افسانچے

افسانہ نگار : محمودہ قریشی آگرہ ۔۔یو۔پی۔انڈیا طمانچہ ارے بھائی صاحب۔۔۔ بیٹیوں کو اتنا پڑھاؤں گے ۔اور تنگ تنگ کپڑے پہننے کی اِجازت دوں گے ۔۔۔تو وہ, سر پر نہیں نانچے گی ,تو پھر کون نانچے گا؟۔۔ ۔۔۔اب افسوس کرنے سے کیا فائدہ ۔۔جب چڑیا چُگ گئی کھیت ۔۔۔یہ تمہاری تربیت کا طمانچہ ہی ہے… Continue reading افسانچے

افسانچہ: خودکشی

افسانہ نگار : شمشیرعلی شعلہکانکی نارہ ، مغربی بنگال آجکل خودکشی کا رجحان اس قدر بڑھ گیا ھے کی ہر ہفتے خودکشی کا کوئی نہ کوئی واقعہ سامنے آتارہتاھے.کوئ خانہ داری کی پریشانیوں سے خودکشی کررہاھے،کاروبار میں نقصان ہونے پر، فصل تباہ ہونے پر.کوئ پیار میں ناکام ہونے پر . کسی کا امتحان کا پرچا… Continue reading افسانچہ: خودکشی

دستک

افسانہ نگار : محمد شمشاد صبح سویرے کرن کے دروازہ پر کسی نے دستک دی ایک دو نہیں کئی بار ،نہ چاہ کر بھی وہ بستر سے اٹھی اوربڑبڑاتے ہوئے اس نے دروازے کی جانب اپنا قدم بڑھادیا ’’پتہ نہیں اتنا سویرے سویرے کون آگیا ، وہی ہونگے مانگنے والے، انہیں بھی اتنی جلدی ہوتی… Continue reading دستک

نہ اس پر زہر اثر کرتا نہ گولی،روس کا ایک چمتکاری بابا جو محل تک پہنچ گیا

افسانہ نگار : ڈاکٹر زبیر فاروق یہ کہانی روس کے ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے لوگ سنکی ، پاگل ،جادوگر، بابا، مہاتما کہتے تھے کچھ اسے جرمنی کا جاسوس بھی کہتے تھے ۔کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے اندر زبردست روحانی طاقت تھی وہ سامنے والے کے حواس پہ قابض… Continue reading نہ اس پر زہر اثر کرتا نہ گولی،روس کا ایک چمتکاری بابا جو محل تک پہنچ گیا