تصویر کے موضوع پر اشعار

تصویر کا شاعری سے گہرا تعلق ہے۔ ہر خیال کسی نہ کسی تصور کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔ ہر تصور انسانی جذبات و احساسات کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ تصویر کے موضوع پر مختلف شعراء نے بہت عمدہ اشعار کہہ رکھے ہیں۔ تصویر کے عنوان پر چند شعر درج ذیل میں منتخب کیے گئے ہیں۔

تیری تصویر دیکھتا ہوں تو
یاد آتی ہیں اس کی تصویریں
کیسے ناممکنہ سے امکاں ہیں
کتنی الجھی ہوئی ہیں تقدیریں
عشق جادو نہیں حقیقیت ہے
ہم سے ٹوٹی نہیں یہ زنجیریں
ذیشان ساجد

تصویر شاعری

کہا تصویر نے تصویر گر سے
نمائش ہے مِری تیرے ہنر سے
علامہ اقبال
۔
میں تری تصویر ٹانکوں اور پھر
آسماں سے چاند کو چلتا کروں
فیض محمد شیخ
۔
تیری تصویر سے کروں باتیں
ہائے ممکن نہیں ملاقاتیں
نامعلوم
۔
میں کہاں دیکھنے سے تھکتا ہوں
تیری تصویر تھک گئی ہوگی
جون ایلیاء
۔
اپنے جیسی کوئی تصویر بنانی تھی مجھے
میرے اندر سے سبھی رنگ تمہارے نکلے
نامعلوم
۔
مجھے تصویر اپنی دوسری دو
پرانی آنسوئوں سے دھل گئی ہے
شاعر: مسعود
۔
میری تصویر بنانے کی جو دھن ہے تم کو
کیا اداسی کےخد و خال بنا پائو گے؟
پروین شاکر

تصویر کے موضوع پر اشعار

تصویر پر شعر

تصویر شاہکار وہ لاکھوں میں بک گئی
جس میں بغیر روٹی کے بچہ اداس ہے
نامعلوم
۔
صرف تصویر رہ گئی باقی
جس میں ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں
شاعر: وقاص وقی
۔
دھوئیں کی لہر پہ تصویریں رقص کرتی رہیں
وہ سگریٹوں کے تسلسل میں یاد آتا رہا
صوفی ندیم بھابھہ
۔
اتنے خوش بخت حقیقیت میں کہاں ھیں ھم تو
جتنے تصویر میں خوش باش نظر آتے ہیں
علی زریون
۔
سینے سے لگائو تو لگ جاتی ہے سینے سے
تم سے کہیں اچھی تصویر تمہاری ہے
شاعر: نامعلوم

تیری تصویر سے مانوس ہیں آنکھیں میری
میں کسی اور کو دیکھوں بھی تو کیسے دیکھوں
فوزیہ قریشی

اپنی تصویر کو رکھ کر تری تصویر کے ساتھ
میں نے اک عمر گزاری بڑی تدبیر کے ساتھ
مہرجمشید اقبال

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں