سیف الرحمن ادیؔب کی سولفظی کہانیاں

افسانہ نگار : سیف الرحمن ادیؔب جلیبی سو لفظی کہانی وہ جلیبی کا ٹکڑا تھا،جو حلوائی کے تھال سے نیچے گر گیا تھا۔گرتے وقت صاف تھا،لیکن چند ہی لمحوں میں دھول ہو گیا،اس پر لگی چکناہٹ مٹی کو اپنے سینے سے لگا رہی تھی۔بھرا بازار تھا،کوئی سامنے سے گزرتا تو وہ ٹکڑا کچھ دیر کو… Continue reading سیف الرحمن ادیؔب کی سولفظی کہانیاں

گِدھ ۔ سو الفاظ کی کہانی

افسانچہ : گِدھ سیف الرحمن ادیؔب وہاں بہت ساری گنجی گردنیں بیٹھی تھیں، موت کے انتظار میں۔گویا ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ ان کی تعداد کیا ہے؟بےشمار گدھ، سب کی ٹکٹکی ایک ہی جانب بندھی ہوئی تھی،سامنے موجود لاچار اور مسکین وجودوں پر،جن کی دبتی سانسیں حرام خوروں کو نوید سنا رہی… Continue reading گِدھ ۔ سو الفاظ کی کہانی

مولوی صاحب

افسانہ : مولوی صاحب صفدر علی حیدری حلیہ تو روایتی مولویوں جیسا ہی تھا ہاں مگر ایک بات اسے دوسروں سے ممتاز کرتی تھی اور وہ تھی آنکھ میں شرم اور لحاظوہ سر جھکا کر بات کرتا تھا ۔۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں جھانکنے میں خاصی دقت ہوئی بار بار اسے مخاطب کرنا پڑا… Continue reading مولوی صاحب

افسانہ : نیم بے اولاد

افسانہ نگار : اشرف گِل گاؤں کے لوگوں کا تو یہی خیال تھا۔ کہ سراج دین ( عرف سا جھا) کی اب شادی نہیں ہونے والی ۔ کیونکہ اسکا کوئی سگا بھائی اور نہ ہی کوئی بہن تھی ۔ والدین جب تک زندہ تھے ۔ ان کے سہارے وہ اپنے دیگر خاندان کے لوگوں کے… Continue reading افسانہ : نیم بے اولاد

عشاء

افسانہ : عشاء افسانہ نگار : سید کامی شاہ، کراچی سونے کے ٹھیکروں سے کھیلتے لڑکوں سے لڑائی کے بعد میں بھاگا تھا اور کسی سنگِ راہ سے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔دھیان سے مُنا۔۔۔۔،، کسی شفیق ہاتھ کا لمس میرے سر سے ہوتا ہوا چہرے اور شانے تک آیا… Continue reading عشاء

پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟

مضمون نگار : صفدر امام قادری پریم چند اردو اور ہندی کے ان ادیبوں میں سرِفہرست ہیں جن کے پڑھنے والوں کا دائرۂ اثر روز بروز بڑھتاگیا۔ ِان زبانوں کے مشترکہ ادبی منچ پر ۱۹۳۶ ء میں پریم چندکی جو اہمیت تھی،آج وقت کے تناسب میں اس میں کافی اضافہ ہواہے۔ ادب اورسماج دونوں جگہ… Continue reading پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟

پریم چند : اقوال زریں

اردو زبان اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی شخص کے لیے پریم چند کے تعارف کی ضرورت نہیں ۔ پریم چند پچھلے سو برسوں سے تمام طرح کے ادبی وسماجی ڈسکورس کے ذریعہ ہمارے ذہنوں میں موجود رہے ہیں۔ کل، یعنی 8 اکتوبر کو انکی برسی ہے، اس موقع پر ہم نے کوشش… Continue reading پریم چند : اقوال زریں

گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال

ڈاکٹر کہکشاں عرفان گورکھپور موجودہ وقت میں ہندوستانی جمہوری حکومت اور سیاسی افق پر رخشندہ وتابندہ شہر ہے۔ پہلے یہ شہر ادبی نقطۂ نظر سے اہم تھا کیونکہ ہندوستانی عناصر، اور گنگا جمنی تہذیب کے عکاس مشہور و معروف شاعر رگھوپتی سہائے گورکھپوری کی جائے پیدائش یہی شہر ہے۔ مجنوں گورکھپوری کی شاعری، افسانہ نگاری… Continue reading گورکھپور میں پریم چند کے مہ و سال

دشتِ وحشت

افسانہ نگار: محمد جاوید انورlafznamaweb@gmail.com وہ مجھے سرحد تک جانے والی ٹرین کی منتظر ریلوے کے مخصوص بنچ پر بیٹھی ملی۔بڑے اسٹیشن پر بہت رونق تھی۔ ہفتے میں دوبار سرحد تک ، جانے والی گاڑی نے علی الصبح نکلنا تھا۔ برادر ملک کے ساتھ مسافروں کی آمد و رفت کا بس ایک ہی رستہ کھلا… Continue reading دشتِ وحشت