تخریبی تنقید

مضمون نگار : رفیع رضا

, تخریبی تنقید

اردو قاری تنقید سے تو واقف ھیں لیکن تعمیری تنقید، اور تخریبی تنقید سے واقف نہیں ھیں ، اس لئے مَیں ضروری سمجھتا ھُوں کہ آج کا خطبہ اسی حوالے سے اس مسجدِ ضرار میں پیش کیا جائے۔۔ جہاں عادل یزدانی سمیت سب ھی خود کو خطیب سمجھتے ھیں۔
تنقید عربی زبان کا ایک لفظ ہے اور اس کا مادہ یعنی رُوٹ ورڈ “ن۔ق۔د” ہے۔ اسی سے لفظ نقدی بھی بنا ہے۔ عربی زبان میں نقد الدراھم کے ماعنی درہموں میں چھان پھٹک کے بعد کھوٹے سکوں کو علیحدہ کرنا ہے۔ پس آسان الفاظ میں

نقد و تنقید صحیح و ضعیف کی تمیز کا نام ہے۔ یہ تو اس کا لغوی معنی ہے ۔

جبکہ اصطلاح معنی کے اعتبار سے کسی چیز کے تجزیاتی مطالعہ یعنی analysis کے علاوہ اس کی تشریح یعنی interpretation اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانا یعنی evaluation اور پسندیدگی یعنی appreciation بھی اس میں شامل ہے۔

تنقید کے نام پر پسند ، ناپسند، ذاتی عناد، ، ذاتی مروت وغیرہ کا بیان ، اصولی تنقید کو تباہ و برباد کرتا ھے۔۔
اصولی تنقید میں مندرجہ بالا بنیادی عوامل کا ھونا لازمی شرط ھے۔ جس کے اوامر و نواھی کی پابندی کے بغیر کھوٹا سکہ چلانے کی کوشش کی مذمت کی جانی ضروری ھے۔۔
اچھے ادیب پر لازم ھے کہ وُہ تنقیصی و تخریبی و غیر تعمیری تنقید پر اعتراض کرے اور ایسی تنقید کرنے والے کی تنقید اور اسکے عندئیے کا محاسبی ھرسطح پر کرے۔
ادیب اور خاص طور تنقید نگار ، معاشرے کا نباض ھی نہیں ھوتا بلکہ معاشرے کا عکس بھی ھوتا ھے۔۔


تعمیری تنقید سے میری مُراد ایسی تنقید ھے جس کے تحت کسی فن پارے میں موجود سُقم کو رفع کرنے کی تجویز کے ساتھ پہلے سے موجود محاسن کی پزیرائی بھی کیجائے۔
کسی بھی ایسی تنقید کو فوری طور پر اصولی تنقید سے علیحدہ کیا جاسکتا ھے جس میں ذاتی ، اجتماعی، مذھبی یا گروھی میلان موجود نظر آئے۔۔۔۔


تخریبی تنقید ایسا میلان ھے جس کے تحت کسی بھی فن پارے میں خامیوں کی تلاش میں اتنا آگے بڑھا جائے کہ اس فن پارے معمولی محاسن سمیت کسی بھی خوبی کو رد کردیا جائے۔
چونکہ اردو معاشرہ ، آفاقی قدروں کے پیمانے پر زمانی تبدیلیوں میں رجعت پزیر معاشرہ ھے اس لئے بہتری کی کوششوں کو بھی یہاں تیزی سے رد کیا جاتا ھے۔۔
زبان کے قواعد سمیت قدما کی اندھا دھند پیروی کے سبب خاص طور پر اردو شاعری جگالی کا ایک وسیع لفظی میدان بن کر رہ گئی ھے۔
ایسے میں وُہ ترقی پسند شُعرا جو زبان و بیان اور ماحول میں تبدیلی کی کوشش اپنی شاعری کے ذریعے کرتے ھیں انہیں مطعون کرنے کے لئے کم پڑھے لکھے افراد تنقید کے نام پر جو ذاتی تنافر بھرے چیتھڑے چھاپ کر کتاب کا نام دیتے ھیں قابلِ مذمت ھیں۔


ناقد کے لیے ایک اہم شرط یہ ہے کہ وہ نقد کی اہلیت رکھتا ہوں۔ اہلیت سے مراد یہ ہے کہ جس فن یا رجال فن پر کوئی شخص نقد کرنا چاہتا ہے تو اسے اس فن میں مہارت اور رسوخ حاصل ہونا چاہیے۔ کسی فن سے متعلق بات کرنے کے لیے تو شاید اس فن میں مہارت تامہ یا رسوخ کی ضرورت نہ ہو لیکن نقد و تنقید ایک اعلی تر علمی کام ہے جس کے لیے از بس ضروری ہے کہ ناقد کا علم متعلقہ فن کے صرف مبتدیات تک محدود نہ ہو۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نقد کا معنی صحیح کو ضعیف سے جدا کرنا ہے تو کسی بھی فن میں صحیح کو ضعیف سے جدا کرنے کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو اس فن کے ماہرین میں سے ہو۔
لیکن ھمارے معاشرے کا دستور ایسا ھے کہ میٹلرجی کی ڈگری رکھنے والا، نظریاتی ایٹمی طبیعات کی مساوات پر بات کر کے اپنا مزاق اُڑاتا ھے۔ مذھب کو سائینس میں گُھساتا ھے۔۔اور اس ملغوبے کی مدد سے کم تعلیم یافتہ رجعت پسند ریاست میں مزید رجعت کو فروغ دیتا ھے۔۔اور افسوس یہ کہ یہ سب روشن خیالی کے جعلی نام پر کیا جتا ھے۔
(سب سے اھم بات یہ ھے کہ نقد و تنقید ہر شخص کا بنیادی حق نہیں ہے بلکہ یہ اس شخص کا حق ہے جو تنقید کا اہل ہے یعنی جس فن یا رجال فن پر نقد کر رہا ہے، اس فن کے ماہرین میں سے ہو۔)


میں خوامخواہ کچھ افراد کے نام یہاں درج کر کے انہیں غیر ضروری اھمیت نہیں دیتا چاھتا کیونکہ شواھد یہ بتاتے ھیں کہ بعض افراد پاکستانی ادب میں مشہور ھونے کے لئے میری تنقید کا مظہر بننا پسند کرتے ھیں چہ جائیکہ یہ تنقید اُن کے حق میں بھی نہ ھو۔ پس یہ مشہوریکی ایک سستی کوشش ھوتی ھے۔۔کیونکہ میرے قارئین کا حلقہ انٹرنیٹ پر خاصہ بڑا ھے اس لئے اس حوالے سے وُہ مشہوری کا یہ ذریعہ استعمال کرتے ھیں۔ لیکن یہاں صرف ایک عادل یزدانی ھی نہیں ھزاروں ایسے لوگ ھیں جنہیں یہ افسوسناک گمان ھے کہ شاید وُہ کوئی تنقید نگار ھیں۔


ایسے ھی ایک تنقید نگار نے ۵۰۰ صفحے کی ایک کتاب پڑھ کر کہا، مصنف کو علم خواب سے بالکل آگاھی نہیں ھے !
ایسے تبصرہ نگار تنقید نگار ھمارے اردو ادب میں بےشمار ھیں۔ ایسی ار مثالیں دیکھئے ،
ایک صاحب نے لکھا کہ جناب رفیع رضا صاحب آپ لفظی جگالی، لفظی مباشرت، معنوی اسقاط، استنباطی نتیجہ، وغیرہ جیسی تراکیب کے موجد ھیں لیکن آپ نے فلاں شعر میں کونسی جدت طرازی فرمائی ھے؟
یعنی اعتراض کنندہ جہاں میری نئی تراکیب کے معترف ھیں وھاں وُہ ارادی طور پر میرے فن پاروں میں صرف ایک ھی چیز کو تلاشتے ھیں اور وُہ ھے جدت !
ورنہ وُہ میرے شعر کی تاویل کرتے ۔۔۔۔ پھر بتاتے کہ یہ اس طرز پر ، ایسے قافئیے ، ایسی ردیف میں یہ خیال پہلے ایسے باندھا چکا ھے اس لئے یہ پرانا خیال، پرانی زمین ھے ۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔


لیکن صرف ایک اعتراض کے بتائیں اس شعر میں جدت کونسی ھے۔۔؟ اب کیا ھرشعر کے ساتھ کوئی حاژیہ یا تشریح بھی منسلک کی جائے کہ شعر کی وضاحت ھو کہ بھئی یہ شعر فلاں طریق پر جدت رکھتا ھے۔۔
ھجر کا کچھ ملال ھے ھی نہیں
یہ محبت کا سال ھے ھی نہیں
رفیع رضا


یہ ایک خاصی پرانی غزل ھے، غالبآ ۱۹۷۹ میں لاھور نامی رسالے میں چھپی تھی، جب میں ایف ایس سی میں پڑھتا تھا۔
اگر میں ان صاحب سے پوچھو کہ بھائی۔۔۔۔دل ناداں تجھے ھوا کیا ھے۔ میں کونسی جدت ھے؟۔
تو کیا جواب دیں گے؟۔
یہ تو جملہ معترضہ تھا ، مسئلہ ناصر علی سمیت ان شُعرا کا ھے جن کی جدید شاعری پر تنقید کے نام سے عادل یزدانی نے تخریبی حملے کئے ھیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رھا ھےکہ اب تک جو مواد میرے لئے انہوں نے میسر کیا ھے وُہ اُن کے لئے خودکُش حملے کا سا محسوس ھوتا ھے۔۔
میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ کسی بھی زبان کے ادب میں تنقید کا منصب ، صرف اور صرف اھل افراد کو دیا جاتا ھے۔ ھرکس و ناکس کو ھرگز یہ حق نہیں کہ وُہ لایعنی تنقیص کا طُومار کھڑا کر کے اسے تنقید کا نام دے اور کتاب چھاپ دے۔
سب سے پہلا میرا اپنا تعارف اس لئے ضروری ھے کہ قاری میرے تنقیدی منصب پر سوال نہ کھڑا کردیں۔
انسٹرومینٹیشن انجینیرنگ کے ساتھ ساتھ بی اے میں میرے مضامین ، ایڈوانس لٹریچر اور صحافت تھا۔ اردو اور انگریزی لٹریچر کی ڈگری میرے پاس ھے۔۔
میں فارمیسی ٹیکنیشن بھی ھوں اور الیکٹرانکس اور اینٹمالوجی کی تعلیمی اسناد بھی میرے پاس ھیں۔
شاعری کے بعد تنقید میرا ضروری میدان ھے۔
جناب عادل یزدانی صاحب کی تعلیمی صلاحیت پر سوال اٹھانے کی ضرورت ھی محسوس نہیں ھوتی کیونکہ انکا اندازِ تحریر ھی یہ ثابت کررھا ھے ان تلوں میں تیل نہیں۔ آئیے انکی نام نہاد تنقیدی صلاحیت کا پہلا ثبوت دیکھتے ھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مَیں کہاں کہاں سے بچوں کہ شہرِ فساد میں
کہیں عزتوں کہیں غیرتوں کا دھواں بھی ہے
(ناصر علی)
تبصرہ ۔۔۔ مصرع ثانی سے لگتا ہے کہ شہرِ فساد میں عزتیں پرانے ٹائروں یا دکانوں کی طرح جلا دی گئی ہیں جن سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا ہے – اس مصرعے میں ( بھی ) کی ضرورت پر بھی سوالیہ نشان لگانا پڑتا ہے (عادل یزدانی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ٹائروں یا دکانوں کے جلنے کا دُھواں؟۔۔ کیا شعر میں ٹائر اور دکانیں ھیں؟ ٹھرئیے یہاں ھم میر تقی میر کو لاتے ھیں۔۔
دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ھے
یہ دھواں سا کہاں سے اُٹھتا ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عادل یزدانی صاحب اور انکے اُن جیسے پڑھ ےلکھے رفقا کو میرا کھلا چیلنج ھے کہ میر تقی میر کے شعر میں دھویں کا منظر ثابت کردیں ! یہ ھو ھی نہیں سکتا۔۔۔!!
اس کے علاوہ اسی شعر میں۔۔۔ دل ، کہ جاں سے اُٹھتا ھے۔۔۔۔کہ بھی ثابت کریں کہ کیسے۔۔۔؟ ظاھر ھے ھر شعر کا ایک مخفی و ظاھری منظر ھوتا ھے۔۔منطر کے بغیر کوئی شعر ھو ھی نہیں سکتا۔۔تو میر کے شعر میں مطلوبہ منظر کو کیسے بیان کریں گے۔؟ یہ تو بہت آسان ھے کہ دل نے جاں سے نہیں تو اور کیا آسمان سے اُٹھنا ھے؟ دھواں آگ سے اُٹھنا ھے اور کیا ٹائروں اور جلی دکانوں سے اُٹھنا ھے؟۔۔ عادل یزدانی کو ان سوالات کا شافی جواب دینا ھوگا تاکہ انکی چیتھڑا تنقید کو تعمیری تنقید ثابت کیا جائے۔۔
دردِ دل بھی غمِ دنیا کے برابر سے اٹھا
آگ صحرا میں لگی اور دھواں گھر سے اٹھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دل مرا سوزِ نہاں سے بے محابا جل گیا
آتشِ خاموش کی مانند، گویا جل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


عادل یزدانی ، بتائیں کہ ان دونوں اشعار میں ٹائروں کی آگ تھی؟۔۔ آئیے انکی نام نہاد تنقید پھر دیکھتے ھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مَیں کہاں کہاں سے بچوں کہ شہرِ فساد میں
کہیں عزتوں کہیں غیرتوں کا دھواں بھی ہے
(ناصر علی)
تبصرہ ۔۔۔ مصرع ثانی سے لگتا ہے کہ شہرِ فساد میں عزتیں پرانے ٹائروں یا دکانوں کی طرح جلا دی گئی ہیں جن سے ابھی تک دھواں اٹھ رہا ہے – اس مصرعے میں ( بھی ) کی ضرورت پر بھی سوالیہ نشان لگانا پڑتا ہے (عادل یزدانی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ھے اس انداز کا ٹھٹھہ ، شاعری سے پرے کسی اور شدید بغض کا اظہار معلوم ھوتا ھے۔
ناصر علی کا شعر مکمل انجذاب کا حامل شعر ھے جس میں پاکستانی اور خاص طور پر چنیوٹ کے پسماندہ معاشرے کی کریہہ شکل دکھائی گئی ھے ، جہاں عزت اور غیرت کے نام پر انسانیت کا قتل عام جاری ھے۔۔
شعر میں لفظ دھواں، فکری فضا میں شفافیت کی کمی کا عکاس ھے۔۔ پورے شعر میں ایک بھی لفظ زائد یا کم نہیں ھے۔ مجھے حیرانی یہ ھے کہ اگر عادل یزدانی کوئی پڑھے لکھے تنقید نگار ھوتے ایسا شعر کیوں چنتے جو ایک مکمل شعر ھے۔۔۔ظاھر ھے کسی بھی شاعر کے ھاں ضرور کچے اشعار بھی ھوتے ھیں غالب تو کیا، ۔، سعدی، رومی، ولییم بلیک، جان کیٹس کے ھاں بھی کچے اشعار ھیں۔۔لیکن معلوم ھوتا ھے کہ عادل یزدانی صاحب چونکہ اصولِ تنقید سے مکمل طور پر ناواقف ھیں اس لئے انہوں نے ایسے اشعار نہین چنے جن پر واقعی تنقید کی جا سکتی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موصوف کہتے ھیں ۔۔۔کہ لفظ ۔۔ بھی۔۔۔کی ضرورت پر سوال اُٹھایا جا سکتا ھے۔۔۔مَیں کہتا ھُوں یہ سوال اُٹھانے والا عقلی نہیں فکری طور پر مجہول ھے، کیونکہ ۔۔۔مَیں کہاں کہاں سے بچوں۔۔۔ کے اندر شاعر بتا رھا ھے کہ عزتوں غیرتوں کے دھویں کے علاوہ بھی مسائل ھیں۔۔۔ورنہ وُہ کہاں سے بچوں کیوں کہتا۔۔ وُہ کہتا کہ
میں یہاں وھاں سے بچوں کہ شہر فساد میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میں نے اوپر بیان کیا تھا کہ اصول تنقید کی پیروی کے بغیر تنقید کی ھی نہیں جا سکتی۔
کسی فن سے متعلق بات کرنے کے لیے تو شاید اس فن میں مہارت تامہ یا رسوخ کی ضرورت نہ ہو لیکن نقد و تنقید ایک اعلی تر علمی کام ہے جس کے لیے از بس ضروری ہے کہ ناقد کا علم، متعلقہ فن کے صرف مبتدیات تک محدود نہ ہو۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ نقد کا معنی صحیح کو ضعیف سے جدا کرنا ہے تو کسی بھی فن میں صحیح کو ضعیف سے جدا کرنے کا کام وہی شخص کر سکتا ہے جو اس فن کے ماہرین میں سے ہو۔
مندرجہ بالا اصووں کی روشنی میں عادل یزدانی جی نے ناصر علی کے شعر سے ھرگز انصاف نہیں کیا۔ اس کے پیچھے کوئی ذاتی عناد، مذھبی تعصب، ادبی گروھی بغض یا کوئی اور غیر شفاف سوچ صاف محسوس کی جاسکتی ھے۔
میرا مشورہ ھے کہ اگرخود کو نظر انداز کئے جانے کا کوئی بدلہ چکا رھے ھیں ۔۔تو براہ مہربانی اس کتاب کو سپردِ آتش کریں ۔۔۔تاکہ واقعتآ اس میں سے وُہ دُھواں اُٹھے جس سے بچنے کا عندیہ ناصر علی کے شعر میں دیا گیا ھے۔۔۔
نفرت بھری تنقید کا کیا فائدہ ھوگا؟ جب آپ نے کوئی اصلاحی جملے ھی لکھے ، آپ محاکمہ کرتے تو تعمیری تنقید کے ساتھ کرتے۔۔ آپ کہتے کہ۔۔۔
کہیں عزتوں، کہیں غیرتوں۔۔۔۔۔۔ میں دو بار کہیں کا آنا اچھا نہیں لگ رھا، یاد رکھیں کہ شعر مین ھمیشہ مخفی پہلو ھوتے ھیں، بہت سپاٹ منظر کشش نہیں رکھتا۔۔۔۔اسی لئے۔۔۔ میر تقی میر کو کہنا پڑا کہ ۔۔دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ھے۔۔۔۔۔ اُسے دل کا جان سے اُٹھانے کا خیال اسی لئے آیا کہ وہ ایک پردہ داری قائم کر رھا ھے۔۔۔یہی شعریت ھے۔۔۔
اگر ناصر علی دھویں کی جگہ آگ لکھ دیتا تو بھی کیا ھوجاتا ھے۔؟ کیا آپ نے واقعی کبھی شدید گہرے دھویں سے گزر کر دیکھا ھے؟۔۔
اپ کو سائینسی طور پر معلوم ھونا چاھئیے کہ گھروں مین لگنے والی آگ سے زیادہ لوگ جل کر نہیں دھویں سے مرتے ھیں۔
پاکستان میں خاص طور پر لاقانونیت کے سبب فضا میں جو دھواں اور دھند آجکل موجود ھے وُہ اس بات کا ثبوت ھے کہ اسنانی زندگی کی راہمین آلودگی بری طرح سے حائل ھے۔۔ جو لوگ دھویں سے بچنے کو اور دھند اور سموگ سے بچنے کو ماسک پہنتے ھیں وُہ کیا بچنے کی کوشش نہین کر رھے ھوتے؟۔ ناصر علی کہتا ھے کہ ۔۔میں کہاں کہاں سے بچوں کہ شہر فساد میں۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کو اتنی بھی تنقیدی عقل نصیب نہیں کہ شہر فساد کے لفظ کا کھول کر دیکھتے ؟
شہر فساد میں کیا ھوتا ھے۔۔کبھی سوچا؟۔۔ نہیں سوچا تو اپنی سہل انگیزی کے باوصف انٹرنیٹ پر تلاش کر لیں اور دیکھیں کہ جگہ جگہ آگ لگی ھو تو شہر ، شہر فساد کہلاتا ھے۔
غالب کہتا ھے۔۔ کہ
میں عدم سے بھی پرے ہوں، ورنہ غافل! بارہا
میری آہِ آتشیں سے بالِ عنقا جل گیا
۔۔۔۔۔۔۔


تو جناب آپ غالب پر سوال اُٹھائیں کہ بھائی غالب، عدم سے پرے ھو کر، تیری آہ آتشیں کیا کوئی دم دار ستارہ تھی جو ، عنقا کے بال کو جلا گئی؟۔۔ اور جلا کیسے گئی جب کہ پہلے ھی عنقا ھے؟۔۔ اور ایک ھی بال کیوں جلایا؟۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


صاحب ! اعتراض برائے اعتراض ایک تخریبی سوچ ھے، آپ سے گزارش ھے کہ پاکستان جہاں آئین سمیت عدلیہ ، فوج ، سیاستدان ، تخریب کی سرپرستی کر رھے ھیں وھاں کم سے کم ادب پر رحم کریں اور اس پر دیوبندی سوچ نہ ملوث کریں ، یہ درخواست ھے اسے نظر انداز نہ کریں ، ورنہ آپکی ھر تخریبی تنقید کا مدلل و شافی جواب میرے پاس موجود ھے۔۔اس شعر کی تشریح و تاویل میں آپ چارون خانے چت کر دئیے گئے ھیں۔ لیکن یہ سبق سکھانا اس لئے بھی ضروری تھا کہ نام نہاد تنقید کے نام پر دوسروں کی شعری صلاحیتوں پر عناد کے چھینٹے نہ پھینکے جائیں۔
ضرورت محسوس کریں تو باقی اشعار پر آپ کی تخریبی و پست فہم تنقیص کا جواب پیش کر دُوں گا، فی الحال اسے سند کے طور پر محفوظ کرلیں شکریہ
مَیں ٹھہرنے کے ارادے سے ھی آیا ہوں یہاں
مُجھے باتوں میں لگانے کی ضرورت نہیں ہے

شیئر کریں
رفیع رضا
مصنف: رفیع رضا
رفیع رضا کینیڈا میں مقیم معروف شاعر ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ "ستارہ لکیر چھوڑ گیا" کے عنوان سے منظرِ عام پر آ چکا ہے۔

کمنٹ کریں