ناول نگاری

اللہ میاں کا کارخانہ

اللہ میاں کا کارخانہ ایک ٹائم مشین

مضمون نگار : حمیرا عالیہ ناول ‘اللہ میاں کا کارخانہ’ پہ بہت سی تحریریں لکھی جا چکی ہیں۔ جن میں تاثراتی سے لے کر تجزیاتی و تنقیدی ہر کسی قسم کی تحاریر شامل ہیں۔ لیکن پھر بھی کہیں نا کہیں مج...

مردہ خانے میں عورت

مردہ خانے میں عورت : فاشزم کو للکارتا ناول

مضمون نگار : عمران عاکف خان جدید ہندوستان میں فاشزم دسمبر میں آیا جب لوگوں کو غسل کیے کئی کئی دن ہوجاتے ہیں اور ان کے کپڑے کالے پڑجاتے ہیں اور اسے لانے والے خانہ بدوش تھے جنھیں ’گھومنتو‘کہا جاتاتھا او...

تخمِ خوں

تخمِ خوں (چوتھی قسط)

ناول نگار : صغیر رحمانی دو ضلعے کا جغر افیہ کچھ یوں تھا۔۔۔۔۔پورا ضلع دو حصوں میں منقسم تھا اور اسے دو حصوں میں بانٹتی تھی درمیان کی ریلوے لائن۔ ریلوے لائن کے شمال میں گنگا ندی بہتی تھی۔ہر سال برسات کے...

تخمِ خوں/tukhme khoon

تخمِ خوں (تیسری قسط)

ناول نگار : صغیر رحمانی سب کچھ تو ٹھیک ہی ہے۔۔۔۔۔ پھر کا وجہ ہے کہ۔۔۔۔۔؟‘ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ آخر اس وقت اسے کیا ہو جاتا ہے؟ اس کی پیٹھ پرسڑ سڑ چابک پڑتا ہے لیکن وہ ایک قدم بھی چل نہیں پاتا۔ ہنہ...

Sagheer Rehmani /صغیر رحمانی

تخمِ خوں:دوسری قسط

دوسری قسط ناول نگار : صغیر رحمانی ٹینگر تانگا لے کر جب نارائین پور پہنچا تو اس وقت چھہ بج رہے تھے۔ اس نے سڑک کنارے پیپل کے پیڑ کے نیچے تانگا روک دیا اور سواریوںسے کرایہ کے پیسے لینے لگا۔ کرایہ دینے کے...

مشرف عالم ذوقی

سنڈے اسپیشل کالم

اردو ناول ، ٢٠٠٠ کے بعد کا منظر نامہ ، مختصر نوٹ کالم نگار : مشرف عالم ذوقی وقت کے ساتھ ناول اور فکشن کی دنیا بہت حدتک تبدیل ہوچکی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارا نقاد آج بھی فکشن اورناول کو اپنی اپنی تعریف و...

shahab zafar azmi /شہاب ظفر اعظمی

اکیسویں صدی میں اردو ناول

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی جس شکست وریخت، پیچ وخم اور انقلاب سے دوچار رہتی ہے اس کے اظہار کا سب سے بہتر وسیلہ بننے کی صلاحیت اگر کسی صنف میں ہے تو وہ صرف ناول میں ہے، کیون...

محمد عباس

سرشار اور فنِ ناول نگاری

مضمون نگار : محمد عباس ہم جس ماحول میں جی رہے ہوں، اس سے شناسائی اپنے تمام حواس کی بدولت حاصل کرتے ہیں۔مثلاً دن کے وقت ہم پرانی انار کلی سے گزر رہے ہیں، ایک دنیا ہے کہ ہمارے آگے پیچھے رواں ہے۔ ہمارے ...

“میں تمثال ہوں؛ یہ ناول شاہراہِ عام نہیں”

ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مسائل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ ہم اپنی زندگی چند مقدس متون کے سکرپٹ کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دور_حاضر میں درپیش مسائل کے مطابق ان میں کوئی ترمیم نہی...