افسانہ

ادھوری عورت

افسانہ : ادھوری عورت

افسانہ نگار : محمد شمشاد شاداب کی ماں برسوں سے بستر مرگ پر پڑی گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی اور وہ پیروں کے پاس بیٹھی اس کے لئے دعا کر رہی تھی کاش خدا…… اتنے میں اس کی ماں نے شاداب کو اپنی جانب مخاطب کرتے ہو...

افسانہ: چھید

افسانہ: چھید

افسانہ نگار : مائرہ انوار راجپوت جتنی سفاک زندگی میرے ساتھ تھی اس سے کہیں زیادہ سفاک اور ظالم میں خود اپنے ساتھ تھی۔۔۔۔ایک ہی تجربہ بار بار ہونے کے باوجود خوش فہمیوں کی اونچی اونچی مگر کمزور بنیاد وال...

سونے کی انگوٹھی

سونے کی انگوٹھی

افسانہ نگار : زین العابدین خاں میرے گائوں میں جو آدمی ممبئی میں جاکر ٹیکسی چلانے لگتا تھا اُسے سب لوگ اچانک سیٹھ کہنے لگتے تھے۔پہلے تو اِس گائوں سے لوگ کلکتہ پولیس میں نوکری کیے ،اِس کے بعد بہار پولی...

افسانہ / تتلیاں آواز دیتی ہیں

تتلیاں آواز دیتی ہیں

افسانہ نگار : نصرت اعوان شام دور کھڑی شرما رہی تھی ۔آسمان سورج کی آخری تمازت سے گلابی ہونے لگا تھا۔۔ پرندوں کے جھنڈ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف محو پرواز تھے۔۔ہر روز نماز عصر کے بعد یہ منظر چاے کا کپ ہ...

افسانہ :ہمیشہ دیر ھوجاتی ھے مجھ سے

افسانہ نگار : رفعت مہدی حمزہ کو رخصت کرنے کے بعد چند ایک کام نمٹا کر میں کھڑکی کے قریب کرسی پر بیٹھ گئی۔اور اپنے واحد دوست اس نیچی چھت ، گول برآمدے والے زرد مکان کو پر تجسّس نگاھوں سے دیکھنے لگیجی ہا...

خدا گم ہوگیا ہے

خدا گم ہوگیا ہے

افسانہ نگار : امر جلیل کچھ دنوں سے خدا گم ہوگیا ہے، میرا دوست ہے، ہمارا آپس میں جھگڑا بھی نہیں ہوا تھا بس کھڑے کھڑے گم ہوگیا۔تھوڑی دیر کے لئے مجھے خیال آیا کہ خدا کو یقیناً گم کرنے والوں نے گم کردیا...

افسانہ / کتے کا بچہ

افسانہ : کتے کا بچہّ

اختر سعید مدان یہ اُن دنوں کا ذکر ہے،جب میں بڑے بھائی کے ساتھ پنساری کی دُکان کیا کرتا تھا۔دُکان پر جڑی بوٹیوں کے علاوہ شربت شیرہ اور مربہ جات بھی فروخت ہوتے تھے۔گرمیوں میں مشروبات کی خاصی گاہکی ہوتی ...

arshad muneem/ارشد منیم

اکیسویں صدی میں پنجاب کے اہم اُردو افسانہ نگار: ارشد منیم

مضون نگار: رخسانہ اردو افسانے کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستانی زندگی کا ہر شعبہ درہم برہم ہو چُکا تھا اور بہت ساری مذہبی و اصلاحی تحریکیں سر گرم تھیں۔ انھیں تحریکات ک...

Perwaiz Shaharyar/پرویز شہریار

شجر ممنوعہ کی چاہ میں

افسانہ نگار : پرویز شہریار اُس نے کہا تھا۔’’ازدواج کی ادلابدلی سے فرسودہ رشتے میں نئی بہارآجاتی ہے ،جس سے رشتے کی جڑ مضبوط ہوتی ہے اور محبت کے بوسیدہ شجر میں نئی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں۔‘‘اُس نے در ا...