ٹنائٹسTinnitus : کانوں میں شور یا کان بجنا

تحریر و تحقیق : مبین احمد
lafznamaweb@gmail.com

, ٹنائٹس

آواز جب کان میں داخل ہوتی ہے تو کان کے پردے سے وائبریٹ کرتی ہوئی عضو سماعت جسکو Cochlea کہتے ہیں وہاں پہنچ جاتی ہے .
اب یہاں پہ چھوٹے چھوٹے ہزارؤں Hair_Cells ہوتے ہیں جو اس وائبریشن کو ایک سگنل میں تبدیل کر کے دماغ کی طرف بھیج دیتے ہیں ۔پھر دماغ اس سگنل کو اپنے سمعی حافظے جسکو Auditory_Cortexکہتے ہیں ۔ ان میں جمع شدہ آوازوں کے ساتھ ملا کر ہر آنے والی آوازوں کا تجزیہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ ایک معنی منسلک کرتا ہے ۔ جیسا کہ مثال کے طور پہ ایک شیر کی دھاڑ سے غالباً ہم بھاگنے لگیں گے ۔ جبکہ بکری کی آواز پہ ہم کچھ نہیں کریں گے۔

بعض دفعہ کچھ بیماریوں اور دیگر وجوہات کی بنا پہ Cochlea میں موجود کچھ ہیر سیلز بروکن یا ڈیمج ہوجاتے ہیں
اب ان ہیرسیلز سے جب ٹوٹے پھوٹے کچھ سگنلز دماغ کی طرف جاتے ہیں تو دماغ کو غیر متوقع سگنلز حاصل ہونے پر نیورانز میں غیر معمولی سرگرمی اور ایک عجیب سی ہلچل مچ جاتی ہے ۔ جسکی وجہ سے دماغ کو باہر کی آوازوں پہ غور کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے ۔ اور دماغ ہنگامی بنیادوں پر اندرونی نیورانز کے ہلچل اور آوازوں پہ غور کرنا شروع کردیتا ہے ۔ جس سے اندرونی آوازیں جیساکہ شور ، سیٹی ، بھنبھناہٹ ودیگر کئی عجیب وغریب آوازیں بہت واضع سنائی دینے لگتی ہیں ۔جو کہ انتہائی پریشان کن ہوتی ہیں اس مسئلے کو ٹنائٹس کہتے ہیں۔


بعض دفعہ ٹنائٹس کی کچھ اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جیسا کہ TJD یعنی Temporomandibular Joint Disorderیہ مسئلہ اکثراوقات ارتھرائٹس کے سبب پیش آتا ہے جسکی وجہ سے کوئی بھی چیز کھاتے وقت کان کے اردگرد درد یا آواز محسوس کی جاتی ہے۔
اسکے علاوہ ایک اور اہم وجہ دماغ کی نسوں میں کولیسٹرول ڈیپازٹ اکٹھا ہونے سے نسوں میں سختی یا روکاوٹ بن جاتی ہے جوکہ بلڈ سرکولیشن کو متاثر کرتی ہے اور پلساٹائل ٹنائٹس کا سبب بنتی ہے( پلساٹائل ٹنائٹس کے بارے میں جاننے کے لئے پوسٹ کا لنک نیچے دے دیا گیا ہے )بعض دفعہ ٹنائٹس اتنا سیریس نہیں ہوتا یہ خود باخود ٹھیک ہوجاتا ہے ۔لیکن اگر یہ کافی عرصہ تک ٹھیک نا ھو تو اسکو اگنور نہیں کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ اگنور کرنے سے بعد ازاں ڈپریشن، اینگزائٹی کے ساتھ ساتھ کنسٹریشن کے مسائل، دماغی امراض اور مکمل بہراپن جیسی سیریس کمپلیکیشنز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹنائٹس کی علامات

  • شور سنائی دینا
  • سیٹی کی آواز
  • بھنبھناہٹ کی آواز
  • کلکنگ کی آواز
  • رنگنگ کی آواز و دیگر کئی قسم کی آوازیں سنائی دے سکتی ہے

ٹنائٹس کے اسباب

بڑھاپے کی وجہ سے سماعت کا نقصان
کان اور ہڈیوں کے انفیکشن
دل یا خون کی نالیوں کی دشواری
مینیر کی بیماری
دماغ کا ٹیومر
خواتین میں ہارمونل تبدیلیاں
تھائیرائیڈ پرابلمز
موبائل فون کا بے تحاشہ استعمال
کچھ میڈیکیشنز تھراپیز
( جیساکہ انٹی انفلیمٹری ، انٹی ملیریل ،ڈائیوریٹکس ،انٹی ڈپریسنٹس اور کینسر ڈرگزوغیرہ بھی ٹنائٹس کا سبب بن سکتی ہیں )

ٹنائٹس کا علاج

سب سے پہلے ایک بات یاد رہے ٹنائٹس میڈیکلی کوئی بیماری نہیں ہے اور نا ہی اسکا کوئی مستقل علاج ہے ۔اگر ٹنائٹس کا مسئلہ سرکولیٹری سسٹم ڈس آرڈر کے سبب پیش آرہا ہو تو اس کو ایلوپیتھی اور نیچروپیتھی دونوں طریقہ علاج میں Ginkgo_Bioloba سپلیمنٹس اور انٹی ڈپریسنٹس ہی استعمال کروائی جاتی ہیں ۔جن سے Symptoms سے کافی حد تک نجات مل جاتی ہے ۔اس کے علاوہ اگر Cochlea کے اندرونی ہیر سیلز ڈیمج ھو جائیں تو انکو Regenerate کرنا چونکہ ناممکن ہے اسلئے اس کی وجہ سے مکمل بہراپن بھی ہوسکتا ہے۔ پھر اسکا حل بزریعہ سرجری Cochlear Implantation ہوتی ہے جس سے بہراپن کا مسئلہ حل ہونے کے ساتھ ساتھ ٹنائٹس کا مسئلہ بھی کافی حد تک کم ہوجاتا ہے
لیکن اس سے پھر کچھ اور مسائل پیش آتے ہیں.خیر یہ ہمارا موضوع نہیں ہے لہٰذا سب سے پہلے وہ بیماری ڈائیگنوز ہونا انتہائی ضروری ہے جس سے ٹنائٹس کا مسئلہ پیش آرہا ہے تاکہ ہیر سیلز کو مذید نقصان سے بچایا جاسکے۔

انتہائی اہم

جنکگو بائیولوبہ بلڈ سرکولیشن بڑھاتا ہے لہذا دوران حمل اسکا استعمال منع ہے
اسکے علاوہ یہ بلڈ تھنر تھراپیز کے ساتھ بھی interact کر سکتا ہے
لہٰذا کوئی بھی مریض جو پہلے سے کوئی میڈیسنز استعمال کر رہا ہو وہ جنکگو بائیلوبہ سپلیمنٹس استعمال کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرلے۔
مزید کسی بھی قسم کی کمپلیکیشنز سے بچنے کے لئے کسی Audiologist ڈاکٹرز کے کے پاس تشریف لے جائیں۔

ٹنائٹس کی وجہ جاننے کے یا پھر اس کے علاج کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

شیئر کریں
مبین احمد کا تعلق نورپورتھل ضلع خوشاب سے ہے وہ ایک کمپیوٹر پروگرامر اور "فل اسٹیک ویب ڈیولپر" ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس فکشنز اور دیگر موضوعات پر مضامین اور کالم لکھتے ہیں ۔ ان کے کالم اور مضامین اہم ویب سائٹ پہ شائع ہوتے ہیں

کمنٹ کریں