جھوٹ کا بازار

افسانہ جھوٹ کا بازار افسانہ نگار: زین العابدین خاں فرزانہ کے ساتھ جب سے زِنا بالجبر ہوا تھا وہ اپنے آپ کو ہمیشہ کمرہ میں بند رکھتی تھی ،کبھی وہ اپنے چہرہ کو دیکھتی اور بے شماراُس کے ناخنوں کے نشان کو دیکھتی جیسے کِسی خونخوار بھیڑیے نے اُسے نوچا ہو ۔یہ زانی یا زِنا… Continue reading جھوٹ کا بازار

سیف الرحمن ادیؔب کی سولفظی کہانیاں

افسانہ نگار : سیف الرحمن ادیؔب جلیبی سو لفظی کہانی وہ جلیبی کا ٹکڑا تھا،جو حلوائی کے تھال سے نیچے گر گیا تھا۔گرتے وقت صاف تھا،لیکن چند ہی لمحوں میں دھول ہو گیا،اس پر لگی چکناہٹ مٹی کو اپنے سینے سے لگا رہی تھی۔بھرا بازار تھا،کوئی سامنے سے گزرتا تو وہ ٹکڑا کچھ دیر کو… Continue reading سیف الرحمن ادیؔب کی سولفظی کہانیاں

زنجیر ۔ سو لفظی کہانی

افسانہ نگار : سیف الرحمن ادیؔب چشمِ نم، تنِ پُر زخم، پارہ پارہ دل اور بہت سارا خون لے کر نکلا۔سنا تھا زنجیریں کھینچنے سے انصاف مل جاتا ہے، اسی لیے ڈھونڈنے لگا تھا۔حاکم کی دہلیز تو بہت دور تھی،منصف کا دروازہ بھی خالی تھا،کوتوال کے ہاں تو سونا چاندی کا راج تھا، لوہا کہاں… Continue reading زنجیر ۔ سو لفظی کہانی

گِدھ ۔ سو الفاظ کی کہانی

افسانچہ : گِدھ سیف الرحمن ادیؔب وہاں بہت ساری گنجی گردنیں بیٹھی تھیں، موت کے انتظار میں۔گویا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کی تعداد کیا ہے؟بےشمار گدھ، سب کی ٹکٹکی ایک ہی جانب بندھی ہوئی تھی،سامنے موجود لاچار اور مسکین وجودوں پر،جن کی دبتی سانسیں حرام خوروں کو نوید سنا رہی… Continue reading گِدھ ۔ سو الفاظ کی کہانی

مولوی صاحب

افسانہ : مولوی صاحب صفدر علی حیدری حلیہ تو روایتی مولویوں جیسا ہی تھا ہاں مگر ایک بات اسے دوسروں سے ممتاز کرتی تھی اور وہ تھی آنکھ میں شرم اور لحاظوہ سر جھکا کر بات کرتا تھا ۔۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں جھانکنے میں خاصی دقت ہوئی بار بار اسے مخاطب کرنا پڑا… Continue reading مولوی صاحب

افسانہ : نیم بے اولاد

افسانہ نگار : اشرف گِل گاؤں کے لوگوں کا تو یہی خیال تھا۔ کہ سراج دین ( عرف سا جھا) کی اب شادی نہیں ہونے والی ۔ کیونکہ اسکا کوئی سگا بھائی اور نہ ہی کوئی بہن تھی ۔ والدین جب تک زندہ تھے ۔ ان کے سہارے وہ اپنے دیگر خاندان کے لوگوں کے… Continue reading افسانہ : نیم بے اولاد

سونے کی انگوٹھی

افسانہ نگار : زین العابدین خاں میرے گائوں میں جو آدمی ممبئی میں جاکر ٹیکسی چلانے لگتا تھا اُسے سب لوگ اچانک سیٹھ کہنے لگتے تھے۔پہلے تو اِس گائوں سے لوگ کلکتہ پولیس میں نوکری کیے ،اِس کے بعد بہار پولیس میں نوکری کیے ،وہ لوگ بھی اچھا پیسہ کمائے ۔اگر اچھے تھانہ میں چلے… Continue reading سونے کی انگوٹھی

افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

افسانہ نگار : شموئل احمد اب کچلنے کی ریت ہے۔اب ایک بار میں قتل نہیں کرتے ہیں۔اب آدمی کو سب مل کر کچلتے ہیں۔اخلاق کچلے گئے۔…. پہلو خاں کچلے گئے…..۔ا ور وزیر محترم کو فکر تھی کہ باقی گوشت کہاں ہے ؟ ایک گائے سے ڈیڑھ من گوشت برآمد ہوتا ہے۔اخلاق نے زیادہ سے زیادہ… Continue reading افسانہ : گائے ہماری ماتا ہے

افسانہ : کتے کا بچہّ

اختر سعید مدان یہ اُن دنوں کا ذکر ہے،جب میں بڑے بھائی کے ساتھ پنساری کی دُکان کیا کرتا تھا۔دُکان پر جڑی بوٹیوں کے علاوہ شربت شیرہ اور مربہ جات بھی فروخت ہوتے تھے۔گرمیوں میں مشروبات کی خاصی گاہکی ہوتی تھی۔مقامی لوگ سوڈے کی مہنگی بوتلیں خریدنے کی بجائے دیسی شربت سے پیاس بجھانے کو… Continue reading افسانہ : کتے کا بچہّ

لِواِن ریلیشن سے پرے

افسانہ نگار : ڈاکٹرپرویز شہریار بھوک کی جبلت نے اُن دونوں کوایک کروڑ بیس لاکھ کی گنجان آبادی والے شہر میں ایک چھت کے نیچے ایک ہی کمرے کے اندر بلکہ ایک ہی بستر پر سونے کے لیے مجبور کردیا تھا۔بھوک چاہے ناف کے اُوپر کی ہو یا ناف کے نیچے کی—– بھوک تو بھوک… Continue reading لِواِن ریلیشن سے پرے