حیدرآباد تہذیب و معاشرت کے آئینے میں

مضمون نگار : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

, حیدرآباد تہذیب و معاشرت کے آئینے میں

انسان ایک سماجی حیوان ہے۔خدا نے اسے اشرف المخلوقات کا رتبہ دیا۔ انسان نے اپنی ضرورتوں کے لیے ایک دوسرے کی مدد سے مل کر رہنا شروع کیا تو گھر ‘خاندان‘گائوں شہر اور ملک آباد ہوئے۔ اور انسانی زندگی اور تمدن ترقی پانے لگا۔جہالت کے دور سے نکل کر جب انسان تمدنی زندگی گزارنے لگتا ہے اور اپنی ذہنی اور اخلاقی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کرتا ہے تو وہ مہذب کہلاتا ہے اور ایک ایسی نمائندہ تہذیب و تمدن کا معمار بن جاتا ہے جو دوسری تہذیبوں کے لیے مثال بن جاتی ہے۔جہاں تک تہذیب کی تعریف کا معاملہ ہے توکسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور طرزفکرو احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان ‘ سماجی رشتے ، رہن سہن ، فنون لطیفہ ، علم و ادب ، فلسفہ و حکمت ، عقائد ، اخلاق و عادات ، رسوم و روایات ، عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔ہر قوم کی ایک تہذیبی شناخت ہوتی ہے۔اس تشخص کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں، لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کردیتی ہیں۔ ہر قومی تہذیب اپنی انہی انفرادی خصوصیتوں سے پہچانی جاتی ہے۔


تاریخ انسانی میں عرب‘ایشیاء اور افریقہ میں قدیم تہذیبیں پروان چڑھی ہیں۔ ہندوستان میں 1500ق م سے تہذیبی آثار ملتے ہیں۔ ہندوستان ایک معتدل آب و ہوا کا ملک رہا ہے۔ یہاں انسانوں کے لیے اچھی غذا‘جانوروں کے لیے محفوظ ماحول‘میٹھے پانی کی وافر مقدار میں دستیابی اور معتدل آب و ہوا نے ہر زمانے میں دنیا کے لوگوں کو اس جنت نشان ملک کی جانب راغب کیا۔ باہر سے قومیں ہندوستان آئیں اور یہیں آباد ہو کر نئی تہذیبوں کے وجود میں آنے کا سبب بنیں۔ مسلمان بڑی تعداد میں عرب اور ایشیائی ممالک سے ہندوستان آئے۔ جب وہ ہندوستان آئے تو ان کے ساتھ اپنی تہذیبی روایتیں اور رسم و رواج رہن سہن کے طریقے اور کھانے پینے کے ساز و سامان تھے۔جب انہیں یہاں رہنا پڑا تو مقامی اثرات کو انہوں نے قبول کیا اور بیرونی عرب مسلمانوں اور یہاں کے مقامی افراد کے میل جول سے ایک ملی جلی ہندوستانی تہذیب بنی جو گنگا جمنی تہذیب کہلائی۔ اس گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار کئے علاقے رہے جن میں دکن کا علاقہ اور خاص طور سے شہر حیدرآباد دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت کے لیے مشہور ہے۔


چار سو سال قبل قطب شاہی فرمانروا روا محمد قلی قطب شاہ نے جب شہر حیدرآباد کی بنیاد ڈالی تو اس نے خدا کے حضور یہ دعا کی میرا شہر لوگاں سے معمور کر رکھیا جوں توں دریا میں من یا سمیع – یعنی اے خدا میرے بسائے ہوئے اس شہر کو لوگوں سے ایسا آباد رکھ جیسے دریا میں مچھلیاں ہوتی ہیں ہیں شاید وہ گھڑی دعا کی قبولیت کی تھی کہ شہر حیدرآباد لوگوں سے آباد ہوتا گیا اور آج چار سو سال بعد یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر ایک ترقی یافتہ شہر بن گیا ہے اس شہر سے کئی تاریخی یادگاریں وابستہ ہیں جیسے چار مینار‘ مکہ مسجد‘ قلعہ گولکنڈہ ‘قطب شاہی گنبدان‘ جامعہ عثمانیہ‘ عثمانیہ دواخانہ‘ ہائی کورٹ اور سالار جنگ میوزیم ۔ان تاریخی عمارتوں کے علاوہ شہر حیدرآباد اردو زبان اور لارڈ بازار کی چوڑیوں اور حیدرآبادی کھانوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ قطب شاہوں نے شہر حیدرآباد کو آباد کیا بعد میں آصف جاہی سلاطین نے اس شہر کی ترقی میں میں کافی خدمات انجام دیں۔ اب یہ بادشاہ تو نہیں رہے لیکن ان کے چھوڑی ہوئی یادیں ہمیں اس شہر کی عظیم تہذیب کی یاد دلاتی رہتی ہیں۔ آج دنیا کے کسی بھی حصے میں ایک حیدرآبادی شہری اپنی تہذیب کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی میں تبدیلی آتی گئی نئی نسل کے لوگ اپنے اسلاف کے طور طریقے چھوڑتے گئے لہٰذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ نئی نسل کو قدیم تہذیب اور اس دور کے طور طریقے سے واقف کرایا جائے آئیے دیکھیں کہ گزشتہ چار سو سال میں حیدرآبادی تہذیب و معاشرت کیسے آگے بڑھی ہے۔


حیدرآبادی معاشرہ اور رہن سہن


حیدرآباد دکن میں ایک عرصے سے سے ہندو مسلم مل جل کر رہتے آئے ہیں چنانچہ ان کے رہن سہن کے طریقوں میں بھی میں بھی کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے۔بادشاہی اور نوابی دور میں لوگ قریب قریب رہنا پسند کرتے تھے۔اس میں امراء متوسط درجہ یا ادنیٰ درجہ کی تفریق نہیں تھی۔امراء بڑی بڑی دیوڑھیوں میں شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ سے رہتے تھے۔ان کے ہمراہ نوکر چاکر مصاحب وغیرہ بھی رہتے تھے،ان دیوڑھیوں میں جلو خانہ‘خانہ باغ اور اصطبل وغیرہ بھی ہوا کرتے تھے۔دیوڑھیوں کا طرز تعمیر شاہی مزاج کا ہوا کرتا تھا۔باب الداخلہ اتنا وسیع اور بلند ہوتا تھا کہ ایک ہاتھی اس میں سے آسانی سے گزر سکتا تھا۔ آج بھی حیدرآباد کی قدیم دیوڑھیوں میں اس قسم کے دیو ہیکل دروازے موجود ہیں۔اونچے اونچے کماندار اور نقش و نگار کیے ہوئے ستونوں پر چھت اونچی ہوتی تھی اور بغیر بجلی کے ماحول ٹھنڈا اور روشن ہوتا تھا۔دیوڑھیوں میں کئی دالان‘کمرے ‘بالا خانے اور برآمدے ہوتے تھے۔سینکڑوں آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش والے شہ نشین ہوتے تھے۔جس پر آئے دن رنگ و نشاط کی محفلیں سجتی تھیں۔دیوڑھی کے سامنے والے حصے کو جلو خانہ کہا جاتا تھا۔باب الداخلہ کے اوپر نوبت ہوتی تھی۔جس پر صبح و شام نوبت بجائی جاتی تھی۔امراء کی دیوڑھیوں کے علاوہ اوسط درجہ کے لوگوں کے مکانات بھی اچھے خاصے ہوتے تھے۔البتہ غریب لوگوں کے مکانات چھوٹے اور کچے ہوتے تھے۔چھت کویلو کی ہوتی تھی۔ان دیوڑھیوں اور مکانات کی ایک خاص بات پردہ کی دیوار ہوتی تھی جو باب الداخلہ کے سامنے ہوتی تھی۔کیوں کہ مسلم خواتین پردہ کا خاص خیال رکھتی تھیں۔ ان مکانات میں زنان خانے علٰحیدہ ہوتے تھے۔


آبرسانی کا انتظام


شاہان حیدرآباد نے اپنی رعایا کے لیے صاف میٹھے پانی کو گھروں تک پہنچانے کا خاص انتظام کیا تھا۔ عوام کو کبھی پانی کی تکلیف کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ میر عالم کا تالاب‘میر جملہ کا تالاب‘حسین ساگر‘حمایت ساگر‘عثمان ساگر اور دیگر چھوٹے بڑے تالاب اور جھیلیوں سے عوام کو پانی سربراہ کیا جاتا تھا شہر حیدرآباد کو تالابوں اور جھیلوں کا شہر بھی کہا جاتا تھا۔عثمان ساگر اور حمایت ساگر ایسے دو بڑے ذخائر آب ہیں جن سے آج بھی حیدرآباد کی لاکھوں کی آبادی کو پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔شہر حیدرآباد میں لوگ نلوںکی تنصیب سے قبل کنوئوں اور باولیوں کے پانی سے اپنی ضروریات کی تکمیل کرتے تھے۔ حیدرآباد کی مشہور بائولیوں میں آج بھی ہری بائولی‘دودھ بائولی‘مگر کی بائولی‘انجن بائولی‘موسی بائولی‘ریتی بائولی اور گچی بائولی وغیرہ مشہور ہیں۔جن مکانات میں بائولیاں نہیں ہوتی تھیں وہاں کمہار اور بہشتی پانی لاتے تھے۔بہشتیوں کو خواجہ میاں کہا جاتا تھا۔میر عالم تالاب کے قریب رکن الدولہ کے چشمہ کا پانی ٹھنڈا میٹھا اور زود ہضم ہوتا تھا۔ نواب میر عثمان علی خان کواس چشمہ کا پانی پسند تھا اور سفر کے دوران بھی وہ اسی چشمہ کا پانی استعمال کرنا پسند کرتے تھے۔بی بی کے چشمے کا پانی بھی شیریں ہوا کرتا تھا۔


حیدرآبادی رہن سہن


شاہی دور میں لوگ آسودہ حال زندگی گزارتے تھے۔لوگوں کو ان کے پیشوں کے اعتبار سے اچھی تنخواہیں ملتی تھیں۔جاگیر دار اور منصب دار ٹھاٹھ کی زندگی گزارتے تھے۔صبح ہوتے ہی گھر کے نوکر چاکر صاحب خانہ اور بیگم صاحبہ کو سلام کرتے تھے۔حیدرآبادی سلام اور آداب ساری دنیا میں مشہور ہے۔نوابی گھرانوں میں ناشتہ دس گیارہ بجے دوپہر کا کھانا تین چار بجے اور رات کا کھانہ نو دس بجے ہوتا تھا۔کھیلوں میں چوسر‘شطرنج‘گنجفہ وغیرہ کھیل کھیلے جاتے تھے۔رات ہوتے ہیں مغلانی بچوں کو کہانیاں سناتی تھی۔صاحب خانہ ہر وقت مصاحبین کے گھیرے میں رہتے تھے۔ نوکر چاکر کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے۔مل کر کھانا کھایا جاتا تھا۔چائے پینے کا رواج نہیں تھا۔بڑے لوگ کھانے کے بعد پان کھاتے تھے۔جاگیرداروں کے علاوہ محنت کش طبقہ صبح جلد اٹھ کر اپنے کاروبار میں لگ جاتا تھا۔لیکن امراء کی شوقیوں کا اثر کچھ اس طبقہ پر بھی پڑا تھا لوگ اپنی آمدنی کا کچھ حصہ سیندھی شراب کی نذر کردیتے تھے۔اور سمجھتے تھے کہ تکان کم کرنے کے لیے پینا ضروری ہے۔نشہ کی عادت کے باوجود لوگوں میں مذہبی جذبہ پایا جاتا تھا مسلمان نماز‘تلاوت قرآن ور وظائف پابندی سے پڑھتے تھے۔تو ہندو پوجا پاٹ کرتے تھے۔


لباس اور آرائش


شخصیت کو اثر دار بنانے میں لباس اہم رول ادا کرتا ہے۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ لباس شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اپنی وضعداری کا خیال رکھتے ہوئے حیدرآبادی لوگ اپنے لباس پر بھی خاص توجہ دیتے تھے۔اور بعض مخصوص قسم کے کپڑے حیدرآبادی معاشرت کی عکاسی کرتے ہیں۔بچوں کے لباس میں عموماً چکن کے کرتے‘ہرک کے پاجامے اور ٹوپی ہوتی تھی۔دعوتوں اور تقاریب کے موقع پر مرد بچوں کو لوگ رنگین کمخواب‘شجرہ‘ہمرو‘مشروع ‘سنگین اطلس کی شیروانی‘دستار یا گول ٹوپی کرتا چوڑی دار پاجامہ وغیرہ پہناتے تھے۔صدریاں بھی بچوں کو پہنائی جاتی تھیں۔خواتین ساڑھی بلوز اور شلوار قمیص دونوں استعمال کرتی تھیں۔عورتوں کو سر ڈھانکنا لازمی تھا۔کھلے سر رہنامعیوب بات سمجھی جاتی تھی۔خاص مواقع پر خواتین بنارسی ‘ریشمی‘زری کے کام کی‘یا چمکی اور ستارہ ٹکی ساڑھیاں پہنتی تھیں۔جالی یا چکن کے کرتے اور بلوز پہنے جاتے تھے۔گھروں میں کپڑے رنگ کر یا کلف دے کر پہننے کا رواج عام تھا۔شاہی گھروں کی عورتیں بہت قیمتی اور زرق برق والا لباس پہنتی تھیں۔بعض اوقات لباس اتنا وزنی ہوتا تھا کہ اسے پہننے کے بعد عورتیں بار محسوس کرتی تھیں۔اور ان کا ایک دو قدم چلنا بھی دو بھر ہوجاتھا تھا۔آصف جاہی دور میں مسالا لگے ہوئے لباس کو قیمتی لباس سمجھا جاتا تھا۔قطب شاہی دور میں مسلمان مرد عبا(ڈھیلا جبہ) نیم جامہ اور سرپر شملہ یا دستار پہنتے تھے۔ہندو مرد دھوتی اور قمیص پہنا کرتے تھے۔دیہاتوں میں بھی اکثر مسلمان دھوتی پہنا کرتے تھے۔عوام انگرکھا اور پاجامہ پہنتے تھے۔درباروںمیں منصب داری پگڑی پہنی جاتی تھی۔سرکاری دفاتر میں اور وکیلوں کے لیے پگڑی پہننا لازمی تھا۔شیروانی اور رومی ٹوپی ساری دنیا میں حیدرآبادیوں کی پہچان رہی ہے۔شیروانی ہندو مسلم سکھ عیسائی سب ہی پہنتے ہیں۔تقاریب کے علاوہ شیروانی جامعات میں بہ طور یونیفارم بھی پہنی جاتی تھی۔اس کی کاٹ پہلے انگریزی سوٹ کے مشابہ تھی۔سات بٹن لگائے جاتے تھے۔بعد میں اس کی کاٹ میں تبدیلی آئی۔اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔انگریزی تہذیب کے زیر اثر بعد کے زمانے میں حیدرآباد میں امراء سوٹ بوٹ اور بیل باٹم سفاری پینٹ شرٹ بھی پہننے لگے۔پیروں میں پہننے کے لیے کھڑاویں‘جڑاویں‘آپا شاہی اور سلیم شاہی جوتے پہنے جاتے تھے۔موزے پہننا لازمی تھا۔مرد داڑھی منڈھوا کر موچھ رکھتے تھے۔لارڈ کرزن کے دور میں داڑھی اور موچھ دونوں صاف کردینا عام بات ہوگئی تھی۔حجام مقرر تھے اور لوگ گھر پر ہی حجامت بنواتے تھے۔


خواتین کا سنگھار


آرائش و زیبائش خواتین کا حق مانا گیا ہے۔اور ہر زمانے میں خواتین نے اپنے آپ کو سجانے اور سنوارنے کے نت نئے طریقے اختیار کیے۔حیدرآبادی خواتین بھی اپنی زیبائش کی اشیاء کے لیے ساری دنیا میں جانی جاتی ہیں۔مہندی لگانا مشرقی تہذیب کا خاصہ ہے۔ہاتھوں اور پیروں کو مہندی لگائی جاتی تھی۔عید سالگرہ اور دوسری تقاریب میں عورتیں اور نوجوان لڑکیاں بڑے شوق سے مہندی لگاتی تھیں۔باغ سے تازہ مہندی توڑ کر اور اسے پیس کر اس کا لیپ لگایا جاتا تھا۔دلہنوں کو رات رات بھر جاگ کر مہندی لگائی جاتی تھی۔ہندو خواتین پیشانی پر ٹیکہ لگاتی تھیں۔اور مانگ میں سیندور بھرتی تھیں۔سیندور بھرنا سہاگن ہونے کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔شادی بیاہ کے موقع پر کم کم مہندی صندل پان اور پھول کو اہمیت تھی۔محلوں کی خواتین بھنوئیں بھی تراشتی تھیں۔یہ رواج چین سے ہندوستان پہنچا۔مغل خواتین نے اس عادت کو عام کیا۔کاجل ان ہی بیگمات کی ایجاد ہے۔اسی طرح بیاہی عورتیں بھی پابندی سے مسی لگاتی تھیں۔حیدرآبادی تہذیب کی ایک اور خاص نشانی یہاں کی چوڑیاں ہیں ۔چارمینار کے دامن میں موجود لاڈ بازار چوڑیوں کا مشہور بازار ہے جہاں قیمتی نگ لگے ہوئے گوٹ اور ہر رنگ کی چوڑیاں ملتی ہیں۔مسالالگی چوڑیاں اور سونا بائی چوڑیاں کافی مشہور ہیں۔یہاں چوڑی بنانے والے کاریگروں کا ایک خاندانی سلسلہ چلا آرہا ہے۔جو اس پیشے سے وابستہ ہیں۔چوڑیاں شادی بیاہ کے علاوہ عیدوں اور دیگر تقاریب میں لباس کی مناسبت سے پہنی جاتی ہیں چوڑیوں سے متعلق عجیب و غریب روایتیں بھی پائی جاتی ہیں۔جب کسی عورت کا خاوند مرجاتا ہے تو بیوی کی چوڑیاں توڑی جاتی ہیں۔خالی اوقات میں چوڑی کا ٹوٹنا بدشگونی سمجھا جاتا ہے اور چوڑیوں کو غلامی یا بے عملی کی نشانی بھی سمجھا جاتا ہے۔چوڑیاں پہن کر عورتیں بڑوں کو سلام کرتی تھیں۔ سہاگنوں اور بچیوں کے لیے چوڑیاں پہننا لازمی سمجھا جاتا تھا۔


زیور


جب تک عورتیں کچھ نہ کچھ زیور نہ پہن لیں ان کی زیبائش اور آرائش مکمل نہیں ہوتی۔خوبصورت زیور عورتوں کے حسن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں حیدرآبادی خواتین میں سر سے پیر تک استعمال کیے جانے والے زیورات کی ایک طویل فہرست پائی جاتی ہے۔سر کے زیور میں جھومرماتھے کے زیور میں ٹیکہ کان کے زیور میں پھول بالیاں جھمکے چکریاں کرن پھول وغیر ہ ناک کے زیور میں ناک کی دال نتھ بلاق گلے کے زیور میں تلسی‘جگنی ‘چمپا کلی‘چنتاک‘چندن ہار‘ستلڑا‘گلسیر‘لچھا‘مالا‘ہنسلی ‘ہار وغیرہ۔بازو کے زیور میں بازو بند‘کڑے‘کلائی کے زیور میں پہنچی‘سمرن‘کنگن ‘چوڑیاں وغیرہ۔انگلیوں کے زیور میں آرسی‘انگوٹھی‘چھلہ۔کمر کے زیور میں کمر بند پائوں کے زیور میں بیڑی پازیب پائل توڑا گجرا منکے اور پیروں کی انگلیوں میں چاندی کے چھلے جنہیں گول یا گھول کہا جاتا تھا عام طور سے پہنے جاتے تھے۔دولت کی فراوانی کے سبب لوگوں میں بھاری بھاری زیور رکھنے کا رواج پایا جاتا تھا۔ملی جلی تہذیب کے زیر اثر حیدرآبادی مسلم خواتین نے ہندو خواتین کی بہت سی رسومات اختیار کرلی تھی۔اسی طرح زیور پہننے میں بھی شادی شدہ خواتین کے لیے کالی پوت کا لچھا پہننا لازمی سمجھا جاتا تھا۔اور اسے سہاگ کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیوروں کے ڈئزائنوں میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں۔پہلے سنار بڑی عرق ریزی کر کے زیور بناتے تھے۔بعد میں مشینوں کو استعمال کرتے ہوئے خوبصورت زیور بنائے جانے لگے۔


پان کا استعمال


حیدرآبادی تہذیب کی ایک اور خاص نشانی یہاں کے لوگوں کا پان کا استعمال کرنا ہے۔حیدرآبادیوں کے پان سے بے انتہا لگائو کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج امریکہ برطانیہ اور سعودی عرب کے علاوہ بیشتر بیرونی ممالک میں جہاں کہیں حیدرآبادی رہتے ہوں وہاں حیدرآبادی پان دستیاب ہے۔ آصف جاہی دور کے لوگوں کو پان کی عادت مغلیہ سلطنت سے وراثت میں ملی تھی۔پان شروع میں شوقیہ کھایا جاتا ہے اور بعد میں اس کی عادت پڑجاتی ہے گھروں میں عورتیں اور مرد دونوں پان کھاتے تھے اس لیے لڑکیوں کو جہیز میں پان صروطہ ضروری دیا جاتا تھا۔آج بھی جہیز میں پاندان رسمی طور پر ہی صحیح دینے کا رواج ہے پاندان میں چھالیہ لونگ الائچی نرملی چونا کتھا سلیقہ سے رکھا جاتا تھا۔بعد میں لوگ طرح طرح کے زردے بھی پانوں میں استعمال کرنے لگے۔کلی دار پان پسندیدہ ہوا کرتا تھا۔پان کھا کر تھوکنے کے لیے اگال دان کا استعمال ہوتا تھا پان کے علاوہ مرد حضرات حقہ کا بھی شوق کرتے تھے۔بعد میں سگریٹ کا رواج بڑھنے لگا تو حیدرآباد میں چارمینار اور گولکنڈہ سگریٹ کی شہرت بڑھی۔غریب لوگ بیڑیاں پیتے تھے۔


حیدرآبادی کھانے


علاقوں کے اعتبار سے ہندوستان میں لوگوں کی غذائی عادات میں فرق پایا جاتا ہے شمالی ہندکے لوگ جہاں گیہوں اور روٹی زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کھٹا کم استعمال کرتے ہیں وہیں جنوبی ہند کے لوگوں کی بنیادی غذا چاول ہے۔اور یہاں کے سالنوں میں کھٹا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔نمک مرچ بھی زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ایک زمانے میں پکوان کے لیے مٹی کے برتن ہانڈی کنڈے وغیرہ استعمال ہوتے تھے بعد میں تانبہ سلور اور اسٹیل کے برتن استعمال ہونے لگے۔برتن اگر تانبے کے ہوں تو ان پر نقرئی قلعی چڑھائی جاتی ہے۔حیدرآباد میں باورچی خانے رہائشی کمروں سے کافی دور بنائے جاتے تھے۔مٹی کے چولہوں پر لکڑی اور کوئلے سے پکوان ہوتا تھا۔مغلوں کی جنوبی ہند پیشرفت سے یہاں کے لوگوں کی غذائی عادات میں تبدیلی واقع ہوئی۔قطب شاہی اور آصف جاہی دور کے آتے آتے یہاں پر ایرانی ترکی اور افغانی پکوانوں کو فروغ حاصل ہوا۔گوشت کے پکوانوں میں جدت آئی۔اور سرخ رنگ کے دستر خوانوں پر انواع و اقسام کے لذیذ پکوان ترتیب دئیے جانے لگے۔حیدرآبادی کھچڑی بگھارے بیگن نہاری بریانی تہاری بگھارا کھانا دالچہ وغیرہ مشہور پکوان ہیں۔لوگ ناشتے میں اکثر کھچڑی قیمہ پاپڑ انڈے تلا ہوا گوشت پراٹھے روغنی روٹی نہاری میٹھی دال اچار وغیرہ کھایا کرتے تھے نہاری کلچے آج بھی حیدرآبادیوں کا مشہور ناشتہ ہے۔پرانے شہر کی ہوٹلوں میں صبح ہی سے نہاری دستیاب رہتی ہے۔اسے سرا پائے اور زبان سے بنایا جاتا ہے۔قدیم زمانے میں نہاری کے لیے گھروں میں راتب مقرر تھا۔ذیل میں چند مشہور حیدرآبادی کھانوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔
چاکنہ: چاکنہ خاص حیدرآبادی غذا ہے اس کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے اس میں بکرے کا سرا‘ کلیجی‘ دل‘ اوجھڑی‘ گوشت وغیرہ ڈال کر بناتے ہیں جوار کی روٹی سے یہ مزہ دیتا ہے۔
مرگ: یہ پکوان اپنے شوربے اور گوشت کے لیے مشہور ہے مغربی ممالک کے سوپ کی طرح لوگ مرگ میں گوشت کھاتے ہیں اور سوپ پیتے ہیں اس کے پکانے میں اصلی گھی ‘گرم مصالحے کا خاص دخل ہے۔آج کل نان اور ورقی روٹیوں کے ساتھ اسے پیش کیا جاتا ہے۔ سردی کے موسم میں مرگ شادی بیاہ کی تقاریب کی اہم ڈش مانی جاتی ہے۔
بگھارے بیگن:حیدرآبادی بگھارے بیگن ساری دنیا میں مشہور ہیں۔اکثر اسے بریانی اور تہاری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔جوار کی روٹی اور بگھارے بیگن بھی مشہور ہیں۔نیلے بیگن کو کاٹ کر ان میں مصالحہ بھرا جاتا ہے اور پکی املی کے کھٹے اور مصالحے ساتھ بنایا جاتا ہے۔
دالچہ: یہ بھی خاص حیدرآبادی پکوان ہے۔دالچہ گوشت کے ساتھ یا بگھارا ہو تو کدو کے ساتھ بنایا جاتا ہے۔ بگھارا کھانہ اور دالچہ اکثر جمعہ کے دن اور چھوٹی موٹی گھریلو دعوتوں ور نذر و نیاز کے موقع پر بنایا جاتاہے۔اس کے علاوہ حیدرآبادی سالنوں میں تل کی چٹنی‘ مچھلی کا سالن‘ مائے قلیہ‘ دہی کی کڑی‘ چاول کی کڑی‘ امباڑے کی بھاجی‘ چگر کا سالن‘ مرغ کا سالن‘ پالک گوشت اور کھٹی دال وغیرہ مشہور ہیں۔آج بھی جمعہ کے دن خاص طور سے کھٹی دال بنائی جاتی ہے بمل مچھلی بھی خاص حیدرآبادی غذا ہے پیاز میں سوکھے جھینگے یا بمل مچھلی ڈال کر بنائی جاتی ہے۔روٹی سے کھائی جاتی ہے دریائی جھینگے مرل اور روہو مچھلی بھی لوگوں کی غذا کا حصہ ہے۔
بریانی: حیدرآبادی تہذیب کی خاص نشانی بریانی ہے۔یوں تو لوگ عام دنوں میں سادے چاول ‘کھچڑی ‘بگھارا کھانا ‘قبولی‘ تہاری وغیرہ کھاتے ہیں لیکن یہاں بریانی خاص موقعوں دعوتوں اور شادی بیاہ کے موقع پر بڑے اہتمام کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔شمالی ہند میں بریانی کو پلائو کہتے ہیں۔اور اس کا مزہ حیدرآبادی بریانی سے الگ ہوتا ہے۔باسمتی چاول اور پوٹلے کے گوشت کی بریانی جس میں چاول کے مقابلے میں گوشت کی دگنی مقدار رکھی جاتی ہے لذیذ بریانی ہوتی ہے۔گوشت میں مرغ کے گوشت کی اور کوفتے کی بریانی بھی بنائی جاتی ہے۔اسی طرح گوشت نہ کھانے والوں کے لیے ترکاری کی بریانی بنائی جاتی ہے گوشت کی جگہ ترکاریوں کو مصالحہ جات میں پکایا جاتا ہے۔بریانی کے ساتھ سالن کے طور پر بگھارے بیگن یا مرچی مصالحہ کا سالن اور دہی کی چٹنی رکھی جاتی ہے۔بریانی کے علاوہ حیدرآبادی خاص پکوان حلیم و ہریس ہے۔جو ماہ رمضان میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے۔اور عام دنوں میں دعوتوں کی زینت بنتی ہے۔مخصوص مصالحوں کے ساتھ دو گوشتہ اور سہ گوشتہ حلیم بنائی جاتی ہے۔میٹھوں میں ڈبل کا میٹھا‘ خوبانی کا میٹھا‘ کدو کی کھیر وغیرہ مشہور ہیں۔حیدرآبادی میٹھوں میں پورن پوری اور شکر کی پوریاں بھی مشہور ہیں۔پورن پوری چنے کی دال شکر گڑ سونف اور سوکھے میوہ جات ڈال کر بنائی جاتی ہے۔کھیر پوریاں رجب کے کنڈے میلاد النبیﷺ کے موقع پر اہتمام سے بنائی جاتی ہیں۔ عید الفطر کے موقع پر دودھ اور سیویوں سے بنائے جانے والا شیر خرما بھی حیدرآبادی میٹھوں میں اہم ہے۔جہاں حیدرآبادی کھانے مشہور ہیں وہیں حیدرآبادی مہمان نوازی بھی مشہور ہے۔ ساری دنیا سے سیاح جب حیدرآباد کی سیر کرتے ہیں تو وہ بہ طور خاص یہاں کے ان خاص پکوانوں سے ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں۔


حیدرآبادی رسوم ورواج


دنیا کی ہر قوم اور تہذیب میں طرح طرح کی رسومات پائی جاتی ہیں۔اور انہیں تہذیبی و سماجی زندگی میں کافی اہمیت دی جاتی ہے۔زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ زندگی میں غیر محسوس طریقے سے رسومات داخل ہونا شروع ہوتی ہیں۔اور ان میں گزرتے وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔حیدرآبادی مسلمانوں میں رائج بیشتر رسومات مقامی ہندئوں سے لی ہوئی ہیں اس کی ایک وجہہ یہ ہے کہ باہر سے آنے والے مسلمانوں نے یہاں کی مقامی عورتوں سے شادیاں کیں اور ان عورتوں کے ساتھ ساتھ یہ رسومات رواج پاتی گئیں۔دوسری وجہہ یہ بھی ہے کہ یہاں ہندو مسلمان شیر و شکر کی طرح مل جل کر رہتے آئے ہیں شادی بیاہ اور تہواروں میں دونوں قوموں کے لوگ گھل مل جانے سے یہ رسومات بھی رواج پاتی گئیں۔ہوسکتا ہے کہ بہت سی رسومات انوکھی اور دلچسپ ہونے کے سبب رائج ہوگئی ہوں۔بہرحال گھرمیں بچے کی پیدائش سے لے کر انسان کی موت تک یہاں ہر موقع کے لیے طرح طرح کی رسومات رائج رہیں جن کا ذیل میں تذکرہ کیا جارہا ہے۔


ستواسہ: بچے کی پیدائش سے قبل جب کہ عورت اپنے حمل کے ساتویں مہینے میں ہوتی ہے ستواسہ کی رسم انجام دی جاتی ہے۔لڑکی(حاملہ) کے مائیکے والے سات طرح کی ترکاریاں میوے اور پکوان بنا کر بیٹی کے سسرال والوں کے گھر لے آتے ہیں ساتھ میں ہری چوڑیاں اور کپڑوں کا جوڑا بھی لایا جاتا ہے۔نندیں بھاوج کو ہری چوڑیا ں پہنا کر گود بھرتی ہیں۔تاکہ بھاوج کی گود بچوں سے ہری بھری رہے۔لڑکی اپنے مائیکے آجاتی ہے اور پہلے بچے کی ولادت ماں کے گھر ہوتی ہے۔اس بات کو رواج بنالیا گیا ہے کہ پہلی زچگی کرانا لڑکی والوں کی ذمہ داری ہے ستواسہ کی رسم ہندوئوں سے مسلمانوں میں اور مسلمانوں نے اس میں کئی تبدیلیاں کرکے اپنالیا۔


بچے کی پیدائش کے بعد کی رسومات: بچے کی ولادت کی خوشی میں دایا کو حسب حیثیت انعام دیا جاتا ہے۔بچے کو نہلا دھلا کر خاندان کے بزرگ افراد کرتے کو چاک کرکے اس کپڑے میں بچے کو لپیٹ کر دیتے تھے خاندان کا کوئی بزرگ بچے کے کان میں اذان اور اقامت کہتا ہے لڑکا ہو تو اس کے کان میں محمد اور لڑکی ہو تو فاطمہ کہنے کا رواج تھا۔کھجور سے بچے کو شہد چٹایا جاتا ہے ہندوئوں کے ہاں بچے کی ولادت پر اس کی پیٹھ تھپک کر اس کے کان میں کسی بھگوان کا نام لیا جاتا تھا۔مسلمانوں میں بچے کی پیدائش کے ساتویں دن بچے کے بال نکال کر اس کا عقیقہ کیا جاتا ہے۔اور نام رکھائی کی رسم انجام دی جاتی ہے۔لڑکا تولد ہو تو لڈو اور لڑکی تولد ہو تو بتاشے تقسیم کیے جاتے تھے۔چاندی کے ورق پر بچے اور اس کے والد کا نام اور تاریخ پیدائش لکھ کر پان اور سپاری کے ساتھ رشتہ داروں میں لڈو بتاشے تقسیم کیئے جاتے تھے۔لڈو لینے والے لوگ جواب میں تھالی میں چاول یا کچھ روپے رکھ کر دیتے تھے۔آج کل نام رکھائی کے لڈو اسٹیل کی پلیٹ یا پلاسٹک کے ڈبے یا لکڑی کے تاروں سے بنی ٹوکری میں رکھ کر دئیے جاتے ہیں۔اور جواب میں پیسے نہیں لیے جاتے۔دیہاتوں میں یہ قدیم طریقہ آج بھی رائج ہے۔ہندئوں میں بچے کا نام تیسرے دن سے اکیسویں دن کے درمیان رکھا جاتا ہے۔
چھٹی کی رسم: بچے کی ولادت کے چھٹے یا ساتویں دن یہ رسم انجام دی جاتی ہے۔ماں اور بچے کو نہلایا جاتا ہے۔کھچڑی کے ساتھ امباڑے کی بھاجی پکائی جاتی ہے کاجل پکڑ کر بچے کو لگایا جاتا ہے اور اسے نیا لباس پہنایا جاتا ہے۔


عقیقہ یا منڈن: سنت نبوی ﷺ کے مطابق اکثر لوگ بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کردیتے ہیں لڑکے کے لیے دو اور لڑکی کے لیے ایک بکرے کو ذبح کیا جاتا ہے اور ذبح کے ساتھ ہی بچے کے جمالی بال نکالے جاتے ہیں۔نکالے گئے بالوں کے وزن کے برابر چاندی تول کر رقم خیرات کی جاتی ہے۔عقیقہ میں ذبح کیا جانے والا جانور نومولود کی سلامتی کا صدقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اس کا گوشت لوگ خیرات کردیتے ہیں ہندئوں میں اس رسم کو منڈن کی رسم کہتے ہیں۔اکثر حیدرآبادی ہندو عقیدے کے ساتھ جہانگیر پیراں کی درگاہ جاکر بچوں کے بال نکالتے ہیں اور نیاز کرتے ہیں۔دیہاتوں کے مسلمان بھی اس طرح کے مواقع پر نذر ونیاز کرتے ہیں۔اگر کوئی ہندو وقت پر اپنے بچے کے بال نہ نکال سکے تو بچے کے جمالی بالوں میں ایک جٹو کی شکل میں کچھ بال چھوڑ کر باقی بال نکلوادیتے ہیں اور جب نیاز کرتے ہیں تو اس وقت جٹو کے بال نکلواتے ہیں۔


چھلہ: بچے کی پیدائش کے چالیسویں دن زچہ نہا دھو کر پاک ہوجاتی ہے اس روز بچے کو جھولے میں ڈالنے کی رسم انجام دی جاتی ہے کھیر ملیدہ بنایا جاتا ہے اور چنے ابال کر بچے کو جھولے میں ڈالا جاتا ہے ماں بچے کو جھولا دیتی ہے اور خاندان کی عورتیں مختلف لوری کے گیت گاتی ہیں۔چھلے کے دوسرے دن لڑکی اپنے سسرال کو واپس آجاتی ہے۔
سالگرہ: بچہ جب ایک سال کا ہوجائے تو اس کی سالگرہ بڑی دھوم سے کی جاتی ہے۔ یہ رسم انگریزوں سے ہندوستا ن میں آئی لیکن اسے اکثر دولت مند طبقے میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔بچے کو اچھا سا نیا لباس اور ٹوپی پہنائی جاتی ہے کمرے کو غباروں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔بڑا سا کیک بنوایا جاتا ہے۔اور اس پر بچے کی عمر کے حساب سے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں بچہ موم بتی بجھا کر کیک کاٹتا ہے۔اور سب لوگ اسے سالگرہ مبارک کہتے ہیں اور تقریب میں بچے کو تحائف دئیے جاتے ہیں۔


دودھ چھڑائی کی رسم: رسم و رواج کے اس دور میں زندگی کے ہرمرحلے سے متعلق کچھ نہ کچھ رسومات رائج تھیں۔جب بچہ دو ڈھائی سال کا ہوجاتا تو ماں کا دودھ چھڑایا جاتا تھا اور بچے کے پیر میں گھنگرو ڈالے جاتے تھے۔بعض بچے آسانی سے دودھ نہیں چھوڑتے ہیں تو ماں اور گھر والے کافی جتن کرنے کے بعد ہفتہ دو ہفتے بعد بچہ دودھ چھوڑ کر دوسری غذائیں لینے پر آمادہ ہوتا ہے۔


ختنہ: مسلمانوں میں مرد بچوں کی ختنہ کرانا ایک شرعی رسم ہے۔یہ سنت ابراہیمی ہے اور اس کے کافی طبی فوائد ہیں تین تا چار سال کی عمر کے اندر بچے کی ختنہ کرادی جاتی ہے۔اس کے لیے بھی حیدرآبادیوں میں طرح طرح کی رسومات رائج تھیں۔بچے کو تین چار دن مانجھے پر بٹھایا جاتا تھا ختنہ کے دن منڈپ کے نیچے سجی سجائی چوکی پر بچے کو لال رنگ کی لنگی پہنا کر بٹھایاجاتا تھا۔نائی ختنہ کرتے تھے۔ بچے کے کے رشتے دار اس کے لیے خشک میوے پھل وغیرہ لاکر دیتے تھے۔اکیسویں دن پھول پہنائی کی رسم انجام دی جاتی تھی۔اور خاندان کے احباب کے لیے دعوت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ہندئوں میں برہمنوں اور کمٹیوں میں بچے کے سن بلوغ پر پہنچنے پر زنار کی رسم انجام دی جاتی تھی۔ بچہ کو مقدس دھاگہ باندھا جاتا ہے اس کے بعد بچہ مذہبی رسوم ادا کرنے کے قابل مانا جاتاہے۔اس موقع پر شاندار دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔


کان چھدائی اور ناک چھدائی کی رسم: لڑکیوں کے کان اور ناک میں سوراخ کرنے کی رسم بھی حیدرآبادیوں میں عام تھی۔کانوں میںپانچ تا چھ سوراخ کیے جاتے تھے اور ناک میں ایک سوراخ کیا جاتا تھا۔ابتداء میں ان سوراخوں میں تانبے کا تار ڈالا جاتا تھا اس موقع پر بھی مختصر سی دعوت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔مدعو خواتین گڑ اور کھوپرا لاکر اس دعوت میں شرکت کرتی تھیں۔یہ رسم ہندئوں اور مسلمانوں میں یکساں رائج تھی۔


تسمیہ خوانی یا بسم اللہ کی رسم: اس رسم کا تعلق بچوں کی تعلیم کے آغاز سے متعلق ہے۔مسلمانوں میں جب بچہ چار سال چار ماہ چار دن کا ہوتا ہے تب ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بچے کو سنہری شیروانی اور ٹوپی اور بچی کو خوبصورت لباس اور اوڑھنی پہنائی جاتی ہے۔اور کسی بزرگ کے ذریعے بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ اور سورہ اقرا بسم ربک الذی کی چند آیات پڑھائی جاتی ہیں۔اس رسم کا جواز لوگ اس بات سے نکالتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن میں شق صدر ہوا تھا اور جبرئیل علیہ السلام نے آپﷺ کے سینہ مبارک کو دھوکر اس میں اللہ کا نور بھر دیا تھا۔اور بعد میں جب آپ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہوا تو ابتدئی آیات سورہ اقرا بسم کی ہی پڑھائی گئی تھیں۔اس طرح مسلمان یہ تمنا رکھتے ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم کا آغاز قرآن کی ان آیات سے ہو اور اس رسم کو بسم اللہ کی رسم کہا گیا۔بسم اللہ پڑھاتے وقت ایک بڑا سا لڈو بچے کے سیدھے ہاتھ کے نیچے رکھا جاتا تھا اس موقع پر کافی اہتمام سے دعوت کی جاتی تھی اور بچے کو زری کی شیروانی اور ٹوپی پہنائی جاتی تھی۔


قرآن خوانی کی رسم: بچہ جب مکمل قرآن پڑھ لے تب اسی خوشی میں بھی دعوت کی جاتی تھی قرآن پڑھانے والے استاد یا استانی کو ہدیہ کے طور پر نیا لباس تحفہ میں دیا جاتا تھا اور بچے کو بھی نئے کپڑے پہنائے جاتے تھے۔


روزہ رکھائی: بچہ جب دس گیارہ سال کا ہوجائے تو رمضان کے فرض روزے رکھنے کی ابتداء روزہ رکھائی کی رسم سے کی جاتی تھی۔سحری میں کھچڑی قیمہ اور میٹھا بنایا جاتا ہے بچے کو روزہ رکھنے کی نیت پڑھائی جاتی ہے دن بھر بچے کی نگرانی کی جاتی ہے کہ وہ بہ حالت روزہ کچھ کھاپی نہ لے شام میں اچھی افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے بچے کونئے کپڑے پہنا کر پھول پہنائے جاتے ہیں افطار کے بعد دوست احباب کی دعوت کی جاتی ہے اور بچے کو تحائف دئے جاتے ہیں۔


رسم و رواج کے اس ماحول میں حیدرآبادیوں میں ایک رسم لڑکی کے سن بلوغت کو پہنچنے کے وقت کی رسم بھی ہے۔اس موقع پر رشتہ داروں اور محلے کی خواتین کو بلا کر دعوت کی جاتی ہے۔تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے گھر میں لڑکی شادی کے قابل ہوگئی ہے۔دیہاتوں میں آج بھی یہ رسم اہتمام سے منائی جاتی ہے۔


شادی بیاہ کے رسوم :یوں تو مذہبی اعتبار سے مسلمانوں کے ہاں شادی بیاہ کے موقع پر زیادہ رسومات رائج نہیں شادی طے ہوجانے پر دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے بعد نکاح کی رسم انجام دی جاتی ہے شادی کے دوسرے یا تیسرے دن دلہا شکرانے کے طور پر اپنی استطاعت کے مطابق دعوت ولیمہ کا اہتمام کرتا ہے۔ لیکن دولت کی فراوانی اور رسومات کے چکر میں حیدرآبادی شادیوں میں بھی کئی رسومات داخل ہوتی گئیں۔ شاہی گھرانوں سے یہ رسومات طبقہ امراء میں اور پھر آہستہ آہستہ متوسط طبقہ میں آگئیں۔ شاہی گھرانوں میں یہ رسومات مغل شہنشاہ اکبر کے دور میں ہندئوں سے مسلم گھرانوں میں داخل ہوئیں۔ اکبر نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور مقبول بنانے کی خاطر ہندئوں کی مختلف رسومات کو دربار میں شروع کیا اسی زمانے میں حیدرآباد میں محمد قلی قطب شاہ کی حکمرانی تھی اس نے بھی رواداری کی خاطر بہت سی رسومات اپنائیں۔ اور یہ رسومات دربار سے نکل کر عوام تک پہنچیں۔


حیدرآباد میں لڑکے یا لڑکی کی شادی کی بات چلانے کے لے مشاطائیں کام کرتی ہیں۔اسم نویسی خوشبو دار مخمل کی تھیلی میں رکھ کر دی جاتی تھی رشتہ کے لیے مسلمانوں میں لڑکے کی طرف سے اور ہندوئوںمیں لڑکی کی طرف سے پہل کی جاتی ہے۔لڑکی دیکھتے وقت اس کے ہاتھ پیر بال آنکھیں رنگ وغیرہ دیکھا جاتا ہے۔
منگنی کی رسم: لڑکا اور لڑکی کی شادی طے کرنے کے لیے منگنی کی رسم انجام دی جاتی ہے۔ لڑکے کے گھر سے مہمان سجی سجائی کشتیوں میں میوے مٹھائی کے ڈبے لڑکی کے گھر لے آتے ہیں۔ لڑکی کو پھول اور زیور پہنائے جاتے ہیں۔دوسرے دن جوابی رسم ہوتا اور لڑکے کے گھر دعوت ہوتی جس میں دولہا کو انگوٹھی پہنائی جاتی ہے بعدمیں منگنی ایک دن میں ہی ہونے لگی۔


پائوں میز کی رسم: شادی سے چند ہفتے قبل یہ رسم کی جاتی ہے۔لڑکے والے لڑکی کے گھر جاتے ہیں اگر جہیز میں جوڑے کی رقم طے ہوتی ہے تو اس متعینہ رقم لڑکے والوں کے حوالے کی جاتی ہے اس کے لیے ایک خوبصورت بٹوے کا انتظام کیا جاتا ہے۔لڑکے والے لڑکی کے ناپ کا جوڑا چپل اور چوڑیوں کا ناپ لیتے ہیں پیر کا ناپ موتیوں کی لڑی سے لیا جاتا تھا۔
جہیز کی تیاری: حیدرآبادی شادیوں میں جہیز لینا اور دینا لازمی سمجھاجاتا ہے۔پہلے سے جہیز کے امور طے کرلیے جاتے ہیں۔فہرست میں سب سے پہلے قرآن شریف اور جائے نماز کا نام لکھا جاتا ہے۔چارمینار کے اطراف بازار میں شادی کے جہیز کی فہرست سے لے کر سارا سامان مل جاتا ہے۔


دعوت نامے: شادی کی تاریخ طے ہونے پر دعوت نامے یا رقعے چھاپ کر تقسیم کیے جاتے ہیں پہلے زمانے کی شادیوں میں رنگین کاغذ سے بنے پھول جن پر عرش لگا ہوتا تھا الائچی کے نام سے رشتے داروں کو دعوت کے لیے مدعو کیے جانے کے طور پر دی جاتی تھی۔مہمانوں کی طویل فہرست بنائی جاتی اور قبل از وقت رقعے تقسیم کیے جاتے تھے۔ شادی میں شرکت کے لیے آنے والوں کو سفر خرچ بھی دیا جاتا تھا۔


مانجھا مایوں کی رسم: شادی کی رسومات کا آغاز مایوں کی رسم سے ہوتا ہے جسے مانجھا یا منجا کہاجاتا ہے۔شادی سے تین یا پانچ دن قبل دولہا اور دلہن کو اپنے اپنے گھروں میں مایوں بٹھایا جاتا ہے اس کے لیے منڈپ ڈالا جاتا اور چوکی پر بٹھا کر دولہا دلہن کو اپنے اپنے گھروں میں ہلدی لگائی جاتی ہے۔مایوں کی رسم میں دلہن اور سبھی مہمان خواتین زرد لباس زیب تن کرتی ہیں ملیدہ بنایا جاتا ہے اور رات رات بھر ڈھولک کے گیت بجائے جاتے اور گھر میں شادی کی رونق بڑھ جاتی ہے۔روزانہ کوئی نہ کوئی رشتہ دار منجا لاتے ہیں ارو دولہا دلہن کو پھول مٹھائی سے نوازا جاتا ہے۔شادی سے قبل دونوں جانب رشتے داروں کو کپڑے بنائے جاتے ہیں اور دلہا دلہن کے والدین کو رشتے دار کپڑے پہناتے ہیں اسے آہر کہتے ہیں۔مایوں کے دوران دلہن کو زیادہ سے زیادہ ہلدی لگئی جاتی ہے تاکہ شادی کے دن اس کا رنگ اور حسن خوب کھلے۔


ساچق اور مہندی کی رسم: ترکی زبان میں ساچق مہندی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔عموماً شادی کے ایک یا دو دن قبل دلہے والے دلہن کے گھر شادی کا جوڑا چوڑیاں چپل اور زیور اور زیب و زینت کا سامان لا کر دیتے ہیں۔دلہن کے گھر والے دولہے والوں کا استقبال کرتے ہیں۔ساچق کے دوسرے دن مہندی کی رسم ہوتی ہے دولہے کی ہونے والی سالیاں اور کچھ احباب دولہے کا نکاح کاجوڑا جوتے صابن دانی عطر وغیرہ سجا کر لاتے ہیں۔چھوٹی سالی منڈپ میں چوکی پر بیٹھے دولہا بھای کے ہاتھوں کو مہندی لگاتی ہیں اور ایک خوبصورت زرین کپڑے کی ڈوری جسے مہندی بند کہتے ہیں اس سے ہاتھ پکڑ کر انگلی میں انگوٹھی پہناتی ہے اور ڈور سے انگلی پکڑ کر رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اس موقع پر دونوں جانب ہنسی مذاق کے دوران رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے دلہا اور اس کی جانب کے رشتے دار رقم گھٹاتے جاتے ہیں ایک معقول رقم پر رضامندی کے بعد سالی جیجاجی کی انگلی چھوڑ کر رقم لے لیتی ہے اور یہ رقم دلہن کی بہنیں آپس میں تقسیم کر لیتی ہیں۔


نکاح کے وقت کی رسمیں:حیدرآبادی شادیوں میں ہر موقع کے لیے الگ الگ رسمیں ہوتی ہیں۔نکاح کے وقت دلہا کو سہرا پہنا کر گھوڑی پر یا پھولوں سے لدی کار میں دلہن کے گھر لایا جاتا ہے۔دلہے سے دھینگانہ کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے۔قاضی صاحب کی جانب سے نکاح پڑھانے کے بعد چھوارے اچھالے جاتے ہیں۔نکاح کے فوری بعد لڑکے والوں کی جانب سے دلہن کو کالی پوت کا لچھا پہنایا جاتا ہے۔اور وداعی کے موقع پر دلہن رو دھو کر اپنے والدین کے گھرسے سسرال پہنچتی ہے۔پہلی مرتبہ دلہن گھر میں داخل ہو تو اس پر سے مرغی یا بکری وار کر صدقہ کی جاتی ہے۔ دلہے کی بہنیں دلہن کے پیر دھلا کر اپنے بھائی سے پیسے وصول کرتی ہیں۔ دلہا دلہن کو دیکھنے کے بعد اسے کوئی قیمتی تحفہ منہ دکھائی کے طور پر دیتا ہے۔ شادی کے دوسرے دن دلہن کے گھر سے کھچڑی کے نام پر ناشتہ بھیجا جاتا ہے جس میں نہاری کھچڑی کھوپرے کی چٹنی وغیرہ لائی جاتی ہے۔بعد میں چوتھی کے عنوان سے دوست احباب رشتہ دار ایک دوسرے پر پانی رنگ انڈے ہلدی کالک وغیرہ لگا کر دھوم مچاتے ہیں۔چوتھی کے دوسرے دن دلہا کی جانب سے دعوت ولیمہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اور شادی کے بعد پانچ جمعہ تک جمعگی کے نام سے دعوتیں دی جاتی ہیں جمعگیوں کے بعد دلہن باورچی خانہ کے امور سنبھالنا شروع کرتی ہے۔ اس کے لیے اس سے کسی میٹھے کی تیاری سے پکوان کے آغاز کرنے کی خواہش کی جاتی ہے۔


رسم میت: موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کا انکار نہیں ہر مذہب میں زندگی گزارنے اور اس دنیا سے رخصت ہونے کے وقت کے کچھ نہ کچھ طریقے بتائے گئے ہیں۔زمانہ گزرنے کے ساتھ ان میں رسومات بھی شامل ہوتی گئیں۔حیدرآبادیوں میں بھی کسی کے انتقال کے وقت مذہبی طریقوں کے ساتھ چند رسومات انجام دی جاتی ہیں۔جس گھر میں کسی کا انتقال ہوجائے تو تین دن تک رشتے دار اور دوست احباب میت کے گھروالوں کو کھانا بھیجتے ہیں۔ کیوں کہ میت کے گھر والے سوگ میں اس قابل نہیں رہتے کہ خود پکوان کرسکیں۔اس کے علاوہ کھانے بھجوانے کا ایک مطلب غم کے موقع پر سب کا ساتھ دینا بھی ہے۔مسلمانوں میں کسی کے انتقال پر فاتحہ سویم اور ہندئوں میں تیجا کی رسم انجام دی جاتی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں انتقال کے بعد دنوں کے اعتبار سے دسواں بیسواں چہلم اور سال گزرنے کے بعد برسی اہتمام سے کی جاتی ہے اور غریبوں کو کھانے میں شامل کیا جاتا ہے۔شاہی دور میں شہر فصیل بند ہوا کرتے تھے اور رات کے وقت شہر میں تمام دروازے بند کردئیے جاتے تھے تاہم ایک دروازہ میت کو باہر لیجانے کے لیے کھلا رکھا جاتا تھا۔


عیدین اور تہوار: انسانی زندگی خوشی اور غم کا حسین امتزاج ہے قدرت نے انسانوں کو مل جل کر خوشی منانے اور اس کا شکر عطا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔عیدین کے دو اہم مواقع عید الفطر اور عید الاضحی ہیں۔عید الفطر مسلمانوں کی سب سے بڑی عید ہے جو ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد منائی جاتی ہے۔حیدرآباد کا رمضان ساری دنیا میں مشہور ہے۔حضور نظام میر عثمان علی خان کے دور میں سحر اور افطار کے اوقات کے اعلان کے لیے توپیں داغی جاتی تھیں۔توپ کی جگہ اب سائرن نے لے لی ہے۔رمضان کے تیس دن مسلمان روزوں تراویح قیام الیل اور دیگر عبادات کا اہتمام کرتے ہیں زکوۃ اور صدقات دئیے جاتے ہیں افطار کے وقت حلیم دہے بڑے خاص طور سے تیار کیے جاتے ہیں رات بھر بازار کھلے رہتے ہیں اور عید کی تیاری مہینہ بھر کی جاتی ہے۔عید کے دن مرد نئے لباس پہن کر عید کی نماز پڑھنے عید گاہ جاتے ہیں نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں گھر پر شیر خرما تیار کیا جاتا ہے بچے عیدی لیتے ہیں عید کے دوسرے تیسرے دن بھی عید ملنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے سماجی و تہذیبی طور پر عید ملن پروگرام منعقد ہوتے ہیں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔


عید الاضحی: ذی الحجہ کی 10 تاریخ کو عید الاضحی منائی جاتی ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی پیروی میں قربانی کی جاتی ہے اور اس جذبے کی یاد تازہ کی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں اگر ضرورت پڑے تو اپنی عزیز ترین چیز بھی قربان کی جاسکتی ہے۔ حیدرآباد میں بھی اس عید کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے قربانی کے لیے بکرے دور دراز مقامات سے شہر کو لائے جاتے ہیں اور عید سے ایک دن پہلے بازاروں میں چوراہوں پر ہر طرف لوگ بکرے خریدتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ قربانی کا گوشت غریبوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے نوجوان طرح طرح کے پکوان بنا کر شوق سے کھاتے ہیں۔


عید نوروز: اس عید کے منانے کا رواج ایران سے ہندوستان آیا۔محمد قلی قطب شاہ نے رواداری نبھاتے ہوئے سبھی مذاہب کی سرپرستی کی تھی۔عید نوروز پارسیوں کی عید ہے لیکن بادشاہی دور میں حیدرآباد میں یہ عید اہتمام سے منائی جاتی تھی۔علم نجوم کے مطابق سورج یا زمین کا ایک چکر ختم ہوکر جب نیا چکر شروع ہوتا ہے تو اس روز کو نو روز کہا جاتا تھا اور سیاروں کے مقامات کے اعتبار سے نجومی آنے والے سال کے حالات کی پیش قیاسی کرتے تھے۔نوروز کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس روز دنیا ایک نئی کروٹ لیتی ہے۔جس کی وجہہ سے ہر چیز تروتازہ اور نئی ہوجاتی ہے۔اس روز خوشبو دار اگر بتیاں جلائی جاتی ہیں۔اور لوگ پاک و صاف لباس پہن کر عبادات اور دعائیں کرتے تھے۔ عام لوگ زائچہ نکال کر بہت پیسہ کماتے تھے۔اب حیدرآباد میں نوروز کی عید منانے کا چلن ختم ہوگیا۔


عید میلا د النبیﷺ: پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے متبرک اور مقدس موقع پر ہر سال 12ربیع الاول کو عید میلاد النبیﷺ بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔شاہی دور میں اس دن مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں۔گھروں میں میلاد اور قصیدہ بردہ شریف پڑھنے کا رواج تھامکہ مسجد کے علاوہ دوسری مساجد میں خصوصی روشنی کی جاتی تھی۔عوام اور خواص کے لیے کھانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔اور کھیر پوریاں بنا کر فاتحہ دی جاتی تھی۔نواب میر عثمان علی خاں پتھر گٹی میں واقع نبی خانہ میں میلاد شریف کا وعظ سننے کے لیے جایا کرتے تھے۔آج بھی حیدرآباد اور اضلاع میں میلاد النبی ﷺ بڑے عقیدت و اہتمام سے منائی جاتی ہے محافل میلاد کا انعقاد جلوس محمدی نکالنے کا رواج عام ہے۔ غریبوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے اور بیماروں میں پھل وغیرہ تقسیم کیے جاتے ہیں۔


گیارہویں کی نیاز: حیدرآبادی مسلمانوں میں منتیں مانگنے اور بزرگان دین کے نام پر نذر و نیاز کرنے کا رواج پایا جاتا ہے۔بزرگان دین اور اولیائے کرام کے یوم پیدائش یا یوم وفات کونیاز کی جاتی ہے چنانچہ ۱۱ ربیع الثانی کو غوث اعظم حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کے یوم وفات کو گیارہویں شریف کے نام سے منایا جاتا ہے اس دن اور پورے ماہ میں ہندو اور مسلمان عقیدت مند غوث اعظم کے نام کے نیاز کرتے ہیں اور لوگوں کو بڑے پیمانے پر کھانا کھلایا جاتا ہے۔حیدرآباد اور اضلاع میں آج بھی عقیدت مند نشان مبارک کے نام سے سبز پرچم لگاتے ہیں اور گیارہیوں کرتے ہیں۔


رجب کے کنڈے: ہر سال رجب کی بائیس تاریخ کو حیدرآباد کے اکثر مسلم گھرانوںمیں حضرت امام جعفر صادق کے نام سے کنڈے کئے جاتے ہیں کنڈوں میں کھیر رکھی جاتی ہے پوریاں بنائی جاتی ہیں پاک و صاف ہو کر فاتحہ دی جاتی ہے اور گھر کے مخصوص کونے میں بیٹھ کر لوگ کنڈوں سے کھیر پوری کھاتے ہیں۔ شام ہونے سے قبل کنڈوں سے کھیر ختم کردی جاتی ہے۔
حیدرآباد کا محرم: حیدرآباد اور لکھنو کا محرم سارے ہندوستان میں مشہور ہے۔ دونوں مقامات پر اکثر بادشاہ اہل تشیع سے تھے اور حضرت امام حسینؓ کی شہادت کی یاد میں غم اور ماتم کرنا باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔چونکہ حیدرآباد اور لکھنو دونوں شہروں میں تہذیبی اعتبار سے زندگی کے ہر معاملے میں رسومات کو دخل تھا۔اس لیے ماہ محرم بھی یہاں عقیدت و احترام سے منایا جاتاہے۔واقعہ کربلا کو مجالس میں بیان کیا جاتا ہے مجالس عزا منعقد ہوتی ہیں۔ساتویں سے دسویں محرم کو شربت پلانے کا اہتمام کیا جاتا ہے تلنگانہ کے ہندو محرم کو پیرلا پنڈوگا کہتے ہیں دیہاتوں اور شہروں میں علم بٹھائے جاتے ہیں 10محرم کو جلوس کی شکل میں علم نکالے جاتے ہیں حیدرآباد میں تاریخی بی بی کا علم ہاتھی پر نکالا جاتا ہے سیاہ لباس میں ملبوس عزا دار سینہ کوبی کرتے ہوئے غم مناتے ہیں۔سارے مہینے میں لوگ غم کی وجہہ سے خوشی کی تقاریب منعقد نہیں کرتے ہیں سرخ رنگ کے کپڑے اور زیورات نہیں پہنے جاتے۔چاند رات سے ہی دلہنیں اپنے مائیکے چلی جاتی ہیں اور مہینہ بھر بعد واپسی ہوتی ہے۔قطب شاہی عہد سے لے کر آصف جاہی دور تک حیدرآباد میں شاہی سرپرستی میں محرم منایا جاتا تھا آج بھی حیدرآباد میں محکمہ امور صرفخاص کے زیر اہتمام پرانے شہر میں محرم کا اہتمام روایتی انداز میں کیا جاتا ہے۔


مسلمانوں کی ان عیدوں اور تہواروں کے علاوہ ہندوئوں کی عیدیں جیسے دسہرہ ‘دیپاولی‘ اگادی‘ تلسنکرات‘ ناگ پنچھمی‘ جنم اشٹمی‘ بسنت پنچھمی کا تہوار عیسائیوں کا کرسمس اور نیا سال وغیر عید اور تہوار خوشی سے منائے جاتے ہیں۔ان عیدوں میں بلا لحاظ مذہب و ملت لوگ شریک ہوتے ہیں۔

اعراس اورمیلے
زمانہ قدیم سے دکن کا علاقہ اولیا اللہ کا مرکز رہا ہے۔یہاں باہر سے آئے کئی اولیائے کرام نے دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں دکن کے علاقے کو اپنا وطن بنایا اور یہیں کی سرزمین میں وہ اپنے فیوض و برکات کے ساتھ آرام کر رہے ہیں۔ان اولیائے کرام کے فیوضات سے مستفید ہونے والے معتقدین ہر سال اولیائے کرام کی آرام گاہوں پر اعراس مناتے ہیں جس میں ہندو اور مسلمان دونوں بڑی تعداد میں عقیدت سے شریک ہوتے ہیں۔حیدرآباد کے اطراف میں پہاڑی شریف پر حضرت بابا شرف الدین صاحب ؒ اور جہانگیر پیراں کا عرس اور حضرات یوسفینؒ کا عرس اور عبدا للہ شاہ صاحبؒ کا عرس مشہور ہے۔ان اعراس کی تقاریب میں صندل مالی تبدیلی غلاف فاتحہ خوانی محفل سماع کا انعقاد چراغاں قرآن خوانی اور لوگوں کو کھانا کھلانا وغیرہ امور شامل ہیں۔
مشاعرے:
حیدرآباد ایک تہذیبی شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں صبح و شام میں جا بجا علمی و ادبی محفلوں کا انعقاد عام بات ہے۔دیگر باتوں کے علاوہ حیدرآباد مشاعروں کے شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔مشاعرے یہاں کی تہذیب کا حصہ ہیں۔مہاراجہ چندولال شادان کی دیوڑھی میں شعری محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں بعد میں ا ن کے نواسے مہاراجہ کشن پرشاد شاد سابق مدر المہام حکومت آصفیہ نے مشاعروں سے اپنی خاص انسیت کی بنا پر باقاعدہ مشاعروں کی داغ بیل ڈالی۔ مہینہ پندرہ دن میں ایک مرتبہ طرحی اور غیر طرحی مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے۔مصرعہ طرح فارسی اور اردو میں دئیے جاتے تھے۔فصاحت جنگ جلیل نظم طبا طائی حیرت بدایونی کے علاوہ کئی شعرا ء ان مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔ جلیل منزل میں فصاحت جنگ جلیل کے ہاں بھی پابندی سے مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔اسی طرح ماہ محرم کی مناسبت سے مرثیہ خوانی کی محفلیں نواب تہور جنگ اور نواب ماہر الدولہ کے ہاں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ان مجالس میں عظیم مرثیہ گو شاعر میر ببر علی انیس اور پیارے صاحب رشید نے شرکت کی تھی سروجنی نائیڈو کے مکان گولڈن تھریشولڈ پر بھی مخصوص شعری محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔پرنس معظم جاہ شجیع کا نام بھی حیدرآباد مین مشاعروں کے انعقاد کے لیے مشہور ہے۔ان مشاعروں کی اپنی الگ تہذیبی شناخت تھی۔شعرائے کرام سفید چادر کے فرش پر حلقہ بنائے بیٹھتے تھے۔ کوئی ایک شاعر باری باری شعراء کا تعارف کراتے ہوئے انہیں دعوت کلام دیتا تھا۔کلام سنانے والے شاعر کے سامنے جلتی شمع رکھی جاتی تھی۔نوجوان شعراء کو پہلے کلام سنانے کا موقع ملتا تھا بعدمیں بزرگ شعراء کلام سناتے تھے۔حیدرآباد میں مشاعروں کے انعقاد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ہر سال ادبی ٹرسٹ شنکر جی اور زندہ دلان کے مشاعرے سال کے آخری ایام میں منعقدہوتے ہیں جن میں باذوق احباب کثیر تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔میلا دالنبی ﷺکے موقع پر دارالسلام کا نعتیہ مشاعرہ کافی مشہور ہے مقامی اور بیرونی شعرا مدعو ہوتے ہیں سنجیدہ و مزاحیہ مشاعروں میں حالات حاضرہ پر کلام سنانے والوں کو زیادہ داد ملتی ہے۔

آزادی کے بعد کا حیدرآباد
ریاست حیدرآباد کے انضمام کے بعد لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید عمل میں آئی۔ دکن کے علاقے میں آندھرا اور تلنگانہ کو ملا کر ریاست آندھرا پردیش وجود میں آئی بعد میں 12جون 2014 ء کو تلنگانہ ریاست وجود میں آئی۔ حیدرآبادیوں نے آندھرا پردیش اور اب تلنگانہ میں رہتے ہوئے ساری دنیا میں اپنی تہذیبی شناخت براقرار رکھی ہے۔ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب حیدرآبادی تہذیب کی علامت ہے۔ شہر حیدرآباد زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کر گیا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں یہاں جامعہ عثمانیہ کے بعد مرکزی اور یاستی سطح کی یونیورسٹیاں قائم ہیں اردو یونیورسٹی سے اردو زریعے تعلیم کے مواقع ہیں۔ادب صحافت سائنس و ٹیکنالوجی اور زندگی کے تمام شعبوں میں حیدرآبادیوں نے کافی ترقی کی ہے زندگی کی تیز رفتاری‘ مشترکہ خاندانوں کے ٹوٹنے اور شہری زندگی کے پروان چڑھنے سے رسم و رواج کافی کم ہوگئے ہیں انٹرنیٹ کی ترقی نے لوگوں کو دنیا بھر میں جوڑ تو دیا ہے لیکن حقیقی رشتے داریاں کم ہوگئی ہیں اب لوگ شادی بیاہ اور کسی کی موت پر ہی ایک دوسرے سے شخصی طور پر ملتے ہیں ورنہ ہر کام آن لائن ہونے لگا ہے اردو زبان نے لوگوں کے دلوں کو جوڑے رکھا ہے حیدرآبادی فلمیں یہاں کے نوجوانوں کی سرگرمیاں اور کارنامے عام ہیں اور ساری دنیا میں حیدرآبادی تہذیب و معاشرت مشہور ہے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں