نماز تہجد کا طریقہ

نماز تہجد کی رکعتیں

 نماز تہجد کی کم از دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعتیں ہیں، حسب موقع وہمت دو سے آٹھ تک جتنی رکعتیں پڑھی جاسکیں، پڑھ لی جائیں۔

 فینبغي القول بأن أقل التھجد رکعتان وأوسطہ أربع وأکثرہ ثمان (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲: ۴۶۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

 کیا تہجد کی نماز میں سورة فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت ملا کر پڑھ سکتے ہیں

نماز تہجد میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت ملائی جاسکتی ہے؛ البتہ کسی خاص سورت کا التزام نہ کیا جائے۔

وضم سورة فی الأولین من الفرائض وجمیع النفل (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۴۹، ۱۵۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، ویکرہ التعیین (المصدر السابق، فصل فی القراء ة، ۲: ۲۶۵)۔

تہجد کی نماز میں صرف سورہ فاتحہ نماز کے رکعت کی تعداد کے برابر پڑھنا کتنا صحیح 

ماز تہجد میں رکعت کی تعداد کے مطابق ایک سے آٹھ مرتبہ تک سورہ اخلاص یا کوئی بھی سورت پڑھنے کا طریقہ قرآن وسنت سے ثابت نہیں؛ بلکہ یہ ایک نیا طریقہ ہے؛ اس لیے اس سے احتراز چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص کسی رکعت میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ کے بعد دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھے گا تو تکرار فاتحہ کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا۔

عن عائشة رضي اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد متفق علیہ، وعن جابر رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب اللہ وخیر الھدي ھدي محمد صلی اللہ علیہ وسلم وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعة ضلالة رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة، الفصل الأول، ص ۲۷، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، قولہ: ”وکذا ترک تکریرھا الخ“: فلو قرأھا في رکعة … مرتین وجب سجود السھو لتأخیر الواجب وھو السھو کما في الذخیرة وغیرھا (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۵۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

نماز تہجد کا صحیح وقت

تہجد درحقیقت وہ نماز ہے جو سو کر اٹھ کر نصف شب گذرنے کے بعد ادا کی جائے؛ البتہ اگر کسی کو یہ خوف ہوکہ سونے کے بعد اٹھنا مشکل ہو جائے گا تو عشاء کے بعد ہی تہجد کی نوافل پڑھ سکتا ہے، اس سے بھی ان شاء اللہ تہجد کا ثواب مل جائے گا (مستفاد از درمختار مع الشامی ۲/۴۶۷، ط:زکریا، فتاویٰ محمودیہ ۷/۲۳۴، ط:ڈابھیل، فتاویٰ دارالعلوم ۴/۳۰۱ وبعدہ) ۔ (۳) نہیں۔ (۴) وقتِ مسنون تو اخیر شب ہے؛ باقی نمازِ عشاء کے بعد سے صبح صادق تک کبھی بھی تہجد کی نماز ادا کی جاسکتی ہے، اس سے بھی تہجد کا ثواب حاصل ہوجائے گا ان شاء اللہ (فتاویٰ دارالعلوم ۴/۳۰۷، ۳۱۲)۔ (۵) تہجد کی نماز دو یا چار رکعتیں بھی پڑھی جاسکتی ہے؛ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ مبارکہ بالعموم آٹھ رکعتیں پڑھنے کی تھی۔ (درمختار مع الشامی ۲/۴۶۸، ط:زکریا)۔

نماز تہجد کی ہر رکعت میں صرف سورہ اخلاص تکرار کے ساتھ مخصوص تعداد میں پڑھنے کا مسئلہ

نماز تہجد یا قیام اللیل کیلیے کوئی ایسا مخصوص طریقہ نہیں ہے جس میں سورہ فاتحہ کے بعد کسی خاص سورت کو پڑھا جائے، اس لیے مسلمان دو، دو رکعات کے ساتھ نوافل ادا کرے اور ان میں جس قدر ممکن ہو قرآن مجید کی تلاوت کرے، اور پھر آخر میں ایک رکعت وتر پڑھے، احادیث میں رات کی نماز سے متعلق متعدد کیفیات وارد ہوئی ہیں۔
رات کی نماز دو، دو رکعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہے، چنانچہ قیام کرتے ہوئے طلوعِ فجر کا خدشہ ہو تو ایک وتر ادا کر لے، نبی ﷺ کی عام طور پر قیام اللیل کی نماز گیارہ رکعات ہوتی تھیں، تاہم اگر کوئی اس سے کم یا زیادہ پڑھے تو اس میں حرج نہیں ہے
“قیام اللیل کیلیے قرآن مجید کی کوئی مخصوص سورتیں نہیں ہیں ، چنانچہ قیام اللیل میں قرآن مجید کا جو بھی حصہ اس  کیلیے آسان ہوپڑھ سکتا ہے” انتہی
“فتاوى اللجنة” (6/ 103)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“قیام اللیل سنت مؤکدہ ہے، اسے رات کی ابتدا، انتہا یا وسط میں ادا کر سکتے ہیں تاہم آخری حصے میں افضل ہے، آخری حصے میں سے رات کی آخری تہائی افضل ہے، لیکن اگر ایسا کرنا گراں ہو تو ابتدائے رات میں ہی وتر ادا کر لے ، وتر کی تعداد: ایک، تین، پانچ، سات یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، ایک رکعت سے زیادہ قیام کرتے ہوئے دو، دو رکعت ادا کرے ، ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید کی تلاوت کرے اور پھر آخر میں ایک وتر ادا کر لے، قیام اللیل کیلیے مخصوص مقدار میں تلاوت کرنے کی پابندی نہیں ہے، قرآن مجید کی ابتدا، انتہا یا وسط کہیں سے بھی تلاوت کر سکتا ہے، ترتیب سے مکمل قرآن مجید بھی ختم کر سکتا ہے پھر جیسے ہی مکمل ہو دوبارہ پھر ابتدا سے قرآن مجید پڑھنا شروع کر دے یہ سب صحیح ہے، اس کیلیے کوئی مخصوص حد بندی نہیں ہے” انتہی
“فتاوى نور على الدرب” (10/ 25)

شیئر کریں

کمنٹ کریں