تنہائی کے سو سال

گیبریل گارسیا مارکیز
تجزیہ: راشد جاوید احمد

, تنہائی کے سو سال

کافی سال پہلے ایک نوبل انعام یافتہ کتاب” ون ہنڈرڈ ایئرز آف سولی چیوڈ ” پڑھی تھی۔ یہ کتاب میرے دل و دماغ پر طویل عرصہ تک چھائی رہی۔ اس پر بہت سی آراء بھی پڑھنے کو ملیں لیکن مجھے اندر سے کوئی چیز ابھار رہی تھی میں اسکے بارے میں ضرور کچھ لکھوں۔
گیبریل گارسیا مارکیز، وہ بندہ ہے جس نے عظیم الشان روسی ادب کے بعد پورے ایک عہد کو اپنا گرویدہ بنایا۔ یہ لاطینی امریکی ادب ہی تھا جس نے بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں دنیا کو حصار میں لے لیا۔ اسکا زریں دور مارکیز کی منظر میں آمد سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ طلسمی حقیقت نگاری کے کرشمے نظر آنے لگے۔اگرچہ بورخیس لویئس اور کارلوس فونتسین، سب موجود تھے لیکن اس خطے کے ادب کا مقبول ترین نمائندہ، طلسمی حقیقت نگاری کو بام بخشنے والا مارکیز ہی ٹھہرا۔ اس کا ادبی شاہکار، ون ہنڈرڈ ایئرز آف سولی چیوڈ ، یا تنہائی کے سو سال، بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ مارکیز اس ناول کی بنا پر اپنے عہد پر چھا گیا۔ سات نسلوں کی کہانی بیان کرتے اس ناول کو اسکے زرخیز تخیل نے ایک زندہ ابتدایئہ عطا کیا۔ برسوں بعد فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑے کرنل ارلیانو بویئندہ کے ذہن میں وہ بھولی بسری سہہ پہر تھی جب زندگی میں پہلی بار اس کا باپ اسے برف دکھانے لے گیا۔ یہاں سے ابتدا ہوتی ہے اور مارکیز ہمیں اس دنیا سے متعارف کرواتا ہے جو پیدائش کے باب میں پیش کردہ دنیا جیسی ہے، نئی اور حیرت انگیز۔ یہ دریا کے کنارے بیس گھرانوں پر مشتمل ایک بستی ہے، ماکوندہ ، اتنی نئی کہ بہت سی چیزیں بے نام ہیں اور انکی نشان دہی کے لئے اشارہ ضروری ہے۔


کہتے ہیں ادیب زندگی میں در حقیقت ایک ہی کتاب لکھتا ہے۔ باقی تمام کتابیں اس کا پرتو ہوتی ہیں۔ اس نکتہ نگاہ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ مارکیز نے تنہائی کو کتاب کیا ہے۔ اور یہ تنہائی فقط شخصی نہیں، تاریخی اور ثقافتی ہے۔ مارکیز نے لاطینی امریکہ کو شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کا وہ خطہ جو شمالی امریکہ کی چکا چوند کے پیچھے چھپا بیٹھا تھا، اسے ہماری آنکھوں کے سامنے اتنا روشن کر دیا کہ کم از کم ادبی سطح پر بیسویں صدی میں شمالی امریکہ کی روشنی ماند پڑ گئی۔


مارکیز کا تخیل مجھے ان داستانوں اور داستان سنانے والوں کی یاد دلاتا ہے جو اپنے لفظوں سے طلسم تخلیق کرتے تھے اور سننے اور پڑھنے والے اس طلسم میں کھو جاتے تھے۔ طلسم کے معنی ہی نظر کا دھوکا ہیں۔ لیکن دیکھنے والے کو اس پر ایسا اعتبار آئے کہ فریب حقیقت میں بدل جائے اور انسان اس میں ایسا اسیر ہو کہ باہر نکلنے کا راستہ تک نہ ملے۔ مارکیز کا یہ ناول پڑھتے ہوئے مجھے گمان گزرا جیسے میں ایک ایسی دنیا میں داخل ہو چکا ہوں جس میں انسان، زمین، چرند پرند، پودے نباتات سب ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ اس ناول میں مارکیز، اپنی یاد، کے مظہر سے ساری تخلیقی قوت حاصل کرتا ہے۔ جس کو ڈریم لیند کہتے ہیں۔ ماکوندہ ، مارکیز کا خواب نگر ہے۔ وہ یادیں جو اس کے بچپن کے لاطینی امریکہ، خاص طور پر کولمبیا کے معاشرے میں موجود حقیقت کے بیان پر مبنی ہیں۔ یادیں ہی مارکیز کا وہ سرمایہ ہیں جن سے وہ اپنی تخلیقات کی بنیادیں استوار کرتا ہے اور پھر اپنے تخیل کی بے پناہ جولانی سے ایک طلسمی فضا تعمیر کرتا ہے۔


مارکیز نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں جو کردار تراشے ہیں وہ روز مرہ زندگی میں نظر آنے والے معمولی لوگ نہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں ، خوبیوں اور جسمانی خصائص کے حامل افراد ہیں۔ مارکیز کو غیر معمولی افراد اور واقعات اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ان غیر معمولی کرداروں کو پیش کرنے کے لیے مارکیز جو فضا تیار کرتا ہے وہ بھی غیر معمولی عناصر سے بھری ہوتی ہے۔ مافوق الفطرت عناصر، انسان، جانور، پودے، بے جان چیزیں اور مردے، سب ایکد دوسرے میں یوں گندھے ہوتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو الگ کرنا ممکن نہیں۔ اسی کو میجیکل ریئلزم کہتے ہیں۔ اسی کی مخصوص فضا ہمیں سارے ناول میں ملتی ہے۔ مارکیز کے نقاد بھی اسے طلسمی حقیقت نگار کہتے ہیں۔


تنہائی کے سو سال ۔۔۔۔ اس میں ہمیں وقت کی تباہ کاریاں اور تقدیر کا جبر، اہم موضوع کے طور پر نظر آتے ہیں۔ اس ناول کا مرکزی کردار، بویئندہ خاندان اپنے سو سال کی زندگی میں جگہ جگہ اپنے بزرگوں کے خوابوں کا پھل جھیلتا نظر آتا ہے۔ مارکیز نے اس خاندان کی تنہائی کا منبع اس خاندان میں محبت کے فقدان کو قرار دیا ہے۔ مارکیز کے ناولوں میں یادیں ، اسکی اپنی ذات اور اپنے خاندان کی زندگی کی عکاس ہیں۔ اس کے ناولوں میں جہاں ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ فلیش بیک کی تکنیک سے وہ بار بار اپنے کرداروں کے ماضی کی طرف پلٹتا ہے، وہیں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ بھی ملتا ہے۔ یوں ، مارکیز، تقدیر کی جبریت کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ مارکیز کے اسلوب کا ایک ایسا امتیاز ہے کہ وہ فرد کے خارج اور باطن کو سماجی اور شخصی سطحوں میں یوں ضم کرتا ہے کہ وہ ایک پیچیدہ متن بن جاتا ہے۔ مارکیز کی فنی پختگی ، بیان پر اس کی گرفت کو مضبوط رکھتی ہے۔ یہ فکشن کی عمدہ ترین مثال ہے۔ مارکیز عالمی سطح پر ایک ایسے ناول نگار کے طور پر مانا اور جانا جاتا ہے جو ساری دنیا کے ادیبوں اور قاریئن کے لیے نئے جہان تخلیق کرتا ہے۔ اس نے دنیا کے پسماندہ خطے سے تعلق رکھتے ہوئے مغربی معاشرے میں اپنے تخلیقی تجربوں سے بڑا مقام پایا۔


اگرچہ مارکیز اب ہم میں نہیں لیکن اس کا خواب نگر، ماکوندہ، قاریئن کے دلوں میں ہے۔ اگر آپ، اداسی، تنہائی، جنگ، فراغت کا عذاب اور بے مقصدیت جیسے الفاظ کی روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ سب آپ کو اس ناول میں ملیں گے۔
جب قوموں کے پاس کرنے کو مثبت سرگرمیاں نہ رہیں تو وہ منفیت کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ جب کھیل کے میدان آ باد نہ ہوں تو جنگیں میدانوں تک آ جاتی ہیں۔ جب ادب و فن کی ترویج نہ ہو تو جنسی رویے بد سے بد تر صورت اختیار کرتے ہیں۔ جب خوشی کے مواقع اور تہوار نہ ہوں تو ہمہ گیر اداسی، تنہائی اور چڑ چڑا پن قوم کا مقدر بن جاتے ہیں۔

شیئر کریں
راشد جاوید احمد کا تعلق علامہ اقبال ٹاون لاہورسے ہے۔یہ ریٹائرڈ بنک ایگزیکٹو ہیں ۔افسانہ نگار۔ ڈرامہ نگار۔ کاپی رائٹر۔ بلاگر ہیں ، پین سلپس میگزین کے نام سے ہفتہ وار اردو/پنجابی ای میگزین بھی شائع کرتے ہیں ۔

کمنٹ کریں