تارڑ کہانیاں

مضمون نگار : محمد عباس

, تارڑ کہانیاں

مستنصر حسین تارڑ کا اردو ادب میں بنیادی حوالہ سفر نامہ نگاری اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ٹی وی ڈرامے اور کالم بھی اچھے خاصے لکھے ہوئے ہیں۔ طنزو مزاح میں ان کا انداز اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ افسانہ ایک ایسی صنف ہے جس پر ان کی توجہ سب سے کم رہی ہے۔ 2015تک ان کی 46کتابوں میں سے محض ایک افسانوی مجموعہ تھا جو اکیلا پڑا منہ بسورتا تھا۔ ان کے کسی بھی اچھے قاری کو ان کے یہ افسانے بھولے نہ تھے اور یہ احساس رہتا تھا کہ اتنے اچھے افسانے لکھنے کے بعد دوبارہ انہوں نے اس طرف رخ کیوں نہ کیا۔ 2015ء میں ان کی کتاب ’’15کہانیاں‘‘ سامنے آئی ہے جس میں پندرہ نئے افسانے شامل ہیں۔ ان کہانیوں کو پڑھ کر یہ شکوہ دور ہو جاتا ہے کہ انہوں نے دوبارہ اس طرف رخ کیوں نہ کیا۔ ان نئی کہانیوں میں مستنصر حسین تارڑ کا افسانہ تیس سال بعد ایک نئے ذائقے کے ساتھ سامنے آیا ہے البتہ اس کی نوعیت سمجھنے کے لیے ہمیں ان کے گزشتہ افسانوں پر ایک تفصیلی نظرڈالنی پڑے گی تا کہ دونوں کا فرق سامنے آ سکے۔


پہلا مجموعہ ’’سیاہ آنکھ میں تصویر‘‘ کے افسانے پاکستانی تاریخ کے تاریک ترین دور میں لکھے گئے ۔ ان پر گفتگو سے پہلے مرز اطہربیگ کے ’’بے افسانہ‘‘ کا مشہور جملہ یاد آنے لگتا ہے :’’نازش نبردازی نے افسانہ نگاری کا آغاز کیا ہی تھا کہ جبر کے دور کا آغاز ہو گیا۔‘‘ اس مجموعے کے کئی افسانوں پر امیر المومنین کے کالے دور کا تاریک سایہ پڑتادکھائی دیتا ہے۔ ’’بابا بگلوس‘‘، ’’غلام دین‘‘، ’’گیس چیمبر‘‘، ’’لوہے کا کتا‘‘ اور ’’ٹائم مشین‘‘واضح طور پر اس دورِ حکومت کی کسی نہ کسی ’خوبی‘ کا ذکر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اس حوالے سے سب سے نمائندہ افسانہ ’’بابا بگلوس‘‘ ہے۔یہاں جبر کے دور میں دی جانے والی عقوبتوں کو ڈارک کامیڈی اور طنزِ ملیح کے انداز میں دکھایا گیا ہے۔ بہت سی چیزیں واضح نہیں بتائی گئیں کہ یہ اُس دورمیں ممکن نہ تھا البتہ پڑھنے والا آج آسانی سے سمجھ سکتاہے کہ یہ شاہی قلعے میں بنے عقوبت خانوں سے مجبور، بے بس اور اکثر بے گناہ قیدیوںکے جسموں سے امڈنے والے خون کے فواروں ، ان کے حلق سے نکلتی بے اختیار چیخوں اور کرب سے بل کھاتی ہڈیوں کی کہانی ہے۔ کہانی کے شروع میں ایک گائیڈ کا سیاحوں کو قدیم زمانے کے آلاتِ تشدد دکھانا اس افسانے کے طنزیہ انداز میں پہلا اسٹروک ہے:


’’ یہ وہ ہتھیار ہیں جن کی دہشت سے عوام فوج کے آگے کُبڑے ہو کر چلتے تھے مگر بربریت کے زمانے لد چکے۔ آج کے تہذیب یافتہ عہد میںتو ان مظالم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔اب ہمارے ملکی قوانین میں ایسی ایسی دفعات موجود ہیں کہ کوئی کسی کی جانب انگلی بھی نہیں اٹھا سکتا۔ ہمیں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم اس وحشی عہد میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ ایک ترقی یافتہ معاشرے کی آزاد فضائوں میں سانس لیتے ہیں۔‘‘ص:68
گائیڈ کی اس تقریر کے بعد افسانے میں بالواسطہ طور پر ان مظالم کا حال بتایا جاتا ہے جو اس عقوبت خانے میں آنے والے افراد پر روا رکھے جاتے ہیں۔ یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ عقوبت خانہ صرف اسی دور میں قائم نہیں ہوا بلکہ یہ تو مدتوں سے موجود تھا ۔ ہر عہدِ حکومت میں حزبِ اختلاف کے سرکش افراد کو اٹھوا کر یہاں لایا جاتا اور ان کو تہذیب اور شائستگی سکھائی جاتی۔ حزبِ اختلاف کے لوگ اس عقوبت خانے میں جب تشدد کے مراحل سے گزر رہے ہوے تو خود سے عہد کرتے کہ اقتدار میں آتے ہی ان عقوبت خانوں کو ختم کر کے ان کی جگہ چلڈرن پارک بنوا دیں گے لیکن اقتدار میں آتے ہی انہیںاپنے مخالفین کو تہذیب اور شائستگی سکھانے کے لیے یہ عقوبت خانہ کارآمد نظر آنے لگتا اور چلڈرن پارک کا عہد پسِ پشت ڈال دیا جاتا ۔ جمہوری دور میں بھی وہاں سیاسی مخالفین کو اسی طرح ڈالا جاتا تھا اور اب جبر کے دور میں بھی ٹریفک اسی طرح رواں دواں ہے۔ اس ساری تاریخ کا گواہ بابا بگلوس ہے۔ بابا بگلوس جو نامعلوم مدت سے اس بندی خانے کا حصہ ہے اور اب پنجرے سے اس قدر آشنا ہو چکا ہے کہ اس کے لیے آزادی کے معنی ہی ختم ہو چکے ہیں۔ جتنی محدود سی آزادی اس کے تصور میں سما سکتی ہے ، اتنی تو اسے بندی خانے میں ہی حاصل ہے۔ وہاں کا عملہ خواہش مند ہے کہ وہ بھاگ جائے لیکن وہ بھاگ کے دیتا ہی نہیں۔ بابا بگلوس کے اس کردار کو فوکس میں رکھ کر مستنصر نے ضیائی دور کی عقوبتوں کا حال رقم کیا ہے۔ ساتھ ساتھ سرکاری اہلکاروں کی بے رخی ،لاتعلقی اور شہریوں کی بے حسِی کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ پورے افسانے کے بیانیے میں ایک عجیب سی سفاکی کا عنصر بھر دیتا ہے۔ قیدی کو کوڑے مارنے سے پہلے چائے منگوانا، عجلت میں مریض کا معائنہ کہ کہیں چائے ٹھنڈی نہ ہو جائے، سرکاری اہلکاروں کے اندر انسانیت کے تمام لطیف جذبات کے مٹ جانے اور محض احتیاجات کے پورا کرنے کی سطح پر زندہ رہنے کا احساس دلاتے ہیں۔ گرم زمین پر پانی کے چھڑکائو کا فائدہ محض یہ ہے کہ اَدھ موئے مجرموں کے جسموں کو گیلے صحن پر گھسیٹا جائے تو زیادہ زور نہیں لگانا پڑے گا۔ آئندہ روز چھڑکائو ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ انسانی ہمدردی اور حسیت کا سایہ بھی کیسے ملے گا۔ افسانے کا آخری منظر بھرپور ہے۔ کچھ مجرموں کو سرِعام پھانسی دینے کے لیے سرکار نے وقت مقرر کیا ہے اور مقررہ وقت پر عوام کا اس مقام کے گرد ٹھٹھ لگا ہوا ہے جہاں پھانسی دی جانی ہے۔عوام پر دہشت طاری کرنے کے لیے کچھ بے گناہوں کو یوں عوام کی نظروں کے سامنے لٹکایا جارہا ہے لیکن عوام کے اندرکہیں بھی المیے کا احساس نظر نہیں آتا ۔ لوگ پورے خاندان کی صورت وہاں جمع ہیں اور پکنک منانے کی طرز پر گھروں سے کھانا بنوا کر لائے ہوئے ہیں اور وہیں دستر خوان بچھا کر کھائے جا رہے ہیں۔ آئس کریم ، مشروبات اور دیگر لوازمات فروخت کرنے کے لیے میلے کی طرح ٹھیے لگے ہوئے ہیں۔ لوگ کسی گرے ہوئے مکان کے ملبے پر دو دو روپے دے کر کھڑے ہو رہے ہیں تا کہ اونچی جگہ کھڑے ہو کر نظارہ کر سکیں۔ فراز کا مصرعہ تھوڑی سی شکل بدل کر مجسم نظر آتا ہے۔ خلقتِ شہر تو دیکھنے کو تماشے مانگے۔ اس عوام کو اس سے ہر گز غرض نہیں کہ یہ سارا شوروغل کیوں ہے، مداری نے اپنی حکومت جمانے کے لیے جو کھیل رچایا ہے ،وہ کیاہے اور ان بچہ جمہوروں کو سزائیں کیوں دی جارہی ہیں، سرِ عام یہ سزائیں د ے کر وہ عوام کو کیا درس دینا چاہتا ہے؟ انہیں کسی سے سروکار نہیں۔ انہیں تو مطلب ہے تماشے کو صحیح طرح دیکھنے سے۔ باقی انہیں جو کچھ سرکاری پروپیگنڈا مشین کے ذریعے دکھایا اور بتایا جاتا ہے، وہ مانتے چلے جاتے ہیں۔ اس کی تہہ تک جانے کے لیے وہ اپنے دماغ کو ذرا بھی زحمت نہیں دینا چاہتے۔ دماغ شاید ہے بھی نہیں۔ ان کے پاس صرف معدہ اور آنکھیں ہی تو ہیں۔ جس طرح معدے میں ڈالنے کے لیے نئی سے نئی خوراک ان کا تقاضا ہے، اسی طرح آ نکھوں کو دکھانے کے لیے نئے سے نئے تماشے کی تمنا ہے۔یہ لوگ تماشے کے پسِ پردہ حقائق جاننے کی بجائے تماشے کی نوعیت اور فنی نزاکتوں پر چیں بہ جبیں ہو سکتے ہیں۔ اتنی جلدی تفریح ختم ہوجانے کا انہیں افسوس ہے۔ مجرموں کے چہرے ڈھکے ہونے پر ملال ہے اور اس بات پر دکھ ہے کہ فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے واضح دیکھ ہی نہ پائے۔ پورے منظر میں کسی بھی شخص کو صحیح معنی میں اصل المیے کا احساس نہیں ہے۔ یہ تاثر اس منظر کا حقیقی معنی میںالمیہ ہے۔


’’بابا بگلوس‘‘ اپنا موضوع بہت خوبصورتی سے نبھاتا ہے۔ افسانے کا آغازدور سے آتی چیخوں سے ہوتا ہے اور انجام آنکھوں کے سامنے پھانسی دینے پر۔ یوں اس دور کے تشدد کی بتدریج تصویر بنتی چلی جاتی ہے۔ اس تشدد کی تصویر جو بندی خانوں کے ساتھ ساتھ چوراہوں میں عوام کو دکھا کر ناکردہ گناہوں کی سزا کے خوف سے لرزہ بر اندام رکھتا تھا۔اس موضوع پر ترقی پسندوں نے بھی بہت کچھ لکھا ہے لیکن مستنصر نے اس افسانے میں جو زاویہ اپنایا ہے اور پورے افسانے میں جس طرح طنز کو خفیہ رکھا ہے، ایسا افسانہ کوئی کم ہی لکھ پایا ہے۔ ’’بابا بگلوس‘‘اس موضوع پر ایک یادگار افسانہ رہے گااور اس کے ساتھ ساتھ بابا بگلوس کا کرداربھی ایک منفرد کردار کے طور پر زندہ رہے گا۔


’’ آکٹوپس ‘‘اس دور کے سماجی جبر کو نمایاں کرنے والا افسانہ ہے۔ جبر عوام پر کیا گیا۔ جسمانی ایذا دی گئی۔ ذہنی طور پر معذور کیا گیا۔ سوچنے والے دماغوں کو سوچنے کے جرم پر عبرتناک سزائیں دی گئیں۔یہ سب متوازی تاریخ کا کھلا حصہ ہے لیکن ’’آکٹوپس‘‘ کے اندر جبر کی ایک دوسری شکل دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ آکٹوپس ہے جس نے غیر مرئی انداز میں پوری قوم کو اپنے ہزار پیروں کی گرفت میں جکڑ رکھا ہے اور مجسم ہو کر عوام کے روزمرہ اجتماعات کے راستے میں آ کر چبھنے لگا ہے۔ پارک اور عوامی تفریح گاہیں اس لیے ہوتے ہیں تا کہ وہاں عوام اپنے فارغ وقت میں خوشی اور آزادی کے چند لمحاتِ گریزاں کو یوں گزار سکیں کہ ان کی گریز پائی کے احساس کی شدت کم ہو جائے۔جوگنگ ٹریک اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ وہاں آنے والے افراد دن بھر کی نگلی ہوئی کلفت اور پریشانی کو اپنے تیز اکھڑتے سانسوں کے دھارے میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے خارج کر سکیں لیکن جبر کے دور میں عوامی خوشیوں پر نظر رکھنی، ان کی نوعیت متعین کرنی اور ان کی سمت نمائی بھی ضروری ہوتی ہے، اس لیے پارکوں اور سیر گاہوں میں عوامی اجتماعات پر پابندی ضروری ٹھہری کہ عوام آپس میں مِل کر کسی قسم کی سیاسی گھٹن کے خلاف اظہار نہ کر سکیں۔ عوامی سیلاب کے بہائو میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے سڑکوں ، چوراہوں اور راستوں پر خاردار تار بکھیر دینا بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔جابر کا خوف ہر اس راستے پر رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتا تھا جدھر سے کوئی خدشہ سر اٹھا کر اس کے اقتدار کے خلاف آواز اٹھا سکتا تھا۔ اس افسانے میں جاگنگ کرتا راوی منہ اندھیرے اپنے روزمرہ ٹریک پر دوڑتا جا رہا ہے کہ خاردار تاروں کے گچھوں سے ٹکرا جاتا ہے جو حفظِ ماتقدم کے طور پر وہاں رکھے گئے ہیں۔ اذیت اور گھٹن کا احساس راوی کے پورے وجود کو گھیر لیتا ہے۔ اس جبر کا اثر یہ نکلتا ہے کہ پھولوں کی زندگی ختم ہو گئی ہے اور ان کی پتیاں مرجھاکر بکھرنے لگی ہیں۔ زندگی میں فطری حسن کی بجائے کاغذی حسن بھرا جانے لگا ہے۔


’’لوہے کا کتا‘‘ تمثیلی انداز کا افسانہ ہے اور مجید امجد کی نظم ’’کنواں‘‘ اور فیض کی نظم ’’کتے‘‘ سے متاثر لگتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جب ہر طرف علامتی افسانے کی دھوم تھی اور بیشتر افسانہ نگار کسی نہ کسی طرح علامت کو افسانے میں شعوری طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ افسانہ بھی اسی روایت کا افسانہ ہے جس میں کنواں گیڑنے والے کوئی جانور یا لوگ ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے کھیتوں کی سینچائی کے لیے کنویں سے پانی نکالنا ہے اور اس پانی کی درست تقسیم اور کھیتوں میں سے رزق پیدا کرنے کے لیے انہوں نے کسی کو ذمہ داری بخش رکھی ہے لیکن وہ ذمہ دار شخص اپنا فرض نبھانے کی بجائے ان کا مالک بن بیٹھا ہے اور گادی پر بیٹھا انہیں ہانکتا رہتا ہے۔ اسے کھیتوں کی کوئی فکر نہیں، پانی کی کوئی پروا نہیں۔ اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کتا چکلی سے نکل گیا ہے اور کنویں کا تمام چکر الٹا چلنے لگا ہے۔ الٹا چلنے لگا ہے۔ کتا نکل جانے کے بعد ٹنڈوں میں بھرا منوں پانی واپس اپنی اصل سے ملنے کے لیے بے تاب ہوتا ہے اور اس پانی کو وہیں روکنا اور کنویں کو الٹا نہ چلنے دینا پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسے آگے لے جانے کا سوال تو اٹھتا ہی بعد میں ہے۔ کنویں والا اپنی ذمہ داری سے غافل گادی پر بیٹھا انہیں ششکارتا جارہا ہے۔ وہ یہ بھی نہیں سمجھ پارہا کہ اگر کنواں الٹا چلنے لگا تو تمام چکر نیچے آرہے گا اور وہ خود بھی سر کے بل کنویں میں گر جائے گا۔اس کی یہ موج انہی کے بل پر قائم ہے اور وہ انہی پرزبردستی کیے جارہا ہے۔ یہ افسانہ علامتی انداز میں حکومت پر زبردستی قابض ہو جانے والے شخص کے جبر کی داستان سناتا ہے۔ بیل قوم کی علامت ہیں اور گادی پر بیٹھا شخص وہی ہے جس نے ان کے حقِ رائے دہی کو طاق پر رکھ کر ان کی گردن دبوچی ہوئی ہے۔ کتے کا نکل جانا اور ٹنڈوں کا رک جانا ملک کی پیداواری صلاحیتوں میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ آج ملک میں فن اور ثقافت کے ہر شعبے میں زوال ہے، اس کی بنیاد وہیں رکھی گئی تھی جب کتا چکلی میں سے نکلا تھا۔ خشک ہوتے کھیتوں کی ویرانی قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کے ختم ہو جانے کی نشانی ہے۔ جس قوم کے پاس پیداواری صلاحیت زیادہ نہ ہو اور کندھوں پر جبر لدا ہوا ہو، وہاں تخلیقی صلاحیتیں پنپ بھی نہیں سکتیں۔ افسانہ علامتی ہے لیکن اپنے معاصر افسانوں کی طرح ماورائے حقیقت فضا قائم کرنے اور پرائی سرزمینوں سے استعارے منتخب کرنے کی بجائے اپنی دھرتی کے ایک نمایاں مظہر کو علامت بنا کر مستنصر نے وہ تاثیر پیدا کر دی ہے جو اس دور کے عام علامتی افسانوں میں نہیں ملتی۔ اپنی مٹی کے ساتھ اس تعلق کی بنا پر اس میں وہ معنوی وسعت پیدا ہوتی ہے جو علامت کا خاصہ ہے۔
افسانہ ’’ٹائم مشین ‘‘ بھی اسی دور کے ایک واقعے کا بیان ہے جس کو دکھانے کے لیے مستنصر نے ٹائم مشین کا استعمال کیا ہے۔ جیکل اور ہائڈ سٹیونسن کے مشہورِ عالم کرداروں کا نام استعمال کرنا کسی حوالے سے بھی معنی خیز نظر نہیں آتا البتہ ٹائم مشین کی وجہ سے افسانویت کا عنصر پیدا ہو گیا ہے۔ ٹائم مشین کا استعمال بھی تکنیکی لحاظ سے قرۃ العین حیدرکے افسانے ’’روشنی کی رفتار‘‘ سے زیادہ سلجھا ہوا ہے۔ افسانے کا موضوع وہی واقعہ ہے جس کی بنیاد پر عبداللہ حسین نے ’’قید‘‘ لکھا تھا۔ ایک معصوم بچے کو ا پنا کھوکھلا تقدس ثابت کرنے کے لیے گناہ کا نتیجہ قرار دے کر سنگسار کر دینا ۔ اس موضوع کو لے کر اس افسانے کو تعمیر کیا گیا البتہ ساتھ ساتھ سیاسی جبر اور تشدد کے کچھ مناظر ایسے بھی ہیں جو معاصر سیاسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے جاتے ہیں۔
پانچ افسانے ایسے ہیں جن کا تعلق مستنصر کے سفری تجربات سے ہے اور ان افسانوں کا خمیر کسی نہ کسی صورت میں ان اجنبی سرزمینوں سے اٹھایا گیا ہے جہاں حسن کی متلاشی تارڑ آنکھوں نے قدم رکھا تھا۔ عام طور پر اردو میں لکھے ایسے افسانے جن کا تعلق کسی اور سرزمین سے ہو، وہ مکمل تجربے میں ڈھلتے نظر نہیں آتے۔ ان میں تھوڑی بہت خامی رہ جاتی ہے جس کی وجہ مصنف کے تخیل کی کمزوری اور اس سرزمین کا عدم تجربہ ہوتے ہیں۔ کہانی تو ہوتی ہے لیکن اس میں زندگی نہیں ہوتی۔ تارڑ صاحب کے پاس ان زمینوں کا ہاتھوں چھُوا ، قدموں ناپاتجربہ بھی ہے اور تخیل بھی بہت تربیت یافتہ ہے۔ اس لیے ان کے ایسے افسانوں میں جہاں اجنبی سرزمینیں پس منظر سے جھانکتی دکھائی دیتی ہیں، کسی کمی کا احساس نہیں ہوتا اور کہانی زندگی کے پورے احساس کے ساتھ ہم تک پہنچتی ہے۔ چار افسانوں میں سپین کے سفر کی بازگشت ہے۔ ’’سیاہ آنکھ میں تصویر‘‘ تو ہے ہی خالصتاً ہسپانوی کہانی ۔ اگر یہ کسی انجان آدمی کو کسی ہسپانوی افسانے کا ترجمہ کہہ کر پڑھوا دیا جائے تو وہ بغیر کسی شبہ کے اسے تسلیم کر لے گا۔ یہ افسانہ ہسپانوی خانہ جنگی کے پس منظر میں لکھا گیا ہے اور انسانیت کے لیے محبت کا انوکھا اندازاور دشمن سے انتقام کا ایک نیا طریقہ دکھاتا ہے۔ یہ ایک خانہ بدوش کردارلارنزو کی کہانی ہے جو نہ تو اِس طاقت کے ساتھ ہے نہ اُس کے ساتھ۔ نہ اس نے فاتح کا ساتھ دینا ہے اور نہ مفتوح کا۔ اسے اگر کسی کی فکر ہے تو وہ انسانیت ہے۔ اسے درد محسوس ہوتا ہے تو انسانوں کا۔ درد جس کی ٹیس ہر آدمی کے بدن سے ایک ہی طرح سے اٹھتی ہے۔ لارنزو کا کوئی وطن نہیں، کوئی مٹی اس کی اپنی نہیں ۔ اس لیے زمین کے چپے چپے پر قبضہ لینے کے لیے سینکڑوں انسانوں کا خون بہانے والی جنگ سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔ خدا کی زمین تنگ نہیں، جہاں لیٹنے کی جگہ مل گئی، وہاں چلا جائے گا لیکن وہ ان بچوں کے ہونٹوں کو پیاس سے تڑختے نہ دیکھ سکا جو محصور شہر میں پڑے تھے۔ اس کاکہنا ہے کہ بچے تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جنگ بچوں کی تو نہیں ہوتی۔ وہ اپنی جان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ان بچوں کو پانی مہیا کرنے لگتا ہے ۔ غرناطہ کے بچوں کو پانی صرف اس لیے پہنچاتا رہا کہ انسان کا بچہ مشترک ہوتا ہے۔ وہ جو تہذیب اور ثقافت کا پروردہ نہ تھا، تہذیب کو قائم کرنے کا بنیادی اصول اسے ازبر تھا۔ انسان کو دکھی انسان کی مدد کرنی چاہیے۔ اور جو تہذیب کے دعوے دار ہیں، وہ اس درس کو بھول کر ان بچوں کو پیاس اور جبر سے مارنے پر تلے ہیں۔ وہ ان کی مدد کرتا ہے اور بالآخر فاتح قوم اسے محصورین کو پانی مہیا کرنے کے جرم کی پاداش میں سولی پر لٹکا دیتی ہے۔ انہیں کیا خبر کہ لارنزو ان کا سیاسی مخالف نہیں بلکہ انسانیت سے محبت کا مجرم ہے اور اگر یہ فاتح قوم آج مجبور ہو جائے تو یہ ان کے بچوں کے دردپر بھی تڑپے گا۔


لارنزو کی موت کے بعد افسانہ ڈرامائی انداز اختیارکر لیتا ہے ۔ اس کی اولاد اس کے بہیمانہ قتل پر غصے میں ہے اور انتقام لینا چاہتی ہے لیکن وہ تین بے مایہ خانہ بدوش ایک منظم فوج کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ انتقا م کا یہی جذبہ ایک بیٹے کو یہ راستہ سجھاتا ہے کہ اگر دشمن کو نہیں مار سکتے تو اس کے ساتھ مشابہت رکھنے والے کسی جاندار کو مار کر بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ وہ بیٹا ایک سیاہ بُل کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اس کو مارنے سے میرا انتقام پورا ہو سکتا ہے۔ وہ بُل کے سامنے پہنچتا ہے لیکن خود اس کے سینگوں سے قتل ہو جاتا ہے۔ باقی بچنے والے دو بہن بھائی اس بُل کو مارنا چاہتے ہیں لیکن وہ ابھی طاقتور ہے اور اس کا مالک اسے ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے رکھتا ہے۔ ان دونوں کی زندگی کا مقصد اس بُل کو مارنا بن جاتا ہے اور وہ دونوں اپنی باقی زندگی کو بھلا کر صرف اس کو قتل کرنے کے لیے زندہ ہیں اور اس کا مالک جہاں بھی اسے لے کر جائے، وہ بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ آخر کار بُل کے بوڑھا ہونے پر اس کا مالک اسے ایک مذبح خانے کے حوالے کردیتا ہے اور وہ دونوں مذبح خانے والوں سے اسے ذبح کرنے کی اجازت لے لیتے ہیں۔ افسانے کا سب سے جاندار حصہ وہ ہے جہاں دونوں بہن بھائی اس بُل کو انتقامی جذبے سے قتل کر کے اس کے خون سے اپنے بدن کو دھو کر مدتوں پرانی آگ کے شعلوں کو بجھاتے ہیں۔ یہ افسانہ قاری کو دور اسپین کی سرزمینوںمیں لے جاتا ہے اور قاری بھی ان خانہ بدوش بہن بھائی کے ہمراہ تیسری آنکھ بن کر بُل کو دیکھتا رہتا ہے۔ بُل کے سیاہ رنگ اور طاقت کو طاقتور دشمن کے برابر سمجھنا اور اسے مار کراس سے اپنا انتقام پورا کرنے کا یہی عمل اپنی خالص شکل میں ان کے ناول’’بہائو‘‘میں بھی سامنے آتا ہے جہاں ڈورگا اپنی نسلوںپر ہونے والے مظالم کا بدلہ لینے کے لیے سیاہ بھینسے کو مارتا ہے۔


’’ذات کا قتل‘‘ بُل فائٹنگ کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ہے ، انتونیو ایک ایسا نوجوان بُل فائٹر ہے جو بُل فائٹنگ کے ذریعے اپنا آپ منوانا چاہتا ہے۔ اس نے بُل فائٹنگ کے فن پر ہر طرح سے عبور حاصل کر لیا تو اسے قرطبہ کے بُل رِنگ میںایک مقابلہ مِلتا ہے۔ یہ شہرت کی طرف اس کا پہلا قدم ہے۔ اگر کامیاب ہوا تو بڑا بُل فائٹر اور اگر خود کو فن کار ثابت نہ کر سکا تو پھر فن کی دنیا میں اس کا نام دھول مٹی ہو جائے گا۔ مقابلے کے تماشائیوں کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کا دارومدار وہاں مبصر کے طور پر بیٹھے نامور کالم نگار پیدرو کی ستائش پر بھی ہے ۔ وہ جو عظیم بُل فائٹروں میںاپنا نام لکھوانا چاہتا ہے اور فن کے ذریعے اپنی ذات کا اظہار کروانا چاہتا ہے ، پوری محنت اور فنکاری سے مقابلہ کرتا ہے ، کلاسیکی معیارات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ کچھ نئی اختراعات بھی کرتا ہے۔ تین دن بعد پیدرو کا کالم چھپتاہے تو اس میں انہی پہلوئوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جن میں اس نے اپنی اختراع دکھائی ہوتی ہے۔ بہ حیثیتِ فائٹر اس کا مستقبل ختم ہو جاتا ہے اورو ہ گھر آن بیٹھتا ہے لیکن اسے دل ہی دل میں اپنی مہارت دکھانے کی حسرت ہے۔’’فی استا‘‘ میں نو آموز فنکاروں کو موقع دیا جاتا ہے۔ انتونیو کو بھی دعوت نامہ وصول ہوا اور وہ قرطبہ کے بُل رِنگ میں پہنچ گیا۔ وہاں کالم نگار بھی موجود ہے۔ انتونیو اس فن کے کلاسیکی حربے پوری مہارت سے استعمال کرتا ہے اور کالم نگار سمیت سبھی لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں جب وہ فن کے سامنے اپنی ذات کو فنا ہوتے دیکھتا ہے تو اپنی ذات کو مٹانے کا تہیہ کر لیتا ہے۔ افسانے کے آخری منظر میں سینگ تان کے دوڑتے بُل کے سامنے انتونیو سینہ سپر کیے کھڑا ہے اور بُل پوری طاقت سے اس کے سینے سے ٹکرا جاتا ہے۔ اس افسانے کا بیانیہ پوری طرح جاندار ہے اور آخر جملے تک قاری کو کہانی کے ساتھ باندھ کے رکھتا ہے۔ افسانے کا موضوع فنکار کی ذات کا اظہار ہے ۔ فن کار جب فن کے میدان میں آتا ہے تو اس فن میں اپنی ذات کی مہر ثبت کرنا چاہتا ہے۔ فن کو اپنانے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ زمانہ اس کو پہچان سکے لیکن فن اس کے برعکس تمام کلاسیکی اصولوں کو ذات کے ا ندر سمو کر چلنے کا متقاضی ہوتا ہے ۔ انتونیو ان دونو ں کے درمیان ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکا اور آخر اپنی ذات کو قربان کر دیتاہے۔


’’بادشاہ‘‘ کا مرکزی کردار ہسپانیہ کی سرزمین پر ملنے والا ایک عجوبہ آدمی ہے ۔ وہ خود کو کنگ آف سکاٹ لینڈ کہتا ہے۔ خود کو سکاٹ لینڈ کے شاہی خاندان کا آخری چشم و چراغ کہتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ جب جمہوریت کا حالیہ ممبو جمبو ختم ہو گا ، اسے عزت کے ساتھ واپس بادشاہ بنا دیا جائے گا۔ اس کے تمام خیالات اور افکار سے لگتا ہے کہ وہ ایک خبطی اور کھسکا ہوا آدمی ہے۔ وہ نظریے پر کامل یقین رکھنے والے اور اس نظریے کے تحت زندگی گزار دینے والے مثالیت پسند لوگوں کی ایک علامت ہے۔ یہ کردار بھی اپنے مزاج کی وجہ سے بابا بگلوس کی طرح ایک یادگار کردار ہے۔


’’کوٹ مراد‘‘ دیہات اور شہر کی ازلی آویزش کی کہانی ہے۔ خان محمد چوہدری جو ’’کھانوں‘‘ کہلایا جاتا ہے، گائوں کا سادہ دل مزدور نوجوان ہے جسے نہ تو کوئی چالاکی آتی ہے اور نہ ہی دنیا داری ۔ اس کے پاس سامان کے نام پر صرف وہی کپڑے ہیں جو اس کے تن پر ہیں۔ اس کا حلیہ عام انسانوں سے تھوڑا الگ اور جسمانی ساخت بن مانس کے قریب قریب ہے۔اپنے کام کے علاوہ اس کے معمول میںصرف نماز اور قرآن پڑھنا شامل ہے اور انہیںبھی وہ باقاعدہ پڑھ نہیں سکتا ، صرف پڑھنے کی نقل کرتا ہے۔ جب وہ گائوں سے پہلی دفعہ شہر میں مزدوری کرنے آتا ہے تو رفتہ رفتہ شہر کے لوگوں کے لیے تماشے کا سبب بننے لگتا ہے۔ جمعہ کے روز چڑیا گھر میں اس کی آمد کی وجہ سے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو تا ہے تو چڑیا گھر کا مہتممِ اعلیٰ اسے دوگنی دیہاڑی دے کر چڑیا گھر میں مستقل رکھنے کی پیش کش کر دیتا ہے۔ کھانوں مزدوری چھوڑ کر چڑیا گھر آ جاتا ہے جہاں رفتہ رفتہ چھوٹی چھوٹی پابندیوں کی صورت میں ا س کے ساتھ جانور جیسا سلوک کیا جانے لگتا ہے اور وہ بھی انتہائے سادگی میں انسانی خصلتیں بھول کر جانور بنتا جارہا ہے حتیٰ کہ وہ دو ہاتھوں پیروں پر چلنے کی بجائے چار ہاتھوں پیروں پر آ گیا ہے۔ اگر وہ اپنے ہاتھ زمین سے الگ کرنے کی کوشش کرے تو اس کا ناک زمین سے جا لگتا ہے۔ انہی دنوں چڑیا گھر والے عوام کو تفریح مہیا کرنے کے لیے گائوں دیہاتوں میں جانوروں کی نمائش کرنے لگتے ہیں۔کھانوں جو دیہات میں پلا بڑھا ہے، ان فضائوں میں آ کے بے قرار ہونے لگتا ہے۔ ایک دن جب اسے پتا چلتا ہے کہ اگلا گائوں ’کوٹ مراد ‘ ہے جہاں اس نے جنم لیا تھا تو وہ رات کے اندھیرے میں اپنی زنجیرتڑ اکر بھاگ نکلتا ہے اور گائوں کی طرف لپکنے کے جوش میںگرتا پڑتا رفتہ رفتہ واپس اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔


اس افسانے میں مستنصر نے دو موضوعات کو عمدگی سے نبھایا ہے حالانکہ افسانہ اس قدر نازک صنف ہے کہ دوسرے موضوع کے بوجھ سے اس کی کمر دہری ہونے لگتی ہے لیکن اس افسانے کے دونوں موضوع اس خوبصورتی کے ساتھ باہم پیوست ہیں کہ یک جان نظر آتے ہیں۔ اول تو افسانہ یہ دکھارہا ہے کہ کس طرح دیہات کے سادہ نفوس اپنی معاشی ضروریات کے تحت شہروں کا رخ کرتے ہیں اور شہر اپنی بے رحم کمینگی کی وجہ سے ان کے انسانی جذبات کا لحاظ کیے بغیران کے اندر سے انسانی جذبوں کو ختم کر کے ان سے مالی منفعت حاصل کرتا ہے۔ ان کی اس کمینگی کی بدولت دیہات کی سادہ روح مسخ ہوکر رہ جاتی ہے۔ افسانے میں وہ مقام بہت خوبصورت ہے جب کھانوں کے آگے چڑیا گھر میں بچے روپیہ پھینکتے ہیں اور وہ افسرِ اعلیٰ کو اس کی شکایت لگاتا ہے۔ افسرِ اعلیٰ اس موقع پر یہی سوچتا ہے کہ اس طرح بغیر محنت کے روپیہ مل جانے میں آخر برائی کیاہے جب کہ کھانوں کو یہ پیسہ حرام کا لگ رہا ہے۔ حصولِ رزق کے لیے شہر اور دیہات کی الگ الگ اقدار کو خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے۔ پھر جب کھانوں کو زنجیر پہنائی جاتی ہے تو فریب سے پُر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’ہم تمہارے دوست ہیں۔‘‘ اور ان کے اس دعوے کو سچے دل سے تسلیم کر کے دیہات کا پلا بڑھا سادہ دل کھانوں پابندِ زنجیر ہونے کوآمادہ ہو جاتا ہے۔ افسانے کا دوسرا موضوع مٹی کی محبت ہے۔ دیہات میں رہنے والا آدمی مٹی کے اصل رنگ خوشبواور حتیٰ کہ ذائقے سے بھی آشنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے زندگی کا سب سے زیادہ تسکین بخش لمس اپنی اسی مٹی کا ہوتا ہے جواس کے بدن سے مس ہوتی ہے تو اپنی تازہ مہک سے پورے بدن کو تراوت دے کر ہر مشامِ جاں میں تخلیق کے خفتہ سوتوں کو جگاتی ہے۔ یہ مٹی بے جان ہے مگر اس کی ہتھیلی پر آ کر محبت کی زبان بولنے لگتی ہے، یہ مٹی بے رنگ ہے لیکن اس کی آنکھوں میں سمانے والے سبھی رنگ اسی مٹی سے پھوٹتے ہیں۔ یہ مٹی بے جان ہے لیکن جب اس پر لپٹتا ہے تو ماں کی آغوش کی طرح سکون بخشتی ہے۔ اس مٹی میں آدمی کے لیے بہت کشش ہے اور آدمی سات سمندر پار بھی چلا جائے تو اس کی مہک ، اس کی آواز، اس کی حسیات کی دنیا میں ہلچل بپا کیے رکھتی ہے۔ کھانوں جو دیہات سے آیا تو بے غرض ، بے لوث اور بے ریا محنتی نوجوان تھا، شہر میں احتیاجات کی زنجیروں میں بندھ کر ، شہر والوں کی بے حِس ریا کاری کی بدولت اپنی انسانیت سے محروم ہو کر حیوان کے درجے پر اتر آیا ہے۔وہ جب اپنی مٹی کے قریب پہنچتا ہے تو مٹی کی یہ محبت شہروالوں کی تربیت کا سارا اثر چند لمحوں میں ختم کر دیتی ہے اور وہ انسان کی حیثیت پانے کے لیے مچلتا ہوا اپنی مٹی کی آغوش میں سمٹنے کے لیے بھاگ نکلتا ہے۔


’’اس کے نتھنے ایک پیاسے پرندے کی طرح پھڑپھڑائے اور اس نے ایک طویل سانس لیا۔ باریک مٹی اور اس کی باس ہوا کے ساتھ مل کر ایک مٹیالی دھند کی صورت اس کے بدن میں اتری اور شریانوں میں پھیلتی چلی گئی۔ اس نے گرد آلود لبوں پر زبان پھیری اور اس کا حلق اپنی مٹی کے ذائقے کی پہچان سے آشنا ہوا… اس کا بدن مٹی تھا اور اس کا رنگ مٹی کا رنگ تھا… گندم کی بالیاں اس کے سر پر سرسرا رہی تھیں اور یہ بالیاں اس کے بد ن کی مٹی میںسے پھوٹ رہی تھیں۔‘‘ص:198


افسانہ ہمیں دکھاتا ہے کہ شہر آدمی کے اندر کتنی بے حسی اور مفاد پرستی کیوں نہ سمیٹ لے، اسے انسانیت کے درجے سے اتنا نیچے کیوں نہ لے ا ٓئے ، اس کے دل سے مٹی کی محبت بھلا نہیں سکتا۔ وہ جب بھی مٹی کی پکار سنے گا، پورے وجود کے ساتھ ، پورے خلوص کے ساتھ اس کی طرف لپکتا چلا جائے گا۔ بلاشبہ یہ افسانہ تارڑ صاحب ہی لکھ سکتے تھے جو اپنی ارضِ وطن کے ہر گوشے کی مٹی سے ایک جیسی ہی محبت رکھتے ہیں۔
اس کتاب میں شامل دو افسانے اپنے مزاج کے اعتبار سے بالکل منفرد ہیں۔ پہلا افسانہ آدھی رات کا سورج جو مستنصر حسین تارز نے راوی کا نام مستنصر بتا کر حقیقی واقعہ سا بنا دیا ہے۔ یہ ایک فرانسیسی سیاح سے ملاقات کا قصہ ہے لیکن یہ مختصر سی ملاقات اس سیاح کا فلسفۂ حیات اس طرح ہمارے سامنے آتا ہے کہ ہم اس کی زندگی اور موت دونوں پر رشک کرنے لگتے ہیں۔ عام طور پر ہمارے ہاں بڑھاپے کی مثالی زندگی کا تصور یہ ہے کہ آدمی سب کام وام چھوڑ کر بیٹھ رہے اور اولاد پوری جانفشانی سے اس کی خدمت پر مامور رہے اور جب مرے تو اس کے ارد گرد اپنے سبھی پیاروں کا مجمع ہو، وہ اشک بار نظروں سے آخری بار ان کا نظارہ کرے اور یوں مکمل اطمینان کے ساتھ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ یورپ میں ایسا ممکن نہیں تو وہاں اولڈ ہائوس موجود ہیں اور آئیڈیل زندگی گزارنے کا خواب یہ ہے کہ آدمی جب اپنا کام کرنے سے ہار جائے تو اولڈ ہائوس میں زندگی کے باقی دن گزار لے۔ وہاںاپنے ہی عم عمروں کے درمیان اس کی دلچسپیوں کا دائرہ بنتا جائے اور زندگی کے بقیہ لمحات گزرنے کا احساس ہی نہ ہو۔لیکن اس افسانے میں ملنے والا بڈھا سیاح،رینے کلاڈ اس طرح کی مثالی زندگی کو رَد کر چکا ہے۔ اس کے لیے اولڈ ہائوس کی زندگی زندگی ہے ہی نہیں، ایک طرح سے موت کا انتظار ہے جس میں ہر روز کسی ساتھی بوڑھے کی موت کی وجہ سے اپنی موت اور بھی قریب لگتی ہے۔ یہ بوڑھا زندگی محض موت کے انتظار میں نہیں گزارنا چاہتا۔ سو دنیا گھومنے کا اتنا لمبا منصوبہ باندھ کر چل نکلا ہے جتنی اس کی عمر ہو ہی نہیں سکتی۔ اسے ہوس ہے نئی نئی دنیا دیکھنے کی، اجنبی سرزمینوں پر کھلتے پھولوں کی خوشبو کی، نامعلوم ملکوں کے موسموں کے رنگ دیکھنے کی۔ وہ چاہتا ہے کہ باقی کی ساری عمر وہ نئی سے نئی جگہیں دیکھتا رہے اور جس دن موت آئے تو کسی اجنبی سرزمین کا خوبصورت کنوارا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے کھِلا ہوا ہو۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو خود مستنصر حسین تارڑ کے اندر جو ہر نئی زمین کو اپنے قدموں سے دیکھنے کی تڑپ ہے،یہ انہیں رینے کلاڈ کے ساتھ مشابہہ کر دیتی ہے اور احساس ہوتا ہے کہ یہ رینے کلاڈ اصل آدمی نہیں اور مستنصر کا تخلیق کردہ کوئی کردار ہی ہے جو تارڑ انگلیوں کا مَس ملنے سے زندہ ہو گیا ہے۔ خود مستنصر کے سینے میں عمر کے اس حصے میں بھی نئی اور انوکھی سرزمینوں کو دیکھنے کی جو تڑپ ہے، اس سے لگتا ہے کہ یہ کردار ان کا اپنا ہی مثالیہ ہے۔ شاید اس کہانی میں جو اصل سوانحی قسم کے عناصر ہیں، ان کا مقصد بھی اس افسانے میں حقیقت کا رنگ بھرنا ہی ہے۔ یہ کردار اس تصور کی نفی کرتاہے جس کے تحت لوگ زندگی کے آخری دنوں میں سُکھ کے طلبگار ہوتے ہیں اور ان قیمتی دنوں کو بے کار بیٹھ کے برباد کرد یتے ہیں۔ رینے کلاڈ جانتا ہے کہ زندگی کا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے اور یوں بے صرفہ لٹا دینے کے لیے نہیں ہے۔ وہ اس قیمتی زندگی کے ہر لمحے سے فیض یاب ہونا چاہتا ہے۔ جب ایک دن مر جانا ہے اور اس دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑنا تو پھر کیوں ایک جگہ پڑے رہنا کا تردد کیا جائے۔ مٹی میں ہی ملنا ہے ، بے نام و نشان ہی ہونا ہے تو پھر کوئی بھی مٹی ہو، کیا فرق پڑتا ہے۔
دوسرا افسانہ ’’آئو‘‘ ہے۔ رینے کلاڈ کی طرح اس افسانے کا مرکزی کردار بھی ایک عجیب آدمی ہے۔ پچھلے چالیس سال سے اس کا معمول ہے کہ قصائیوں سے چھیچھڑے لیتا ہے اور انہیں اٹھا کر کسی جگہ پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ’’آئو، آئو!‘‘ کی آواز لگاتا ہے تو اس کے ارد گرد انواع و اقسام کے گوشت کھانے والے جانور ، پرندے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ افسانے کے آخر پر پہنچ کر کھلتا ہے کہ اس کے ایک ٹھکانے پر انسان بھی یہ چھیچھڑے کھانے آپہنچتے ہیں۔ اس آخری اسٹروک نے افسانے کو ایک نئی معنویت دے دی ہے ۔ ہمارا پورا معاشرہ ہی چھیچھڑے کھانے والا معاشرہ ہے۔ کسی مردارتک کو نہیں بخش جاتا۔ اب تو اس معاشرے سے گِدھ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ جب ان کے لیے کوئی مردہ بچے گا ہی نہیں تو پھر ان کی بقاء کیسے قائم رہ سکتی ہے۔


’’پندرہ کہانیاں‘‘انہوں نے حال ہی میں لکھی ہیں۔ ان میں شامل پہلی کہانی ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ایک فنکار کی کہانی ہے جس کا فن مٹی کی زرخیزی پرکھنا تھا۔ یہ بتانا تھا کہ کس مٹی میں کیا چیز اگائی جاسکتی ہے اور کس قدر اُگ سکتی ہے۔وہ بیجوں اور جگہ جگہ کی مٹی کا مزاج شناس ہے۔ یہی فنکار جب ایک ویرانے میںایک ایسی پہاڑی کے پاس جا پہنچتاہے جوا پنے اندر تخلیق کے خزانے پوشیدہ ہونے کے باوجود بنجر اور بے آب و گیاہ تھی تو اس کے اندر کا فن کار جاگ اٹھتا ہے۔ وہ اس زمین کی تخلیقی پکار کو نظر انداز نہیں کر پاتااور اس میں بیج بونے لگتا ہے۔ ہر قسم کے پھولوں کے بیج۔ سخت پتھریلی مٹی کھودنے کے لیے اس کے پاس صرف اپنے ہاتھ ہیں اور کوئی اوزار نہیں ۔ اُدھروقت کم ہے اور ذمہ داری بڑی ہے، سو وہ جتنے ممکن ہوسکے، اتنے بیج زمین کو سونپ دیتا ہے۔ باقی بیج ہوا میں اڑا کر بکھیر دیتا ہے۔ جہاں جس کی قسمت، پہنچ جائے۔ اگلے سال اس پہاڑی پر رنگوں کی ایک ہزار رنگ قوس اتری ہوتی ہے۔ پرندے اس میں بسیرا کیے ہوئے تھے اور جانے کتنے لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو گیا تھا۔ یہ کہانی تخلیقی عمل کی کہانی ہے۔ کسی بھی تخلیق کار پر جب کسی نئے خیال کی آمد ہوتی ہے تو وہ پہلی نظر میں راوی کے باپ کی طرح حیران ہو جاتا ہے کہ یہ زمین آج تک ویران کیوں رہی جب کہ اس میں اتنی زرخیزی ہے۔ پھر یہی حیرانی ایک تخلیقی اضطراب میں بدلتی ہے اور وہ بے چینی کے ساتھ اس زمین میں اپنے فکر و فن کے بیج بونے لگتا ہے اور پھر دیکھتے دیکھتے وہاں رنگا رنگ پھول بوٹے اگنے لگتے ہیں۔یہ پھول اس فن پارے کی علامت ہیں جو فنکار اپنے لہو سے سینچتا ہے اور اس کی تاثیر اور معنویت آگے ہی آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس پہاڑی پر اگنے والے پھولوں میں کچھ پھول ایسے ہیں جن سے راوی کا باپ خود بھی واقف نہیں۔ اسے بھی نہیں معلوم کہ یہاں کدھر سے آ گئے۔ یہ پھول ان معنوی پرتوں کو ظاہر کرتے ہیں جو فن پارے میں فن کار کی کسی شعوری کوشش کے بغیر، صرف اس کے فنی شعور کی وسعت کی بنا پر پیدا ہو جاتی ہیں۔


اس کہانی میں رنگ خوشبو اور لمس کا وہ اپنائیت بھرا احساس ہے جو صرف اپنی مٹی سے ہی پھوٹ سکتا ہے۔ خاص طور پر دیسی کھبڑ تمباکو کی مہک اور بان کی ننگی چارپائی کے نیچے سے آتی ٹھنڈی ہوا کے لمس کا احساس کسی ایسے آدمی کے لیے ممکن ہی نہیں جس کا زمین کے ساتھ گہرا ناتا نہ ہو۔ تارڑ صحیح معنی میں زمیں زاد ہیںاور زمیں کے ساتھ جڑے سبھی احساسات کو لفظوں کی زبان دینا جانتے ہیں۔ وہ جب ادبی میلے کے کلیدی خطبے میں یہ کہتے ہیںکہ میرے دریا گنگا جمنا نہیں بلکہ جہلم، راوی اور چناب ہیں تو وہ بجا طور پر کہتے ہیں۔ ان دریائوں کے کناروں پر پھیلی مٹی کی تازہ اور ٹھنڈی خوشبو سے ان کی کہانیاں گندھی ہوتی ہیں۔ ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ کی پوری فضا اتنی مانوس ہے جیسے اپنے ہی گھر کی کوئی کہانی دیکھی جا رہی ہو۔زبان کے اندر زمین کے ساتھ جڑت کا اٹوٹ احساس نظر آتا ہے۔اس کہانی میں ان کی حیثیت ایک مستحکم ادیب کی سی ہے اور وہ ایک ماہر شہ سوار کی طرح بیانیے کے منہ زور گھوڑے کو بڑی استادی کے ساتھ قابو میں رکھ کے چل رہے ہیں۔ بیانیہ ہے کہ قابو میں آنے کو تیار ہی نہیں اور وہ ہیں کہ ایک زیرِ لب مسکراہٹ لیے پورے اطمینان سے اس کی پشت پر سوار ہیں۔ جانتے ہیں کہ منہ زور سہی لیکن ان کی رانوں سے باہر جانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ انہی کی مہارت ہے جو ایک چھوٹے سے واقعے کو اتنی خوبصورت کہانی کا رنگ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔


’’جوہڑ میں ڈوب چکی لڑکی ‘‘ اپنی نوعیت کی منفرد کہانی ہے اور اس کتاب میں آگے اسی طرح کی کہانیاں ملنے کا مژدہ بھی ہے۔ یہ پہلی کہانی کے مرکزی کردار کی طرح دو لوگوں کی انوکھی وارفتگی کی داستان ہے۔ ایک کمہارن ہے جو جوہڑ کے اندر اُگی بوٹی پر سردیوں کے موسم میں کھلنے والے کاسنی پھول پر عاشق ہے۔ وہ سردیوں کی صبح اسے دیکھتے ہی والہانہ انداز میں توڑ کور اپنی کچی کنواری چھاتیوں کے درمیان رکھ کر مسلتی اور اس کے جذبے کی حدت اورکچی چھاتیوں کی گرماہٹ سے کاسنی پھول کا پکا رنگ کھُرتا ہوا ان پر چڑھنے لگتا اور پوری کی پوری چھاتیاں کاسنی رنگ میں رنگی جاتیں۔ یوں کہ اگر وہ اپنے آپ کو بے لباس کر کے اپنے آپ کو کسی قدِ آدم آئینے میں دیکھتی تو اس کی چھاتیاں اس کے بدن کے بقیہ سڈول پن سے یکسر جدا کاسنی رنگ میں رنگی الگ سے ابھری دکھائی دیتیں۔ یہ لڑکی ہر جاڑے میں کاسنی پھول کو چھاتیوں کے ساتھ مسل کر انہیں پھول کی ٹھنڈک سے راحت دیا کرتی تھی۔ اور ایک صبح وہ اپنے اسی محبوب سے گرم جوش ملاپ کی غرض سے بے تابانہ جوہڑ میں قدم رکھتی ہے تو احتیاط کا دامن چھوڑ دیتی ہے۔ وہ پھول تک نہیں پہنچ پاتی اور جوہڑ میں ڈوب جاتی ہے۔ گائوں کے ماہر غوطہ خور اسے ڈھونڈنے کی کافی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کا سراغ نہیں ملتا۔ راوی جس وقت کہانی سنا رہا ہے، تب اسے ڈوبے ہوئے برسوں گزر چکے ہیں۔ یہ راوی اپنی طرز کا منفرد عاشق ہے۔ اس کا عشق جڑی بوٹیوں کے ساتھ ہے، وہ اپنے شوق کے تحت ماہر نباتات بنا ہواہے اور نئی سے نئی جڑی بوٹی کی تلاش میں پہاڑوں پہاڑوں مارا پھرتا ہے۔ اسی کھوج کے دوران اسے خبر ملتی ہے کہ دور نیچے میدانوں میں ایک نوجوان لڑکی کسی کاسنی پھول کی چاہت میںجوہڑ کے اندر ڈوب گئی ہے۔ وہ اس کاسنی پھول کی حقیقت جاننے کے لیے وہاں آتاہے۔ جوہڑ میں پہنچ کر جب وہ اس کی تہہ میں اترتا ہے تو تہہ کے بالکل قریب اس لڑکی کی لاش پڑی ہے لیکن عام حالات کے بر عکس یہ لاش ذرا بھی خراب نہیں ہوئی اور اسی حالت میں پڑی ہے جیسے وہ زندہ تھی۔ اس کے بدن کا ایک ایک خط ایک ایک نقش جیسے زندہ ہے۔ وہ ماہر باٹنی کی تحقیق بھول کر اس لڑکی کے عشق میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ شادی کر لیتا ہے۔ ایک لاش کے ساتھ شادی کرنا حیران کن ہے لیکن مستنصر نے اسے اپنی کہانی کے اندر ممکن بنا دیا ہے۔ یہ شادی شرع کے اصولوں کے مطابق تو ممکن ہی نہیں اس لیے یہاں دل کا معاملہ کارفرما ہے۔اب جوہڑ میں ڈوب چکی یہ لڑکی اس ماہرِنباتات کی بیوی ہے اور پچھلے کئی برسوں سے ہے۔ ماہرِ نباتات نے اس کے ساتھ شادی کیوں کی، اس کی توجیہ وہ یوں بتاتا ہے:
’’عشق کے لیے لازم تو نہیں کہ محبوب زندہ ہو ، وہ فنا کے تاریک کنویں کی تہہ میں مردہ پڑا ہے اور اس کی آنکھیں رو بہ رو ہیں تو یہی لازم ہے… مجھے کم از کم اس کا وجود تو نظر آرہا تھا جب کہ ایسے بھی ہیںجو بے وجود کی محبت میں گرفتار ہو کر جان سے جاتے ہیں۔‘‘ ص:۳۴


کہانی کا برتائو بہت عمدہ ہے اور ایک لطیف شاعرانہ بہائو کے ساتھ ساتھ ، جس سے خوشبو، رنگ اور لمس کی حسیات کو بھرپور تحرک ملتا ہے، چلتی ہے۔یوں لگتا ہے کہ کہانی کار نے پہلا لفظ لکھا اور پھر لفظوں کا دھارا بہتا گیا اور کہانی بنتی گئی۔ کہانی عام واقعہ نگاری کی طرز سے بالکل ہٹ کر ہے اور اسی بہائو میں اس کی جان ہے ورنہ تو محض دو واقعات ہیں، ایک لڑکی کا ڈوب جانا اور دوسرا ماہرِ نباتات کا اس پر عاشق ہونا۔ کہانی حقیقت سے اٹھ کر ماورائیت کی فضا میں داخل ہو جاتی ہے اور اس کی کوئی سائنسی توجیہ پیش کرنے کی کوشش نہیںکی گئی اس لیے یہ طلسمی حقیقت نگاری کے اصولوں پر پورا اترتی ہے۔خاص طور پر اس کے اختتامیہ جملے کہ ’اب بھی کہرے کی راتوں کے آغاز پر جو کہ کاسنی پھول کھلنے کا موسم ہے، اس گیلی چھینٹ سے جھلکتی اس کی چھاتیاں کاسنی رنگ کی ہو جاتی ہیں۔‘ طلسمی حقیقت نگاری کا ایک عمدہ ٹچ ہے۔ اس کہانی پر مارکیز کے افسانے ’’دنیا کا خوبصورت ترین ڈوبا ہوا آدمی‘‘ کا سایہ نظر آتا ہے لیکن یہ کہانی اپنے برتائو کی بنا پر مارکیز کی کہانی سے بہت آگے جاکھڑی ہوتی ہے۔


یہی طلسمی حقیقت نگاری اس سے اگلے افسانے میں پوری مہارت کے ساتھ ملتی ہے۔ طلسمی حقیقت نگاری میں وہ فن پارہ زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے جو پوری طرح حقیقت کی رو میں چلتے چلتے ایک ہلکے سے ٹچ کی وجہ سے حقیقت کی دنیا سے ماورائیت کی دنیا میں چلا جائے ۔ مستنصر کا ’’مکوڑے ، دھک مکوڑے ‘‘ ایسا ہی افسانہ ہے جو حقیقت کی دنیا میں رہتے ہوئے فن کار کی انگلیوں کے آخری لمس سے جادوئی روپ دھار لیتا ہے۔ اتنی خوبصورتی سے اس تکنیک کا استعمال صرف وہی فنکار کر سکتا ہے جسے اس تکنیک پر پورا عبور بھی ہو اور اپنی فنی ذات پر اعتبار بھی ہوورنہ لوگ اس سر حد کے عین قریب پہنچ کر بھی اس طرح کا ٹچ دیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ یہ ایک سیدھی سادی کہانی ہے جو پوٹھوہار ، گجرات اورمنڈی بہائو الدین کے ہر گائوں کی کہانی بن سکتی ہے۔گائوں میں بالکل اکیلی رہنے والی بوڑھی ضعیف ماں جس کی زندگی میں ہر طرف تاریکی اور خاموشی ہے۔ تحرک اور آواز کا صرف ایک احساس ہے جو مکوڑوں کی موجودگی سے اٹھتا ہے۔ یہ مکوڑے اس کے جیون میں زندہ ہونے کا احساس بھرتے ہیں ورنہ وہ بوڑھی کسی صورت بھی زندہ نہیں کہلائی جاسکتی۔ اس کی بوڑھی مرتی ہوئی حسیات کو اپنے بیٹے کے لوٹ آنے کی آس ہے اور وہ اسے اپنے قریب محسوس کرنے کی امید پہ جی رہی ہے۔ ادھر اُس کا بیٹا ڈالر کے دیس میں گم ہو گیا ہے اور امریکہ کی چکا چونداور بیوی کی مجبوری کی بنا پر وہیں بندھ گیاہے۔ وطن واپسی کا امکان تو ہے لیکن وہ واپس آنا ہی نہیں چاہتا۔ وہ جس خوشحالی کے خواب کے پیچھے امریکہ گیا تھا، وہ تو اسے مل گیا تھا لیکن یہ خوشحالی اس کے لیے آسودگی نہ لا سکی تھی۔ اس کی ڈھلتی عمر کی بیوی کی وجہ سے ، جسے وہ چھوڑ بھی نہیں سکتا، اس کی زندگی میں کوئی کشش نہیں ہے۔ وطن واپس نہیںجانا اور پردیس میں دِل نہیں لگ رہا۔ کہانی یہاں اختتام کی طرف بڑھتی ہے۔ بوڑھی ماں کا انتقال ہو جاتا ہے اور اسے گائوں والے مل کر دفنا دیتے ہیں۔ اس کے دفن ہونے پر اس کے گھرمیں پلنے والے سبھی مکوڑے اس کی قبر میں بِل بنا کر گھُس جاتے ہیں۔ دوسری طرف اس کا بیٹا امریکہ میں اپنے بیڈروم میںسونے کی کوشش میں ہے جب اسے کچھ عجیب و غریب حرکت محسوس ہوئی۔ اس نے اٹھ کر بیڈروم کی بتی جلائی۔ اس کے بدن پر وہی مکوڑے امڈے چلے آرہے تھے جو ادھر اس کی ماں کی کچی ڈھیری میں داخل ہوئے تھے۔ سات سمندر پار جہاں اس کی ماں نہ پہنچ سکی تھی، وہاں یہ مکوڑے ایک رات میں پہنچ گئے تھے۔یوں یہ بظاہر سیدھی سی کہانی اپنے انجام پر پہنچ کر اتنی پرکار ہو جاتی ہے کہ قاری متحیر ہو اٹھتا ہے۔


اس کہانی میں ان والدین کا خاموش اور سوگوار دُکھ ملتاہے جن کے بیٹے سونا لینے کے لیے پردیس جاتے ہیں اور سونا تو آتا نہیںالبتہ گھر سوُنا ہوجاتا ہے۔آنگن میں تنہائی اور بڑھاپے کے اندھیرے قابض ہو جاتے ہیں اور اولاد جو اس آنگن میں روشنی بکھیر سکتی ہے، وہ دور دیس کے اجالوں کی چکا چوند میں مست رہتی ہے۔ والدین کو جیتے جی ایک دفعہ دیکھ لینے کی آس ہے لیکن انہوں نے والدین کے مرنے پر بھی نہیں آنا ہوتا۔ ہمارے گائوں دیہاتوں میں یہ عام مثالیں موجود ہیں کہ ایک بار پردیس جانے کے بعد اولاد نے ماں باپ کی زندہ صورت نہیں دیکھی۔کسی نے آ کے مرا منہ دیکھ لیا اور کسی نے مہینوں بعدڈھیری کی سوکھی ہوئی مٹی کو پانی لگا کر اپنی محبت کو تازہ کرنے کا دکھاوا کیا۔ کہانی میں مکوڑوں کی شکل میں اس تمام کرب کو حسیاتی پیکر مِل گیا ہے جو بوڑھے والدین اولاد کی جدائی کی صورت میں سہتے ہیں۔ یہ مکوڑے محض مکوڑے نہیں ہیں بلکہ ایک سطح پر یہ ماں کے وجود میں پلتی امیدوں کی علامت ہیں ، ان جذبوں کو ظاہرکرتے ہیں جو ماں کے بوسیدہ وجود میں ابھی تک متحرک ہیں اور اس محبت کا استعارہ ہیں جو ماں کے اندر دھرتی کی دوسری خوشبوئوں کی طرح زندہ ہے ۔ یہ مکوڑے جب بیٹے کے پاس پہنچے ہیں تو محض مکوڑے نہیں پہنچے بلکہ ماں کے یہ تمام جذبے، تمام امیدیں اور اس کی محبت مجسم ہو کر بیٹے کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ اسے یہ احساس دلانے کہ کسی نے ان مکوڑوں کے ساتھ زندگی گزار کے تمہاری واپسی کی امیدیں زندہ رکھی ہیں۔


کہانی کا آخری ٹچ طلسمی حقیقت نگاری کی تکنیک ہے۔ یہاں مستنصر نے کوئی علامتی انداز نہیں اپنایا اور نہ ہی مکوڑوں کو استعاراتی پیکر بنایا ہے۔اُس صورت میں تو بہت آسان تھا۔یہاں جو مکوڑے آخر پر نظر آئے ہیں، وہ حقیقی مکوڑے ہیں۔ وہی مکوڑے جو اب تک اس کی ماں کے گھر میں ہرطرف قابض تھے ۔ وہی مکوڑے اب اپنے ٹھوس مادی وجود کے ساتھ بیٹے کے بیڈروم میں چڑھتے چلے آرہے ہیں۔ کوئی ابہام نہیںاور کسی قسم کا شائبہ نہیں۔ ان حقیقی مکوڑوںکا اس طرح امریکہ چلے آنا حقیقت کی دنیا میں ایک مافوق فطری عمل ہے۔ یہ عمل کہانی کو طلسمی حقیقت نگار ٹچ دے دیتا ہے اور قاری جو ایک سیدھی سادی کہانی پڑھتا جارہا ہے، اس غیر متوقع صورت حال پر متحیر ہو کے رہ جاتا ہے۔
اس سے اگلی کہانی ’’ایک سنو ٹائیگر کی سرگزشت ‘‘ بھی اپنے اندر جادوئی انداز رکھتی ہے۔ اس کہانی میں مافوق فطری پہلو یوں اچانک سامنے نہیں آتا بلکہ پوری کہانی کے اندر گندھا ہوا ہے۔ یوں کہ اگر اس ایک عنصر کو اس کہانی میں سے نکال دیا جائے تو پوری کہانی اپنی بنیادوں سے اکھڑ جائے۔ کہنے کو یہ محبت کی ایک کہانی ہے لیکن یہ محبت عام محبت نہیں ہے اور نہ ہی جس سچویشن میں محبت ہوئی، وہ سچویشن عام ہے۔ ایک سنو ٹائیگر جو سرد طوفانی اور برفانی موسم میں برفیلے پہاڑوں پر رزق کی تلاش میں ہے، بھوک سے بائولا ہو کر پہاڑوں سے نیچے اتر آیا ہے۔اسے معلوم ہے کہ اس کی جان کو ہزار خطرات لاحق ہیں ، کہیں کوئی شکنجہ اس کے پائوں کو جکڑنے کے لیے دفن ہو سکتا ہے یا کہیں کسی بندوق کی نالی کے اندر مچلتی گولی اس کے بدن میں موت انڈیلنے کی منتظر ہو سکتی ہے ۔ پھر بھی وہ بھوک سے بے تاب بلندیوں سے اتر آیا ہے اور ایک جھونپڑے میں جا پہنچا ہے۔ جھونپڑے میں ایک جوان لڑکی اکیلی ہے۔ سنو ٹائیگر تو شکار کی غرض سے وہاں آیا ہے اور بھوک سے اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا بھی چھا رہا ہے لیکن اس کے باوجوداس لڑکی کی آنکھوں کوشوق سے دیکھتا ہے اور اس کے عشق کی آگ میں سلگنے لگتا ہے۔ عشق کی اس آگ کے سامنے اُس کی بھوک کہیں غائب ہو جاتی ہے۔ وہ اسے اپنے سامنے بیٹھا دیکھتا رہتا ہے۔ جانے کتنے دن بیت گئے، یہ کوئی نہیں جانتا۔ اور پھر ایک رات وہ لڑکی اسے اپنی محبت کی آغوش میں لے لیتی ہے اور اس کا ٹھٹھرتا وجود لڑکی کے بھڑکتے ہوئے جسم کے لمس سے پگھلنے لگتا :


’’یہی وہ لمحہ تھا جب ہم دونوں بیاہے گئے۔ ایسے باہم مدغم اور ایک بدن ہوئے کہ نہ تو میں ایک سنو ٹائیگررہا اور نہ ہی وہ ایک دودھیا بدن والی لڑکی رہی… میری سفید کھال پر جو سیاہ دھبّے تھے، وہ دودھیا ہونے لگے اور اس کے برہنہ بدن پریوں منتقل ہوئے کہ وہ ایک سنو ٹائیگر دکھائی دینے لگی… من تو شُدم، تو من شدی۔‘‘(۶۵)
یہ منظر بھی ’’جوہڑ میں ڈوب چکی لڑکی‘‘ کی طرح کا ہے۔ یہاں بھی جو شادی ہوئی ہے ، وہ حقیقت کی دنیا میں ناممکن ہے۔ یہی مافوق فطری انداز اس افسانے کی انفرادیت ہے۔ مستنصر نے ایک استاد کہانی کار کی طرح کسی قسم کی جھجک یا وضاحت کے بغیر اس واقعے کو بیان کر دیا اور کہانی اسی انفرادیت پر قائم اس کتاب میں شامل کہانیوں میں ایک نمایاں مقام رکھنے کے ساتھ اردو میں لکھی گئی محبت کی کہانیوں میں ایک یادگار کہانی ہے۔


کہانی کا ایک اور حسن اس کا بیانیہ ہے۔ کہانی سیدھے زاویے سے نہیں چلتی۔ کہانی کا پہلا رُخ بیان کرنے والا راوی اس سنو ٹائیگر کی کھال ہے جو اس کہانی کا مرکزی کردار ہے اور مرنے کے بعد اس کی بے داغ کھال لاہور کے ایک پوش علاقے کے گھر کے فرش پر سجی پڑی ہے۔ پہلے حصے میں وہ پوری کہانی کو اپنے زاویے سے سنا دیتا ہے۔ یہ زاویہ ختم ہوتا ہے اس کی یخ ہڈیوں میں محبت کی میٹھی موت اترنے تک ۔ اگر کہانی یہاں تک رہتی تویہ ایک سادہ سی کلاسیکی انداز کی کہانی ہوتی جس کو راوی کے غیر معتبر ہونے کی وجہ سے قاری حقیقت کے طور پرنہ لیتا اور وہ اسے فینٹیسی ہی سمجھتا۔ لیکن دوسرے حصے میں جو راوی ہے، وہ اسی سنو ٹائیگر کی محبوبہ شمین بی بی کا بھائی ہے ۔ جو سنو ٹائیگر کا شکار کرنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے۔ انسان ہونے کے ناتے اس کی روایت معتبر ہے ۔ اس زاویے سے کہانی سنو ٹائیگر کی موت کے بعد کی سنائی گئی۔ اس حصے کے کہانی میں شامل ہونے کی وجہ سے قاری کو اس واقعے کے حقیقی ہونے کا یقین آتا ہے۔


’’ایک سنو ٹائیگر کی سرگزشت‘‘میں برفانی علاقوں کا منجمد لینڈ اسکیپ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ مستنصر کے اس علاقے اسفار اور ان کے باریک ترین مشاہدے کی بدولت جس بیانیے نے جنم لیا ہے،وہ تمام کہانی کے پس منظر میں ایک زندہ اور متحرک لینڈ اسکیپ کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ سنو ٹائیگر کی فطرت کے ساتھ گہری شناسائی نے قلم کار کو اس قابل بنایا ہے کہ بیانیہ حقیقی طور پر کسی سنو ٹائیگر کا سنایا ہوا ہی لگتا ہے۔ فکشن میں کسی بھی فنکار کے لیے یہ ایک معجزاتی مقام ہوتا ہے کہ جہاں اس فنکار کا اپنا اسلوب اور اپنی ذات کی جھلک نظر نہ آئے اور راوی ، جو بھی اپنایا گیا ہو، اس کا انداز ہی اس بیانیے پر طاری ہو جائے۔


’’ان کی مائیں بھی روتی ہیں‘‘ایک ایسی کہانی ہے جوجانے کتنی مدت سے تارڑ کے پاس پک رہی تھی۔ عرفان جاوید نے اُن کے خاکے ’’کاہن‘‘ میں بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک طویل مدت تک ان کے فنی لاشعور کی آگ میں کندن بننے کے بعد یہ کہانی افسانے کے روپ میں سامنے آئی ہے۔ یہ کہانی ماں کے عالمگیر جذبے کو بیان کرتی ہے۔ عام طور پر مشہور ہے کہ یورپ کی مائیں اپنی اولاد سے پیار نہیں کرتیں تو یہ اسی غلط فہمی کو دور کرتی ہے۔ ایک ماں جس کی بیٹی اپنے وطن سے ہزاروں میل دور ترچ کے پہاڑوں میںد فن کر دی گئی تھی، سات برس تک اپنے وطن میں تڑپتی رہی۔ وہ ایک عام سی عورت تھی اور اس کے پاس معاشی وسائل بھی نہ تھے لیکن اس نے اپنی بیٹی کو واپس لانے کی ٹھان لی۔ سب سے پہلے شوہر کو چھوڑا جو اس کی بیٹی کو اتنی دور دفن کر آیا تھا اور پھر سخت ترین جسمانی مشقت کر کے پیسے جمع کرتی رہی کہ اپنی بیٹی کو واپس لا سکے۔ جیسے ہی اس کے پاس وسائل پورے ہوئے، وہ پاکستان پہنچ گئی۔ اس ماں کے جذبات کسی بھی مثالی مشرقی ماں کی سی گہرائی رکھتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ ماں کسی بھی خطے سے تعلق رکھتی ہو، ماں ہی ہوتی ہے۔


’’زرد پیراہن کا بَن‘‘ محبت کی ایک اور انوکھی کہانی ہے۔ ’’جوہڑ میں ڈوب چکی لڑکی ‘‘ اور ’’ایک سنو ٹائیگر کی سرگزشت‘‘ سے اس معانی میں مختلف کہ اس میں محبت ایک اَن دیکھے وجود سے ہے ۔ یہ اَن دیکھا وجود کوئی برتر وجود یا وجودِ حقیقی نہیں بلکہ ایک زندہ اور جنسی جذبات کی گرمی سے مہکتا ہوا بدن رکھتا ہے۔ راوی نے ایک دفعہ اس بدن سے اترے ہوئے پیراہن کی بو سونگھی تھی۔ اس کے پسینے کی بُو نے راوی کو اس سلگتے ہوئے وجود سے شناسا کر دیا اور حدت اس کے اپنے بدن کو جلاتی پسینے کی شکل میں پھوٹنے لگی۔ یہی بُو عمر بھر اس کے حواس پر چھائی رہی اور وہ ہر لمحہ اس کے ساتھ رہتی تھی۔ کسی اور عورت کے ساتھ بھرپور جسمانی تعلق بنانا اس کے لیے ممکن نہ ہو پاتا تھا ۔ محبت کی یہ کیفیت انوکھی ہے اور کسی حد تک اُن صوفی منش لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے جو اَن دیکھے کی چاہت میں دیوانے ہوئے پھرتے ہیں۔


اس مجموعے کی آخری دو کہانیاں پورے مجموعے کے وقار میں اضافہ کرتی ہیں۔ یہاں کہانی کار منہ زور بیانے پر پوری طرح ماہرانہ گرفت رکھتا ہے اور ایک قدم بھی اپنی مرضی کے بغیر نہیں اٹھانے دیتا۔ ’’یہ کہانی کون لکھ رہا ہے‘‘ کے متعلق تو مستنصر نے دیباچے میں بھی وضاحت کی ہے کہ یہی کہانی اس پورے مجموعے کی ’’شانِ نزول ‘‘ ہے۔ کہیں بہت پہلے لکھی یہ کہانی ان کے ریکارڈ سے گم ہو چکی تھی۔ کہیں ملنے کا امکان بھی نہ رہا تھا۔ انہوں نے اس کے طاقتور مرکزی خیال کو رائگانی سے بچانے کے لیے یہ کہانی لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد کہانیوں پر کہانیاں آتی گئیں اور وہ لکھتے چلے گئے۔ مذکورہ کہانی کا مرکزی خیال بہت خوبصورت ہے اور اپنے اندر طلسماتی کیفیت رکھتا ہے۔ ایک ادا کار ہے جو اپنی اداکاری میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے چھوٹی موٹی ترکیبیں اپناتا رہتا ہے ۔ایک دفعہ جیل میں شوٹنگ کے دوران اسے خیال آیا کہ کیوں نہ پھانسی کے مجرموں کی کال کوٹھڑی میں رہ کر دیکھا جائے۔ وہ جیل وارڈن سے اجازت لے کے تھوڑی دیر کے لیے اس کوٹھڑی میں جا لیٹتا ہے۔ جب اس کی آنکھ کھلتی ہے تو حقیقت بالکل بدل چکی ہے۔ جیل کا تمام عملہ اسے پھانسی دینے کے لیے مستعد کھڑا ہے اور اس کے ہزار منع کرنے کے باوجود اسے ایک سزا یافتہ مجرم کی طرح پھانسی گھاٹ کے تختے پر لے جا کر پھانسی دے دیتا ہے۔ یوں حقیقت کی دنیا میں چلنے والی ایک سیدھی سادی کہانی تحیر خیز طلسماتی انداز میںجا ختم ہوئی ہے۔ پرانی داستانوں میں ایسے کرداروں کا شائبہ ملتاہے لیکن وہ داستانیں ہوتی ہیں جب کہ اس کہانی کی تمام ٹھوس تفصیلات اسے عین مین حقیقت کا عکس ثابت کرتی ہیں۔ پی ٹی وی کے سازشی ماحول اور کوٹ لکھپت جیل کی تمام باریک جزئیات اس کہانی کو ٹھوس حقیقی پس منظر دیتے ہیں اور کہانی کا انجام غیر فطری ہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔ قاری دم بخود آخری لفظ تک حقیقت سمجھتا پڑھتا چلا جاتا ہے اور یہی طلسمی حقیقت نگاری کی معراج ہے۔


’’دھند کے پیچھے شہر تھا‘‘ اس مجموعے کی آخری کہانی ہے۔ یہ ایک فینٹیسی ہے اور دیگر چودہ کہانیوں سے بالکل الگ مزاج کا حامل افسانہ ہے۔ اس افسانے میں سفرنامہ نگاری، ڈراما نگاری اور ناول نگاری تینوں اصناف کے تجربات کو استعمال میں لایا گیا ہے جس سے افسانہ کیفیات کی ایک قوسِ قزح بن گیا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی خیال ان کے ذہن میںچالیس سال پہلے جنم لے چکا تھا اور اسے قرطاس پر انہوں نے اب اتارا ہے۔ موہنجوڈارو جو ہزاروں سال پہلے زمین میں دفن ہو گیا تھا، اسی طرز کا شہر ، ہو بہو اسی نقشے پر اور اپنے باسیوں سمیت عین مین وہی شہر رتی گلی کے پار برفیلی بلندیوں میں نظر آتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار اویس لاہوری اس شہر تک جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اُسی موہنجو ڈارو کا حقیقی عکس ہے ۔ میدانوں میں اونچی ناک والوں سے ستائے موہنجوڈارو کے باسی اوپر کی سمت چلتے گئے اور ویسا ہی شہر بسا لیا جو سندھو کنارے موجود تھا۔یہاں اویس لاہوری کو سندھیا ملتی ہے ۔ ڈانسنگ گرل آف موہنجو ڈارو۔ وہ اُس کے بدن کی بارش سے اپنی پیاسی کھیتی کو سیراب کرتی ہے اور اس شہر میں اس کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔
یہ افسانہ حقیقت کی سرزمین سے دور طلسمات کی ایک فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔ طلسمات کی اسی فضا کو قائم کرنے میں دھند کا بھی اپنا ایک کردار ہے جو بڑھتی جاتی ہے۔ برف میں حنوط شدہ تتلیاں ، برف میں بسا شہر اور شہر بھی وہ جو چار ہزار سال پرانی تہذیب کا زندہ تسلسل ہو، شہر کے باسی بھی عین مین وہی ، سبھی طلسمات کا عمل نظر آتا ہے۔ سندھیا کے بدن پر تتلیاں اور خواب گھر میں پڑے خواب بھی اسی جادوگری کی کرشماتی حیثیت میں مزید ابعاد پیدا کرتے ہیں۔افسانے میںفینٹیسی کی اسی فضا کو قائم کرنا بڑ اکمال تھا جو مستنصر نے نبھادکھایا۔ اس افسانے میں ایک دوسری بُعد بھی رکھی گئی جو اس افسانے کا ناگزیر حصہ نہیں لگتی اور واضح محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے موہنجو ڈارو کی مراجعت کی اس کہانی کو زیادہ معنویت عطا کرنے اور اپنے ملک کے قاری کے لیے ایک نیا بعد پیدا کرنے کے لیے حب الوطنی کے موضوع کو بھی لا کے رکھ دیا۔ اویس لاہوری جو اپنے ملک کے اندر تنگ نظری ، تعصب اور خودغرضی کے بڑھتے ہوئے عفریتوں سے ہار کر رتی گلی میں خود کشی کرنے گیا تھا، موہنجوڈارو کی اس بستی میں خواب گھر کے اندر اپنے خواب کو اس نزع کے عالم میں دیکھتا ہے۔ خواب پاکستان کی سرسبز زمین کا، اس کی خوشحالی کا اور ترقی کا ہرا، ہریالی سے بھرا خواب۔ اس خواب کی سانسیں اکھڑرہی ہیں اور اویس لاہوری اس میں اپنے جذبے سے نئی زندگی پھونک دیتا ہے۔ حب الوطنی کے اس عنصر کے متعلق یہی احساس ہوتا ہے کہ کہانی میں شعوری طور پر اضافہ کیا گیا ہے تاکہ اگر موہنجو ڈارو والے عنصر کی وجہ سے کہانی میں دلچسپی پیدا نہ ہو سکے تو حب الوطنی کی بنا پر عوام کی پسندِ خاطر ٹھہرے۔ اگر مستنصر یہ نہ بھی کرتے تب بھی یہ افسانہ اپنے مرکزی خیال کی بنا پر اچھا افسانہ ہی رہتا۔ابھی تو ایسے لگتا ہے جیسے افسانے کے نتھرے ہوئے پانی میں کسی طرف سے میلا پانی شامل ہو کر اس کا رنگ بدل رہا ہے۔ گو کہ اس میں حب الوطنی کے جذبات کو ایک درد مند ادیب کی خالص انسان دوست اور محبِ وطن حسیت کے تحت بیان کیا گیا ہے لیکن پھر بھی یہ عنصر کہانی کو دو لخت ضرور کرتا ہے۔
’’سیاہ آنکھ میں تصویر ‘‘کے کئی افسانے جبر اور دبائو کے عکاس ہیں۔ ان میں درپردہ ایک لہر چلتی دکھائی دیتی ہے جس میں جبر کے اس عہد کی غاصبانہ قوت اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ ان افسانوں میں علامت کا استعمال دکھائی دیتا ہے جو اس زمانے کا عام رواج بھی تھا اور وقت کا خاص تقاضا بھی۔ تارڑ صاحب بھی اس تقاضے کو نباہتے ہیں اور علامتی انداز میں ضیائی دور کی تاریکی پینٹ کرتے چلے جاتے ہیں۔ ’’۱۵کہانیاں ‘‘ میں نسبتاً فضا بہت کشادہ ہے۔ علامت کی بجائے واضح اظہار نظر آتا ہے اور ایک پر سکون احساس چھایا ہوا ہے ۔ یہ کہانیاں صاف اعلان ہیں کہ اب اردو فکشن کے اوپر ایسا کوئی جبر مسلط نہیں جو اظہار پر پابندی لگاتا ہو اور جس کے نتیجے میں علامت اور استعارے کا سہارا لیا جائے۔ ان کہانیوں کی وسیع اور خوشگوار فضا کے ذریعے آنے والے ادیبوں کو گزشتہ نسل کا نمایاں ترین نمائندہ یہ پیغام دے رہا ہے کہ اب دب کر اور گھٹ کر لکھنے کا وقت گزر گیا ہے اور کہانی کی تکنیک کسی خارجی دبائو کی بجائے اپنے اندرونی تقاضوں سے متعین ہو گی اور اس کے موضوعات چنتے وقت بھی ادیب کو خوفزدہ نظروں سے دائیں بائیں نہیں دیکھنا پڑے گا۔


سیاہ آنکھ میں تصویر کے افسانوں میں سے اکثر پر دور دراز کی زمینوں کی خوشبو ملتی ہے۔ مستنصر حسین تارڑ ان زمانوں میںدنیا بھر کی خاک چھاننے والے آوارہ گرد تھے۔ جانے کِن کِن زمینوں کی خاک چھانی۔کہیں صحرا، کہیں دریا اور کہیں کوہ و دمن کے حسن سے نظارے کو بے تاب آنکھوں کو سیر کیا۔ظاہر ہے کہ اس زمانے میں لکھے گئے افسانوں میں اگر ایسی ہی کچھ اجنبی فضائیں پس منظر کے طور پر استعمال ہوتی ہیں تو یہ تعجب کی بات نہیں۔دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ’’پندرہ کہانیاں ‘‘لکھنے سے قبل کتنے زمانوں سے مستنصر اپنے وطن کے حسن سے اپنی حسِ نظارہ کی تسکین کر رہے ہیں۔ ’’کے ٹوکہانی‘‘، ’’یاک سرائے‘‘، ’’ہنزہ داستان‘‘، ’’شمشال بے مثال‘‘، ’’سنو لیک‘‘، ’’کالاش‘‘، ’’نانگا پربت‘‘، ’’سفر شمال کے‘‘، ’’ہنزہ داستان‘‘ اور’’دیو سائی‘‘ سبھی ان کی اپنے وطن کی مٹی سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔انہی علاقوں کے حسن سے آباد تخیل جب ان کی انگلی تھامے کہانیاں لکھواتا ہے تو شمالی علاقہ جات کا حسن بھی ان میں رنگ بکھیرتا چلا جاتاہے۔ خاص طور پر’’پھولوں والی پہاڑی‘‘، ’’ان کی مائیںبھی روتی ہیں‘‘ ، ’’ایک سنو ٹائیگر کی سرگزشت‘‘اور ’’دھند کے پیچھے ایک شہر تھا‘‘جیسی کہانیوں میںاپنے وطن کی مٹی کے انوکھے اور دلفریب رنگ نظر کو رنگوں سے بھرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ کہانیاں نہیں لگتیں، اپنے وطن کے خوبصورت علاقوں سے اکٹھی کی ہوئی خوبصورت مناظر کی بولتی تصویریں ہیں۔ انہیں پڑھ کر کوئی جان سکتا ہے کہ مستنصر کے دل میں ان وادیوں اور پہاڑوں کی محبت کتنی توانا ہے اور انہیں پڑھ کر کوئی محسوس کر سکتا ہے کہ اس کے دل میں ان جگہوں کے نظارے کی حسرت کتنی چمک گئی ہے۔


دونوں کتابوں کواکٹھے دیکھا جائے تو واضح فرق محسوس ہوتا ہے ۔’’سیاہ آنکھ میں تصویر‘‘ کی نثر ایک جواں سال ادیب کی ہے جو فکشن میں نیا نیا قدم رکھ رہا ہے۔ افسانے میں نئی سے نئی تکنیک کی تلاش ہے، بیانیے میں بے تابی ہے، کہانی کی بجائے کردار پر توجہ مرکوز ہے اور بعض کہانیوں میں تو کردار پر ہی کہانی کھڑی ہے۔ لیکن’’پندرہ کہانیاں‘‘ میں ایک منجھے ہوئے مشاق کی قلم کار کا اعتماد نظر آتا ہے جو فکشن کی دنیا میں اپنا آپ منوا چکا ہے۔ نئی تکنیک کی تلاش کا جذبہ مدھم پڑ چکا ہے۔ بے تابی کی جگہ ٹھہرائو نے لے لی ہے اور کسی بھی خاص چیز پر توجہ مرکوز ہونے کی بجائے کہانی اپنے جلو میں پورے ماحول کو سمیٹ کر چلتی ہے۔ اب کہانی محض ایک کردار واقعہ یا علامت پر قائم نہیں بلکہ ہر اس چیز پر ہے جو کہانی کے لیے ضروری عنصر کہلایا جا سکتا ہے۔ کردار ، مکالمے، واقعہ نگاری، منظر نگاری اور سب سے بڑھ کر زندہ جیتا جاگتا ماحول۔ اس وقفے میں جو چیز ان کے فن پر اثر انداز ہوئی وہ دنیا بھر کی سیاحت ، عالمی ادب کا زرخیز مطالعہ، وسیع تر انسانی تعلقات اور اپنی زبان میں لکھنے کی چار دہائیوں سے مسلسل ریاضت شامل ہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ تینتیس سال بعد مستنصر حسین تارڑ سفرنامے اور ناول کے دشوار گزار کوہساروں پر کوہ پیمائی کے بعد جب افسانے کی طرف لوٹے ہیں تو ایک تازہ اور جاندار انداز لے کر آئے ہیں جس میں فضا کشادہ اور ماحول زندہ نظر آتا ہے۔


مستنصر کے ناولوںمیں تو طلسمی حقیقت نگاری کے عناصر اکثر پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں لکھے گئے ناولوں ’’خس و خاشاک زمانے ‘‘ میں سانپوں کی لہلہاتی فصل اور ’’اے غزالِ شب ‘‘ میں بوریوالہ کی دھوپ میں تپتی اور پھوٹتی آک کی مائی بوڑھیاں ماسکو کی برفیلی سڑکوں پر نظر آتی ہیں تو حقیقت افسانے کی سرحدوں کے ساتھ کہیں جا ملتی ہے لیکن اس کتاب کے کئی افسانوں میں بھی مستنصر نے اسی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ وہ فلوریڈا کی ریاست میں پہنچنے والے مکوڑے ہوں یا جوہڑمیں ڈوبی لڑکی کا کاسنی سراپا، اپنی محبت کی ٹھنڈی آگ میں یخ ہوتا برفانی ٹائیگر ہو یا کسی انہونی کے ہاتھوں سزائے موت پانے والا اداکار ہو سبھی کی کہانی اسی تکنیک میں گُندھی ہوئی ہے۔


عام طور پر جب بیانیہ شروع ہوتا ہے تو رفتہ رفتہ کہانی کی ایک ایک پرت کھولتا ہے۔ واقعہ در واقعہ، منظر در منظر اور کردار در کردار بیانیہ آگے بڑھتا ہے اور ردّے پر ردّا رکھتے ہوئے کہانی کی تعمیر ہوتی چلی جاتی ہے لیکن ’’پندرہ کہانیاں‘‘ میں مستنصر کا انداز الگ ہے۔ ان کے ہاں بیانیہ یوں قدم قدم نہیں چلتا بلکہ دریا کی طرح پھیل کر اور پورے زور کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اوریہ دھاوا سیلابی پانی کی طرح بپھرا ہوا بھی نہیں ہوتا بلکہ پورے تحمل کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔رفتار اور توانائی اتنی ہوتی ہے کہ سبھی کرداروں، پورے ماحول اور تمام واقعات کو اپنے جلو میں سمیٹے غیر محسوس انداز میں چلتا ہے۔ ایک چھوٹی سی کہانی کے بیا نیے میں پورا جہان سمٹا ہوا ملتا ہے لیکن تحمل اور وقار اسی دریا جیسا جو کناروں تک بھرا ہوا بھی ایک یکساں رفتار سے بہتا چلا جاتا ہے۔کہانی شروع ہوتی ہے اور کہانی ختم ہوتی ہے، اس کے درمیان کوئی اور چیز واقع نہیں ہوتی۔ خواہ پچاس صفحات کی کہانی ہے یا پانچ صفحوں کی۔ بیانیہ سست نہیں پڑتا۔ مستنصر کو یہ مہارت پہلے بھی حاصل ہے اور ’’خس و خاشاک زمانے‘‘، ’’اے غزالِ شب ‘‘ اور خاص طور پر ’’بہائو‘‘ اور ’’راکھ‘‘ میں انہوں نے اسی مہارت سے کام لیا ہے لیکن زیرِ نظر کہانیوں میں یہ مہارت پورے جوبن پر ہے۔ کہیں بھی بیانیے کی رفتار کم نہیں ہوتی، کسی جگہ بھی افراتفری یا بے تابی نظر نہیں آتی اور کوئی بھی کہانی عجلت کا نشانہ نہیں بنی۔


اس کتاب کے تمام صفحات میں تازہ گندلوں کی ہری، کچی اور رسیلی مہک امڈتی ہے، چھتے سے اترے خوشبودار شہد کا میٹھا اور انوکھا نشہ ہے اورنسری ہوئی کنواری دھان کی پھیلتی خوشبو ہے ۔حیرت ہوتی ہے جب دوسری طرف اردو کے جواں سال افسانہ نگاروں کو دیکھا جائے کہ جو عین نوخیزی کی عمر میں کہنہ سال اور زنگ خوردہ اسلوب کو استعاروں سے رگڑ رگڑ کر چمکاتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود پورے افسانے میں یرقانیت چھائی رہتی ہے۔ ان یبوست زدہ تحریروں کے مقابلے میں 76سالہ مستنصر کی یہ کہانیاں ہیں جو اپنی موضوعاتی تازہ کاری کے حوالے سے تو ہیں ہی لاجواب ، اسلوب کی ندرت اور اچھوتی کنواری زبان کے معاملے میں بھی یکتاہیں۔ یہ کہانیاں اردو ادب والوں کے لیے پھولوں سے مہکتا ہوا گلدستہ ہیں ۔ ان پھولوں کی مہک بتاتی ہے کہ اردو میں کہانی کہنے کا کون سا انداز جاوداں رہ سکتا ہے اور کس طرح سے کہانی لکھنے کے امکانات ہمیشہ رہیں گے۔ یہ کہانیاں اپنے اسلوب کے حوالے سے بھی نئے ادیبوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سہل پسند نقادمستنصر حسین تارڑ پر بسیار نویسی کی پھبتی کَس کے اپنی ذمہ داری سے عالمانہ تکبر کے ساتھ بری الذمہ ہو جاتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ اگر مستنصر نہیں تو کون ایسا ہے جس کی زبان میں اتنی طاقت ہو کہ نصف صدی سے ماند نہ پڑی ہو۔ انتظار حسین صاحب ، جن کی زباندانی پہ نطق بھی زباں کے بوسے لیتا ہے۔ اتنی عمر تک اسلوب کی تازہ کاری اور خیال کی ندرت قائم رکھنا،ہر صفحہ نئے رنگ سے سجانا اور ہر واقعہ نئے الفاظ سے مصور کرنا اردو میں صرف مستنصر حسین تارڑ کے نصیب میں آیا ہے۔ اردو میں کون اس طرح تازگی سے مہکتی، خوشبوئوں میں یوں بسی اور نظاروں سے ایسے سجی ہوئی زبان لکھ پایا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ تقریباً نصف صدی سے رواں اس قلم کی قوت کا اعتراف آج تک کتنے ہی ادیبوں اور ناقدین نے تنقید کی شکل میں کیا ہے۔ ۱۴ ناول اور ۳۵ سفرنامے لکھنے والے مصنف پر ایک بھی تنقیدی کتاب اردو دنیا نہیں پیش کر سکی۔ لیکن خیر یہ اردو تنقید کا مسئلہ ہے اور ہمیشہ رہے گا کہ کسی زندہ ادیب کی پذیرائی نہیں کرے گی، گڑے مُردے کو اکھاڑ کے اس میں جان ڈالنے کی کوشش کرے گی۔ مستنصر حسین تارڑ اس سب سے بے نیاز ہیں۔ صِلے کی تمنا یا ستائش کی پروا کیے بغیر وہ اپنے ہی قائم کردہ معیارات کو سامنے رکھ کر لکھتے چلے جاتے ہیں۔اور یہی معیار ایک ادیب کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ وہ زرخیز دھرتی کے سپوت ہیں، ان کی مٹی میں سے زرخیزی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ میں لکھا ہے کہ’’ اگر مٹی کا کوئی پیغمبر ہوتا تو میرا باپ ہوتا۔‘‘قاری اس میں تبدیلی کر کے یہ ضرور کہنا چاہے گا کہ اگر اردو نثر میں تخلیقی حسیت کا کوئی امام ہے تو وہ مستنصر حسین تارڑ ہے۔
٭٭٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں