تجاوزات

افسانہ نگار : راشد جاوید احمد

, تجاوزات

مجھے کچھ ضروری اشیاء خریدنا تھیں اور وقت نہیں مل رہا تھا ۔با لآخر میں نے دفتر سے آدھے دن کی چھٹی لی اور بازار جانے کے لیے دفتر سے باہر نکل آیا۔ میرا پاوں دفتر کی دیوار کے ساتھ سوئے ہوئے ایک کتے پر پڑا۔ میں نے بمشکل اپنا توازن برقرار کیا ۔ اس کوشش میں میرے جوتے کی نوک کتے کی پسلیوں میں شاید زور سے لگ گئی تھی ۔ کتا غرا کر کھڑاہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں غصہ اور حیرانی تھی۔ پھر شاید دل ہی دل میں روتا اور مجھے گالیاں دیتا وہ وہاں سے چل دیا۔ سڑک کے پرلی طرف بیٹھا ایک بھکاری اس منظر کو غور سے دیکھ رہا تھا۔
یہ بھکاری شاید ایک دو روز پہلے ہی یہاں آیا تھا کیونکہ اس سے پہلے تو یہ کونہ خالی تھا ۔ لیکن مجھے یاد آیا کہ پہلے تو وہ بازار کے اس طرف ایک دیوار کے سائے میں بیٹھتا تھا اور بارش اور دھوپ سے بھی محفوظ تھا لیکن اب یہاں چلا آیا تھا۔ یہاں تو اس کے عقب میں بازار کے اس کونے سے متصل چند جھاڑیاں سی تھیں اور پھر ایک گہرا سبز سا باغ جسے وہاں کے لوگ ڈونگی گراوئڈ کہتے تھے۔ یہاں بازار کی دکانوں کی آخری حد تھی ۔وہ ایک ٹانگ سے محروم تھا لیکن وہ اسے اس طرح سے کپڑے میں لپیٹے رکھتا تھا کہ گمان گزرتا تھا کہ ٹانگ سالم ہے۔ تاہم وہ دکانداروں کی ہمدردی حاصل کرنے میں کامیاب تھا اور انہوں نے اسے آخری دکان کے قریب ڈونگی گراوئڈ کے سرے پر بیٹھنے دیا تھا۔ ویسے تو یہ کافی کھلا بازار تھا اور اسمیں خریداروں کا ایک ہجوم رہتا تھا لیکن تجاوزات کی اس قدر بھر مار تھی کہ بازار میں آسانی سے چلنا دشوارتھا اور سڑک پار کرنے کے لیے تو کافی کھیچل کرنا پڑتی تھی۔
اسکا کشکول زمین پر دھرا تھا جس میں کچھ سکے اور کچھ کرنسی نوٹ تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے وہ ان سکوں کو نکال کر دوبارہ کشکول میں گراتا تاکہ اس سے پیدا ہونے والی آواز بازار میں آئے لوگوں کی توجہ کھینچ لے۔ وقفے وقفے سے وہ اپنی باقی ماندہ ٹانگ پر اسطرح سے ہاتھ پھیرتا جیسے خارش کر رہا ہو یا اسے سہلا رہا ہو۔


کتا سست روی سے چلتا ہوا کچھ فاصلے پر رک گیا تھا۔ بھکاری اسے واپس جاتا دیکھ کر نہ صرف مسکرایا بلکہ اسنے اسکی جانب اپنا ہاتھ بھی لہرایا۔ کتا کچھ خوف زدہ سا تھا اور دم ٹانگوں میں دبائے وہ سڑک کی اس جانب آ گیا جہاں بھکاری بیٹھا تھا۔ قریب آنے پر بھکاری نے گدڑی سے روٹی کا ایک ٹکڑا نکال کراس کا استقبال کیا اور بولا،


” آ جا۔ یہ تیرے لیے بچا کے رکھا ہے۔ اسے کھا لے تاکہ تجھ میں اتنی طاقت تو آئے کہ زمانے کی ٹھوکروں کا مقابلہ کر سکے۔ ہم اسی طرح ان لوگوں کی ٹھوکروں کا شکار ہوتے ہیں جو اپنی فکروں اور خیالوں میں اس قدر مگن چلتے ہیں کہ آگے دیکھتے ہی نہیں اور راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو بے رحمی سے ٹھوکر مار دیتے ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے ادلے کا بدلہ ضروری ہوتا ہے۔ لے کھا لے۔ “


کتے نے روٹی کا ٹکرا منہ میں لیا اور بھکاری کے بالکل قریب بیٹھ کر کھانے لگ گیا۔ ایک لمحے کے لیے تو ایسا لگا گویا ان دونوں میں کوئی فرق ہی نہیں۔ ان دونوں کے درمیان اب گفتگو نہیں ہو رہی تھی لیکن وہ ایک دوسرے کی نظروں کا مطلب بہت اچھی طرح سے سمجھ رہے تھے اور ایسا صرف گہری دوستی میں ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ بھکاری اسے موتی کہہ کے بلارہا تھا، شاید موتی نام کا کتا اسکے گاوں میں اسکے پاس رہا ہو یا شاید یہ اسکے گاوں سے ہی اسکے ساتھ آیا ہو۔


میں اسی بازار میں ضروری سودا سلف خرید رہا تھا۔ سورج صبح سے کافی گرمی پھینک چکا تھا لیکن اس وقت ڈھلتی دوپہر کا سورج بازار کے شمال کی جانب پہاڑوں کی اوٹ میں جا رہا تھا اور حدت میں کافی کمی آ رہی تھی۔ کبھی کبھی درختوں سے آتی تازہ ہوا ظاہر کرتی کہ سہہ پہر خنک بھی ہو سکتی ہے۔ چلتے چلتے میں بھکاری کے قریب پہنچا تو وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑا رہا تھا۔ میں وہیں رک گیا۔


” دیکھو آج میری کشکول میں کیا رونق لگتی ہے ” بھکاری نے اپنے آپ سے کہا یا کتے سے، درست طور پر نہیں کہا جا سکتا لیکن کتے نے کان ضرور ہلائے تھے۔
اس وقت بازار میں کافی رونق تھی۔ زیادہ تر خریدار تو قریبی گاوں کےتھے اور یہ ان کا روز کا معمول تھا کہ گھروں کو واپس لوٹنے سے پہلے اپنی مطلوبہ چیزوں کے لیے ایک چکر بازار کا لگا لیتے تھے۔ پہاڑوں کے پرلی طرف خوبصورت، پکے گھر تھے اور ان کے مکین بھی اسی بازار سے سودا سلف خریدتے تھے۔ یہاں سیر و سیاحت کے لیے اندرون اور بیرون ملک سے بھی لوگ آتے تھے۔ سیاحت کا سیزن شروع ہو چکا تھا اور علاقے کی فضا بہت رومان پرور تھی۔ دکاندار بھی دل و جان سے ان سیاحوں کے منتظر رہتے تھے کہ سال کا یہ وقت انکی کمائی کا وقت ہوتا تھا ۔ اس وقت ان کی پوری توجہ زیادہ سے زیادہ کمائی کی طرف ہوتی تھی۔
بھکاری، کسی سے کچھ مانگتا نہیں تھا، بس کشکول سے سکے نکال کر کچھ اس ترتیب سے دوبارہ اس میں پھینکتا تھا کہ خریداروں کی سماعت اس طرف مبذول ہوئے بنا رہ نہیں سکتی تھی۔ میں نے کچھ ریزگاری اسکے کشکول میں پھینکی۔ پھر کسی تجسس کے تحت میں نے اس سے بڑی رازداری سے پوچھا کہ کیا وہ واقعی لنگڑا ہے یا کچھ دوسرے بھکاریوں کی طرح سوانگ رچا رکھا ہے۔ میرے استفسار پر وہ قہقہ مار کے ہنسا اور پھرکٹی ہوئی ٹانگ سے کپڑا ہٹا کر بتانے لگا کہ بیس برس قبل جب ایک حادثے میں وہ اپنی ٹانگ سے محروم ہوا تھا تو اس کے بعد سے اسے دنیا کی قیمتی چیزوں، آسائشوں کی کوئی تمنا نہیں رہی تھی۔ اس نے دو ایک بار کوشش کی کہ اسے کوئی نوکری مل جائے لیکن جہاں پڑھے لکھے صحت مند نوجوان فارغ پھر رہے ہوں وہاں ایک اپاہج کو نوکری کون دے گا۔ حادثے کے جھٹکے نے پہلے پہل تو اسے بہت مذہبی بنا دیا تھا ، یہاں تک کہ وہ لنگڑاتا ہوا مسجد میں نماز کے لیے جاتا اور نہ معلوم خدا سے شکوہ کرتا یا شکر ادا کرتا ۔ اسکا جسم کسی قسم کا کوئی بوجھ اٹھانے یا زور آور کام کرنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس دوران اس نے کچھ نعتیں بھی یاد کر لی تھیں اور مسجد کے دروازے کے باہر وہ انہیں با آواز بلند گاتا رہتا۔ اگرچہ اسکا ہر گز یہ مقصد نہیں تھا لیکن نمازیوں اور گلی سے گزرنے والوں نے اسے خیرات دینا شروع کر دی۔ اسے کچھ شرمندگی سی محسوس ہوتی لیکن اسنے اپنے آپ کو یہ تسلی دی کہ وہ کسی سے خود تو کچھ نہیں مانگتا ۔ خیرات کی رقم سے اسکا خرچہ بمشکل چلتا تھا لیکن اس نے کبھی زیادہ کی تمنا بھی نہیں کی تھی۔


کئی سال اسی طرح کی مفلوج زندگی نے بھکاری کو اپنے آپ کو اور لوگوں کے رویوں کو سمجھنے کے قابل بنا دیا تھا۔ تکلیف اور ذلت نے اس کی قوت برداشت میں اس قدر اضافہ کر دیا تھا کہ وہ بے حس لوگوں کے طعنے اور جھڑکیاں خندہ پیشانی سے سہہ لیتا تھا۔ اب اس کی نظریں بازار میں آنے والے لوگوں کی طرف تھیں۔ اسے بخوبی اندازہ ہو جاتا تھا کہ کون اس کو خیرات دے گا اور کون نہیں۔ وہ سکوں سے اپنا کشکول بجا رہا تھا کہ ایک جوڑا اپنے خوبصورت بچوں کے ساتھ بازار میں داخل ہوا ۔ بچوں کے چہرے خوشی سے معمور تھے ۔ جب وہ بھکاری کے پاس سے گزرنے لگے تو اسنے کشکول بجایا۔اس پر خاتون بھنویں چڑھاتے ہوئے بڑبڑائی،


” اوہو، کیا مصیبت ہے، جہاں بھی جاو مانگنے والے پہلے ہی سے وہاں موجود ہوتے ہیں۔ “
یہ کہہ کر وہ پہاڑ کے اس طرف دیکھنے لگ گئی جہاں بیک وقت دھوپ اور سائے نے دلفریب منظر پیدا کر دیا تھا۔ دونوں بچوں میں سے ایک نے ماں سے ، بھکاری کو دینے کے لیے سکے طلب کئے جس پر وہ اور زیادہ خفا نظر ائی لیکن اسکے شوہر نے کچھ سکے نکال کر بچے کے حوالے کئے اور بیوی سے مخاطب ہو کر کہنے لگا
، ” جان۔ یہ جو بے چارے اپاہج بھکاری ہوتے ہیں ناں، یہ بھی بچوں کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ بہت کچھ اپنے آپ نہیں کر سکتے۔ ان کا خیال رکھنا چاہیئے۔ “بچے نے خوشی خوشی وہ سکے بھکاری کے کشکول میں ڈال دیے۔


” خدا آپ کو آپ کے بھائی کواور خاندان کو سلامت رکھے۔ ” بھکاری نے دعا دی، بچوں کے باپ کی اس بات نے کہ اپاہج بھی بچوں کی طرح ہوتے ہیں، بھکاری کو اداس کر دیا ۔ اسے اپنا بچپن یاد آ گیا اور اسنے چشم تصور میں اپنے آپ کو دو ننھے ننھے پاوں پہ کھڑا دیکھا۔
ایک نئے شادی شادہ جوڑے کی خوش گپیوں اور قہقہوں کی آواز نے اسے متوجہ کیا۔ لڑکی جوشیلے انداز میں کوئی لطیفہ سنا رہی تھی اور خوبرو نوجوان سر دھنتے ہوئے قہقہہ لگا رہا تھا۔ لڑکی کا نصف چہرہ بالوں کی اوٹ میں تھا لیکن دلی سکون، خوشی اور شادمانی سے چمک رہا تھا۔ بھکاری ایک بار پھر ماضی میں کھو گیا۔وہ رنگ روغن کا بہت اچھا کاریگر تھا اور بہت محنت اور ایمانداری سے اپنا کام کرتا تھا۔بس ایک دن ایک دیوار کو رنگ کرنے سے پہلے ہموار کرتے ہوئے وہ گو سے نیچا گرا اور اسکی ٹانگ اس طرح سے ٹوٹی کہ کاٹنے کے سوا چارہ نہیں تھا۔ریڑھ کی ہڈی میں بھی بھاری ضرب لگی تھی۔ ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے جھانکتے اسے نسرین کی یاد بہت شدت سے آئی۔ سادہ آنکھوں اور بھر پور مسکراہٹ چہرے پہ لئے وہ اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ حادثے سے پہلے دونوں میں گہرا تعلق تھا اور دونوں نے زندگی ایک ساتھ گزارنے کے خواب بھی دیکھ رکھے تھے لیکن اس منحوس حادثے نے دونوں کو الگ کر دیا تھا۔ اس علیحدگی کا ذمہ دار وہ خود تھا – وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکی اپاہج زندگی کی تکلیفیں نسرین کو بھی جھیلنا پڑیں۔ اس فیصلے نے اسے بہت غمزدہ کیا تھا۔ وہ اپنے آپ کو نسرین کا مجرم سمجھتا تھا اوریہ خیال اب بھی اسے دکھی کر دیتا تھا۔
نوجوان جوڑا اس سے زیادہ دور نہیں تھا اور ان کا ایک تازہ قہقہہ سن کر وہ بھی غیر ارادی طور پر مسکرا دیا۔ لڑکی نے اسے مسکراتے دیکھ کر پوچھا،


” با با ! آپ ہم پر ہنس رہے ہیں ؟ ” بھکاری کے چہرے کو غور سے دیکھتی ہوئی وہ شوہر سے مخاطب ہوئی، ” دیکھوجانی ۔ اس بیگر کی عمر تو زیادہ نہیں لگتی لیکن اس کے چہرے کی جھریاں دیکھو۔ کیا خوبصورت جھریاں ہیں یہ۔ پورٹریٹ بنانے کے قابل “اور جھٹ سے سیل فون سے تصویر کھینچ لی۔
بھکاری نے شاید اپنی تعریف میں ایسی بات پہلی بار سنی تھی ۔ وہ شرما سا گیا۔ لڑکی کی بات سے ہمت اکٹھی کرتے ہوئے وہ بولا،
” اب تو بڑھاپے کا سفر ہے بی بی جی۔ “


شوہر نے بے اعتنائی سے دس روپے کا ایک نوٹ بھکاری کے کشکول میں پھینکا اور بیوی کو لے کر آگے بڑھ گیا۔ بھکاری کو اس گفتگو سے ایک عجیب قسم کی آسودگی سی محسوس ہوئی اور اسنے موتی کے جسم پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جو نہ جانے کب کا اسکے پہلو میں آ کر لیٹا ہوا تھا۔ کتا شاید اس قسم کے مہربان سلوک کا عادی نہیں تھا اس لئے اسنے سوالیہ نظروں سے بھکاری کی جانب دیکھا۔ بھکاری اس کی کمر پر اسی طرح ہاتھ پھیرتا رہا حتی کہ کتا اپنے اس تجسس کی تاب نہ لاتے ہوئے اٹھا اور ایک طرف کو چل دیا۔ بھکاری کتے کے اس رویے کو نہ سمجھ سکا اور اس نے اپنی کٹی ہوئی ٹانگ پر ایسے ہی ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جیسے کہ وہ کتے کو سہلا رہا تھا۔


اس وقت بازار میں خرید و فروخت عروج پر تھی۔ دوکانوں کے چھابوں میں پڑے تازہ چیریز، میوے، اخروٹ، بادام اور سیب چمک رہے تھے۔ صبح کی لائی ہوئی سبزیاں اب بھی تازہ لگ رہی تھیں۔ پہاڑی علاقے کی یہ تازہ ہوا بھکاری کو بہت ہی اچھی لگ رہی تھی اور وہ سوچ رہا تھا کہ گاوں چھوڑ کر یہاں آنے کا اس کا یہ فیصلہ نہایت مناسب تھا۔ لیکن ساتھ ہی اسے خیال آیا کہ وہ گاوں میں ہو یا یہاں، اس کے کہیں بھی ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے۔ زندگی اب اس کے لیے تنہائی کی ڈگر تھی اور یہ تنہائی کافی تکلیف دہ تھی۔
کتا ایک بار پھر بھکاری کے قریب آ بیٹھا تھا شاید وہ وہی قربت اور دوستی چاہ رہا تھا۔ بھکاری نے اس کی پشت سہلانے کو ہاتھ بڑھایا لیکن نہ جانے جی میں کیا آئی کہ اسنے ہاتھ روک لیا۔ ” جا چلا جا یہاں سے” وہ بڑبڑایا۔ کتے کے لیے یہ رویہ ایک بار پھر ناقابل فہم تھا۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس نے تھوتھنی زمین پر ٹکائی اور آنکھیں موندھ لیں لیکن اسکی یہ نیند ایک کنکر نے ختم کر دی۔ کچھ دور کھڑے دو بچوں نے اس پر کنکر پھینکا تھا جس سے وہ سستی سے بیدار ہوا تھا۔ بچوں نے محظوظ ہو کر ایک اور کنکر پھینکا جو موتی کی ناک پرکافی زور سے لگا۔ وہیں کھڑے کھڑے وہ اس قدر زور سے بھونکا کہ بچے ڈر کے مارے بھاگ گئے۔ بھکاری نے تعریفی نظروں سے موتی کی طرف دیکھا اور اس کا سر تھپتھپا کر شاباش دی۔ موتی کو بھی شاید بھکاری کی بات یاد تھی کہ زندہ رہنے کے لیے ادلے کا بدلہ ضروری ہے۔


” میں خود تو یہ اصول نہیں اپنا سکتا” بھکاری نے تاسف سے کہا، ” میں توخود دوسروں کے رحم و کرم پر ہوں۔ شاید میرے اندر حالات سے لڑنے کی قوت ختم ہو چکی ہے۔” اسنے کندھے اچکائے اور ایک ٹھنڈی آہ بھر کرآسمان کی طرف دیکھا۔ اوپر ایک پہاڑی باز اڑتے ہوئے ہوا میں غوطہ زنی کی مشق کرتا نظر آیا۔، ” کبھی میں بھی اس پرندے کی طرح آزاد تھا۔” وہ گہرے دکھ سے بولا۔ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار دکھائی دے رہے تھے شاید بڑی دیر سے وہ ایک ہی آسن میں بیٹھا تھا اور اسکی صحیح والی ٹانگ میں اینٹھن ہو رہی تھی۔ جبکہ کٹی ہوئی ٹانگ بھی تا دیر ایک جگہ پڑی پڑی پتھر کی طرح بھاری ہو گئی تھی۔


شام قریب تھی اور بازار میں اب بھیڑبھی کم ہو رہی تھی۔ یہاں کے لوگ شہروں کی طرح رات گئے تک دکانیں کھلی نہیں رکھتے تھے اور پھر سر شام شروع ہونے والی خنکی بھی اس کی ایک وجہ تھی۔ بازار کے اس طرف جہاں بھکاری بیٹھا تھا اب اک دکا لوگ ہی تھے۔کہیں سے کسی گاڑی یا ٹرک کی آواز اس خاموشی میں گونج کی ظرح آ رہی تھی۔ موتی ابھی تک وہیں بیٹھا تھا اور کبھی آنکھیں بند کرتا کبھی زبان سے کنکر سے لگنے والا زخم چاٹتا تھا۔


میں اب بازار سے نکلنے ہی والا تھا کہ کارپوریشن کا تجاوازات ہٹانے والا ٹرک پوری رفتار سے مارکیٹ کے عقب سے بھکاری کی جانب آ تا نظر آیا۔ ظاہر ہے اس قسم کی کاروائی خفیہ رکھی جاتی ہے اور دکانداروں کی سڑک پر پڑی چیزوں کو فورا اٹھا کر ٹرک میں ڈالا جاتا ہے۔ بازار میں ایک شور ہنگامہ تھا اور ٹرک ریورس گیئر لگاتا عین بھکاری کے اوپر جا پہنچا۔ بھکاری کو موقعہ ہی نہ ملا کہ وہ اپنا بچاو کر پاتا ۔میں نے زور زور سے ٹرک ڈرایئور کو آوازیں دیں ، بھکاری پورے زور سے چیخا کہ ٹرک والے اس کی آواز سن پایں لیکن، کارپوریشن کے پرانے ٹرک کے انجن کا شور، خود، عملے کو بہرہ بنا چکا تھا۔ اس افراتفری میں ہر کوئی اپنا سامان بچانے میں لگا تھا۔ بھکاری کو اور تو کچھ نہ سوجھا۔ اسنے اپنی بیساکھی نما لکڑی اٹھائی اور تیزی سے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن لکڑی ہاتھ سے نکل گئی۔اس سے پہلے کہ میں اسے سہارا دیتا اس کا پاوں پھسلا اور وہ ڈونگی گراونڈ کے اندر نیچے تک لڑھک گیا۔ کسی کو کچھ علم نہیں کہ کیا ہوا۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد جب کارپوریشن کا عملہ کامیاب آپریشن کر کے چلا گیا تو دکانداروں نے مجھے شور مچاتے اور موتی کو بھونک بھونک کر پاگل ہونے دیکھا تو ڈونگی گراونڈ میں نیچے اترے ۔ بھکاری منہ کے بل زمین پربے حس و حرکت پڑا تھا۔ بازار سے نکلتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ دوکاندار تو جرمانہ اور رشوت دے کر تجاوزات واپس لے آیئں گے لیکن اس گداگر کو کون واپس لائے گا۔

شیئر کریں
راشد جاوید احمد کا تعلق علامہ اقبال ٹاون لاہورسے ہے۔یہ ریٹائرڈ بنک ایگزیکٹو ہیں ۔افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار۔ کاپی رائٹر۔ بلاگر ہیں ، پین سلپس میگزین کے نام سے ہفتہ وار اردو/پنجابی ای میگزین بھی شائع کرتے ہیں ۔

کمنٹ کریں