تندور والے کی کہانی

افسانہ نگار :سید نصرت بخاری

تندور والے کی کہانی

اس کا نام طُور تھا لیکن اصل نام ”طَورہ ”کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ گائوں کیہائی سکول میں ہم اکٹھے پڑھتے رہے،مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے شہر کے ایک اچھے سکول کی چھتری مل گئی،لیکن اسے اسی سرکاری سکول کی چھت میسر تھی۔وہ پڑھ تو رہا تھا لیکن باپ کا ہاتھ بٹانے کی وجہ سیبہت سا وقت تندور کی نذر ہو جاتا؛کیونکہ اس کا باپ تندور پر روٹیاں لگاتا تھا۔ابو بتایا کرتے تھے کہ یہ تندور والا اُن کا ہم عمر ہے اور میرے ابو کی عمر چالیس سال تھی۔تندور والے کی شکل اس کی اصلی عمر نہیں بتاتی تھی،اس لیے وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑا دکھائی دیتا تھا۔میرے ابو صحت مندتھے اور اِن کے سفیدبال کہیں کہیں سے جھانکنے لگے تھے لیکن تندور والے کے تو ڈاڑھی،سر کے سارے بال سفید تھے۔شکل سے تو وہ دادا جان کا ہم عمر لگتا تھا۔یہ بات مجھے اپنی موجودہ عمر سے اب معلوم ہوئی کہ بڑھاپا اس پر کیسے حاوی ہو گیا۔غربت اور بیٹیوں کا بوجھ واقعی بے بس انسان کوقبل از وقت بوڑھا کر دیتا ہے۔میں اسے چاچا کہا کرتا تھا:


”چاچا جلدی کر،مجھیابو نے بھیجاہے”۔میں روٹیاں لینے جاتا تو اسے کہتا۔
”کیوں بھئی!تیرے ابو کو بھوک لگی ہے”؟۔وہ مسکراتے ہوئے مجھے چھیڑتا۔طور یہ باتیں سن کر مسکراتا رہتا۔


طور بہت لائق طالب علم تھا۔اس کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا تھا۔جو سوال یا جو تحریر اسے سمجھا پڑھا دی جاتی،کمپیوٹر کی طرح اس کے دماغ میں محفوظ ہو جاتی۔ نصابی و ہم نصابی سرگرمیاں اسے سکول میں نمایاں کرتی جاتی تھیں۔استاد صاحب اس کی لیاقت دیکھ کر کہتے:


”طور!تم بڑے ہو کر کیا بنو گے”؟
”ماسٹر صاحب!میں ڈاکٹر بنوں گا”۔
”تم ڈاکٹر بن گئے تو ہماری روٹیاں کون پکائے گا”۔ایک حاسد لڑکے نے طنز کیا۔اس کے طنز کے نشتر سے طور کا تمتماتا ہوا چہرہ ماند پڑ گیا۔
”تم خاموش رہو۔طور ڈاکٹر بنے گا اور ضرور بنے گا اور جیسی تمھاری عادتیں ہیں،مجھے لگتا ہے کہ گائوں والوں کی روٹیاں تم پکایا کرو گے”۔استاد صاحب نے اس حاسد لڑکے کو ڈانٹا۔
پھر وہ وقت آیا جب دنیا نے سنا کہ ایک غریب مزدور کے بیٹے طور نیبورڈ ٹاپ کر لیا۔ملک کا ہر چینل اس کی وہ غربت دکھا رہا تھا،جس کو جھیل کر اس نے بورڈ ٹاپ کیا تھا،اس کا باپ تندور پر بیٹھا ٹی۔وی والوں کو انٹرویو دے رہا تھا:


”مجھے نہیں پتا یہ کس وقت پڑھتا ہے۔کس وقت سوتا ہے۔یہ تندور پر سارا دن میرے ساتھ کام کرتا ہے”۔
”یہ کسی سے ٹیوشن پڑھتا ہے”؟۔ٹی۔وی نمائندے کے سوال میں حیرت تھی۔
”نہیں جی!ہمارے پاس اتنے پیسے کہاں ہیں کہ اسے ٹیوشن پر لگائیں”۔
”تو پھر اس کی اتنی عمدہ کامیابی کا راز کیا ہے”۔
”اس کی محنت ہے۔ہماری اور استادوں کی دعائیں ہیں۔اللہ پاک کا احسان ہے”۔
”آپ کا بیٹا آگے کیا کرے گا۔کہاں تک پڑھے گا”۔
”وہ تو کہتا ہے کہ میں ڈاکٹر بنوں گا لیکن میرے پاس نہ پیسے ہیں،نہ وسائل ہیں۔اگر پیسوں کا بندوبست ہو بھی جائے تو ایک تندور والے کا بیٹا کیسے ڈاکٹر بن سکتا ہے۔اگر حکومت ہماری مدد کرے تو شاید میرا بیٹا ڈاکٹر بن جائے”۔
”آپ کا بیٹا ضرور ڈاکٹر بنے گا۔ہم اس کی آواز بنیں گے۔ہم اسے سہارا دیں گے”۔مختلف ٹی۔وی چینلز کے نمائندے آتے رہے اور انٹرویو لیتے رہے لیکن مجھ سمیت ہر شخص حیران تھا کہ اس بچے کو تعلیم کی اضافی سہولیات تو چھوڑیں،بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں،فرسٹ پوزیشن کیسے اس کے گلے کا ہار بن گئی۔
ایک معروف کالج نے اسیسکالر شپ کی پناہ میں لے لیا۔ وہ کالج جانے تو لگا تھا لیکن تندور اس کی زندگی کے شب و روز سے نکلا نہیں تھا۔وہ اسی طرح باپ کے ساتھ تندور پر کام کر تا تھا۔
”دیکھ بھیا!اس بچے کی جان چھوڑ دے۔یہ پڑھنے والا بچہ ہے۔تو کوئی مزدور رکھ لے”۔اس کے باپ کے جاننے والے اسے مشورہ دیتے۔
”لالہ جی!اس مزدوری میں اتنے پیسے کہاں بچتے ہیں کہ میں مزدور رکھ لوں”۔ اس کا والد ہر ایک کو لالہ جی کہا کرتا تھا۔
اسی دوران میں طور نے بارھویں کا امتحان بھی پاس کر لیا؛اگر چہ اس بار وہ بورڈ میں نمایاں پوزیشن نہ لے سکا لیکن اس کے نمبر نوے فی صد سے زیادہ تھے اور وہ ضلع کا نمایاں ترین طالب علم تھا۔


اس کے بعد میرے والد صاحب کا تبادلہ ہو گیا اور ہم لوگ ایک دور دراز علاقے میں منتقل ہو گئے جہاںمجھے نیا کالج اورنئے دوست مل گئے۔سابق دوستوں کی تصویریںآہستہ آہستہ نگار خانہ? خیال سے اترنے لگیں۔البتہ کبھی کبھار ہمارے گھر میںکبھی کبھی طور کا ذکر ہو جاتا۔اِس شہر نے طویل عرصے تک ہماری کفالت کی،اس لییوالد صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد یہاں اِسی شہر میں گھر بنا لیا۔وہ جب ریٹائر ہوئے تو اس وقت ایک اچھی نوکری میری ساتھ چل پڑی تھی؛اسی دوران میں اسی علاقے کے ایک معززخاندان کی لڑکی سے میری شادی ہو گئی؛اس سے میرے دو بیٹے بھی پیدا ہوئے۔جس کی وجہ سے میری یہاں کی مصروفیات نے ایسا جکڑ لیا کہ آبائی گائوںمیں آمدورفت تقریباََ ختم ہو کر رہ گئی؛البتہ والدین کے آنے جانے کا سلسلہ بحال تھا۔


ملازمت کا پرسکون سلسلہ جاری تھا کہ تبادلے کی ایک لہر مجھے اپنے آبائی ضلعے میںلے آئی۔روانگی کے وقت والدین نے تاکید کی تھی کہ گاہے گاہے اپنے عزیزوں سے ملتا رہوں۔
”بیٹا اپنے رشتہ داروں سے ملتے رہنا۔وہاں وہ تمھارا دست و بازو ہوں گے”۔
”ابو مجھے بھی ان سے ملنے کا بہت شوق ہے۔کتنا عرصہ بیت گیا،میں نے ان میں سیکسی کو نہیں دیکھا”۔


اپنے آبائی ضلع میں پہنچا تو ابتدائی ایام کی مصروفیت نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیالیکن چند دنوں کے بعد میں مصروفیت کا محاصرہ توڑ کرآبائی گائوں روانہ ہو گیا۔یہ علاقہ بہت تبدیل ہو گیا تھا۔عمارات کے سلسلے نیسرسبز کھیت نگل لیے تھے۔ گائوں کی تنگ گلیوں کی وجہ سے ایک جگہ سامنے سے آنے والی بیل گاڑی نے ہمارا راستہ رو ک لیا؛یہ واقعہ عین اس جگہ پیش آیا جہاں طور کے باپ کا تندورہوا کرتا تھا۔بے اختیار میری نظریں تندور کی طرف اُٹھ گئیں،میں حیرت زدہ رہ گیا،طور کا باپ اسی طرح تندور میںروٹیاں لگا رہا تھا۔اسی دوران میں میراڈرائیور راستہ بنانے کا جتن کر رہا تھا؛میں نے اسے کہا:
”تم گاڑی نکال کر اُس طرف لگائو میں آتا ہوں”
میں گاڑی سے اتر کر تندور کی طرف چل دیا۔


”السلام علیکم چاچا!”۔
”وعلیکم السلام۔”وہ میرا تنقیدی جائزہ لے رہا تھا۔
”چاچا!میں اسی گائوں کا ہوں۔اگلی گلی میں میرا اپنا گھر ہے۔آپ کا بیٹاطور میرا کلاس فیلو تھا۔اب وہ کیا کرتا ہے؟”۔
”صاحب جی!میں طور ہی ہوں۔والد صاحب تو اللہ بخشے کب کے فوت ہوگئے”۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں