اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے

ڈاکٹر کہکشاں عرفان ، الہ آباد
lafznamaweb@gmail.com

اردو, اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے

کہتے ہیں وقت دو قسم کا ہوتا ہے ایک اچھا جس میں عروج ہوتا ہے ترقی ہوتی ہے اور دوسرا برا وقت جو تنزلی کا شکار ہوتا ہے زوال پذیر ہوتا ہے ناکامیوں کا سامنا ہوتا ہے بے اعتنائ کا شکار ہوتا ہے۔اردو زبان ریختہ یعنی گری پڑی زبان سے لشکری زبان بن گئ اور امراء ورؤسا کی نور نظر بن کر درباروں تک پہنچ گئ اور خوب خوب ترقی کی ۔ اردو زبان نے بھی بہت اچھا وقت دیکھا ہے۔جب اردو زبان اس ملک میں ذریعۂ تعلیم تھی علم و فن کا سر چشمہ تھی تہذیب کا گہوارہ تھی۔دفتروں کی زبان تھی ، تجارت کی زبان تھی، خط وکتابت کی زبان تھی بلکہ مختلف مذاہب کے مبلغین بھی اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اردو زبان کا سہارا لیا کرتے تھے ۔مگر رفتہ رفتہ ہمار ہماریی مشرقی تہذیب پر مغربی تہذیب اور اردو زبان پر انگریزی زبان غالب آتی گئ ۔ملک صدیوں تک انگریزی حکومت کی غلامی کی بیڑیوں میں قید رہا اور کہا جاتا ہے کہ کسی بھی قوم کے قیام کے لئے اس کی زبان کا مظبوط ہونا اس کی زبان کا ہر دل عزیز ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ۔کیونکہ زبان قوم کی بقا کی ضمانت ہوتی ہے ۔

ملک آزاد ہوگیا مگر ہم آج تک اس مغربی تہذیب کے ذہنی غلام ہیں اور روز بروز اس انگریزی زبان اور تہذیب سے کے پیرو کار بنتے جارہے ہیں ۔وقت کے ساتھ چلنا بہت اچھی بات ہے مگر اپنے ہی ہاتھوں اپنی مادری زبان کا گلا گھونٹ دینا خودکشی ہے ۔اور ہماری قوم خود کشی کا مسلسل شکار ہے۔ہمارے پاس السلام علیکم اور وعلیکم السلام کی ایک خوبصورت اور باوقار تہذیب ہے جسے ہم نے ہیلو، ہاۓ، گڈ مارننگ، گڈ ایوننگ گڈ نائٹ کی انگریزی تہذیب کے حوالے کردیا۔اماں ابا امی ابو کو ممی پاپا، مام ڈیڈ کے حوالے کردیا ۔تمام بچوں کو یہ معلوم ہے کہ انگریزی میں کتنے حروف تہجی (الفا بیٹ) ہوتے ہیں؟ مگر ہمارے بچوں کو یہ نہیں معلوم کہ اردو زبان میں کتنے حروف تہجی ہوتے ہیں؟ کیا یہ بچوں کا قصور ہے؟ ہرگز نہیں جناب یہ آپ کا میرا ہم سبق کا قصور ہے۔آج اردو کو ہم ہی گری پڑی زبان سمجھنے لگے ہیں تو اقتدار وقت کا کیا قصور ؟ یہ صارفیت کا دور ہے۔اور ضرورت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اردو کی ضرورت اس کی اہمیت کو بڑھانا ہو گا کسی بھی مکان یا دکان پر اردو زبان میں تختی نہیں ہوتی کیوں؟ کیا ہندوستان میں کوئ اردو زبان نہیں جانتا ؟ کیا کوئ خریدار دکان پر نہیں آےگا؟ یا سامان نہیں بکے گا؟

اگر قوم کی اپنی شناخت اور وجود قائم رکھنا ہے تو اسے تعلیم کا ذریعہ بنائیں ۔قومی تعلیمی تحقیقی اور تربیتی ادارہ (این سی ای آر ٹی ) میں ہر مضمون کی درجہ اول سے بارہویں جماعت تک کی کتابیں اردو زبان میں شائع ہوتی ہیں ۔ مگر ہماری قوم کے رہنما ہوں یا تعلیم یافتہ طبقے کے مال دار لوگ کوئ اردو اردو زبان کو فروغ نہیں دیتا ۔ہر طرف انگریزی تعلیم کا رجحان غالب ہے ۔اپنے بچوں کو اپنی مادری زبان کی شناخت تک نہیں کرائ جارہی ہے۔وہ تمام اساتذہ کرام جو اردو زبان کے نام پرتنخواہ کی صورت ایک طویل مدت تک ایک خطیر رقم وصول کرتے ہیں مگر افسوس ان کے بچے ہی اردو زبان کو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ۔

ہم نے پتہ لکھنا چھوڑ دیااور ایڈریس لکھنے لگے تو ڈاک خانے میں اردو زبان کی ضرورت ختم ہوگئ ۔ یہ خود کشی نہیں تو کیا ہے ؟ ہم نے اردو زبان میں درخواستیں لکھنی بند کردی اس لئے دفتروں میں اردو مترجم کی ضرورت ختم ہوگئ اس زبا ن کو ہم ختم کر رہے ہیں جناب ۔کیا پہلے اردو زبان میں تحریر کردہ پتہ پر خطوط نہیں پہنچا کرتے تھے؟ ہم بچوں کی تعلیم کی ابتداالف سے اللہ کو پہچان سے نہیں ، اے فار ایپل سے کرتے ہیں۔ ب سے بسم اللہ سکھاتے تو ہر کا م میں برکت ہوتی ۔مگر آج ہمارے بچے اللہ کو نہیں گاڈ کو پکارتے ہیں ۔چھینک آنے پر الحمداللہ پڑھنا نہیں سکھایا جاتا۔ دوسروں کی چھینک سننے پر یرحمک اللہ کہا جاتا ہے یعنی اللہ تم پر رحم کرے مگر ہمارے آپ کے تمام بچے ایکسکیوزمی کہتے ہیں ۔انگریزی زبان کے الفاظ اتنی تیزی سے ہماری تہذیب میں سرایت کرتے جارہے ہیں جیسے زہر خون میں سرایت کر جاتا ہے۔زندگی کی تمام ضروری اشیاء اور روزمرہ کے استعمال میں انگریزی زبان کے الفاظ اور زندگی کی ہر شاہراہ ہر گلی ہر کوچہ ہر گوشہ پر انگریزی زبان کے الفاظ اور تہذیب حاوی ہے۔کیوں؟ کیوں کہ ہم سب احساس کمتری کا شکار ہیں ۔ انگری کے الفاظ کا استعمال کر کے ہم فخر محسوس کرتے ہیں ۔جس زبان کی دھوم اور شہرت کا اعتراف اعتراف مرزا داغ دہلوی نے کیا تھا وہ زبان شہرت و مقبولیت کے بام عروج پر پہنچ کر آج اپنے ہی ملک میں اپنی ہی قوم کے ہاتھوں قتل کی جارہی ہے ۔

اردو اخبارات بہت سے شائع ہو رہے ہیں مگر ان کو خرید کر پڑھنے والے کتنے لوگ ہیں؟ ٹیلی ویژن اور موبائل ہر گھر میں موجود ہے ان کا ڈش خر چ اور انٹر انٹرنیٹ کا خرچ اردو کے دینی اور ادبی رسالوں سے زیادہ ہے مگر وہ خرچ برداشت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اردو زبان کو یتیم اردو زبان کے سر پرستوں اور متمول تعلیم یافتہ لوگوں نے کیا ہے تو اردو زبان کے سر پر دست شفقت بھی انہیں ہی رکھنا چاہئے ۔موبائل پر تحریر ی گفتگو جسے عرف عام میں ہم سب چیٹنگ کہتے ہیں وہ گفتگو بھی ہم انگریزی میں تحریر کرتے ہیں۔ اگر ہم زیادہ سے زیادہ اردو زبان کا استعمال لکھنے اور پڑھنے میں کرینگے تو اس کی اہمیت میں یقینا اضافہ ہوگا۔اردو زبان کی خوبصورتی اس کی شیرینی کے تو آج بھی تمام لوگ معترف ہیں ۔ایک غیر مسلم مگر محب اردو شاعر منیش شکلا نے کہا ہے۔


بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھا
ہم نے اردو کے بہانے سے سلیقہ سیکھا
اور مشہور شاعر وسیم بریلوی نے اردو زبان کی خوبصورتی اور اردو بولنے والے کی سلیقہ مندی کے کیا خوب کہا ہے۔
وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی
جہاں سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتا ہے


اردو زبان قومی یکجہتی کی زبان ہے پیار محبت کی زبان ہے۔حب الوطنی کی زبان ہے ۔ایک تحقیق کے مطابق پورے بھارت میں سب زیادہ بولی اور سمجھی سمجھی جانے والی اردو زبان کا نمبر ساتواں ہے جبکہ پوری دنیا میں گیارہویں سب سے مقبول و معروف اور بولی جانے والی زبان اردو ہے ۔ہماری قوم کا ہر پڑھا لکھا انسان صرف اپنے گھر والوں کو ہر زبان کے ساتھ اردو زبان کو بھی پڑھاےاور سکھاے تو اس زبان کے فروغ میں یہ ایک بنیادی قدم ہوگا ۔ایک اردو اخبار ایک اردو رسالہ بڑوں کے لئے ہو تو ایک بچوں کے لئے ضرور ہو ۔دنیا کے تمام مشاغل سے صرف ایک گھنٹہ اپنی زبان اور اپنے بچوں کو دینے کا عہد کر لیں اور خودکشی کے اس عمل کو روکیں کیونکہ زبان کسی بھی قوم کی بقا کی ضامن ہوتی ہے۔

اردو زبان کو بچائیں یہ صرف ایک زبان نہیں ایک تہذیب ہے ۔اپنے بچوں کی اردو زبان سے دوستی کرائیں۔بذات خود اردو زبان کا زیادہ سے استعمال کر اپنے بچوں کے کانوں کو سننے اور زبان کو بولنے کا عادی بنائیں ۔ پہلے بچے کو تہذیب کی زبان اردو سکھائیں انہیں مہذب بنائیں ہر گھر میں اردو زبان کا چراغ روشن کریں ابتدا اپنے گھر سے کریں کیونکہ چراغ تلے ہی اندھیرا ہوتا ہے۔ پھر انگریزی پڑھائیں ۔اے سے پہلے الف سکھائیں بی سے پہلے ب سکھائیں ۔تمام محبان اردو اور اپنی قوم کے تما لوگوں سے دست بستہ گذارش ہے کہ اردو رسم الخط کو اپنائیں کیونکہ اردو رسم الخط میں لکھنے کا رواج بہت تیزی سے زوال پذیر ہو رہا ہے اپنی اولادوں کو اردو زبان کے حروف تہجی، اردو الفاظ کے مخرج اردو اردو زبان کی اہمیت سے روشناس کرائیں اور بچپن میں بنیادی تعلیم میں اردو زبان کو اہمیت دیں۔ کوئ باغ کتنا ہی حسین اور سر سبزو شاداب کیوں نہ ہو اگر نئے پودے نہیں لگائے جائیں گے اور ان پودوں کی مناسب آبیاری نہیں ہوگی تو اسکی نسل بالآخر ختم ہو جاے گی ۔اردو زبان کو بچائیں اپنی تہذیب کو بچائیں ۔ بقول شاعر اردو زبان روش صدیقی
اردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو زباں آئ

شیئر کریں

کمنٹ کریں