیف الرحمن ادیؔب چشمِ نم، تنِ پُر زخم، پارہ پارہ دل اور بہت سارا خون لے کر نکلا۔سنا تھا زنجیریں کھینچنے سے انصاف مل جاتا ہے، اسی لیے ڈھونڈنے لگا تھا۔حاکم کی دہلیز تو بہت دور تھی،منصف کا دروازہ بھی خالی تھا،کوتوال کے ہاں تو سونا چاندی کا راج تھا، لوہا کہاں… Continue reading زنجیر ۔ سو لفظی کہانی

افسانہ : نیم بے اولاد

افسانہ نگار : اشرف گِل گاؤں کے لوگوں کا تو یہی خیال تھا۔ کہ سراج دین ( عرف سا جھا) کی اب شادی نہیں ہونے والی ۔ کیونکہ اسکا کوئی سگا بھائی اور نہ ہی کوئی بہن تھی ۔ والدین جب تک زندہ تھے ۔ ان کے سہارے وہ اپنے دیگر خاندان کے لوگوں کے… Continue reading افسانہ : نیم بے اولاد

افسانہ : ادھوری عورت

افسانہ نگار : محمد شمشاد شاداب کی ماں برسوں سے بستر مرگ پر پڑی گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی اور وہ پیروں کے پاس بیٹھی اس کے لئے دعا کر رہی تھی کاش خدا…… اتنے میں اس کی ماں نے شاداب کو اپنی جانب مخاطب کرتے ہوئے کہا۔’’بیٹا شاداب! اب میں زندگی کی آخری… Continue reading افسانہ : ادھوری عورت

اللہ میاں کا کارخانہ ایک ٹائم مشین

مضمون نگار : حمیرا عالیہ ناول ‘اللہ میاں کا کارخانہ’ پہ بہت سی تحریریں لکھی جا چکی ہیں۔ جن میں تاثراتی سے لے کر تجزیاتی و تنقیدی ہر کسی قسم کی تحاریر شامل ہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں نا کہیں مجھے لگتا ہے اس ناول کا حق محض ایک مضمون لکھ کر ادا نہیں ہوسکتا۔… Continue reading اللہ میاں کا کارخانہ ایک ٹائم مشین

مردہ خانے میں عورت : فاشزم کو للکارتا ناول

مضمون نگار : عمران عاکف خان جدید ہندوستان میں فاشزم دسمبر میں آیا جب لوگوں کو غسل کیے کئی کئی دن ہوجاتے ہیں اور ان کے کپڑے کالے پڑجاتے ہیں اور اسے لانے والے خانہ بدوش تھے جنھیں ’گھومنتو‘کہا جاتاتھا اور ان میں سے ایک مارخیز کے شہر سے آیا تھا۔وہ بوڑھا تھا،بندروں کی نسل… Continue reading مردہ خانے میں عورت : فاشزم کو للکارتا ناول

افسانہ: چھید

افسانہ نگار : مائرہ انوار راجپوت جتنی سفاک زندگی میرے ساتھ تھی اس سے کہیں زیادہ سفاک اور ظالم میں خود اپنے ساتھ تھی۔۔۔۔ایک ہی تجربہ بار بار ہونے کے باوجود خوش فہمیوں کی اونچی اونچی مگر کمزور بنیاد والی عمارتیں کھڑی کر لینا شاید میری فطرت تھی۔جسامت کے لحاظ سے بظاہر میں کمزور تھی… Continue reading افسانہ: چھید

افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

افسانہ نگار : شموئل احمد اب کچلنے کی ریت ہے۔اب ایک بار میں قتل نہیں کرتے ہیں۔اب آدمی کو سب مل کر کچلتے ہیں۔اخلاق کچلے گئے۔…. پہلو خاں کچلے گئے…..۔ا ور وزیر محترم کو فکر تھی کہ باقی گوشت کہاں ہے ؟ ایک گائے سے ڈیڑھ من گوشت برآمد ہوتا ہے۔اخلاق نے زیادہ سے زیادہ… Continue reading افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

تخمِ خوں (چوتھی قسط)

ناول نگار : صغیر رحمانی دو ضلعے کا جغر افیہ کچھ یوں تھا۔۔۔۔۔پورا ضلع دو حصوں میں منقسم تھا اور اسے دو حصوں میں بانٹتی تھی درمیان کی ریلوے لائن۔ ریلوے لائن کے شمال میں گنگا ندی بہتی تھی۔ہر سال برسات کے موسم میں اس علاقے کا نصف سے زائد حصہ باڑھ کی چپیٹ میں… Continue reading تخمِ خوں (چوتھی قسط)

تتلیاں آواز دیتی ہیں

افسانہ نگار : نصرت اعوان شام دور کھڑی شرما رہی تھی ۔آسمان سورج کی آخری تمازت سے گلابی ہونے لگا تھا۔۔ پرندوں کے جھنڈ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف محو پرواز تھے۔۔ہر روز نماز عصر کے بعد یہ منظر چاے کا کپ ہاتھ میں لیے بالکنی سے دیکھنا میرا معمول تھا۔میں کچھ دیر کے لئے… Continue reading تتلیاں آواز دیتی ہیں

افسانہ : کتے کا بچہّ

اختر سعید مدان یہ اُن دنوں کا ذکر ہے،جب میں بڑے بھائی کے ساتھ پنساری کی دُکان کیا کرتا تھا۔دُکان پر جڑی بوٹیوں کے علاوہ شربت شیرہ اور مربہ جات بھی فروخت ہوتے تھے۔گرمیوں میں مشروبات کی خاصی گاہکی ہوتی تھی۔مقامی لوگ سوڈے کی مہنگی بوتلیں خریدنے کی بجائے دیسی شربت سے پیاس بجھانے کو… Continue reading افسانہ : کتے کا بچہّ