دو راستے جس سے تیسری آنکھ کھولی جا سکتی ہے

مضمون نگار : علی نثار

, دو راستے جس سے تیسری آنکھ کھولی جا سکتی ہے


اگرشیو اپنی تیسری آنکھ نہ کھولتے تو شاید شیو کی وہ اہمیت نہ ہوتی جو انہیں حاصل ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی شیو کی طرح اپنی تیسری آنکھ کھول سکتے ہیں ۔ اگر ہاں تو کیسے ؟


شیو کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ انہوں نے اپنی تیسری آنکھ کھولی۔ حالانکہ جب ہم ان کی شخصیت پہ غور کرتے ہیں تو یہ پاتے ہیں کہ انہوں نے اور بھی بہت کچھ کیا ۔وہ ناچے اور ناچ بھی ایسا کہ جسے تانڈو کا نام دیا گیا انہوں نے دھیان کیا اور دو بار شادی بھی کی ۔ یہ سب تو ٹھیک تھا پر ہم آج انہیں اس لئے زیادہ یاد کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی تیسری ۤآنکھ کھولی ۔ہزاروں سالوں کے بعد بھی آج ہم ان کے ۤآگے سر جھکاتے ہیں ۔ انہیں بڑا تسلیم کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی ان کی شخصیت کو لے کر تجسس میں مبتلا رہتے ہیں ۔ شیو کی عبادت ہم اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں جاننا چاہتے ہیں ان کو لے کر جستجو میں مبتلا رہتے ہیں ۔ انہیں جاننے کا اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے کہ شیو کی تپسیا کی جائے ۔جاننا یعنی آزاد ہونا ۔جب تک آپ اپنےعلم کو حالیہ تمام بندشوں سے بہت دور نہیں لے جاتے تب تک جاننے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ شیو کی اہمیت اس لئے ہے کہ وہ اس نایاب علم کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے جسے دوسرے لوگ شیو کی طرح مکمل حاصل نہیں کر سکے ۔انسانی آنکھ جس چیز کو دیکھ نہیں پائی اسے وہ باآسانی دیکھ پائے ۔ تیسری آنکھ کھلنے کا یہی مطلب ہے کہ غیر مرئی چیزوں کو آسانی سے دیکھا جا سکے ۔


ہندوؤں کی مقدس کتابوں میں درج ہے کہ جب شیو نے اپنی تیسری آنکھ کھولی تو اس میں سے آگ نکلی ۔یہ آگ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جو کچھ بھی ان کے باطن میں چھپا تھا انہوں نے وہ سب جلا کر راکھ کر دیا ۔شیو نے اپنے بطن سے وہ سب کچھ جلا دیا جسے جلایا جا سکتا تھا ۔اور پھر شیو کے ہر اک مسام سے پسینےکی جگہ راکھ نکلنے لگی ۔یہ علامت تھی اس بات کی کہ انہوں نے اپنے اندر کی جاہلیت کے ایک ایک ذرے کو جلا دیا ۔ وہ سب جسے سچ مانا جاتا تھا ۔جب ایک بار یہ ہو گیا تو ان کے لئے تیسری آنکھ کھولنی مشکل نہیں رہی۔


سد گرو کہتے ہیں کہ تیسری آنکھ کھولنے کے دو راستے ہیں ۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ۤآپ کے اندر بالکل خالی پن ہو جو باطن کے دروازے کو اپنی طرف اندر کی جانب کھینچ لے ۔اور وہ دروازہ قدرتی طور پہ خود بخود کھل جائے ۔ تیسری آنکھ کا دروازہ خالی جگہ ہونے کی وجہ سے اندر کی طرف کھل جاتا ہے ۔ یہ بتا دیں کہ شیو نے نہ صرف اپنے تصورات ، خیالات ، رشتے جیسی چیزوں کو جلایا ہے بلکہ اپنے مکمل وجود کو بھی جلا دیا ۔ اب شیو کے یہاں مکمل خالی پن ہے ۔تو دروازہ اندر کی طرف خود بخود گرے گا اور آسانی سے کھل جائے گا ۔


تیسری آنکھ کھولنے کا دوسرا راستہ یہ بھی ہے کہ آپ سب کچھ اپنے اندر دبا کر رکھیں ۔اپنے تاثرات ، اپنے خیالات اپنی کسی بات کو ظاہر کرنے کا کوئی راستہ نہ دیں ۔آپ خود پہ مکمل پابندی لگا لیں ۔ ایک لفظ بھی نہ کہیں ۔ آپ غور کریں گے کہ اگر آپ چار دن مکمل خاموش رہے تو پانچویں دن آپکو گانے کا من کرے گا ۔ گانا نہیں آتا تو آپ گلا پھاڑ کر چینخنا چاہیں گے کیونکہ آپ کے اندر بیحد دباؤ ہوگا اور اپنے باطن کو خالی کرنا چاہتے ہیں ۔اگر آپ نے خود پہ قابو رکھا اور کچھ بھی باہر نہیں جانے دیا تو اتنا زبردست دباؤ بنےگا کہ آپکے اندر کے دباؤ سے باہر کی طرف دروازہ کھل جائے گا ۔


ایک اور طریقہ ہے ۔ اگر آپ ایک ڈپلومیٹ انسان ہیں اور درمیانہ روی اختیار کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے آپ کہیں نہیں جانا چاہتے نہ کوئی نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں ۔درمیانی راستے پہ چلنے والے اپنی زندگی میں کہیں نہیں جانا چاہتے ۔ آپ ہمیشہ کچھ نیا کرنے سے بچنا چاہتے ہیں یہ ڈپلومیٹ رویہ آپکی زندگی کا ایک آرام دہ دائرہ ہے ۔ اسکا مطلب ہے کہ یہی درمیانی راہ ہے ۔ یہ راستہ آپکو کہیں بھی کبھی بھی کسی بھی سمت میں نہیں لے جاتا ۔ اور کچھ وقت کے بعد اس کے بارے میں سوچنا بھی بےکار ہو جاتا ہے ۔ یوں سمجھئےکہ آپ سڑک پر چل رہے ہیں اور اچانک ایک بڑی سی چٹان سامنے آ گئی ۔اس چٹان سے پار جانے کے دو ہی راستے ہیں مگر ایک راستے پہ شیر بیٹھا ہے اور دوسرے راستے پہ آگ جل رہی ہے ۔ آپ درمیانی راہ اپناتے ہیں اور چٹان پہ چڑھ جاتے ہیں تو یہ صرف کسرت ہی ہوگی حاصل کچھ نہیں ہوگا ۔

بات یہ ہے کہ آپ بالکل خالی ہو جائیں تاکہ باطنی طاقت تیسری آنکھ کھولے یا آپ اپنے اندر تیز دباؤ بنائیں تب وہ دباؤ اسے کھولے گا یہی دو طریقہ ہے ۔


پہلا طریقہ زیادہ بہتر اور دیر پا ہے ۔اگر آپ اپنے اندر دباؤ بنا کر دروازہ کھولتے ہیں تو یہ کل بند بھی ہو سکتا ہے ۔کوئی دوسرا آپ کے اندر جھانک بھی سکتا ہے اور آپ بھاگ سکتے ہیں ۔یہ اپنے آپ میں بیحد افسوسناک ہوگا ۔ایک بھی تاثر یا خیال کو ظاہر نہ کرنا بیحد مشکل ہے ۔ایک لفظ نہ کہنا ناممکن ہے ۔دل میں اٹھ رہے خیالات اور باتوں کو ظاہر نہ کرنا یہ آپکی شخصیت کو ایک دھماکے سے ریزہ ریزہ کر سکتا ہے ۔پر اگر آپ نے ہر چیز کو سنبھالے رکھا تو تیسری آنکھ یقیناََ کھل جائے گی ۔

ہاں اگر آپ ڈپلومیٹ ہیں اور درمیانی راہ پہ ہی چلتے ہیں تو اسکا مطلب ہے آپ کہیں نہیں جانا چاہتے ۔ اور ہر نئی چیزوں سے ڈرتے ہیں ۔ آپ کوئی رسک نہیں لینا چاہتے۔ چاہتے ہیں کہ سب کچھ اپنے آپ چل کر آپکی جھولی میں معجزاتی طور پہ آ گرے اور ایسا ہونا ناممکن ہے ۔ درمیانی راہ کو ماننے والے اپنی زندگی ایک ہی دائرے میں گزارتے ہیں اور مر جاتے ہیں ۔یہ اور کچھ نہیں بس آپکی زندگی کا آرام دہ دائرہ ہے ۔

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں