ٹاردی گریڈ

مضمون نگار ؛ اسماعیل خان

, ٹاردی گریڈ

ٹاردی گریڈ چھوٹے جاندار ہیں ، سوئی کی نوک سے بھی چھوٹے . انہیں بڑی آسانی سے زمین کی تاریخ کے سب سے کامیاب جاندار کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ منفی تین سو ڈگری فارن ہائٹ سے لے کر مثبت تین سو ڈگری فارن ہائٹ درجہ حرارت میں زندہ رہ سکتے ہیں ، اگر آپ انکو کرہ ہوائی کے دباؤ سے چھ ہزار گنا زیادہ دباؤ میں رکھیں جس میں ہماری گاڑیاں اور عمارتیں بلکل پچک جایئں، کھولتے ہوۓ لاوا میں ڈال دیں یا بغیر آکسیجن کے رکھیں یا سورج کی مضر صحت شعاؤں میں رکھیں جو کہ انسان کیلیے مہلک سطح سے ہزاروں گنا زیادہ ہوں ، تو یہ ان حالات میں تب بھی زندہ رہ پاتے ہیں جن میں زمین کی کوئی دوسری حیات زندہ نہ رہ پاۓ . ٢٠٠٧ میں ایک تجربے میں انھیں دس روز کیلیے خلا میں بھیجا گیا اور یہ وہاں سے بھی بغیر ہلاک ہوۓ لوٹ آے .


پر یہ ان حالات میں اتنے کامیاب کیوں ہیں جن میں زمین کی دوسری تمام زندگی فورا ہلاک ہو جاۓ ،
اس کیلیے ٹاردی گریڈ نے مختلف حربے اپنا رکھے ہیں ، مثلا یہ اپنے بدن سے پانی نکال کر خود کو ڈی ہائڈریٹ کر لیتے ہیں ، اسکا فائدہ یہ ہے کہ بہت کم درجہ حرارت پر پانی کے جمنے یا بہت شدید درجہ حرارت پر پانی کے بخارات بن کر اڑنے سے انکے خلیوں کو نقصان نہیں پہنچتا ،
پر یہ مکمل طور پر پانی کو خارج نہیں کرتے بلکہ بدن میں ایک سے تین فیصد تک پانی رکھتے ہیں، اسکی توڑ پھوڑ سے کیسے بچیں ؟ اس کیلیے یہ ایک خاص قسم کی شوگر بناتے ہیں جو خلوی اجزاء (مرکزہ ، میٹوکونڈریا، رائبو سوم وغیرہ) کی ٹوٹ پھوٹ کو روکتی ہے ،
لیکن اگر خطرہ درجہ حرارت کی شدت سے نہ ہو بلکہ آکسیجن کی کمی سے ہو تو پھر کیا کریں ؟


اس کیلیے یہ کم آکسیجن میں اپنے بدن کو پھیلا لیتے ہیں تا کہ فضا سے زیادہ سے زیادہ آکسیجن جذب کر سکیں ، اسکے ساتھ ہی یہ اپنے خلوی کیمیائی افعال یا میٹابولزم کو بھی نارمل سطح سے دس ہزار گنا تک کم کر لیتے ہیں تا کہ انھیں خوراک اور آکسیجن کی ضرورت ہی نہ پڑے ،


لیکن ٹردی گریڈ نے بچاؤ کیلیے ایک اور میکانزم بھی اختیار کر رکھا ہے ، دوسرے سب جانداروں میں زیادہ تر ڈی این اے ہمیں اپنے والدین سے ملتا ہے پر ڈی این اے کا تھوڑا سا حصہ ہم اپنے ماحول میں موجود دوسرے جانداروں سے براہ راست لیتے ہیں ، اس عمل کو افقی جین ٹرانسفر کہتے ہیں ، تمام جانداروں میں افقی جین ٹرانسفر انکا ایک فیصد سے بھی کم ڈی این اے دیتی ہیں ، پر ٹاردی گریڈ میں یہی تناسب سترہ فیصد ہے ،


یعنی ضرورت کے وقت یہ دوسرے جانداروں ، جراثیم ، چھوٹے پودوں اور الجی سے سترہ فیصد تک ڈی این اے لے کر اپنے بدن میں لگا سکتا ہے تا کہ ناسازگار حالات میں انکی خصوصیات اپنا کر زندہ رہ سکے ، یہ ایسے ہے جیسے ایک گوشت خور جانور کو خوراک نہ ملے تو وہ سبزی خور جانوروں سے ڈی این اے مستعار لے کر زندہ رہنے کیلیے گھاس کھانا شروع کر دے ،
اسلیے اس میں کوئی حیرت نہیں ہے کہ یہ جاندار زمین پر انواع کی معدومیت کے پانچ ادوار کو کامیابی سے جھیل چکے ہیں جن میں زمین پر موجود زیادہ تر دوسری زندگی معدوم ہوگئی تھی .


اہم سوال یہ ہے کہ اگر ٹاردی گریڈز اتنے سخت جان ہیں تو زمین پر انکی آبادی کو اتنا بڑھ جانا چاہیے تھا کہ یہ تمام دستیاب وسائل اور خوراک کو خود استعمال کر رہے ہوتے اور زمین پر موجود دوسری زندگی ختم ہو جاتی ، پر ایسا نہیں ہوتا ، کیوں ؟


جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ٹاردی گریڈ کو سخت جان بننے کیلیے جسم سے پانی نکالنا پڑتا ہے ، اپنے کیمیائی افعال کو قریبا مکمل ختم کرنا ہوتا ہے ، اپنے خلوی اجزاء کی حفاظت کیلیے ایک مخصوص شوگر بنانی ہوتی ہے ، اس سارے عمل کو کرپٹوبائیوسس کہتے ہیں اور اس میں کچھ منٹوں سے لے کر ایک گھنٹہ تک لگتا ہے ، اگر آپ اسکو اتنا وقت دے دیں مثلا درجہ حرارت آھستہ آھستہ بڑھایئں تو یہ واقعی سخت جان ہو جاتا ہے ، اگر اسے تیاری کیلیے یہ وقت نہ ملے تو اسکی ہلاکت کے اتنے ہی امکانات ہیں جتنے کسی بھی دوسرے جاندار کے ہوتے ہیں ، انکو فنگس اور نیماٹوڈ نامی دوسرے جاندار کھاتے ہیں ، ان پر اچانک کھولتا ہوا پانی ڈال دیں تو یہ مر جایئں گے ، یہ کچلنے سے مرتے ہیں ، یہ تمام عوامل انکی آبادی کو ایک کنٹرول میں رکھتے ہیں اور زمین پر موجود غذائی زنجیر کو توازن دیتے ہیں


ان کے بارے میں سب سے دلچسپ بات ہے کہ یہ ہمارے جسم کے اندر زندہ نہیں رہ سکتے۔ دنیا کا سب سے سخت جان جاندار جو خلا جیسی ظالم جگہ پر وقت گزارنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ہمارے دفاعی نظام کے آگے ڈھیر ہو جاتا ہے۔
اس کی سخت جانی کا راز اس کی شورلی سٹیٹ یا خشک حالت ہے، ورنہ یہ نامیاتی مادے کا ہی بنا ہے۔ اگر یہ خوراک کے ساتھ معدے تک پہنچ جائے تو تیزاب سے نہیں بچ پائے گا۔ اگر ہمارے دفاعی نظام سے واسطہ پڑ جائے تو لیوکوسائٹ اس کی ہر پروٹین کو الگ کر دیں گے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں