“میں تمثال ہوں؛ یہ ناول شاہراہِ عام نہیں”

, “میں تمثال ہوں؛ یہ ناول شاہراہِ عام نہیں”

ہمارے معاشرے میں نفسیاتی مسائل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔ ہم اپنی زندگی چند مقدس متون کے سکرپٹ کے تحت گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور دور_حاضر میں درپیش مسائل کے مطابق ان میں کوئی ترمیم نہیں کرتے۔ ہم صرف ان کرداروں، کہانیوں،استعاروں اور واقعات کو قبول کرتے ہیں جو مقدس متون سے مماثلت یا مطابقت رکھتے ہوں۔ نفسیاتی الجھنوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ہم ان کے وجود سے ہی انکار کر دیتے ہیں جس سے ذہنی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے آرٹسٹ، مصنف، شاعر اور فلاسفر جو ان ممنوعہ موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیں، انہیں عدالتی اور معاشرتی نتائج بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔

“میں تمثال ہوں” بھی ایسا ہی ایک ناول ہے جو ہمارے مانوس دائرہ کار سے باہر ہے۔ ہمیں یقین ہی نہیں ہوتا کہ ایک عورت جنس سے متعلق مسائل اور رویوں پر بحث کر سکتی ہے کیونکہ یہ عورت کی شرافت اور وقار کے نام نہاد معیار کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کی اشاعت کے بعد، ایک ہجوم مسلسل چیخ رہا ہے کہ یہ ادبی ناول نہیں ہے؛ یہ ایک فحش کہانی ہے جو بظاہر معصوم نظر آنے والے قارئین میں جذباتی خلل کا باعث بن سکتی ہے۔ اس پس منظر نے مجھے جلد از جلد ناول پڑھنے پر مجبور کر دیا۔


میں نے یہ ناول ایک ہفتہ قبل ختم کیا اور ناول پڑھنے کے بعد میں واقعی حیران رہ گیا۔ اس ناول میں جن مسائل پر بات کی گئی ہے انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ہمارے اردگرد ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ان مسائل سے گزرتے ہیں اور ان کی بات سننے کے بجائے ہم ان سے نظریں چراتے ہیں۔ یہ ناول ایک عورت کے شادی سے قبل اور بعد کے تعلقات کی روداد پر مبنی ہے۔ ناول کا مرکزی کردار “تمثال” ان نفسیاتی جذبات کی وجہ سے الجھاو کا شکار ہے جو معاشرتی اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں۔ تمثال کی ذہنی کشمکش ناول کے شروع سے لے کر آخر تک چلتی رہتی ہے۔ اب اپنے اردگرد ایسے حقیقی کردار ڈھونڈ کر ان کی مدد کرنے کے بجائے لوگوں نے مصنفہ پر اعتراض کرنا شروع کر دیا کہ اس نے ایسا ناول کیوں لکھا؟ اس ناول پر لکھے جانے والے تقریباً ہر تبصرے میں دو اعتراض کیے گئے۔ پہلا اعتراض یک زوجگی کے متعلق ہے کہ جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لیے یہی خالص فطری، روحانی، مقدس اور اطمینان بخش طریقہ ہے اور اضافی ازدواجی تعلقات غیر فطری، ناپاک اور غیر اطمینان بخش ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ ایک ناول نہیں بلکہ ڈائری یا سوانح ہے لہذا اس کی ادبی تحسین کیوں کی جائے۔ میں ان دونوں سوالات کو سائنسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کروں گا۔


سب سے پہلے ہمارا یہ عقیدہ کہ یک زوجگی (صحیح معنوں میں؛ شادی کے بعد متضاد جنس کے افراد کی یک زوجگی) ہی واحد اور اکیلا فطری عمل ہے اور باقی تمام تعلقات جیسا کہ ہم جنسی پرستی یا کثیر الازواجی وغیرہ غیرفطری اور باعثِ شرم ہیں، درست نہیں۔ آئیے اس کا تجزیہ کرتے ہیں؛ انسانوں میں یک زوجگی کی تاریخ اتنی پرانی نہیں۔ جینیات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یک زوجگی کا ارتقاء دس سے بیس ہزار سال پہلے ہوا۔ ہم اس رویے کے متعلق اپنے ارتقائی رشتہ داروں سے بھی ثبوت حاصل کر سکتے ہیں مثلاً اورینگوٹن (انسان نما بندر)۔ سائنسی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نر اورینگوٹن یک زوجیت کے قائل نہیں ہوتے اور کسی بھی مادہ اورینگوٹن کے لیے برابری کی سطح پر مقابلہ کرتے ہیں۔ انسانوں میں یک زوجیت غالباً زرعی انقلاب کے بعد پیدا ہوئی ہو گی تاکہ زمین کے ایک مخصوص حصے پر اپنی ملکیت ظاہر کرنے کے لیے ایک آدمی مستقل طور پر ایک عورت کے ساتھ رہ سکے۔
دوسرا اور سب سے نمایاں الزام ناول کی تکنیک اور اظہار کے متعلق ہے۔ اس بحث کا تعلق کہانی کی ہئیت سے ہے کہ آیا یہ ایک ناول ہے بھی یا نہیں؟ میں یہاں کچھ سوال اٹھانا چاہوں گا جیسا کہ ناول کی حتمی ساخت کیا ہوتی ہے؟ ہمیں اپنی تخلیقیت اور تجربات کو چند مخصوص سانچوں میں کیوں ڈھالنا پڑتا ہے؟ ہم انہیں ویسے کیوں نہیں لکھ سکتے جیسے وہ ہیں؟ ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ ہر مصنف کو کلاسیکی یا معاصر ناقدین کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا چاہیے؟ ہم نے کیوں کچھ موضوعات کو ممنوعہ یا غیر شائستہ قرار دیا ہوا ہے اور کیوں کسی معروف شاعر یا مصنف کو ان کے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے؟ کرٹ ونگٹ کے بقول:
“میں اپنی کتابوں کو غیر لچکدار انداز میں ترتیب نہیں دیتا یا پہلے سے بنائے ہوئے سانچوں کو نہیں مانتا۔ ایک ناول کو مقفل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو ایک کھوج ہوتی ہے

لہذا چاہے یہ پہلے سے بنائے گئے ڈھانچوں کے مطابق ناول ہے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ ناول میں ہے کیا کیونکہ ایک طاقتور کہانی اپنی ہئیت خود متعین کرتی ہے۔ ہمیں ہئیت سے زیادہ متن سے برآمد ہونے والے معانی پر بحث کرنی چاہیے۔ اگر ہئیت متن سے زیادہ اہم ہوتی تو پھر تو ایک ہی ہئیت میں لکھے جانے والے تمام متون یکساں اہمیت کے حامل ہوتے۔ اس صورتحال میں ہمارے پاس ایک اچھا مصنف ہونے کے لیے کیا معیار رہ جاتا؟


چونکہ یہ ناول مرکزی کردار تمثال کے نفسیاتی تجزیے پر مشتمل ہے لہذا ہمیں اس کو نفسیاتی تناظر میں پڑھنا چاہیے۔ یہ ناول کسی بھی قاری کو شادی سے پہلے اور بعد میں قائم کیے جانے والے تعلقات سے پیدا ہونے والی ذہنی الجھنوں اور پیچیدگیوں کے کتھارسس میں مدد دیتا ہے۔ یہ ناول وضاحت کرتا ہے کہ کیسے مخصوص حالات میں ہمارے جنسی رویے بدل سکتے ہیں اور کوئی بھی ان کا شکار ہو سکتا ہے چاہے مذہبی یا معاشرتی اقدار ان کی کتنی ہی مخالفت کیوں نہ کر لیں۔ لہذا خود کو ان مسائل کا اکیلا شکار سمجھنے کے بجائے ان کا نفسیاتی علاج ڈھونڈنا چاہئیے۔


یہ ناول ہمیں حوصلہ دیتا ہے کہ واقعات جیسے بھی ہوں ان میں ترمیم نہیں کرنی چاہیئے اور من و عن بیان کرنا چاہیے پھر چاہے وہ معاشرے کے نام نہاد مستند، غیر لچکدار اور مقدس ڈھانچے کو ہی کیوں نہ ہلا کر دے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے حالات سے گزرتے ہیں جنہیں ہم کھل کر بیان نہیں کر سکتے اور زیادہ تر حالات میں ہم انہیں اپنے لاشعور میں دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم ان تجربات کو بھول جائیں گے لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مستقبل میں وہ تجربات مزید بگڑی ہوئی شکل میں ہمارے سامنے آتے ہیں لہذا ہمیں انہیں باہر نکال پھینکنا چاہئیے؛ شاید اپنے جیسے لوگوں سے گفت و شنید کے ذریعے یا ان مسائل کے متعلق لکھی گئی کتابوں کے مطالعے کے ذریعے اور یہ صرف ایک ادبی عمل نہیں بلکہ طبی علاج بھی ہے۔ ڈاکٹر اسے ببلیو تھراپی کا نام دیتے ہیں جس میں کہانیوں کی مدد سے مرہم کا کام لیا جاتا ہے۔


ناول میں واقعات کی منطقی ترتیب میں مزید روانی پیدا کرنے کے لیے کچھ مقامات پر ترامیم کی جا سکتی ہیں مثلا نبرس سہیل کا مضمون ہٹایا جا سکتا ہے یا مختصر کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کمپوزنگ میں بھی چند ایک اغلاط ہیں جنہیں پروف ریڈنگ کے زریعے اگلی ایڈیشن کی درستی کے لیے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

میں تمثال ہوں، اردو ناول، نفسیاتی مسائل، حمزہ یعقوب، ڈاکٹر عارفہ شہزاد

شیئر کریں
مدیر
مصنف: حمزہ یعقوب
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں