تنقید و تحقیق

ایک گدھے کی سرگزشت

ایک گدھے کی سرگزشت

تحریر: بسمل آزاد کرشن چندر کا شُہرہ آفاق ناول ہے ۔ حرف اوّل سے آخر تک مصنف نے سماجی رویوں ،جنسیاتی تفریق اورذہنی پس ماندگی کو ایک گدھے کی آپ بیتی کے ساتھ جوڑکر ،دلنشین پہرائے میں ، جدلیاتی طرزِاستد...

مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ : خواب زاروں کا مصور اور داستان گو

مضمون نگار : مشرف عالم ذوقی کسی زمانے میں خراسان ادب و تصوف کا مرکز تھا، شیخ فرید الدین عطار کا تعلق عظیم خراسان کے نیشا بور سے تھا۔۔۔ شیخ فرید الدین جو پیشے سے عطار بھی تھے ، ایک دن اپنا مطب بند کر د...

تجھ بن ذات ادھوری ہے : مختصر جائزہ

تجھ بن ذات ادھوری ہے : مختصر جائزہ

مضمون نگار: محسن اسرار، کراچی یہ کامی شاہ کے شعری مجموعہ کا نام بھی ہے اور ایک اچھا مکالمہ بھی۔ اگر ہم اس فریز کا منطقی جائزہ لیں تو کامی شاہ کی شاعری کا بہت قریب سے تجزیہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح غائب اور ...

تنقید کے اقسام

تنقید کی اقسام

تحقیق کی طرح تنقید بھی ادبی دنیاکے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا پرانا ساتھ ہے۔مگر تحقیق اور تنقید ندی کے دو کناروں کی مانند ہیں۔ جو آپس میں مل نہیں سکتے مگر ہمیشہ ایک سات...

فقیر عبداللطیف ابُوشامل

قدیم، اک نعرہء مستانہ

تحریر: فقیر عبداللطیف ابُوشامل یہ شاہوں کے ساتھ فقیروں کا ناتا پُرانا ہے، جی بہت پُرانا۔ لیکن یہ وہ شاہ نہیں جو خلق خدا پر بہ زور مسلّط ہوجائیں اور انہیں اپنا غلام بنا لیں، نہیں، نہیں وہ نہیں! بالکل ب...

سید کامی شاہ /syed kami shah

حیرت اور دریافت کا کھیل

تحریر: سید کامی شاہ، کراچی ماہرینِ ادب اور نقادانِ فن نثری نظم کی جو بھی تعریف معتین کریں مجھے ذاتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ نثری نظم ایک چیخ ہے اور چیخ کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی،دکھ میں، بے بسی میں، ج...

کہکشاں عرفان/kahkashan irfan

علی سردار جعفری کے افسانوں کا تحقیقی مطالعہ اور تنقیدی جائزہ

ڈاکٹر کہکشاں عرفان سردار جعفری کسی ایک شخصیت کا نام نہیں ہے کیونکہ جب ہم ان کی حیات اور شخصیت کے ساتھ ان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اردو ادب کے افق پر دور دور تک ان کی تخلیقات ان...

مشرف عالم ذوقی

فضلے کے ڈھیر پر بیٹھا نقاد اور موضوع کی اہمیت

سنڈے اسپیشل کالم کالم نگار :مشرف عالم ذوقیlafznamaweb@gmail.com دی روڈس تو فریڈم سارترے نے ١٩٤٠ میں تحریر کیا . ان کا ارادہ ان ناول کو چار حصّوں میں مکمل کرنے کا تھا . مگر تیسرے حصّے آئرن ان دی سول کے...

فرخندہ خندہ: شعر و نثر کا بِھنڈا

از حافظ صفوان صاحب ۔ جس کے ہاتھ میں قلم ہو وہ تنہا نہیں ہوتا۔ اور جس کا قلم نظم و نثر دونوں میں رواں ہوجائے وہ نہ صرف اظہارِ ذات کرسکتا ہے بلکہ روحِ عصر کے تاروں سے حسبِ دلخواہ موسیقی بھی کشید کرسکتا ...