کبھی نہ ڈوبے والا جہاز۔۔۔ ٹائٹینک

وائٹ سٹار لائن (WSL:White Star Line) کا آغاز اُنیسویں صدی کے وسط میں ہوا۔ یہ برطانوی شپنگ کمپنی (Shipping Company) برطانیہ اور یو-کے (UK) کے درمیان نقل و حمل کے لیے بنائی گئی۔ WSL کی طرف سے تین سال کے عرصے میں تیار ہونے والا ایک دیوہیکل بحری جہاز سمندر میں اُتارا گیا۔ جہاز کے بننے میں اُس دور میں تقریباً 2.5 ملین امریکی ڈالر لاگت آئی۔ یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا بحری جہاز تھا۔ جسے ‘کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز’ بھی کہا گیا۔ 10 اپریل 1912 کی بات ہے جب ٹائٹینک (Titanic) نے اپنے پہلے سفر کا آغاز کیا۔ تقریباً 882 فٹ لمبا اور 175 فٹ اونچا یہ سمندر کا بادشاہ برطانیہ کے شہر ساؤتھمپٹن (South Hampton) سے روانہ ہوا۔ سمندر کے سینے کو چیرتا یہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ جس میں اُوپری طبقے کے لیے عالی شان حُجرے بنائے گئے تھے۔ ٹائیٹینک میں عجائب گھر، کُتب گھر، جم، اور دیگر سہولیات بھی موجود تھیں۔ بلاشبہ یہ اپنے درجے کا ایک عالیشان جہاز تھا۔ ایک اچھا سفر جاری تھا لیکن چوتھے دن کا ڈوبا سورج دوبارہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔

یہ تقریباً رات 11:40 کا وقت تھا کپتان ایڈورڈ جان سمتھ (Edwin Jan Smith) کو اطلاع ملی کے جہاز کے سامنے ایک برفانی تودہ جہاز کا استقبال کر رہا ہے۔ کپتان نے پچیس جوانوں پر مشتمل اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ جہاز کو دائیں طرف موڑا جائے لیکن اتنے قلیل وقت میں کیا ہو سکتا تھا؟ جہاز کی ایک طرف (Side) تودے سے ٹکرا گئی اور جہاز کے نیچلے حصے کو نقصان پہنچا۔ چار سے پانچ اپارٹمنٹس (Appartments) سے پانی جہاز میں داخل ہونا شروع ہوا۔ پورے جہاز میں ہلچل مچل گئی۔ سب کو لائف جیکٹس پہنائی جانے لگیں۔ پانی جہاز میں تیزی سے داخل ہو رہا تھا۔ اِس حادثے کی اطلاع جب WSL کمپنی کے مالک کو ملی تو وہ سب سے پہلے لائف بوٹ (Life Boat) پر سوار ہو کر نکل گیا۔ اِس لیے اِسے باقی ساری زندگی ‘ٹائٹینک کا بزدل’ کہا جاتا رہا۔ مزید لائف بوٹس سمندر میں اُتاری جانے لگیں۔ کپتان کی ہدایات پر مسافروں میں پہلے خواتین اور بچوں کو سوار کیا جانے لگا۔ پانی تیزی سے جہاز میں پھیل رہا تھا۔ ہر کوئی موت کے خوف سے لائف بوٹس کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اس دوران مسافروں کو پُرسکون رکھنے کے لیے موسیقار مسلسل اپنی دُھن کو برقرار رکھے ہوئے تھے۔ جہاز پر صرف 20 لائف بوٹس رکھیں گئیں جبکہ 70 سے 80 بورٹس رکھنے کی ہدایات جاری کی گئیں تھیں۔ کُچھ کشتیاں مکمل طور پر بھی نہیں بھری جا رہی تھیں۔ جہاز درمیان میں سے ٹوٹ کر دو ٹُکڑے ہو گیا۔ ایک حصہ مکمل طور پر پانی میں ڈوب کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اب دوسرا حصہ بھی آہستہ آہستہ خود کو سمندر کے حوالے کر رہا تھا کپتان اپنی بے بسی پہ رو رہا تھا۔ لوگوں نے جہاز سے چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ سمندر کا پانی اس قدر ٹھنڈا تھا کہ کوئی بھی تین سے چار منٹس تک زندہ نہ رہ پاتا۔ لائف بوٹس جتنی تھیں سبھی بھر کر جا چُکی تھیں۔ جہاز سے چھلانگ لگانے والے آخری انسان کپتان ایڈورڈ جان سمتھ تھے۔ سمندر میں لائف جیکٹس پہنے انسانوں کی چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد مکمل خاموشی چھا گئی اور ہر طرف سفید چہرے تیرتے نظر آنے لگے۔ کپتان مُشکل سے ایک لائف بوٹ تک پہنچے لیکن مسافروں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ کشتی پہلے ہی گُنجائش سے زیادہ بھری ہوئی ہے۔ باسٹھ سالہ کپتان کی زندگی کے آخری الفاظ جو اُس نے کشتی سواروں کو بولے:

“All right boys. Good luck and God bless you.”

اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے ایڈورڈ جان سمتھ خدمات پر ایڈورڈ اُن کا مجسمہ سٹیفورڈ (Stford) میں نصب کیا گیا ہے۔ ٹکراؤ کے تقریباً دو گھنٹے بعد سمندر کی سطح مکمل خاموش تھی بلکل ایسا سکون جیسا طوفان کے بعد ہوتا ہے۔ تقریباً پندرہ سو سے زائد افراد ڈوب گئے بچنے والوں کی تعداد تقریباً 700 تھی۔ جنہیں ایک دوسرے بحری جہاز نے پناہ دی۔

لیکن اس جہاز کے ڈوبنے کی اصل وجہ کئی دہائیاں بعد پتہ چلی۔ ہماری زمین کی کور (Core) انتہائی گرم اور مائع حالت میں ہے جس میں کافی مقدار میں چارج شُدہ ذرات (پروٹون، الیکٹرون) آزادانہ حالت میں موجود ہیں۔ جب ہماری زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے تو اِن چارج شُدہ ذرات کی حرکت کی وجہ سے الیکٹرک کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔ میکس ویل (Max-Well) کے مطابق الیکٹرک کرنٹ مقناطیسی میدان پیدا کرتا ہے۔ یہ مقناطیسی میدان زمین کے گرد بھی زمین میں موجود چارج شُدہ ذرات کی حرکت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ سورج سے شمسی طوفان (جس میں الفا پارٹیکلز کثیر تعداد میں موجود ہوتے ہیں) زمین کی طرف آتا ہے تو زمین کا مقناطیسی میدان اُسے پرے دھکیل دیتا ہے۔ لیکن بعض اوقات قطبین پر مقناطیسی میدان کمزور ہونے کی وجہ سے یہ خطرناک شُعائیں زمین کی فضا میں داخل ہو جاتیں ہیں۔ ہمارے کمپاس جو زمین کے مقناطیسی میدان کی وجہ سے کام کرتے ہیں، اِن شُعاعوں کی وجہ سے ڈسٹرب ہوتے ہیں اور غلط سمت بتاتے ہیں۔ اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ ٹائٹینک کے ڈوبنے کی اصل وجہ کیا تھی؟ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کپتان کو برفانی تودے کے مطلق خبر کر دی گئی تھی۔ جس رات ٹائٹینک جہاز سمندر میں ڈوب کر غرق ہوا اُس رات زمین کے قطبین سے شمسی طوفان زمین کے کُرہ ہوائی میں داخل ہوا اور ٹائٹینک کا کمپاس غلط سمت بتانے لگا۔ دوسرے جہازوں نے ٹائٹینک کو مطلع کرنا چاہا کہ وہ غلط سمت میں جا رہے ہیں لیکن ریڈیو سگنلز ٹھیک سے رسیو نہیں ہو پا رہے تھے۔ جس وجہ سے جہاز برفانی تودے سے ٹکرا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹائٹینک کے بچنے والوں نے آسمان پر چاند نا ہونے کے باوجود روشنی دیکھی تھی جو اُن شمسی طوفان میں موجود ذرات کے زمینی فضا کے ساتھ تعامل کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔

ٹائٹینک پہ پہلی فلم کچھ ہی سالوں بعد The Sinking of a Ship بنائی گئی۔ مختلف کتابیں لکھی گئیں۔ سال گُزرتے گئے لیکن جہاز کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ بالاآخر 1985 کو ایک ٹیم جہاز کی تلاش میں روانہ ہوتی ہے اور شمالی بحر اوقیانوس میں تین سے چار کلومیٹر گہرائی میں جہاز کو تلاش کر پاتی ہے جو بوسیدہ ہو چُکا تھا۔ 1997 میں ایک فلم “Titanic” ریلیز کی گئی جس میں مرکزی کردار روز (Rose) اور جیک (Jack) تھے۔ اِس فلم نے تمام ریکاڈ توڑتے ہوئے تقریباً دو بلین ڈالر کمائی کی۔ لیکن اس خوفناک حادثے کو کبھی بھولہ نہیں جا سکتا جو تاریخ کے پنوں میں اپنی کہانی سُرخ رنگ سے درج کر گیا۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں